معراج خطابت
 
دینِ اسلام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامْ“۔
یقینا دین حقیقی اللہ کے نزدیک بس اسلام ہے۔ دین کے متعلق جو مختلف سوالات پیدا ہوتے رہے ہیں، اُن میں سے ایک یہ چیز ہے کہ کہا جاتا ہے کہ دین ہماری آزادی کو سلب کرتا ہے۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے، اُسے آزاد رہنا چاہئے اور دین پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس لئے دین کو چھوڑ دینا چاہئے۔
میں عرض کرتا ہوں کہ آزای کی قدرومنزلت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن بس سوال یہ ہے کہ کیا ہر قسم کی آزادی اور ہر قید سے آزادی؟ میں جہاں تک غور کرتا ہوں، یہ مطلق آزادی تو اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتی جب تک انسان قید ِ زندگی سے رِہا نہ ہو اور یہ کوئی شاعرانہ جملہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وجود خود پابندیوں کا متقاضی ہے اور جتنا وجود کا درجہ اونچا ہوگا، اتنا پابندیوں میں اضافہ ہوگا۔ ہمارے سامنے جو چیزیں ہیں، جہاں سے درجہ بندی شروع کی گئی ہے، سب سے نیچے جمادات مانے جاتے ہیں۔ اس سے اوپر نباتات ، اس کے اوپر حیوانات ، اس کے اوپر انسان۔ تو جمادات ، یہ گویا ادنیٰ درجہ ہے۔ ان کا کمال محدود ہے۔ بس اپنے سرمایہٴ وجود کو اکٹھا رکھتے ہیں۔اس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ تو اب ان کا کمال مختصرہے۔ تو ان کی پابندیاں بھی مختصر ہیں۔ بس ایک جگہ ہو جس پر ٹھہریں ۔ ایک فضا ہو، جس میں سمائیں۔ بس اس کے آگے ان کی ضرورتیں کچھ نہیں ہیں۔پتھر کبھی آپ سے پانی کے طلبگار نہیں ہوتے، آپ سے غذا نہیں مانگتے۔ سرمایہٴ کمال مختصر ہے تو پابندیاں بھی مختصر۔
اب اس کے بعد ایک درجہ اونچا ہوا، نباتا ت کی منزل آئی۔ تو اب اس اونچے درجے پر پہنچ کر کچھ آزادی نصیب ہوتی مگر نہیں۔ جو پابندی پتھروں پر تھی، وہ بھی قائم رہی ۔اس کیلئے بھی جگہ کی ضرورت رہی، اس کے لئے بھی فضا کی ضرورت اور مزید اپنے کمالِ نباتی کے قائم رکھنے کیلئے مزید پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب جناب جس پودے کی جو غذا ہو، وہ اس کو ملے، پانی ملے ۔ چاہے زراعت ہو، چاہے درخت ہو، اُسے پانی چاہئے، روشنی چاہئے، ہوا چاہئے۔ جب یہ سب باتیں ہوں ، تب وہ پودا یا کھیتی برقرار رہے گی۔اگر ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری نہ کی جائے، تو وہ فنا ہوجائے گی۔ اب یہیں فنا کے معنی سمجھ لیجئے کیونکہ مادہ، اہل مادہ کہتے ہیں کہ فنا کوئی چیز نہیں ہوتی۔ مادہ جتنا تھا، اتنا ہی رہتا ہے۔ اس میں نہ رتی بھر کمی ہوتی ہے، نہ رتی بھر زیادتی ہوتی ہے۔ حالانکہ معلوم ہوا کہ اب تحقیق بدل گئی ہے ۔ اب کہاجاتا ہے کہ ایک منزل ایسی ہوتی ہے کہ مادہ بھی لہروں کی شکل میں آکرفنا ہوجاتا ہے۔ مگر ابھی تک یہی کہاجاتا تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوتا۔
تو اب یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ اگر پانی نہ دیا جائے، اگر ہوا نہ ہو، اگر فضا نہ ہو تو وہ پودا فنا ہوجائے گا، یہیں سمجھ لیجئے کہ اس فنا کے معنی کیا ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خاک ہو کر مٹی میں مل جائے گا۔ وہ اس کا ارتقائی درجہ جو پودے کی حیثیت سے تھا، وہ برقرار نہیں رہے گااور اصل شے کی بقا اس کے اسی امتیازِ نوعی کی بقا سے ہے۔
