معراج خطابت
 
وسیلہ اور شفاعت
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَابْتَغُوْااِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃ“۔
اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ تلاش کرو۔ کل اس پہلو کو عرض کیا کہ اس کی بارگاہ میں وسیلہ ایمان اور عملِ صالح ہے۔ اس وسیلہ کے بارے میں جو اکثریت ہے یا جو اقلیت ہے، مسلمانوں کا کوئی بھی مکتب ِ خیال ہے، اسے اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس وسیلہ کے لفظ سے ایک چیز ہے جس کا نام ہے توسّل۔ اس توسّل کے معنی ہوتے ہیں، مثلاً پیغمبر خدا بلاتفریق فرقہ تمام مسلمانوں کیلئے متبرک ہیں اور پھر آلِ طاہرین ہمارے لئے۔ ایک طبقہ مسلمانوں ہی کا جو پیغمبر خدا سے توسّل کا قائل ہے، وہ خصوصیت کے ساتھ اس تصور کو نہ رکھتا ہو جو ہمارے آئمہ طاہرین کے بارے میں ہے مگر وہ دوسرے الفاظ میں اولیاء اور مقربین بارگاہِ الٰہی سے توسل کا قائل ہے۔ اس عنوان کے تحت وہ ہمارے ساتھ آئمہ طاہرین کے بارے میں بھی توسّل کا قائل ہوجائے گا۔ اس منصب کے لحاظ سے نہیں جس کے ہم قائل ہیں لیکن اس عام عنوان کے تحت کہ مقربین بارگاہِ الٰہی ایسی ہستیاں ہیں کہ اصطلاحی حیثیت سے کوئی اس عہدہ کا قائل ہو یا نہ ہو لیکن مقربِ الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں۔
اس لئے جو پیغمبر خدا سے توسّل کا قائل ہوگا، وہ لازماً اس نقطہ پر بھی ہمارے ساتھ شریک ہوگا کہ ایک طبقہ جس کا اصل مرکز نجد میں تھا اور اس کے بعد اس کی حدود بڑھ کو پورے حجاز پر چھائیں اور بالواسطہ تمام دنیا پر دولت کی بنیاد پر اس کے اثرات پہنچ رہے ہیں، وہ اس کا مخالف ہے۔ اس کا مسلک یہ ہے کہ توسّل کرنا ان معنی سے کہ دعا میں رسول کو واسطہ قرار دینا اور طلب ِ حاجت میں ان کی بارگاہ میں جاکر یہ سمجھنا کہ(روضہ پر) پہنچنے سے اور دعا کرنے سے ہماری حاجت پوری ہوگی، یہ سب وہ کہتے ہیں کہ شرک ہے اور وہ ایسا شرک نہیں جو خفی ہو۔ ایک بلند معنی کے لحاظ سے ریاکاری بھی شرک کہلاتی ہے۔ مگر وہ شرکِ خفی ہے۔ یہ شرک ان کے نزدیک ایسا شرکِ جلی ہے کہ اپنی جماعت کے سوا تمام دنیا کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔چاہے بتقاضائے سیاست ان کی آواز میں دھیما پن پیدا ہواہو لیکن اصل مسلک ان کا یہی ہے کہ ان کی جان بھی مباح یعنی جان کا بھی احترام کوئی نہیں اور تمام مسلمانانِ عالم کا جان و مال محترم نہیں ہے۔
ان کا قتل کرنا بھی جائز، مال لوٹنا بھی جائز۔ یہاں تک کہ ان کی عورتوں کو کنیز بنانا بھی جائز۔ یعنی جو مشرکین کے احکام ہیںِ وہی تمام دنیا کے مسلمانوں کے احکام ان کے نزدیک ہیں۔ اس بناء پر کہ وہ توسّل کے قائل اور اس پر عامل ہیں۔ توسّل ان کے نزدیک ویسا ہی شرک ہے جیسا مشرکین مکہ لات و منات کی پرستش کرتے تھے۔ چونکہ ان حضرات کے روضے توسل کا مرکز ہیں، اس لئے سب روضوں کو وہ اصنام سمجھتے ہیں، بت سمجھتے ہیں اور ان کی زبان میں روضہٴ رسول سب سے بڑا بت ہے۔صنمِ اکبر۔ مگر اتنے طویل عرصہ میں تقیہ سے کام لے کر اس کو باقی رکھا ہے۔ آج اس چیز کا بیان ہے جسے وہ شرک قرار دیتے ہیں اور اسے ہم عبادتِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اسی توسّل کے تحت حقیقت میں مسئلہ شفاعت بھی ہے۔ بلاواسطہ اللہ سب کام کردیتا ہے تو آخر کسی کو اُسے شفیع قرار دینے کی ضرورت کیا ہے؟
