معراج خطابت
 
دینِ اسلام ۲
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامْ“۔
میں نے کل یہ عرض کیا تھا کہ اصل دین کچھ حقیقتوں کا نام ہے جنہیں جانا اور مانا جاتا ہے۔ حقیقتوں میں فائدے کا سوال ہی نہیں۔ حقیقت اس لئے مانی جاتی ہے کہ حقیقت ہونا متقاضی ہے کہ اُسے مانا جائے۔ اب اس کے بعد یہ کہ کیا فائدہ ؟ تو اس کے معنی صرف یہ ہوسکتے ہیں کہ پھر اس پر سوچنے ہی سے کیا فائدہ؟یعنی ان چیزوں کو کہ جنہیں دین پیش کرتا ہے، سوچیں ہی کیوں کہ کچھ سمجھ میں آئے۔
تو میں کہتا ہوں کہ سوچنے کا ڈرکس چیز کا ہے؟ گھبراکیوں رہے ہیں؟ کیا اس لئے کہ یہ اندیشہ ہے کہ اگر سوچیں تو سمجھ میں نہ آجائے کہ یہ حق ہے۔ تو بس ادھریہ اندیشہ ذہن میں پیدا ہوا ،اُدھر اب سوچئے یا نہ سوچئے، حجت آپ پر تمام ہوگئی۔ اب یہ نہ سوچنا خود جرم ہے۔ لہٰذا نہ سوچنے سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سوچ لیجئے تو بہتر ہے کہ سوچ لینے میں تو یہ امکان ہے کہ سمجھ میں یہی آئے کہ کچھ نہیں ہے اور اگر اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ دوسرے حضرات مجھ سے اس جملہ میں متفق ہوں گے یا نہیں مگر میں چونکہ اپنے اللہ کو عادل جانتا ہوں، اس لئے میں کہتا ہوں اور اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر صدقِ دل سے سوچنے پر ذہن کی کوتاہی سے واقعی یہی سمجھ میں آئے کہ کچھ نہیں ہے تو ہمارا خداسزا نہیں دے گا جبکہ دیوانے کو اس نے بری کردیا۔
دیوانہ کچھ مانتا ہے؟ کچھ بھی نہیں مانتا۔ مگر اُسے کچھ سزا نہیں ۔ تو اگر قصورِ عقل سے واقعی اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا،علمِ الٰہی میں یہ کوتاہی کا مرتکب نہ ہوا۔ اُس کے معیارِ نگاہ میں اس نے خود اختیاری ، کوئی کمی نہیں کی ہے۔ جوکچھ کوتاہی ہے، وہ غیر ارادی طور پر ، تو پھر اس کو سزا دینا عدلِ الٰہی کے خلاف ہے۔ لہٰذا اب تو عقل کا تقاضا سوچنا ہی ہے کہ نہ سوچنے میں سزا یقینی ہے اور سوچنے میں کچھ امکان ہے بری ہوجانے کا۔ لہٰذا سوچ ہی لیجئے او رپوری کوشش کر لیجئے تو بہتر ہے۔
اس کے بعد ماشاء اللہ مجالس میں نوجوان اور جوان کثرت سے ہوتے ہیں۔ایک بڑی خوشگوار تبدیلی ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ہوئی ہے کہ ایک دَور ایسا آیا تھا کہ مجلس کے شرکاء میں سن رسیدہ افرادزیادہ ہوتے تھے، بوڑھے لوگ زیادہ ہوتے تھے۔ نوجوانوں اور جوانوں کو دوسرے مراسمِ عزا سے زیادہ دلچسپی ہوتی تھی،مثلاً سینہ زنی، نوحہ خوانی اور اس طرح کی باتیں۔ مگر مجالس میں اور خصوصاً علماء کا بیان، جس میں نہ کوئی نغمہ ہو نہ کوئی لَے ہو، تو یہ بوڑھے بنظر ثواب مجلسوں میں زیادہ تر شریک ہوتے تھے اور دوسرے افراد بھی آتے تھے تو دور دور بیٹھ جاتے تھے اور اس انتظار میں کہ بس ختم ہو اور ہمارے مشغلہ کا وقت آئے۔ لہٰذا اگر اتفاقِ وقت سے یہ منبر کے قریب ہوگئے تو پھر مجلس ناکام ہوجائے گی کیونکہ وہ توجہ سے سنیں گے ہی نہیں۔ انہیں تو جلدی ہوگی ۔ تو یہ تھا ۔ مگر اب مجھے وہاں بھی اور یہاں بھی یہ انقلاب آنکھوں سے بحمدللہ نظر آرہا ہے کہ مجمع میں ماشاء اللہ نوجوان اور جوان اور تعلیم یافتہ افراد کثرت سے ہوتے ہیں۔ اور اب میں کہتا ہوں کہ اب اگر ہم ان کے کام کی باتیں نہ کریں تو روزِ قیامت ہم سے بازپرس ہوگی۔
تو اب اس طبقہ کیلئے میں عرض کرتا ہوں اور انہیں توجہ دلاتا ہوں ۔ تو غور فرمائیے کہ یہ تصور، ان حقیقتوں پر جو مذہب کی ہیں کہ ہم سوچیں کیوں؟ یہ کہاں تک خاص اس دَور کے تقاضے کے مطابق ہے؟ ہماری یونیورسٹیوں کے موضوع دیکھئے جن پر ریسرچ ہوتی ہے ، جن پر سندیں ملتی ہیں، جن پر کامیابی کا دارومدار ہوتا ہے۔ فلاں سمندر کی گہرائی کتنی ہے؟ جس میں ہمیں کبھی نہیں اُترنا ہے۔یہ ہمارے امتحانوں کے سوالات ہوتے ہیں۔ فلاں پہاڑ کی بلندی کتنی ہے؟ جس پر ہمیں کبھی نہیں چڑھناہے۔ملک روم میں اتنے ہزار برس قبل تہذیب کیا تھی؟ جبکہ نہ وہ برس اب واپس آنے والا ہے، نہ اس تہذیب سے ہمارا واسطہ کبھی پڑنے والا ہے۔ اہرامِ مصر سے متعلق یہ تحقیق کرلیجئے کہ وہاں کے پتھر کہاں کہاں سے آئے تھے اور اتنی اونچائی پر کس طرح پہنچائے گئے تھے؟