اب جناب نباتات سے آگے بات بڑھی، منزلِ حیوانات آئی۔ اب دو درجہ ترقی ہوگئی تو اب کچھ آزادی نصیب ہو۔ جی نہیں۔ جو جمادات پر پابندی تھی، وہ بھی رہی۔ جو نباتات پر پابندی تھی، وہ بھی برقرار رہی، اسے بھی غذا کی ضرورت، اسے بھی غذا کی ضرورت۔ اسے بھی پانی کی ضرورت، اسے بھی ہوا کی ضرورت اور مزید برآن کمالِ حیوانی کے برقرار رکھنے کیلئے مزید پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب حیوانیت وابستہ ہے احساسات کے ساتھ۔ جتنے احساسات ہیں، ہر ایک کی کچھ شرائط ہیں۔ آنکھ ہے اور کا کام دیکھنا ہے۔ مگر شکل ہو، رنگ ہو اور نہ حد سے زیادہ قرب ہوا ور نہ حد سے زیادہ بُعد ہو۔ جب ایسا ہو تب آنکھ اپنا کام کرے۔ کانوں کا کام سننا۔ اس کیلئے بھی شرائط۔ آواز ہو،درمیان میں ایک فضا ہو کہ ہوا سفارت کا کام انجام دے کر صدا کو پردئہ گوش پر ٹکرائے۔ اگر فاصلہ اتنا کم ہو کہ ہوا کو تموّج کا موقع ہی نہ ملا تو سنائی نہیں دے گا۔ اگر اتنی دور ہوگئی کہ پہنچتے پہنچتے ہوا کی لہریں کمزور پڑ گئیں تو سنائی نہ دے گا۔ تو جو حاسّہ ہے، وہ اپنے ساتھ شرائط کی دنیا رکھتا ہے کہ اگر وہ ضروریات پوری نہ ہوں تو کمالِ حیوانی بروئے کار نہ آئے گا۔
پھر ایک بہت بڑی شرط ہے، وہ شرط یہ ہے کہ اگر زندگی قائم رکھنا ہے تو زندگی کے کام جاری رہنا چاہئیں۔ آپ کے ہاں شاید یہ نمونہ نہ ہو مگر پاس کے ملک میں کبھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے اپنا ہاتھ خشک کرلیا تو اپنے نقطہٴ نظر سے بہت بڑی عبادت کی۔ اپنا ایک ہاتھ خشک کرلیا۔ یہ ہاتھ خشک کیسے ہوگیا؟ جب ایک عرصہ تک اس ہاتھ سے کام نہ لیا گیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ کُل نے برکاتِ حیات کو سلب کرلیا۔
اب خون اپنے مرکز سے چلتا ہے، تمام جسم میں گردش کرتا ہے مگر یہاں آکر اپنا راستہ بدل دیتا ہے ۔ حرارتِ حیات تمام جسم میں پھیلتی ہے مگر اس جزو کو محروم کردیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر زندگی قائم رکھنا ہے تو زندگی کے کام جاری رکھئے۔ اب اسے چاہے آزادی کہئے ، چاہے پابندی کہئے۔ جن لوگوں کے ہاتھ کو ڈاکٹر باندھ دیتے ہیں کسی وجہ سے، وہ کہتے ہیں کہ انگلیوں کو ذرا ہلاتے رہو۔ گردش دیتے رہو۔ ظاہر میں تو بیکار یہ حرکت دے رہا ہے مگر معلوم ہوا کہ تعطل دشمنِ حیات ہے۔ تو ہم نے سنت ِکائنات یہ دیکھی کہ ہر ترقی کا قدم اپنے ساتھ کچھ پابندیاں لایا۔ آزادی مطلق کسی منزل پر حاصل نہیں ہوئی۔
اب حیوان سے بالاتر کون ہے؟ انسان۔ اور ماشاء اللہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ ہم تو انسان کو ایک الگ چیز ہی سمجھتے ہیں مگر وہ سات سمندر پار کا فلسفہ جو انسان کو اسی نسلِ حیوان کا ترقی یافتہ ایک نقطہ سمجھتا ہے، میں اس کو اپنی خالص اردو زبان میں یوں کہوں گا کہ کائنات کے جوڑ توڑ میں بس ایک جھول جو پیدا ہوا، وہ انسان تھا۔وہ نظریہ بھی جو ہمارے نزدیک قابل قبول ہے مگر وہ بھی انسان کو نقطہ ارتقاء مانتا ہے، نقطہ تنزّل نہیں مانتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حیوان سے انسان کو بالاتر تو سبھی مانتے ہیں۔ اب جب انسان حیوان سے بالا تر ہے تو ہم نے دیکھا کہ ہر ترقی کا قدم اپنے ساتھ آزادی نہیں لایا بلکہ پابندی لایا۔