چنانچہ ایک رحجان یہ ہے کہ شفاعت کا تصور غلط ہے۔ اس کیلئے قرآن مجید کی آیتیں پیش کی جاتی ہیں کہ:
”لَیْسَ لَھُمْ وَلِیٌ وَلَا شَفِیْع“۔
ان کیلئے نہ کوئی ولی ہے نہ کوئی شفیع ہے۔
اور پھر روزِ قیامت کے ذکر میں قرآن مجید میں ہے کہ اس دن نہ تو فدیہ ہوگا، نہ شفاعت ہوگی۔ ایک وقت میں ایک صاحب نے کتاب لکھی تھی ، ان کا نقطہ نظر انکارِ شفاعت تھا۔ انہوں نے پورے قرآن سے چودہ آیتیں لکھی تھیں ، نفی شفاعت میں ایسی:
”وَا تَّقُوْایَوْمًالَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًاوَلَا یُقْبَلُ مِنْھَا شِفَاعَۃ“۔
کہیں پر
”لَا تَنْفَعُھَاشَفَاعَۃ“۔
ہے۔اس طرح چودہ آیتیں انہوں نے مسلسل لکھی تھیں۔ اس کی رد میں امامیہ مشن لکھنوٴ سے رسالہ شائع ہوا تو اس میں مَیں نے بالکل صحیح حساب کے ساتھ ۲۸ آیتیں ثبوتِ شفاعت میں پیش کیں۔ علم غیب کے بارے میں ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر دس جگہ ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ایک جگہ قرآن نے کہہ دیا کہ ایسا نہیں ہے سوا۔ تو ادھر ایک عدد سواآیا، ایک آیت میں ادھر ، یہ سوا ان سب آیتوں میں لگ جائے گاکیونکہ اس نے بتادیا کہ وہ حکمِ عام نہیں ہے۔ اس میں خصوصیت ہے۔ تو جب یہ خصوصیت ہے تو جہاں جہاں وہ عام حکم ہے، وہ اس خاص پر محمول ہوگا کیونکہ خاص صریح ہوتا ہے اپنے مفہوم میں اور عام تو ایک اپنے الفاظ کی لپیٹ میں لیتا ہے ۔ خاص جب حکم آجائے خصوصیت کے ساتھ تو وہ ہر عام میں تخصیص پیدا کردے گا۔ جہاں جہاں شفاعت کی نفی ہے، (اُن چودہ آیتوں کا انکار نہیں) مگر اٹھائیس آیتوں میں ”اِلَّا“ موجود ہے۔ کوئی قید موجود ہے تو وہ ”اِلَّا“ اور وہ قید جاکران سب آیتوں کو مقید بنا دے گی ۔ تو وہ اٹھائیس آیتیں ثبوتِ شفاعت کی دلیل بن جائیں گی۔
اب قرآن مجید میں دیکھ لیجئے کہ کس کس طرح شفاعت کا اثبات ہوا ہے۔ کہیں ایک جماعت کے بارے میں کہا گیا:
”لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی“۔
وہ لوگ شفاعت نہیں کریں گے ۔ وہ سے مراد بعض فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض ان افرادِ انسانی کو شفیع قرار دیتے ہیں جو پیش خدا شفاعت کا حق رکھتے ہیں۔ تو وہاں یہ جملہ ہے:
”لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی“۔
وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اس کی جو اللہ کو پسند ہو ۔ تو اب شفاعت نہ کرنے کے ساتھ ”اِلَّا“ آگیا تو معلوم ہوا کہ کچھ ایسے ہیں جن کی شفاعت اللہ کو پسند ہوگی۔