جس نے کسی نئی بات کو معلوم کرلیا تو وہ بہت بڑے محقق اور بہت بڑے انعام کے مستحق ہوگئے۔ یہ ہیں ہمارے علوم کے موضوعات۔ اس میں کبھی کوئی نہیں سوچتا کہ اس سے کیا فائدہ ہے؟ اور اب یہ ملاحظہ کیجئے کہ اس پہاڑ کی بلندی کتنی ہے کہ جس پر ہمیں چڑھنا نہیں ہے، اس دریا کی گہرائی کتنی ہے جس میں ہمیں اُترنا نہیں ، اُس بر اعظم کی پہنائی کتنی ہے جسے ہمیں کبھی طے نہیں کرنا۔ یہ سب تو گویا کارآمد علوم ہیں۔ہم یہ سوچیں کہ ہمارا خالق کون ہے تو یہ دقیانوسی سی بات ہوگئی اور کہا جائے کہ اس کے جاننے سے کیا فائدہ؟ اہرامِ مصر کا بنانے والا کون ؟ فرعون تھا۔ وہ آپ کا علمی مسئلہ ہے اور اس کائنات کا خالق کون ہے؟ یہ آپ کے نزدیک بیکار بات ہے۔ اُس ملک کی پیداوار کیا کیا ہے؟ جہاں ہمیں نہیں جانا ہے۔بظاہر اسباب مگر وہ سوال ہے کہ وہاں کیا کیا چیزیں پیدا ہوتی ہیں؟ وہ ہمارے علم کا ایک مسئلہ ہے لیکن خود ہمارا انجامِ کار کیا ہوگا، ہمیں آئندہ کہاں جانا ہے اور وہاں کی کیا ضروریات ہیں؟ یہ ہم کہیں تو دنیا کہے کہ بیکار بات ہے۔
تو یہ تو وہی بات ہوگی کہ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد۔اب یہاں ذرا تبدیلی کردوں کہ جو چاہے آپ کی عقلِ کرشمہ ساز کرے۔ تو اب وہ سوال شروع کررہا ہوں کہ دین ایک ہوتا تو مان بھی لیتے لیکن یہ اتنے دین ہیں ،اس جھمیلے میں کون پڑے؟ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اصل میں دین تو ایک ہی ہے۔ وہ آیت ہی یہی ہے:
”اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامْ“۔
میرے نزدیک دین تو ایک ہی ہے۔ جب میرے اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے تو دین تو اصل میں ایک ہی ہے۔ بنامِ دین بہت سے ہیں۔اب جو نام اس کا پرانا لے لیجئے ،مذہب مسلک ، طریقے چاہے نیا نام رکھ لیجئے ، ازم، تو بنام دین بہت سے چل رہے ہیں ۔ اب اس کی وجہ سے آپ پریشان ہیں کہ اتنے دین ہیں تو خواہ مخواہ اس جھگڑے میں کون پڑے۔ اس کے لئے مجھے کچھ زیادہ عقلی بحث نہیں کرنا ہے۔ صرف آپ کی فطرت، آپ کی عادات ، آپ کے دستور کو میں پیش کروں گا کہ جو صاحب بھی کہہ رہے ہیں ، اگر ان کا اصول یہ ہو کہ جب بھی راستہ میں چوراہہ پڑے تو وہ گھر واپس آجایا کریں ، پھر آگے نہ جائیں کہ ایک راستہ ہوتا تو چلے بھی جاتے۔ اب یہ اتنے ہیں تو کیا کریں، جاکر گھر ہی واپس آجائیں۔ کہیں جانا ہو، سٹیشن جائیں، ادھر اُدھر پلیٹ فارم پر دو گاڑیاں کھڑی ہوں تو فوراً سٹیشن سے واپس آجائیں کہ ایک
گاڑی ہوتی تو چلے بھی جاتے۔ اب یہ دو گاڑیاں کھڑی ہیں تو کیا کریں جاکر؟ کوئی مقدمہ عدالت میں ہو۔ کہئے شہر میں ایک وکیل ہوتا تو کر بھی لیتے، یہ اتنے وکیل ہیں تو کون اس جھمیلے میں پڑے ، بلا سے ہار جائیں مگر اس جھگڑے میں نہیں پڑیں گے۔ کوئی بیمار ہو تو کہئے کہ ایک ڈاکٹر ہوتا تو علاج کر بھی لیتے ، اِتنے ڈاکٹر ہیں اور پھر اتنے ڈاکٹر ہی نہیں ہیںِ اتنے طریقے ہیں علاج کے تو اس جھگڑے میں کون پڑے۔ لہٰذا مرجائیں ، علاج نہ کریں گے اور یہی اختلاف کی چیز نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ ضروریاتِ حیات ایک ہی غذا دنیا میں ہوتی تو کھا بھی لیتے، اب اتنی قسم کی غذائیں ہیں اور پھر جب کبھی مہمان ہوں تو مصیبت ہے تو اب کچھ بھی نہ کھائیں گے۔ اس جھگڑے میں کون پڑے کہ کیا کھائیں اور پھر غذاؤں میں وہ چاہے آپ کے ملک میں نہ ہو، آپ کے ہاں بھی عادتوں میں تو ہوگا ہی فرق لیکن ہمارے پاس کے ملک کو ہی لے لیجئے ، ایک وقت میں توجزو ہی تھا ایک دوسرے کا ۔ یہ تو اب سیاسی کرتبوں نے حد بندی کردی ہے تو جناب وہ غذامیں فقط غذاؤں کا فرق نہیں ہے، طریقوں کا بھی فرق ہے۔ کوئی سبزی خور ، کوئی گوشت خور۔
تو اب ایک غذا سب کھاتے تو خیر کھا بھی لیتے، اب جب کوئی سبزی کھارہا ہے ، کوئی گوشت کھا رہا ہے، تو ہم اچھے ہیں کہ ہوا ہی کھائیں گے۔ اب کچھ بھی نہیں کھائیں گے۔ لباس ایک ہی طرح کا ہوتا تو پہن بھی لیتے۔ وہ جناب مصیبت ہے کوئی۔ وہ تنگ موری والا پہنتا ہے، کوئی ڈھیلی شلوار پہنتا ہے، کوئی کچھ پہنتا ہے۔ لہٰذا کون اس جھمیلے میں پھنسے۔ تو اگر کوئی اپنے تمام نظامِ حیات میں اس کا پابند ہو تو میں اُسے کتنا ہی غیر معتدل ذہن والا سمجھوں مگر مذہب میں بھی معاف کردوں گا کہ بھئی اس کا طریقہ ہی یہی ہے۔ یہ غیر متوازن انسان ہے۔ تو اب یہ سوچ کر کہ مذہب اتنے ہیں، میں کیا کروں۔اس نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔ تو اس بیچارے نے تو لباس بھی چھوڑ دیا ہے۔ اس بیچارے نے تو کھانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اور وہ رہے ہی گا کیوں جو میں اُس پر فتویٰ لگاؤں ، وہ تو چند ہی دن میں ختم ہوجائے گاکیونکہ تمام ضروریاتِ حیات اس نے چھوڑ دئیے، اس لئے کہ وہ ایک طریقہ نہیں، بہت سے طریقے ہیں۔
تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی بھی عقل کے مطابق نہیں سمجھتا۔جب عقل کے مطابق نہیں سمجھتا تو کرتا کیا ہے؟ جہاں صرف عادتوں کا فرق ہے، وہاں فقط اپنے ذوق کو دیکھتا ہے۔ ارے بہت سے کھانے ہیں، ہوا کریں، میں دیکھوں کہ مجھے کیا پسند ہے؟ جہاں مسلک کا فرق ہے، وہاں تو بہرحال اپنے ذہن سے سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ سبزی کھانا اچھا ہے یا گوشت کھانا بہتر ہے۔گوشت خوری پر جو جو اعتراضات ہیں، انہیں جانچے گا کہ یہ اعتراضات درست ہیں یا نہیں۔ وہاں سٹیشن پر جائے گا، دو گاڑیاں کھڑی ہیں تو جو واقفانِ راہ ہیں، اُن سے پوچھے گا۔ جو ریلوے کے کارگزار ہیں ان سے دریافت کرے گا۔ان سے پوچھنے پر اگر غلطی ہوجائے تو قسمت کی بات ہے ۔ پھر یہ موردِ الزام نہ بنے گا۔ لیکن اگر پوچھا ہی نہ ہو، اندھادھند سوار ہوگیا یا بے پوچھے گھر واپس آگیاتو ہر صاحب ِعقل اُسے دیوانہ سمجھے گا۔ مریض ہے تو تحقیق کرے لوگوں سے جنہوں نے علاج کئے ہیں کہ کون ڈاکٹر ایسا ہے کہ جس کے علاج سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
بہرحال کچھ نہ کچھ ہر شعبہ میں تحقیق کرے گا تو پھر سب جگہ یہی اصول ہے تو یہ دین بہت سے ہیں تو اس کی وجہ سے وہ دین حق کے اختیار کرنے کی ذمہ داری سے تو نہیں بچے گا۔ لہٰذا اس کا فریضہ یہ ہے کہ بہت سے دین ہیں تو اس میں تحقیق کرے۔ اللہ نے عقل اسی لئے دی ہے ۔ وہ سوچنا اسی کی خاطر ہے۔ اگر دین بہت سے نہ ہوتے تو بھی پھر آگے سوچنے کی ضرورت نہ ہوتی جیسے شروع میں اصلِ ضرورت دین
کیلئے سوچنے کی ضرورت، ویسے ہی اب انتخابِ دین کیلئے سوچنے کی ضرورت اور عقل سوچنے کی خاطر دی ہے۔ اب عقل جن افراد کی طرف بتائے کہ ان سے پوچھو تو پتہ چلے گا ، ان افراد کی طرف رجوع کرنا ، وہ عقل کے فیصلہ سے ہے، مثلاً کوئی بیمار ہوا اور عقل نے کہا کہ کسی حکیم کا علاج کرو ، ڈاکٹر کا علاج کرو۔ اب ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے نسخہ لکھا تو اس کے پاس عقل ہی کے کہنے سے تو آیا تھا۔ اب اس کے نسخے میں چون چرا کرنا بے عقلی ہوگی۔ ویسے عقل اگر کسی رہنما کے ہاتھ میں ہاتھ دے دے کہ یہ سچا رہنما ہے، اس کے پیچھے چلو تو اب اس رہنما کی ہدایات میں ہر منزل پر عقل سے کام لینا، یہ خود عقل کے تقاضے کے خلاف ہے۔ تحقیق اتنی ضروری چیز ہے کہ اصولِ دین میں تقلید حرام ہے یعنی دین کو اس لئے اختیار کرنا کہ ہم اسی مذہب والوں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں،یہ اللہ کے ہاں بری الذمہ نہیں بنائے گا۔ دین کو اس لئے اختیار کرنا کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں یہی بتایا ہے، یہ دیندار نہیں بنائے گا۔ دین کے معاملہ میں خود سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ حق ہے ، تحقیق واجب ہے، تقلید حرام ہے اصولِ دین میں۔
اسلام نے یہ نہیں کہا کہ قرآن کو مانتے کیوں نہیں؟ اس نے شکایت یہ کی کہ :
”اَفَلایَتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا“۔
ارے یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ ہاں وہ دوسرے مذاہب ہیں ۔ مجھے معلوم ہے جنہوں نے اپنے پیروؤں سے کہا ہے کہ خبردار! غور نہ کرنا، خبردار! عقل سے کام نہ لینا۔ مجھے یہ جملے یاد ہیں ایک رہنمائے مذہب کے، بنامِ مذہب جو تحریکیں چلی ہیں کہ اندھے بنو تو میرا جلوہ دیکھو، بہرے بنو تو میری آواز سنو۔ تو یہ کوئی کہے اسلام کو تو شکایت یہ ہے کہ آنکھیں ہیں اور یہ دیکھتے نہیں، کان ہیں اور یہ سنتے نہیں، عقل ہے اور یہ غور نہیں کرتے۔
”اَفَلایَتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ“۔
یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں اور دلوں پر کیا مطلب؟ یہ وہ دل نہیں ہے جو ڈاکٹری میں فیل ہوجاتا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں دل ذریعہ شعور کا نام ہے۔ ذریعہ تعقل کا نام ہے۔ تو وہ ان کے پاس طاقتیں ہیں سمجھنے کی اور پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے، سوچتے نہیں ہیں اور اسلام کی راہ میں تقلید ِآباؤ اجداد سنگ ِگراں بنی ہوئی تھی۔ وہ لوگ یہی عذر کرتے تھے، کہتے تھے:
” وَجَدْنَاآبَاءَ نَاعَلٰی اُمِّةٍ وَاَنَاعَلٰی آثَارِھِمْ مُھْتَدُوْنَ“۔
ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستہ پر چلتے دیکھا ہے، لہٰذا ہم بھی اسی راستہ پر چلے جائیں گے“۔
وہ یہی عذر پیش کرتے تھے ۔ اس کے جواب میں قرآن نے کیا کہا ہے:
”اَوَلَوکَانَ آباوٴُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَےْئًاوَھُمْ لَا یَھْتَدُوْنَ“۔
گویا خود ان کے خوابیدہ ضمیر کو بیدار کرکے یہ سوال کیا ہے کہ کیا اپنے بزرگوں کے آباؤ اجداد کے راستے پر چلے جاؤ گے ، چاہے انہوں نے خود عقل سے کام نہ لیا ہو؟ مطلب یہ کہ آباؤ اجداد کا کہنا ضمانت نہیں ہے، مطابق عقل ہونے کی۔
ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان کو عقل دی ہو او رانہوں نے سوچا نہ ہو۔ لہٰذا تم کو خود کس لئے عقل دی ہے ، تم کو خود سوچنا چاہئے کہ تمہارے آباؤ اجداد صحیح راستے پر تھے یا غلط راستے پر تھے اور چونکہ دعوتِ دین تحقیق کی متقاضی ہے، لہٰذا قرآن مجید نے اپنے ماننے والوں کیلئے اپنی جماعت کیلئے یہ نہیں کہا کہ اِدھر اُدھر کی صدائیں نہ سنو۔ یہ جنہیں کمزوری محسوس ہوتی ہے، وہ ہدایت کرتے ہیں کہ دوسرے کے مجمع میں نہ جاؤ، دوسروں کی باتیں نہ سنو۔
قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا ہوں،مدح کررہا ہے صاحبانِ ایمان کی:
”اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہ“۔
اہل ایمان کی شان یہ ہے کہ ہر ایک کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔”یَسْمَعُوْنَ“کے معنی ہیں سنتے ہیں اور ”یَسْتَمِعُوْنَ“کے معنی ہیں توجہ سے سنتے ہیں۔ ”اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ“، وہ ہر ایک کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔ پھراس میں جو بہتر ہوتا ہے، اُسے اختیار کرتے ہیں۔
تو حضورِ والا!دین آ پ سے اس کا متقاضی نہیں ہے کہ بے سمجھے مان لیجئے، اس لئے کہ راستے الگ الگ ہیں۔ بنامِ دین اسی لئے تحقیق واجب ہے، اسی لئے تقلید حرام ہے، اسی لئے سوچنے اور سمجھنے کی طاقتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے اور انبیاء و مرسلین آئے ہیں اسی لئے ، وہ شریعت میں تو احکام بتانے کیلئے آئے ہیں اور اصولِ دین میں عقل کے چھپے ہوئے فیصلوں کو سامنے لانے کیلئے آئے ہیں۔ چھپے ہوئے کیا مطلب؟ یعنی عقل کے وہ بے لوث فیصلے جس پر روایات کی خاکستر جم گئی ہے، جس پر تقلید ِآباؤ اجدادکا انبار لگ گیا ہے، اس کو اُبھار کر سامنے لانے کیلئے۔
ایک جملہ میں اس حقیقت کو حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام نے ظاہر فرمایا ہے۔ بڑا بلیغ جملہ ہے۔انبیاء مرسلین کا مقصد ِ بعثت کیا ہوتا ہے؟ حضرت نے اُسے نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا ہے:
”لِیَصِیْرُوْاَدْفَائِنَ الْعَقُوْلِ“۔
دفینہ کون ہوتا ہے؟ جو اوپر سے نہیں دکھائی دیتا۔ اس پر مٹی کے انبار ہوتے ہیں۔ لیکن جب کھودا جاتا ہے تو برآمد ہوتا ہے۔ تو یہی الفاظ امیرالموٴمنین نے اپنے اس معیارِ بلاغت پر جو تحت کلام الخالق اور فوق کلام المخلوق ہے، اس کو پیش فرمایا ہے۔ارشاد فرماتے ہیں کہ انبیاء و مرسلین اس لئے آئے ہیں کہ دنیا کیلئے عقل کے دفینوں کو برآمد کریں۔ یہاں نہج البلاغہ کا ایک جملہ میں نے پڑھا ہے اور میں نے عرض کیا کہ تحت کلامِ الخالق اور فوق کلامِ المخلوق ،یہاں پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ”جنابِ سید ھبة الدین شہرستانی“ ان کا قیام کاظمین میں تھا اور وہ بہرحال علومِ دنیا میں بھی عالم کا درجہ رکھتے تھے۔مگر اس کے علاوہ انہوں نے جدید ریاضی اور جدید فلسفہ پر معلومات حاصل فرما کر ایک کتاب ”وَالَھَےْئَةُ وَالْاِسْلامُ“لکھی جس کا ترجمہ مولام محمد ہارون صاحب مرحوم نے اس دَور میں البدر التمام کیا تھا اور جو آپ ہی کے ہاں اب اس وقت کے لحاظ سے آپ ہی کے ہاں یعنی پنجا ب ہی میں البرہان سے شائع ہوئی تھی۔ البدرالتمام۔ تو وہ بڑے جامع العلوم و فنون آدمی تھے اور حکومت ِعراق میں وزیر معارف بھی رہے تھے۔ اب چونکہ وزیر معارف تھے، تو جو مستشرقین آتے تھے باہر سے، وہ ان سے ملاقات کیلئے آیا کرتے تھے۔ تو ایک بڑا مستشرق آیا۔ انہوں نے یہ واقعہ مجھ سے بیان فرمایا تھاکہ ایک مستشرق آیا اور وہ ان کی ملاقات کو آیا۔ عراق و ایران میں جو کوئی آتا ہے، تو اس کو دید کہتے ہیں ، پھر جاتے ہیں تو بازدید اُسے کہاجاتا ہے۔
وہاں اصول یہ ہے کہ جو مسافر ہو، اُس کی دید کو لوگ آئیں اور وہ بازدید کے لئے جائے:
”اَلْقَادِمُ یُزَارُوَلَایَزُوْرُ“۔
جو کہیں وار دہوا ہو، اس کے پاس لوگ آئے پہلے۔ وہ پہلے نہیں جائے گا۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ انگریزی تہذیب یہ ہے کہ جو آتا ہے، وہی دید کرے اور پھر اس کی بازدید ہو۔ غرض وہ اپنے طریقہ پر پہلے آیا او ریہ بازدید کیلئے اس کے ہاں تشریف لے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میرا کتب خانہ چل کر دیکھئے۔ عیسائی مستشرق تھا۔ انہوں نے جاکے اس کے کتب خانہ دیکھتے دیکھتے دیکھا کہ ایک جگہ بہت جلی حروف میں ، سنہری حروف کے ساتھ نہج البلاغہ لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ یہ بھی آپ کے ہاں ہے؟ نہج البلاغہ بھی ہے؟ خوش ہوکر، اُسے جیسے جوش آگیا، اُس نے کہا: جی ہاں، یہ میرے ہاں نہ ہوتی ؟