اب انسان کے درجہ پر پہنچ کرآزادی کا مطالبہ کامل کیوں ہوا ہے؟ اُمید یہی کرنا چاہئے کہ جو ترقیاں، جو پابندیاں پتھروں میں تھیں، وہ بھی برقرار رہیں گی یعنی انسان جگہ کا محتاج ، انسان بھی فضا کا محتاج۔ جو پابندیاں نباتات میں تھیں،وہ بھی برقرار رہیں گی۔ انسان بھی غذا کا محتاج، انسان بھی ہوا کا محتاج، انسان بھی روشنی کا محتاج۔ جو پابندیاں حیوان پر تھیں، وہ بھی برقرار رہیں گی۔ انسان بھی اپنی زندگی کی بقاء کیلئے ،احساسات کے قائم رکھنے کیلئے اسی طرح محتاجِ عمل ہے جس طرح حیوان محتاجِ عمل ہے۔وہ تمام پابندیاں جو اس کی آنکھ پر ہیں، کان پر ہیں،ناک پر ہیں، تمام احساسات پر ہیں، وہی پابندیاں سب اس پر بھی ہیں۔ تو جتنی پابندیاں پہلے تھیںِ وہ سب برقرار رہیں گی۔
اب اُمید یہ رکھنا چاہئے کہ کمالِ انسانی کی بقاء کیلئے کچھ مزید پابندیاں عائد ہوں گی کہ اگر اس کے تقاضے نہ پورے ہوں گے تو شاید بحیثیت جسم باقی رہے، شاید بحیثیت نشوونما باقی رہے، چاہے بحیثیت حوان باقی رہے مگر انسانیت کا شرف ختم ہوجائے گااور یاد رکھنا چاہئے کہ انہی پابندیوں کا، جو انسان پر اس کی انسانیت کی بقاء کیلئے عائد ہیں، اسی کا نام مذہب ہے۔ اب یہ کتنی غیر منطقی بات ہے کہ انسان ان پابندیوں کے خلاف احتجاج نہیں کرتا جو جسمانی حیثیت سے عائد تھیں۔
ارے اس میں احتجاج کرنا کیسا؟ پرانے زمانہ کے انسان کیلئے چھوٹا سا مکان کافی ہوجاتا تھا۔ اب ماشاء اللہ جتنا بڑا مکان چاہئے، وہ سب کو معلوم ہے۔ تو ان میں تو اور مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جو پابندیاں بحیثیت نباتات عائد تھیں، اس پر احتجاج نہیں کرتا۔یہ کیا مجبوری ہے کہ دوپہر کو بھی کھائیں اور شام کو بھی کھائیں۔ کم سے کم ایک ہی وقت آزاد ہوکر دیکھ لیں۔مگر ماشاء اللہ مغربی تہذیب کے دلدادہ جانتے ہیں کہ پہلے کھانے کے دو وقت تھے، اب تو ماشاء اللہ پانچ وقت ہوگئے ہیں۔
تو جو نباتاتی حیثیت سے پابندیاں ہیں، اس پر احتجاج نہیں ہے، مزید اضافہ ہے۔جو حیونات کے لحاظ سے پابندیاں تھیں، اس پر کوئی بندش نہیں ہے۔ کوئی احتجاج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شادی بیاہ جو ہے، یہ ضرورتِ حیوانی کے پورا کرنے کی صورت ہے۔ یہ وہ ضرورت ہے جو حیوان اور انسان دونوں میں مشترک ہے۔ مگر ان باتوں پر جو حیوانات کیلئے ہیں، ان پر کوئی احتجاج نہیں ، جتنا احتجاج ہے وہ اس پر جو بحیثیت انسان پابندیاں عائد ہیںَ اس پر فریاد و واویلا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ انسان سابق کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوتا، اس میں اور اُلجھتا جاتا ہے۔ لیکن میرے سامنے ایسی روایات ہیں اور آپ نے بھی برابر مجالس کے فیض سے سنی ہوں گی کہ جو آخری خصوصیت کو، ضرورت کو یعنی انسانی تقاضے کو بحد ِکمال پورا کرتے ہیں ، وہ قبل کی پابندیوں سے بہت حد تک آزاد ہوجاتے ہیں۔ ہم جب تک آنکھ نہ کھولیں ، دیکھ نہیں سکتے۔مگر رسول کی حدیث ہے کہ میں خواب میں بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح بیداری میں دیکھتا ہوں۔ ہم سامنے کی چیز کو دیکھتے ہیں۔پس پشت کی چیز کو نہیں دیکھتے ۔ لیکن پیغمبر خدا کی فریقین میں متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت نے فرمایا: میں تمہیں پس پشت سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح سامنے دیکھتا ہوں۔