ایک جگہ قرآن مجید میں ہے، میں قسمیں بیان کررہا ہوں ، نمونہ کے طور پر ایک ایک آیت ایسی جس میں قید ہے ، پیش کرتا ہوں ۔ یہاں دیکھئے کہ یہاں آیا:
”لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی“۔
”اِلَّا“ آیا تو اس نے نفی میں انقلاب پیدا کرکے اس کو ثبوت بنایا۔اس کے علاوہ آپ دوسری جگہ دیکھئے کہ وہاں کوئی شفیع نہیں ۔
”مَامِنْ شَفِیْعٍ“۔
کوئی شفیع نہیں ہے۔ابھی تک نفی ہے۔
”اِلَّا بِاِذْنِہ“۔
مگر اس کی اجازت سے ۔ تو اب جب”اِلَّابِاِذْنِہ“ آگیا توکلی نفی شفاعت کہاں ہوا؟ ”اِلَّابِاِذْنِہ“ ثبوت شفاعت کی دلیل بن گیا۔ایک جگہ ہے کہ”مَامِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ“، اس کے ہاں کوئی مدد گار نہیں ہے اور کوئی شفاعت کرنے والا ایسا نہیں ہے جس کی وہ اطاعت کرے۔ یعنی کوئی حکم شفاعت کرے، ایسی کوئی بالا دست طاقت نہیں ہے جو اس کو گویا مجبو رکرسکے ، ایسا کوئی شفیع نہیں ہے۔
اس کو ایک مفسر نے بڑے بلیغ انداز میں دو الفاظ میں کہا ہے کہ ایسے شفیع نہیں ہیں جن کی وہ اطاعت کرے، ایسے شفیع ہیں جن کی دعا کو وہ قبول کرے۔ کہیں یہ کہہ دیا کہ شفاعت وہاں فائدہ نہیں دے گی مگر یہ کہ ”اِلَّالِمَنْ اَذِنَ لَہ“ جس کیلئے اس کا اذن ہو۔
تو اب جب اٹھائیس آیتیں اس قسم کی آگئیں کہ جس میں کہیں ”اِلَّا“ کہہ کراستثنیٰ کیا گیا ہے اور کہیں شفیع میں قید لگا کر اس کے دائرے کو محدود بنایا گیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن نفی شفاعت کو نہیں، ثبوتِ شفاعت کو بتا تا ہے۔
اب جو تصورات نفی شفاعت میں ہیں، ہوتا یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن میں ایک بات طے کرتا ہے کہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے۔ پھر وہ آیتیں تلاش کرتا ہے کہ اس کی تائید میں آیتیں کونسی ہیں۔ اس لئے ایسے شخص کو چودہ آیتیں نظر آئیں، اٹھائیس آیتیں نظر نہیں آئیں کیونکہ اس نے تو اپنی جگہ یہ طے کیا تھا کہ ہمیں نفی شفاعت کرنی ہے۔ اس لئے وہ آیتیں مطلب کی نہ تھیں جن میں ثبوتِ شفاعت کا پتہ چلتا تھا۔ یہ آیتیں مطلب کی تھیں۔ یہ دلیل ہے اس کی کہ ایسے لوگوں کو قرآن کا تابع نہیں ہوناہے بلکہ قرآن کو اپنا تابع بنانا ہے۔ کسی غرض کے تحت مطالعہ قرآن ہے، اس لئے نہیں ہے کہ قرآن سے حقیقت سمجھیں۔ یہی عموماً ہوا کرتا ہے کہ ہر ایک مناظر اپنے مطلب کی آیتیں سوچ کر پیش کرتا ہے، اس لئے کہ مطلب تو اس کے ذہن میں قرآن کو دیکھے بغیر طے شدہ ہے۔ہمیں ایک جماعت کو عادل سمجھنا ہے تو اب اس کیلئے تلاش ہے دلائل کی۔بات تو ہم اپنی جگہ طے کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سے کسی کی فضیلت کا انکار کرنا ہے تو وہ انکار تو جذباتی طور پر ہے لیکن قرآن سے سند کوئی پیش کرنا ہے۔یا یہ کہ طے تو یہ ہے کہ ہم کسی خاص حقدار کو وراثت نہیں دیں گے، اب اس کیلئے تلاش سے بھی آیت نہیں ملتی تو حدیث کا سہارا لیا جاتا ہے، چاہے خلافِ قرآن ہو۔