اس کے بعد اُس نے یہ کہا کہ یہ تو ایسے دَور میں پیدا ہوئے تھے کہ جب لوگ ان کی بات سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ اگر اس دَور میں ہوتے تو مسجد کوفہ میں خطبہ پڑھتے ہوتے تو:
”کَاَنَّ یَمُوْدُالْمَسْجِدَ بِشَبْقَاتٍ“۔
شبقیہ کہتے ہیں ہیٹ کو، انگریزی ٹوپی ، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پھر زیر منبر یہ عمامے نہ ہوتے، ہیٹ ہی ہیٹ ہوتے۔ یعنی دنیا بھر کے پروفیسر ، تمام دنیا کے اساتذہ ، علماء ، وہ سب ان کے زیر منبر ہوتے ۔ فرماتے تھے کہ اس پر تو میں خوش ہوا ۔ اس نے تعریف کی، مجھ میں بالیدگی پیدا ہوئی۔ مگر اب اس نے ایک بات ایسی کہہ دی جو مجھ کو بہت بار ہوگئی اور اب مجھ پر ذمہ داری ہوگئی اس پر کچھ کہنے کی۔ اُس نے کہا کہ یہ آپ لوگ مسلمان جو تھے، آپ لوگوں نے قرآن مجید کو بطورِ معجزہ پیش کیا۔ قرآن میں ہے:
”یٰاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ“۔
تم پر روزہ فرض ہے، تمہارے لئے قصاص کا قانون ہے تو یہ سب اس میں ہے تو اسے آپ نے بطور معجزہ پیش کیا ہے۔ اگر
نہج البلاغہ کو آپ بطور معجزہ پیش کرتے تو دنیا مان لیتی۔ تمام دنیائے علم جدید ، تمام دنیائے تمدن اس کو مان لیتی۔ انہوں نے کہا۔ اب وہ میری بالیدگی ختم ہوگئی۔ اس سے اسلام پر ضرب ہوگئی۔ میں نے ذہن میں سوچا کہ اب اس سے کیا کہوں؟ اس ظالم نے قرآن مجید میں سے تو
”یٰاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“منتخب کیا، نہج البلاغہ کو اس کے بعد زبانی اس نے ،خطبہ اشباح ایک بڑا معرکة الآرا خطبہ ہے، اس کی کئی سطریں زبانی سنا دیں، تو وہ کہتے تھے کہ اس نے قرآن مجید میں سے تو”یٰاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ“منتخب کیا اور نہج البلاغہ میں سے اس نے خطبہ اشباح پیش کیا۔ اب میں اس سے کیا کہوں؟ وہ تو بہت طویل گفتگو کا میدان ہوجائے گا ۔ تو اب میں گویا میدان میں کترا گیا۔میں نے کچھ اور گفتگو شروع کردی۔ اس کے بعد پھر برسرمطلب آکر میں نے پوچھا،جن کی اتنی تعریف کی ہے، وہ آپ کے نزدیک صاحب ِعقل تو تھے۔ کچھ اب اُسے ناگوار ہوا اور اب اُس نے اور جوش و خروش کے ساتھ کلماتِ حمدوثناء۔ یہ کیا سوال کیا؟ عجیب؟ صاحب ِعقل؟ ارے وہ تو ایسے تھے ، ایسے تھے کہ انہوں نے ہی قرآن کو معجزہ مانا ہے۔ وہ کہنے لگا ، اس وقت اس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے۔اس کو نہج البلاغہ پوری یاد تھی تو وہ خطبے بھی یاد ہوں گے جہاں قرآن مجید کی حضرت نے اپنے اُسی جوش وخروش کے ساتھ تعریف و توصیف فرمائی ہے۔
وہ سب بھی اُسے یاد تھا تو انکار کیسے کرتا! اُس نے کہا کہ اب یہ بات تو سمجھ میں نہیں آتی۔ اب اس پر پھر غور کروں گا۔ اب وہ عمر بھر غور ہی کرتا رہے گا۔ غرض یہ کہ اصولِ دین بے سمجھے ماننا اُس کا مطالبہ نہیں ہے۔ صرف اس لئے کہ ہم ایسے خاندان میں پیدا ہوئے ہیں، یہ کوئی حجت نہیں ہے، خود سمجھنا چاہئے ۔ ہاں! اپنے معیارِ عقل کے مطابق جس زبان میں دلیل اپنے کو مطمئن کرسکے، چاہے وہ بحث دوسرے سے نہ کرسکے۔ بہت سی باتیں آدمی خود محسوس کرتا ہے لیکن دوسرے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے اور خصوصاً بحث تو ایک فن ہوگیا ہے۔بڑے بڑے صاحبانِ علم بحث میں بند ہوجاتے ہیں، حالانکہ وہ سمجھے ہوئے ہیں مذہب کو مگر دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے۔ تو وہ تو ایک فن ہے مگر اپنی جگہ پر اس کے پاس کوئی دلیل ہونی چاہئے ۔
چنانچہ ہمارے پاس ہمارے آئمہ ہی نے مختلف انداز سے دلائل پیش کر کے اس حقیقت کو بتایا ہے کہ دلیل کی نوعیتیں کتنی مختلف ہوتی ہیں۔ اب یہاں تو میں نے کہا کہ خود سمجھنے والا اپنے معیارِ فکر کے مطابق وہ دلیل اپنے لئے کوئی نہ کوئی رکھتا ہو، لیکن اس کا انداز ان کیلئے ظاہر ہے ۔ دلیل کی ضرورت نہیں چونکہ دلیل وہاں ہوتی ہے جہاں پردہ ہو۔ ان کیلئے دلیل و مدلول سب بے پردہ تھا۔ لہٰذا ان کا علم دلیل سے نہیں ہوتا تھا مگر دلیل سے وہ اس علم کوحاصل کرنا سکھا دیتے تھے۔ تو جن کو سکھاتے تھے، ان کا تو پیمانہٴ نظر مختلف ہے۔ ان کی توسطحِ ذہن الگ ہے۔ لہٰذا جتنے طریقے کے سائل جس جس معیار کے آئے، ویسا ویسا راستہ انہوں نے اختیار کیا۔