تو معلوم ہوا کہ آخری تقاضے کو جو پورا کرے، وہ پھر قبل کی پابندیوں سے بہت حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ ہمارا جسم فضا میں معلق نہیں ہوسکتا لیکن جو اس ضرورت کو پورا کئے ہوئے ہیں، وہ فضائے ہوا میں سفر کرتے ہیں۔ وہ پانی کے اوپر سفر کرتے ہیں اور فضائے ہوا میں سفر کرکے کہاں تک جاتے ہیں، وہ تو آپ کو معلوم ہے۔
”دَنٰی فَتدلّٰی قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی“۔
اور وہ لوگ جو اس عزتِ انسانی کی بلندی کا اندازہ ہی نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں بشر ہوتے ہوئے کیونکر گئے؟میں کہتا ہوں کہ قرآن نے یہ کب کہا ہے کہ یہ گئے؟ قرآن تو کہہ رہا ہے کہ وہ لے گیا۔ وہی سائنسدان لوگ جن کی سمجھ میں مذہب نہیں آیا، انہوں نے ہی طرح طرح کے اعتراضات کے پہاڑ کھڑے کردئیے۔ سابق زمانہ کا فلسفہ ، اُس زمانہ میں سائنس بھی فلسفے کا جزو ہوتی تھی۔ تو اس وقت اعتراضات اور تھے، وہ بھی مجھے معلوم ہیں۔ اس وقت یہ اعتراضات تھے کہ کیونکر مانیں ۔ اس لئے کہ اگر مان لیں عالم بالا کی معراج تو فلک میں خرق و التیام لازم آئے گا۔ یعنی آسمان ایک دفعہ جانے سے پھٹے اور پھر دوبارہ آنے سے پھٹے ۔
تو کہتے ہیں کہ خرق و التیام فلک میں محال ہے، اس لئے معراج کیونکر ہوسکتی ہے؟ اب ماشاء اللہ تعلیم یافتہ افراد ہیں، میں کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں آسمان ہوگیا حد ِنظر کا نام۔تو اس حیثیت سے تو معراج کا راستہ صاف ہوگیا مگر اب اور طرح کے اعتراضات ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اتنی دور پر درجہ حرارت اتنا ہوتا ہے ،اس میں کوئی ذی روح بسر نہیں کرسکتااور اتنی دور درجہ حرارت اتنا ہوتا ہے اور اتنی دور ہوا کا دباؤ یوں ہوتا ہے اور وہ آکسیجن ایسی ہوجاتی ہے، غرض چکر وہی رہا کہ کیونکر گئے؟
میں کہتا ہوں کہ قدیم سائنس اور جدید سائنس کے اعتراضات سے گھبرا کر ایک جماعت ِ اسلام نے کہا کہ معراج روحانی تھی۔ ارے بھئی بخشو! جسم گیا ہی کب تھا؟ وہ تو روح گئی تھی۔ اب نہ آسمان پھٹے گا، نہ جڑے گا۔ نہ سانس لینے میں دشواری ہوگی، کچھ نہیں ہوگا۔اس لئے ایک طبقہ معراجِ روحانی کا قائل ہوگیا۔ مگر یہ طبقہ تو ماشاء اللہ علمائے اسلام کا ہے ۔ تو اس طبقے سے میں کہتا ہوں کہ آخر معراج کے ماننے کی ضرورت کیا ہے؟ جو آپ اس جھگڑے میں پڑتے ہیں۔ ضرور یہی ہے نا کہ قرآن میں ہے تو کیونکر نہ مانیں؟ ورنہ کون آپ کا گلا گھونٹ رہا ہے کہ مانئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ جب مجبوری یہ ہے کہ چونکہ قرآن میں ہے، اس لئے ماننا ہے تو جو قرآن میں ہو، اُسے مانئے۔ اب دیکھئے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے:
”سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ“۔
پاک ہے وہ پروردگار جو لے گیا۔ کسے؟جو لے گیا اپنے بندے کو۔ اب بندہ بحالت ِحیات نام فقط روح کا ہوتا ہے تو معراج روحانی مانئے اور اگر بندہ روح و جسد کے مجموعے کا نام ہو تو معراج روحانی مان کر کام نہیں چلے گا۔ اب یہ کہ کیونکر گئے؟ وہ مسئلہ پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے تو اس کیلئے میں ابھی کہا کہ قرآن کب کہہ رہا ہے کہ یہ گئے۔ قرآن کہہ رہا ہے:
”سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی“۔