تو اب اصل دلائل نفی شفاعت کے قرآن میں نہیں ہیں بلکہ ذہن میں ان کے پاس کچھ باتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ شفاعت کا انکار کررہے ہیں۔ تو دیکھا جائے کہ اصل باتیں کیا ہیں تو یہ کہہ کر اگر وہ قابل معافی ہے تو خدا معاف کر ہی دے گا۔ بے معنی چیز ہے ، ایک صورت میں بے ضرورت ہے، ایک صورت میں بیکار ہے۔ اگر وہ قابل مغفرت ہے تو وہ بے ضرورت ہے اور اگر قابل مغفرت نہیں ہے ہے تو بیکار ہے۔ لہٰذا شفاعت کیوں ہے؟ یہ دلیل بظاہر تو عقلی حیثیت سے بہت مضبوط نظر آتی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ شفاعت سے کہاں مخصوص ہے؟ یہ تو ہر دعا کی قبولیت میں ہے کیونکہ وہ کام ہونا ہے تو دعا بے ضرورت ہے ،اگر نہیں ہونا ہے تو دعا بیکار ہے۔لہٰذا دعا کیوں؟ مگر دعا کا منکر کوئی نہیں ، اس لئے کہ قرآن حکم دے رہا ہے کہ:
”فَادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ“۔
مجھ سے دعا مانگو۔ تو میں کہتا ہوں کہ شفاعت در حقیقت ایک قسم کی دعا ہے ۔ جب وہ اصل دعا کے منکر نہیں ہیں تو شفاعت کے کیونکر منکر ہوتے ہیں؟ جو مطلق دعا کی صحت کاپہلو ہوسکتا ہے، وہی شفاعت کا پہلوہوسکتا ہے۔ مگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم پر مسلمے کا دباؤ ڈال کر منوالیا۔ اچھا! ہم کہتے ہیں کہ وہ دعا ہی کیوں؟ مطلق دعا کیوں؟ قرآن میں کیوں ہے؟ تو یہ حقیقت میں مسئلہ تقدیر سے متعلق چیز ہے اور تقدیر بڑی گہری بات ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر مطلق فیصلہ ہو ہونے کا تو بے شک دعا بیکار اور بے ضرورت اور اگر مطلق فیصلہ ہو، نہ ہونے کا تو دعا بیکار۔ وہی بات اس صورت میں بے ضرورت اور اِس صورت میں بیکار۔وہاں طے شدہ ہے کہ یہ بات ہوگی ، دعا کریں یا نہ کریں تو دعا بے ضرورت اور یہاں طے شدہ ہے کہ نہیں ہوگا تو دعا بیکار۔لیکن جب اس فاعل حکیم نے دعا کا حکم دیا ہے تو یہ کیوں نہ سمجھئے کہ کچھ مقدرات کو اس نے مشروط کیا ہے ہماری دعا سے۔ یعنی فیصلہ از اوّل یہ ہے کہ اگر دعا کرے گا تو اس طرح ہوگا اور اگر دعا نہیں کرے گا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اب اگر ہم نے دعا نہ کی تو اس محرومی کے ذمہ دار ہم ہوئے اور پھر غور کیجئے تو وہ دعا سے مخصوص نہیں، وہ تصور جو ہے کہ ایک صورت میں بے ضرورت اور ایک صورت میں بیکار، وہ جتنی تدابیر آپ کرتے ہیں، ان سب میں ہے۔ہر شخص اپنے مقصد کیلئے تدابیر کرتا ہے ۔تو اگر وہ ہونے والی بات ہے تو آپ کی تدابیر بے ضرورت اور اگر ہونے والی با ت نہیں ہے تو آپ کی تدبیر بیکار۔
جو بات دعا کی تھی، وہ آپ کی تدبیر میں بھی ہے اورپھر علاج ،ڈاکٹروں کو، حکیموں کوسب کو نظر اندا زکردیجئے، اس لئے کہ اچھا ہونے والا ہے تودوا بے ضرورت، اچھا ہونے والا نہیں ہے تو دوا بیکار۔ اب بحمدللہ وہ چیز ہمارے ہندوستان میں ختم ہوگئی، جب سے میں عراق سے آیا ہوں تو اس وقت پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمارے ملک میں اور خصوصاً یوپی میں بہت زیادہ تھا کہ لوگ کسب ِ معاش میں یعنی تجارت وغیرہ کو ذلت سمجھتے تھے۔شرفاء فاقے کرتے تھے مگر یہ کہ محنت مزدوری یا تجارت نہیں کرتے تھے۔ بھلا میر صاحب ہوکر دوکان کریں؟یہ بہت شدت کے ساتھ تھا۔