اب ایک آیا عام صحرائی عرب، عربوں کی زندگی آپ جانتے ہیں ، سفر اور وہ بھی پشت ِشتر کے اوپر۔ اب ایک صحرائی عرب امام کے پاس آیا اور امام سے پوچھتا ہے کہ مجھ کو اللہ کاوجود سمجھا دیجئے۔ تو اب اس کے سامنے گہری باتیں پیش کی جائیں تو وہ بیچارہ بجائے سمجھنے کے سمجھنے سے توبہ کرلے گا۔ وہ پھر اُسی نقطہ پر آجائے گا کہ کون اس جھمیلے میں پڑے۔ لہٰذا اب وہ صحرائی عرب ہے اور اس کی زندگی اسی میں گزر رہی ہے۔ تو جو اس کی زندگی ہے، اسی کے ماحول سے دلیل۔ ان میں بعض علوم بھی تھے جو اب نہیں ہیں، حالانکہ دَورِ جاہلیت تھا مگر بعض اُس وقت کے علوم اِ س وقت اِ س نقطہ پر نہیں مثلاً فن قیافہ، آج کل لوگ قیافہ سمجھتے ہیں ناک نقشہ سے کچھ سمجھنا۔؟ذہن ہے یا کند ذہن ہے، اب ایک ہوگیا ہے۔ ہاتھ دیکھنا، اس سے حکم لگائے جاتے ہیں ، وہاں قیافہ۔نقش قدم کو دیکھ کر یہ بتادیتے تھے کہ یہ کس قبیلہ کا آدمی ہے، کس عمر کا آدمی ہے، کس سن کا آدمی ہے۔ جو کسی شے سے ناواقف ہو، وہ پھر سمجھ ہی نہیں سکتا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ مگر یہ ہوتا تھا اور ہماری تاریخ اسلام میں ہوا ہے۔ شب ِ ہجرت جب پیغمبر خدا تشریف لے گئے ہیں تو انہوں نے قیافہ شناسوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اب اس پورے واقعہ کو تو عرض نہیں کرتا، کچھ عرض کرچکا ہوں، کسی مجلس میں کہ رات بھر تو پھنسے رہے اُلجھن میں ، سمجھتے رہے کہ رسول ہیں۔ اب صبح کو جب راز کھلا تو چلے تعاقب کیلئے کہ جلدی چلو، معلوم نہیں کہ کدھر گئے ہیں؟ تو قیافہ شناسوں کی خدمات حاصل کیں ۔ ان کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور انہوں نے
خانہٴ پیغمبر خدا سے نقش قدم دیکھنا شرو ع کئے اور صحیح رہنمائی کرتے رہے کہ یہاں تک گئے، یہاں تک گئے ، اِدھر گئے، اُدھر گئے۔ بالکل صحیح لے جاکر ایک منزل پر انہوں نے کہہ دیا کہ اب رسول تنہا نہیں ہیں، کوئی ہمراہ بھی ہے۔
مجھے اس وقت اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا ہے اور میری عادت بھی نہیں ہے کہ ایسی باتوں پر تبصرہ کروں۔ تو جناب! وہ دیکھتے ہوئے نقش قدم پر چلے گئے غار کے دروازے تک اور بالکل صحیح حکم لگا دیا کہ یہاں سے آگے نہیں گئے ہیں۔ دیکھا آپ نے ان کے فن کا کمال! تو یہ تھی ان کی زندگی!
تو جنابِ والا! یہ ہے ان کا ماحول، یہ ہیں ان کے علوم ۔ تو اب امام اس سے دلیل وجودِ خدا کی فرماتے ہیں، ارشاد فرماتے ہیں:
”اَلْبِعْرَةُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِوَالرُّوْثَةُ تَدُلُّ عَلَی الْحَمِیْرِوَآثَارُالْقَدَمِ تَدُلُّ عَلَی الْمَسِیْرِ“۔
فرماتے ہیں : ارے بھئی جس قسم کا جانور گیا ہو، جانور تو تمہارے سامنے نہیں ہے لیکن اگر راستے میں مینگنیاں کسی جانور کی مل جاتی ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جانور گیا ہے۔ ”آثَارُالْقَدَمِ تَدُلُّ عَلَی الْمَسِیْرِ“، نقش قدم خبر دیتا ہے کہ ادھر سے کون گیا ہے۔ اب اس کو میں علمی زبان میں کہتا ہوں، تم روزِ اثر سے موٴثر کا پتہ لگایا کرتے ہو مگر یہ اثر اور موٴثر کہاجاتا تو وہ نہ سمجھتا۔ فرمایاکہ وہ مینگنیاں اس جانور کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ نقش قدم راستہ چلنے والے کا پتہ دیتے ہیں۔ تو یہ اتنا بڑا آسمان، اتنی بڑی زمین اپنے بنانے والے کا پتہ کیوں نہیں دیں گے۔ سطحی ذہن کا آدمی تھا، اس کو اس طرح سمجھایا اور ہمارے دوسرے آئمہ نے اسی سطح زمین کی مثال دے کر فرمایا:
”عَلَیْکُمْ بِدِیْنِ الْعَجَائِز“۔
تمہارا فریضہ اتنا ہی دین ہے جتنا بوڑھوں کا بھی ہوسکتا ہے۔ بڑھیا عورتیں جاہل، ظاہر ہے جن کے مرد ایسے جاہل ہوں، ان کی خواتین کیسی ہوں گی۔ مگر وہ بھی اپنے لئے دلیل رکھتی ہیں۔ ایک بڑھیا سے پوچھا گیا کہ اللہ کو تونے کیسے پہچانا؟ اُس نے کہا: اپنے اس چرخہ سے۔ میں جب تک اس چرخے کو چلاتی ہوں، چلتا ہے ، جب ہاتھ روک دیتی ہوں تو رُک جاتا ہے۔ تو ایک چرخہ بغیر کسی کے چلائے نہیں چلتا، اتنا بڑا کارخانہ بغیر کسی کے چلائے کیسے چل سکتا ہے؟
ذہین طالب علم یا اُستاد جس سے پوچھو: صاحب! ہمیں اتنی فرصت کہاں کہ ہم اتنی دلیلوں میں پڑیں۔ تو میں تو کہوں گاکیا آپ اس چرخہ چلانے والی بڑھیا سے بھی گئے گزرے ہیں کہ وہ تو اپنے ہی ماحول کی دلیل سے سمجھ لے اور آپ جس ماحول کو دیکھتے ہیں، اُس سے کچھ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ایک وقت تھا کہ فلسفی قائل ہوتے تھے اللہ کے اور سائنس دان منکر ہوتے تھے اور یہ دَور ایسا ہوگیا ہے کہ بات اُلٹ گئی ہے۔سائنس دان قائل ہوتے جاتے ہیں، کتابیں لکھ رہے ہیں وجودِ خدا پر۔