پاک ہے وہ پروردگار جو لے گیا۔ اس میں اپنی اُردو زبان میں یوں کہوں گا کہ بشر ہوتے ہوئے یہ نہیں گئے، خدا ہوتے ہوئے وہ لے گیا۔
اور اس لئے یہ گئے ہوتے تو ان کی تعریف ہوتی کہ کتنا بڑا وہ بندہ ہے جو گیا۔ تعریف بھی ان کی نہیں ہورہی۔ وہ اپنی تعریف کررہا ہے کہ”سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہ“، پاک ہے وہ پروردگار جو لے گیا۔
بس اب میرا ایک مختصر سوال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ کے سب کاموں کو آپ نے سمجھا ہوکہ کیونکر ہوتے ہیں تو اسے بھی سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جتنی بھی سائنس نے ترقی کی ہے، بس اب تک یہ معلوم کررہے ہیں کہ یہ ہے اور یہ ہوتا ہے اور یہ ایک بات انہیں بھی معلوم نہیں کہ کیوں ہے اور کیوں ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ جو روز کی باتیں ہیں، ہمیں یہ معلوم ہے کہ پانی سے پیا س بجھتی ہے، لیکن یہ پیاس کیوں لگتی ہے اور پانی سے کیوں بجھتی ہے، اسے نہ پیاسا جانتا ہے اور نہ سیراب۔مگر انسان کی کچھ طبیعت یہ ہے کہ جو بات روز مرہ سنتا ہے، اس میں غور نہیں کرتا۔ مگر جو کبھی کبھار سن لیتا ہے، تو لڑنے کیلئے تیار ہوتا ہے کہ یہ کیونکر آفتاب مشرق سے روز نکلتا ہے۔ کوئی صاحب نہیں سوچتے کہ کیونکر نکلا؟ ایک دفعہ سن لیا کہ رسول کی دعا سے اُن کے وصی کیلئے مغرب سے نکلا تھا تو لڑنے کیلئے تیار کہ یہ کیونکر میں کہتا ہوں جو روز کی بات ہے، وہ آپ بتادیجئے کہ کیونکر ہوتی ہے؟ تو ایک دفعہ کی بات میں بتادوں گا۔
تو بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا کہ حضور! یہ تو اپنا اپنا زاویہٴ نظر ہے ۔ مجھے حیرات ہے کہ یہاں کیونکر رہے اور جاکر پھر کیونکر ہو آئے؟آپ کو یہ حیرت ہے کہ وہاں کیونکر گئے؟ جس کا مرکز یہاں ہو، اُس کا وہاں جانا تعجب ہے اور جس کا مرکز وہاں ہو، اس کا تو یہاں رہنا تعجب ہے۔ غرض یہ کہ یہ آزادی کا تصور میں کہتا ہوں کہ آزادی بڑی اچھی چیز ہے ۔ کسی ایک دن تو آزاد ہوکر دکھائیے۔ میں سیاست کی دنیا کا آدمی نہیں ہوں، سیاسی زبان یہ ہے کہ اس وقت کا ذکر نہیں جب غلام تھے۔ اب تو ماشاء اللہ آزاد ہوگئے ہیں۔تو اب اس آزادی کے دور میں دیکھوں کہ آپ کتنے آزاد ہیں۔
حضور!اب تو بڑے راستوں کے اوپر خود کار روشنیاں ہوگئی ہیں لیکن ابھی تھوڑے عرصہ پہلے خودکار روشنیاں چوراہوں کیلئے ایجاد نہیں ہوئی تھیں اور اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ بعض راستے ایسے ہوں گے کہ جہاں یہ نہ ہوں۔تو جہاں یہ نہیں ہوتے اور جب تک یہ نہیں تھے، اس وقت تک چوراہوں کے اوپر چبوترے بنے ہوئے تھے۔ اس چبوترے پر ایک ستون ہوتا تھا۔ اس ستون کے پاس ایک آدمی کھڑا ہوتا تھا اور وہ آنے جانے والوں کو اشارے کرتا رہتا تھا۔ کبھی یوں ہاتھ کردیا، کبھی یوں ہاتھ کردیا۔ اس کا مطلب سب سمجھتے تھے کہ آگے بڑھ جاؤ، رُک جاؤ۔ وہ سب اشارے کرتا رہتا تھا۔ اب بھی ہمارے ہاں بعض شہروں میں ، یہاں بھی بعض ترقی یافتہ جو شہرہیں، وہاں ہوگا۔ یہاں بھی بعض محلوں میں شاید ۔ تو میں کہتا ہوں کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ ارے صاحب! اپنے ملک کی سڑک اور آزادی سے نہیں طے کرسکتے۔