چنانچہ وہاں سے آکر میرے جو بیانات ہوئے، وہ تین دن مدرسہ الواعظین میں تجارت اور اسلام کے موضوع پر ہوئے تھے اور وہ امامیہ مشن سے چھپے بھی تھے۔”تجارت اور اسلام“۔ تو وہ گویا افرادِ ملت میں ایک نئی چیز سمجھی گئی۔تواس میں مَیں نے عرض کیا تھا،اس میں دلائل جو تھے، ترکِ تجارت اور ترکِ ذرائعِ معاش کے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ کسی سے کہا ارے بھئی! اس عالم میں ہو تو کچھ کرو؟ انہوں نے کہا: ہمارے مقدر میں فاقے لکھے ہیں تو پھر کیا کریں؟ مقدر میں فاقے ہیں، پھر کیا کریں؟ اور ایک مسئلہ تھاکہ اللہ رزق کا ضامن ہے تو بہرحال وہ رزق تو ہمیں ملے گا۔ پھر محنت مزدوری کرکے کیاکریں؟ایک تصور یہ اللہ کی رزاقیت کا تھا۔ ایک تصور وہی عزت و شرافت کا تھا کہ ابھی
میر صاحب کہلاتے ہیں، اگر تجارت شروع کردی تو اس چیز کا نام لے کر کہا جائے گا کہ پان والے،بسکٹ والے اور مختلف چیزوں والے۔ تو گویا عزتِ خاندانی ختم ہوجائے گی۔ غرض یہ سب تصورات تھے جن کی بناء پر شرفاء بھوکے مرتے تھے اور تجارت نہیں کرتے تھے۔
میرے جو بیانا ت ہوئے، تو جناب! اب ایک لہر جیسے دوڑی کہ نئی ایک بات سامنے آئی۔لوگوں نے دوکانیں کھولنا شروع کیں ، تجارت شروع کی اور اس کے اشتہار میں لکھا کہ انہوں نے یعنی میں نے ایسے بیانات دئیے تھے، لہٰذا اس پر عمل کرنے کیلئے ہم نے یہ کاروبار شروع کیا ہے۔ تب میں نے ایک بیان میں کہا کہ اگر آپ کو تجارت کرنے کا ذوق ہوا ہے ، توفیق ملی ہے تو اُسے آپ ایک مصلحانہ شان سے کیوں کرتے ہیں؟ آپ کہئے کہ ہماری قومی ضرورت ہے۔ میرے بیان کا حوالہ دے کر گویا ایک خدمت ِقومی کے طور پر اُسے کرنا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی جگہ اُسے ذلیل کام سمجھ رہے ہیں۔
اب اس تقدیر والی بات کو اس بیان میں مَیں نے کہا کہ جناب اگر آپ اس اصول کے زندگی کے تمام شعبوں میں قائل ہوں، تو میں چاہے اس اصول کو غلط سمجھتا ہوں، لیکن آپ کو بے اصول نہیں سمجھوں گا۔ یعنی وہی کہ بیمار ہو بچہ لیکن آپ نہ جائیں ڈاکٹر کے ہاں، اس لئے کہ مقدرات میں اگر ہے اچھا ہونا تو ہوجائے گا اور اس سے آگے یہ ہے کہ مقدمہ عدالت میں ہو لیکن پیروی نہ کیجئے۔ کہئے کہ جائیداد اگر ملنی ہے تو مل ہی جائے گی۔پیروی سے کیا فائدہ؟
ایک معمولی سی بات یہ ہے کہ میرا یہ بیان آپ کو سننا تھا تو آپ اپنے گھر میں بیٹھے رہتے کہ مقدر میں سننا ہے تو سن ہی لیں گے مگر آپ نے کب سے اپنے پروگراموں کو تبدیل کیا ا س مجلس کی خاطر؟ اور کس طرح سے وقت ِمقررہ پر تیا رہوئے اور پھر ایک ایک قدم کی صورت میں کتنے مراحل طے کرکے اس بیان میں شرکت کی؟ تو اگر یہ سب باتیں آپ نے خلافِ عقل نہیں کیں تو طلب ِ رزق کی کوشش کیلئے تقدیر کی سپر استعمال کرنا کہاں تک معقولیت ہے؟معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کے آپ قائل نہیں ہیں بلکہ تقدیر کو اپنے بے عملی کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ وہی صورت یہاں ہے کہ جناب دوا کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ یہ بیکار ہے تو دعا کرتے وقت کیوں سوچتے ہیں کہ یہ بیکار ہے؟ہونے والا ہے تو ہوگا ۔