ایک صاحب تھے شمس آباد کے، بہت صاحب ِ مطالعہ تھے۔ نواب محمد عباس صاحب سالک ، انہوں نے مجھے پروفیسر جوگ کی کتاب دی تھی،ثبوتِ خدا کی، کوئی پانچ سو صفحات کی اور وہ سائنس دان آدمی ہے۔ تو ایک وقت میں فلسفی مقر تھے جو بے دیکھے کُلّیوں پر حکم لگاتے تھے ۔ یہ مشاہدہ پرست تھے۔ سائنس دان تو یہ غیب کے منکر تھے اور اب یہ مشاہدہ پرست جو ہیں، وہ غیب پر ایمان لانے لگے ہیں۔وہ آنکھیں بند کرکے سوچنے والے ، وہ منکر ہورہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ توفیق ربانی کے پلڑے ہیں۔ فلسفی جو تھے، وہ سائنس دانوں کے انکار سے مرعوب ہوگئے تو منکر ہونے لگے یعنی انہوں نے تحقیق کی بجائے تقلید اختیار کرلی اور سائنس دانوں کو سائنس نے تحقیق پرمائل کردیا۔
اپنے مشاہدہ کی ناکامی کا احساس انہیں کسی کارساز کے تصور کی طرف لے گیا۔ تو حضور! اس بڑھیا کا معیارِ نظر جو تھا، اس کے پاس بھی دلیل تھی۔ اب ایک فلسفی آگیا ، اُس نے کہا کہ اللہ کا ثبوت بتائیے کہ کیا ہے؟ اب اس سے اس کی زبان میں بات کرنا ہے۔اس کے معیارِ نظر کے مطابق بڑے دعویٰ سے آیا تھا کہ میں آج انہیں قائل کردوں گا۔ اب جو آیا، پوچھا کہ بتائیے وجودِ خدا کی دلیل ؟ آپ نے فرمایا : بس ایک سوال ہے میرا، اس کا جواب دے دو، اس کے بعد گفتگو آگے بڑھے گی کہ تم موجود ہو یا معدوم؟ یعنی ہو یا نہیں ہو؟ اگر ہو تو بتادو کہ خود تم نے اپنے کو بنایا یا کسی اور نے ؟ اگر تم کہوکہ خود میں نے تو بتادیا کہ جب تم نے اپنے کو بنایا تو اس بناتے وقت تم تھے یا نہیں تھے؟ بس یہ سوالات جو اس پر وارد ہوئے تو کچھ دیر سوچ میں رہا اور بغیر کچھ کہے، اُٹھ کے چلاگیا۔
حضرت کے اصحاب میں سے، جو ان کو اپنے ساتھ لائے تھے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ ارے بھئی کہاں؟ تم نے کوئی بات ہی نہیں کی؟ اس نے کہا کہ کیا بتاؤں ، وہ سوالات ہی ایسے تھے ۔ ہو، نہیں ہو،اگر” نہیں ہو “ کہوں تو غلط ہے کہ ہوں۔ اب انہوں نے کہا کہ کوئی اور ہے جس نے تم کو بنایا۔ اب اگر کہہ دوں کہ ہے تو ان کا مطلب حاصل ہوگیا۔ تو جس کے پوچھنے کو آیا تھا، وہ ثابت ہوگیا۔اور اگر کہوں کہ میں نے خود ، تو پھر دوسرا سوال جو میرے سر پر ہے کہ جب تم نے اپنے آپ کو بنایا ہے تو تم تھے یا نہیں تھے۔ تو میں یہاں جو بھی کہتا، غلط ہوتا۔ یہ کہوں کہ تھا ، میں موجود پہلے بھی تھا تو پھر بعد میں بنایا۔ کہئے قطعی ناممکن ہے۔ اگر میں کہوں کہ نہیں تھا،تو معدوم عطائے وجود کیونکر ہوسکتا ہے؟ یہ بات غلط ہوتی۔ لہٰذا اب ماننے کے سوا چارہ ہی نہیں تھا تو اب بات کرکے کیا کرتا۔
دیکھا آپ نے! اب یہاں نہ نقش قدم ہے، نہ جانور ہے۔ اب آجکل تو علم النفس یونیورسٹیوں کا مستقل موضوع ہوگیا ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، علم کو نیا نہیں ہوتا، وہ داخلِ فطرت ہوتا ہے، اگر کوئی علم ہے، جس وقت سے کتابیں لکھی جانے لگی ہیں، کتابیں مدوّن ہوجاتی ہیں، علم ہوجاتا ہے۔ ورنہ اصولِ علم ہمیشہ سے ہوتے ہیں۔
اب ایک ماہر نفسیات آیا۔ اُس نے پوچھا کہ اللہ کے وجود کی کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا: بس میرے کچھ سوالوں کا جواب دے دو۔ کبھی سمندر کا سفر تم نے کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں، سفر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ دریا میں طوفان آیا ہو؟ کہا : جی ہاں، ایسا بھی ہوا۔ کہا: کبھی ایسا بھی ہوا کہ کشتی شکستہ ہوگئی ہو، تختے الگ ہوگئے ہوں؟ اُس نے کہا: جی ہاں، ایک دفعہ تو ایسا بھی ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تختے پر تم بیٹھے ہوئے چلے، اب نہ کوئی ساحل ہے، نہ سامنے کوئی دوسری کشتی ہے، کوئی نہیں ہے سامنے؟ کہا: جی ہاں، ایسا بھی ہوا ہے۔آپ نے فرمایا: بس سچ سچ بتاؤ، اس وقت بھی دل کہتا تھا کہ اب بھی بچ سکتا ہوں؟ اُس نے کہا: ہاں، کچھ تو تھی اُمید کی کرن۔ آپ نے فرمایا:بس! جو اس وقت بھی سہارا دیتا ہے، اسی کو خدا کہتے ہیں۔
بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں، آپ نے دیکھا امام۔ آپ نے دیکھا رہنما۔ایک سوال کیا ، ہر ایک نے جیسا اُس کا ذہن ہے، اس کے معیارِ ذہن کے مطابق جواب۔میں کہتا ہوں کہ بس یہی بات قرآن سے نہیں ہوسکتی۔ بتادیا کہ دلیل مختلف ذہن کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ اب اگر کچھ شخصیات ہوں جو وجودِ باری کی دلیل ہیں تو ان شخصیات کا ذکر عبادت نہ ہوگا؟ ارے اب ایک شخصیت جو بحمدللہ باوجودِ اختلافِ فرقہ تمام مسلمانوں میں سر تسلیم خم کروانے کیلئے کافی ہے۔ وہ ہستی، اس کیلئے قرآن کی مثال پیش کردوں ، سورئہ جمعہ،ماشاء اللہ یہاں نمازِ جمعہ مختلف مقامات پر ہوتی ہوگی اور حضرات شرکت کرتے ہوں گے۔ سورئہ جمعہ میں تقریباً دوسری آیت ہے:
”ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُ مِّیِیِیْنَ رَسُوْلًا مِنْھُمْ“۔