ارے صاحب! ہمارا ملک آزادہوگیا۔ بحمد للہ! ہم بھی آزاد ہیں تو ایک سڑک تو آزادی سے چلنے دیجئے۔ مگر نہیں جناب، کیوں آزاد نہیں دی جاسکتی؟ اس لئے کہ سڑک ہے ایک، رہرو بہت ہیں اور وہ راستہ چلنے والے ہر ایک کو اپنی فکر ہے، اپنی دھن ہے۔ ہر ایک سمجھتا ہے کہ مجھ ہی کو سب سے پہلے پہنچنا ہے اور ذرائع مختلف ہیں۔ کوئی موٹر نشین ہے، کوئی تانگہ نشین ہے، کوئی سائیکل نشین ہے، کوئی بیچارہ اپنے پیروں پر ہی چل رہا ہے۔ طاقتیں بھی مختلف ہیں۔ کوئی بوڑھا ہے، کوئی بچہ ہے، کوئی جوان ہے۔ تو اگر ان کو آزادی سے چلنے کیلئے چھوڑ دیا جائے تو موٹر نشین پیادوں کو پامال کردیں گے، کچل دیں گے اور جوان ضعیف العمر افراد کو دھکے دیں گے۔ خواتین کی بے حرمتی ہوگی۔ بچے پیروں کے نیچے آجائیں گے۔ حالانکہ یہ ایک سڑک ہے ۔ اس کا وہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ راستہ چلنے والے بھی
آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اس کے باوجود ایک سڑک آزادی سے نہیں طے ہوتی۔قانون ہے ہر ایک جو آئے، سواریاں اگر ہوں، مجھے معلوم ہے کہیں بائیں جانب کا قانون ہوتا ہے، کہیں دائیں جانب کا۔ وہ جدھر بھی ہے، پابندی ہے۔ وہ دائیں بائیں سے کوئی فرق نہیں ہوگا۔
تو وہ قانون مقرر ہیں اور اس قانون کی پابندی کے بغیر وہ سڑک طے نہیں ہوسکتی۔ اب میں کہتا ہوں کہ ایک سڑک جس کا وہ سرا بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے اور وہ بغیر قانون طے نہیں ہوتی تو یہ عظیم شاہراہِ حیات جس پر چلنے والے افراد نہیں، اقوام، اس کیلئے مطالبہ ہے کہ یہ بغیر قانون کے طے ہوجائے؟
اور یہیں ایک پہلوپر غور کیجئے کہ اچھا صاحب! کوئی کہے کہ قانون تو ٹھیک ہے، قانون ہونا چاہئے مگر وہ قانون لکھ کر اس کھمبے پر چسپاں کردیا جاتا۔ آنے جانے والے اسے پڑھ لیتے۔ یہ سپاہی کھڑے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
معلوم ہوتا ہے کہ ایک سڑک بھی فقط تحریری قانون سے طے نہیں ہوتی۔ جب تک عمل کروانے والے نہ ہوں تو ایک سڑک کیلئے قانون کافی نہ ہو اور عظیم شاہراہِ حیات کے قانون کیلئے کتاب کافی ہوجائے؟ اور اب یہیں ایک اور پہلو پر غور کرلیجئے کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ اُس سپاہی نے کہا ہو یوں اور آپ نے پوچھا ہو کیوں؟ آجکل تو ماشاء اللہ نئی روشنی والے حضرات کہتے ہیں کوئی بات، ہم سمجھے بغیر نہیں مانتے تو وہ جب کہے یوں تو آپ کہئے کیوں؟
مجھے معلوم ہے کہ آپ نے کبھی نہیں پوچھا اور دل چاہے تو کبھی پوچھ کے دیکھ لیجئے کہ وہ بتاتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ بتانے لگے گا تو اتنی دیر میں موٹر آجائے گی او روہ کچل دے گی اور وہ اپنے منصب سے ہٹادیا جائے گا۔ بس ایک بات کہتا ہوں کہ یہ دیکھ لیجئے کہ جو اس کھمبے کے پاس کھڑا ہے، وہ اس حکومت کا نمائندہ ہے یانہیں؟صاف الفاظ میں کہوں کہ یہ سمجھ لیجئے کہ کوئی وردی پہن کر خود سے یا راستہ چلنے والوں کے اجماع سے کوئی کھڑا تو نہیں ہوگیا ہے۔ اگر پتہ چلے کہ ایساکوئی کھڑا ہوگیا ہے تو ہرگز تسلیم نہ کیجئے بلکہ رپورٹ کرکے خود اُسے گرفتار کروادیجئے۔ لیکن جب سمجھ میں آجائے کہ اُدھر کا نمائندہ ہے، اس کیلئے جو علامتیں ہوتی ہوں، نمبردیکھ لیجئے، تمغے جو خاص ہوتے ہیں، وہ دیکھ لیجئے۔جب پتہ چل جائے تو اب آپ کا کام عمل کرنا ہے۔ اب آپ کا کام سمجھنا نہیں ہے۔ سمجھنا یہاں تک ہے کہ یہ ہے صحیح آدمی او رجب صحیح آدمی سمجھ لیا !