اب میں مختصر الفاظ میں عرض کردوں کہ فلسفہ دعا کیا ہے؟ فلسفہ اس کا یہ ہے کہ خالق کی مشیت صرف ایک حاکم کی تو ہے نہیں کہ اس کو غرض تعلیم احکام سے ہو ، اس لئے وہ ایک فہرست ِ احکام سنا دے اور اس کے بعد مخالفت کرو گے تو سزا دی جائے گی۔ اس کی حیثیت وہ بھی ہے جو ناقص درجہ پر ایک باپ کی اپنی اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ تو باپ کی یہ شان نہیں ہوگی کہ وہ بس آرڈر دے دے اور پھر بے فکر ہوجائے کہ اگر خلاف کرے گا تو سزا دیں گے۔ جی نہیں! وہ حکم بھی دیتا ہے اور جیسے اس کے دل کو لگی ہوتی ہے کہ یہ اس پر عمل کرے۔ لہٰذا وہ محرکاتِ عمل مہیا کرتا ہے اپنی طرف سے۔ ورنہ اگر یہ نہ ہوتا تو ثواب اور عذاب کے اعلانات بھی نہ ہوتے۔ خصوصاً ثواب کے اعلانات تو ہوتے ہی نہیں۔ لیکن وہ تو چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ اطاعت گزار ہیں کیونکہ اولاد میں بھی طبیعت الگ الگ ہوتی ہے۔ کوئی بچہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس کو کہا جائے کہ یہ چیز تم کو دیں گے تو ہو چڑ جائے گا، اُس کی خودداری کے خلاف ہوگا۔ کوئی ایسا ہوگا کہ اس سے سزا کا ذکر کیجئے تو وہ بُرا مانے گا۔ اُسے کد ہوجائے گی۔ تو باپ اگر دانش مند ہے تو بچوں کی طبیعت کے لحاظ سے جسے دیکھے گا کہ کڑے تیوروں سے متاثر ہوگا، اُس کیلئے سزا کا
اعلان کرے گاکہ اگر تم نے یہ کیا تو مار کھاؤ گے۔ جسے بلند نظر پائے گا، اس کیلئے نہ ثواب کہے گا ، نہ عذاب کہے گا۔ کہے گا کہ ہم تم سے خوش ہوں گے ۔ تو وہ محرکاتِ عمل بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ یادِ الٰہی اس کی اپنی غرض کیلئے تو ہے نہیں۔ ہم یاد کریں گے تو اس کا کیا فائدہ؟ اگر ہم بھولے رہیں گے تو اس کا کیا نقصان؟ یہ یادِ الٰہی ہماری تعمیر حال و مستقبل کیلئے اکسیر ہے کہ اس کی وجہ سے ہم ہیں۔احساسِ فرض پیدا ہوتا ہے ۔اس کی وجہ سے ہم برائیوں سے بچتے ہیں۔ تو یادِ الٰہی کا اس نے حکم اپنے فائدہ کیلئے نہیں دیا ہے، ہماری تعمیر حیات کیلئے دیا ہے۔
تو اب اس نے محرکاتِ عمل پیدا کئے ہیں خدا کو یاد کرنے کے۔ لہٰذا ا سکی ایک تجویز یہ تھی ، ایک صورت یہ تھی ، ایک ترکیب یہ تھی کہ دنیاوی ضرورتوں کو ہم اس کی دعا کے ساتھ وابستہ کردیں تاکہ اپنی دنیا کی تعمیر کیلئے بھی ہمیں نہ بھولے۔
کسی شاعر نے طنزیہ طور پر یہ کہا ہے۔ جناب اُمید لکھنوی کا شعر ہے ، ایک طنز ہے عبادت گزاروں پر، اپنے اوپر رکھ کر کہا ہے:
گر پڑھی بھی کبھی ہم نے تو نمازِ حاجت
اپنے مطلب کیلئے یادِ خدا بھی آئی
ایک اور شعر یاد آگیا:
گلشن دہر کی ہر شے سببِ حسرت ہے