ذرا آیت کا محل دیکھئے۔ سورہ شروع ہوا ہے اللہ کے تعارف سے۔
”یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ مَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْم“
اللہ کی تسبیح کرتی ہے ہر شے جو آسمان پر ہے اور زمین پر ہے۔ کون؟ جو سلطنت کا حقیقی مالک، کون اللہ؟ جو تمام نقائص و عیوب سے بری،کون الٰہ؟ جو عزت و حکمت کا مالک۔
اب اس سلسلہ میں ارشاد ہورہا ہے کہ وہ وہ ہے جس نے اُمِّیِین میں ایسا رسول بھیجا ، اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول کا تعارف کروایا جارہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے ایسا رسول بھیجا ۔یہ وہ تھیں کہ جن کی پہلی کڑی یہ ہے کہ ان کا وجود دلیلِ وجودِ خدا تھا۔ انہیں دیکھ کر خالق کی ہستی کا پتہ چلتا تھا۔ شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی ، وہ چاہے ہوائے سیاست ان کے خلاف ہی ہو لیکن یہ کہ متعارف تو ان سے سبھی ہیں، سب جانتے ہیں اور وہ مشہور بھی ہیں۔ ان کا کلام بہت سا ایسا ہے جس میں انکارِ خدا ہے ۔ میرے سامنے ایسے جملے انہوں نے کہے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں انہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔ مجھے انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لیا ہے۔ لیکن یہ کہ ان کا کلام بہت سا ایسا ہے۔ اس میں مضحکہ ہے، تمسخر ہے، گستاخیاں ہیں۔ سب کچھ ہے۔ بحیثیت منکر خدا وہ مشہور و معروف ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ ان کا معرکة الآرا مسدسِ حسین اور انقلاب دیکھئے ، تو وہ اس میں کیا کہہ رہے ہیں؟
ہاں وہ حسین جس کا ابد آشنا ثبات
کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے بھی یہ بات

یعنی درونِ پردئہ صد رنگ ِکائنات
یہ کہہ رہا ہے ان کا ابد آشنا ثبات
یعنی اس صد رنگ پردئہ کائنات کے پیچھے دیکھئے ،غیب پر ایمان ہوگیا۔ اس پردئہ صد رنگ کائنات کے پیچھے ایک باشعور ذہن ہے، ایک کارساز ذات۔ ان کے قدموں کے ثبا ت کو دیکھ کر وہ خدا کے وجود کا پتہ لگارہے ہیں۔
ارے غور سے ان کے چہرے کو دیکھتے تو بہت پہلے قائل ہوجاتے۔ یعنی ورائے پردئہ صد رنگ کائنات، اِک باشعور ذہن ہے۔ علم اور قدرت دونوں پر ایمان ہے۔ ایک باشعور ذہن، یہ علم ہوگیا۔ ایک کارساز ذات، یہ قدرت ہوگئی۔ یہی صفاتِ ثبوتیہ کے دو افراد ہیں۔ ایک باشعور ذہن ہے، ایک کارساز ذات۔ اور بیت اس کے بعد کہی ہے:
سجدوں سے کھینچتا ہے جو مسجود کی طرف تنہا جو اک اشارہ ہے معبود کی طرف
اب آگے نہیں بڑھوں گا۔ بس! بخدا نماز بھی جیسی تاریخ کربلا میں ہوئی ہے، ایسی تاریخ عالم میں کبھی نہیں ہوئی۔ جو نمازی ہیں، وہ بھی جب پریشانی کا ہنگام ہو تو کچھ شرع کی رعایتوں کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں، مثلاً کوئی ہے جو اوّل وقت نماز کا پابند ہے، کسی دن خدانخواستہ کسی کی حالت خراب ہوگئی، حالت ِ احتزار ہے، آج واجبی نمازبھی ذرا دیر میں پڑھی اور نوافل بھی نہیں پڑھے اور بعد میں خود افسوس بھی کیا کہ دیکھو! اتنی مدت سے پابند تھا نماز کا اور نوافل کا، آج ایسا بدحواس ہوا ۔ ایسا وقت تھا ،کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ کیسا ہی پابند ِشرع عالم دین ہو،اعتراض نہیں کرے گا۔ ہمدردی محسوس کرے گا کہ وقت کا تقاضاہی یہی تھا۔ مگر کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے مثال پیش کی کہ جتنا وقت سخت ہو، عبادت میں کمی نہ کرو۔ کوئی اضافہ ، کوئی خصوصیت رکھ دو، خصوصیت بڑھا دو۔ روزِ عاشورہ کی صبح کی نمازکی خاص اہمیت ہے کیونکہ یہ آخری نماز ہے جو مولا نے سب جماعت کے ساتھ پڑھی۔ بہت سے اصحاب کی زندگی کی آخری نماز، صبح کی نماز۔ تو آج کیا خصوصیت برتی کہ روز کے موٴذن حجاج ابن مسروق جعفی او ریہ آج کی نماز؟ فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر !آج اذان تم دے دو۔ یہ کیا ہے؟ مولا جانتے ہیں کہ میر اعلی اکبر بھلانے کی چیز نہیں ہے،وہ چاہتے ہیں کہ جب تک میرے علی اکبر کی یاد قائم رہے، تب تک اس نماز کی یاد قائم رہے۔
ماشاء اللہ جو نمازی ہیں، ان کیلئے بھی بار صبح ہی کی نماز ہوتی ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو سب نمازیں وقت پر پڑھتے ہیں لیکن صبح کو آنکھ نہیں کھلی۔ قضا پڑھتے ہیں۔ تو مولا نے صبح کی اذان علی اکبر سے دلوائی کہ اس وقت کوئی علی اکبر ہی کا ماتم کرنے والا جوان، اس کی بستر پر آنکھ کھل جائے تو اس وقت اُسے یاد آجائے کہ اس وقت میرا شہزادہ کہہ رہا ہے :”حی علی الصلوٰة“۔ تو اب یہ دیکھنا ہے کہ علی اکبر کی آواز پر کون کون آتاہے؟