اسی لئے دین کے معاملہ میں انبیاء و مرسلین کے صرف دعویٰ پر ماننے کی پابندی نہیں ہے، ماننے کا حکم نہیں ہے ، جو علامات ہوں سچائی کی، معجزے کی ضرورت اسی لئے ہوئی کہ دیکھ لیجئے کہ نشان کیا ہیں۔ دیکھ لیجئے کہ اس کے دعویٰ پر حقانیت کی دلیلیں کیا ہیں اور جب ثابت ہوجائے ان دلائل سے کہ یہ بے شک ادھر کا نمائندہ ہے، ادھر کا رہنما ہے، تو اب اس کے احکام میں یہ بحثیں کہ صبح کی دو رکعت کیوں ہیں اور مغرب کی تین رکعتیں کیوں ہیں اور عشاء کی چار رکعات کیوں ہیں؟ یہ درحقیقت خود خلافِ عقل بات ہے۔بے شک بے سمجھے نہ مانئے ۔
اب وہ چیز ہے جو گزشتہ مجالس میں اس موضوع کے تحت میں عرض کرچکا ہوں کہ اسی لئے دعوائے رسالت چالیس برس کی عمر میں کیا۔ لیکن قوم کو اپنی سچائی کا تجربہ دعوائے رسالت سے پہلے کروایا تاکہ جب دعوائے رسالت ہو تو بلا دلیل نہ ہو۔ چالیس برس کا کردار، اس کی سچائی کیلئے ثبوت ہو اور وہ چالیس برس میں کیا اثر تھا کہ لوگ نام کی بجائے صادق کہنے لگے۔ نام کی بجائے امین کہنے لگے ، حالانکہ میرے نزدیک اخلاقِ رسالت کا ہر پہلو بے مثال تھا۔ جتنی صفاتِ حمیدہ ہیں، آپ سے بڑھ کر حلیم بھی کوئی نہ تھا، جتنی اوصافِ حمیدہ ہیں، سب میں
آپ بے مثال تھے۔ مگر یہ سب وصف رہے ، لقب نہیں بنے۔ صابر تھے مگر نام کی بجائے صابر نہیں کہے جانے لگے۔ حلیم تھے مگر نام کی بجائے حلیم کے لفظ سے یاد نہیں کیا جانے لگا۔ لیکن دو صفات اتنی نمایاں ہوئیں کہ انہوں نے نام کی جگہ حاصل کرلی۔ لقب بن گئیں، ایک صادق اور ایک امین۔
یہ ان دو صفات کی کیا خصوصیت ہے، میری سمجھ میں تو بس یہی آتا ہے کہ یاد رکھئے کہ ان دو صفات کو دعویٰ کی صحت میں دخل ہے۔ جو صادق ہو، وہ جھوٹا دعویٰ کیوں کرنے لگا؟ اور جو امین ہو ، وہ پیغام کے پہنچنانے میں ٹال مٹول کیوں کرنے لگا؟ تو صادق کہنے کے معنی یہ ہیں کہ جو دعویٰ آپ کیجئے گا، وہ سچا ہے اور امین کہنے کے معنی یہ ہیں کہ جو پیغام آپ پہنچائیں گے، وہ صحیح ہے۔
اب جب آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے لشکر آرہا ہے تو مانو گے یا نہیں؟ حد ِنظر کے سامنے جتنا مجمع تھا، اُس نے کہا کہ کیوں نہ مانیں گے کہ اس زبان سے سوائے سچ کے ہم نے کچھ نہیں سنا۔ اب اس کے بعد پیغام پہنچایا تو ظاہر ہے کہ اس وقت تو نہیں مانا اور نہ سبھی مسلم ہوجاتے مگر وہ خود ان کا جملہ کہ کیوں نہیں مانیں گے ، وہ ضمیر کے اندر نشتر بن کر چبھتا تو رہے گا۔ اس وقت یہ تھا کہ کیوں نہیں مانیں گے اور اب اندر سے کوئی کہہ رہا ہے کیوں نہیں مانتے ؟