ہاتھ ملوانے کو دنیا میں حنا بھی آئی

دردِ عصیاں جو تھا عارض تو دوا بھی آئی
قبر میں ساتھ میرے خاکِ شفا بھی آئی
انہوں نے تو طنزیہ طور پر یہ تحریر فرماے مگر میں کہتا ہوں کہ درحقیقت اسی لئے تو دعا کاحکم دیا گیا ہے کہ اپنے مطلب کیلئے ہی سہی، ہماری یاد تو آئے۔ وہ تو ہمارے آئمہ نے تمثیلی طور پر اس کیلئے ایک واقعہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ایک بندہ کبھی سجدہ ہی نہیں کرتا تھا۔ ملائکہ اس کی بداعمالی پر گویا بارگاہِ الٰہی میں فریادی ہوئے کہ خداوندا! یہ تیرا بندہ، تیری طرف سے برابر اس کو رزق مل رہا ہے اور یہ کبھی تجھے یاد نہیں کرتا تو ارشادِ قدرت ہوا کہ ہاں ٹھیک ہے، مگر ایک جزو ذرا ا س کے نظامِ حیات کا بدل دو، ایک رگ کا نظام بدل دو۔ اب جو تکلیف ہوئی تو سر سجدہ میں رکھ کر اس نے کہا یارب!تو صدائے قدرت آئی کہ ارے میں تو مدت سے منتظر تھا کہ تو مجھے پکارے۔
تو دعا کا فلسفہ یہ ہے اور مقصد ِدعا ایسا عظیم ہے کہ جس میں ذرا سا بھی کلام ،دو حرفی کلام بھی ہوتو وہ مبطل نماز ہوجائے اور دعا ہر محل پر ہوسکتی ہے۔ ایک تو جگہ مقرر کردی گئی قنوت میں جو جمہورِ اُمت کے ہاں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہے تو وہ قنوت دعا کا محل خاص ہے اور اس کے بعد کلیةً کسی مقام پر بھی کلام کرنا ناجائز مگر یہ کہ دعا ہر محل پر جائز ہے۔ ہر جگہ پر دعا صحیح ہے اور دعا نہ کرنے والوں کی مذمت میں قرآن میں کہا گیا:
”اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ“۔
جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیںِ گھمنڈ سے کام لیتے ہیں ، میری عبادت کے مقابلہ میں، تو معصومین نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہاں عبادت سے مراد وہ دعا ہے کہ جیسے اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اللہ کی بارگاہ میں التجاکرنے کو، تو ان کیلئے کہا گیا کہ ان کیلئے جہنم ہے جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے۔معصوم نے فرمایا ہے:
”اَلدُّعَااَفْضَلُ الْعِبَادَۃ“۔
دعا عبادات میں سب سے افضل ہے۔ اور ایک حاضر نے معصوم سے سوال کیا کہ دو شخص مسجد میں داخل ہوئے، ایک شخص نے کثرت کے ساتھ نمازیں پڑھیں ، ایک نے کثرت کے ساتھ دعائیں مانگیں تواس میں سے کس کا عمل افضل ہے؟ حضرت نے پہلے مجملاً فرمایا کہ اس کا عمل بھی ٹھیک ہے ، اُس کا عمل بھی ٹھیک ہے۔ اُس نے کہا کہ ٹھیک ہونے کو میں پہچانتا ہوں، میں تو افضل کو پوچھ رہا ہوں کہ ان میں افض کون ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ وہ جس نے دعائیں زیادہ مانگیں، وہ خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ نماز بقدرِ ضرورت پڑھ لی، واجب ادا کرنا تھا، کرلیا، پھر دعائیں مانگیں۔تو اس کی فضیلت زیادہ ہے۔
تو اب جب دعا کرنا ہی ہے بارگاہِ الٰہی میں تو اگر وہ ہستیاں کسی دوسرے کی مغفرت کیلئے دعا مانگیں تو اسی کا نام شفاعت ہے۔