اب ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں کہ جب نہیں مانا تو کیا کیا کہاانہوں نے؟ قرآن مجید نے سب بتا دیا ہے کہ کیا کیا کہا؟شاعر کہا، کاہن کہا اور سب سے زیادہ سخت بات یہ کہ مجنوں کہا۔ اب ایک پہلو پر توجہ دلاتا ہوں کہ کم بخت وہ کہنے والے ہمیں نہیں معلوم مگر قرآن نے ان تمام گستاخیوں کو محفوظ کردیا۔مجھے راستے میں کوئی گالی دے تو میں آکر بیان نہیں کروں گا کہ مجمعِ عام میں مجھے فلاں نے یہ گالی دی ہے۔ مگر قرآن ان کی ان سب غلط باتوں کو محفوظ کررہا ہے کہ کیا کہا۔ یہ کہا، یہ کہا۔
میں کہتا ہوں کہ یہ قرآن کیوں محفوظ کررہا ہے؟ جو میری سمجھ میں آیا، وہ عرض کرتا ہوں۔ یاد رکھئے کہ یہ سب جو وہ کہہ رہے تھے، یہ ظلم ہی تو تھا، ایک معلمِ عقل کو دیوانہ کہہ رہے تھے۔ ظلم ہی تو تھا ۔ ایک سنجیدہ انسان کو شاعر کہہ رہے تھے، ظلم ہی تو تھا۔تو قرآن نے ان تمام الفاظ کو محفوظ کرکے یہ اصول قائم کردیا کہ مظالم کے ذکر سے مظلوموں کی توہین نہیں ہوتی۔ چونکہ ہم پر زمانہٴ عزا میں طرح طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں، روتے ہم ہیں ۔ دل دوسروں کا دکھتا ہے۔ ماتم ہم کرتے ہیں،دل دوسروں کا دکھتا ہے۔ تو جتنے منطق و فلسفے کے اوزار ہیں، وہ سب کہیں نہیں آتے، اسی غمِ حسین  کے سامنے وہ تمام لائے جاتے ہیں۔ تو انہی میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب ہوا تھا، جانے دو کہ ہوا تھا۔
میں کہتا ہوں کہ جانے دو۔یعنی آپ محفوظ رہیں، ارے جانے دو، ذکر کرنے سے ،یہ تو ان کی شان کے خلاف ہے۔ (معاذاللہ) ان کی ہستی ہو، طوق پہنایا گیا ہو، بیڑیاں پہنائی گئی ہوں۔ یہ تو اعتراض کا ڈھب ہے۔ کبھی ہمدرد بن کر دشمنی کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ سب ظلم تھا تو ظاہر ہے کہ ظلم کی یاد سے ظالموں کی توہین ہوتی ہے۔مظلوموں کی توہین نہیں ہوتی۔طرح طرح کی باتیں ہیں۔ ان سے عرض کرتا ہوں، مصائب اسی میں آجائیں گے۔ کہتے ہیں کہ زندئہ جاوید ہیں وہ شہید۔ وہ مردہ ہیں کہیں؟ لہٰذا انہیں کیوں
روتے ہو؟
میں کہتا ہوں کہ متفق علیہ کتابوں میں جو روایات ہیں، انہیں دیکھو کہ حسین  پیدا ہوئے ہیں ، رسول کی گود میں لاکر دئیے گئے ہیں اور پیغمبر خدا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ ہم سے بعد میں پوچھنا، رسول سے پوچھ لو کہ زندہ کو کیوں روتے ہیں؟ ارے یہ زندگی شہداء کی تو عالم معنی کی زندگی ہے، وہ تو اس وقت جیتی جاگتی شکل سے سانس لیتی ہوئی زندگی کے ساتھ نانا کی گود میں موجود تھے اور رسول گریہ فرمارہے تھے۔تو اب تو تمہاری سمجھ میں آنا چاہئے کہ مرنے پر گریہ نہیں ہوتا، مصائب پر گریہ ہوتا ہے۔ اگر رسول کو اُس زندگی میں رونے کا حق تھا تو ہمیں اِس زندگی میں رونے کا حق ہے۔