تو آپ کسی دعا میں نہیں سوچتے کہ دعا میں کیا فائدہ اور وہاں شفاعت میں سوچ رہے ہیں کہ شفاعت کرنے سے کیا فائدہ؟ایک صورت میں ضرورت کیا اور ایک صورت میں حاجت کیا؟ وہ جو ایک تصو رتھا جس کو عرض کیا، دوسری بات یہ کہ ایک تصور ہے کہ شفیع کے معنی ہیں فرد ایک اور شفیع دو۔ اسی وجہ سے نمازِ شب میں آٹھ رکعات تو نمازِ شب کہلاتی ہے او ردو رکعات جو ہوتی ہیں، وہ شفعِ نماز کہلاتی ہیںَ تو شفع کے معنی دو۔ جیسے طاق اور جفت اور ایک وتر ہے یعنی اکیلی نماز ۔اس کے بعد قرآن مجید میں”وَالشَّفِعْ وَالْوِتْرِ“میں قسم دو کی اور ایک کی۔ اب ایسی ہی چیزیں ہیں جہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافی ہے قرآن ، تو سمجھئے کہ دو کون ہے اور ایک کون ہے؟
غرض اب تصور یہ ہے کہ اسے آپ کہہ رہے ہیں شفیع، اور شفع کے معنی وہ جو دوسرا ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خد اکے مقابلہ میں وہ گویا مد مقابل ہے، اس لئے شرک ہے۔ اس میں تصورِ شرک یوں پیدا ہوا کہ یہ خدا کا دوسرا ہے۔ تو جو اصل بنیاد ہے، لغوی مفہوم کی، وہ مسلّم۔ بے شک شفع کے معنی دو ہوے ہیں اور شفیع یعنی دوسریا۔ مگر ذرا عقل سے کام لیجئے ، کس کا دوسرا ہے، حقیقت میں اس صاحب ِ حاجت کا دوسرا ہے کہ ابھی تک وہ ایک کی حاجت تھی ، اب دو کی ہوگئی۔ اس لئے شفاعت شرک نہیں بلکہ شرک شکن ہے۔
ان وجوہ کی بناء پر شفاعت کا انکار غلط۔ قرآن میں صراحتاً شفاعت کاثبوت ہے اور” شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنَ“آپ کا ایک لقب ہے مستند احادیث کی رو سے۔لہٰذا کسی کے بارے میں وہ شفاعت کاانکار کریں مگر بربنائے حدیث ِصحاح پیغمبر کو شفیع مانیں۔پھر یہ بھی ایک صورت ہے کہ وہ شفاعت کو شرک قرار نہیں دیتے بلکہ توسّل کو شرک قرار دیتے ہیں۔ وہاں بھی ذرا لفظی بحث کرتے ہیں کہ ان سے نہ کہو کہ آپ ہماری شفاعت کیجئے بلکہ اللہ سے کہو کہ ان کو ہمارا شفیع بنا دے۔ یعنی یوں ناک نہ پکڑو، یوں پکڑو۔ ان سے نہ کہو کہ آپ شفاعت کیجئے ، اللہ سے کہو کہ ان کو ہمارا شفیع بنا دے۔تو اگر شفاعت کرنا ان کا شرک ہے تو خدا سے کہنا کہ اپنا تو شریک قرار دے۔ یعنی اگر وہ غلط ہے تو یہ تمنا بھی غلط ہے۔غرض یہ کہ شفاعت کے متعلق وہ منکر نہیں ہوسکتے۔ مجبوری ہے ،قرآن میں ہے۔ احادیث ِصحاح میں بھی ہے۔قرآن میں کچھ
ترکیب ہوجاتی ہے لیکن صحاح کو کیا کیا جائے کہ بخاری اور مسلم میں شفاعت کاذکر موجود ہے۔
”اُوْتِیْتُ الشَّفَاعَۃ“۔
مجھ کو شفاعت کا درجہ حاصل ہوا ہے۔
قرآن مجید کی آیت ہے ،اس کی بھی تفسیر شفاعت کے ساتھ ہے کہ وہ مقامِ محمود جس پر اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے آپ کو فائز کیاہے، وہ شفاعت کا درجہ ہے۔ تو اب یہ تو مجبوری ہے ، شفاعت کا انکار نہیں ہوسکتا۔لیکن توسّل کا انکار ہے یعنی ان کے ذریعہ سے دعا مانگنا اور ان کو واسطہ قرار دینا کہ تجھے واسطہ ہے محمد و آلِ محمد کا۔اس طرح سے توسّل کرنا یا ان کے روضوں پر جاکر دعا مانگنا۔یہ سب جو ہے، وہ شرک ہے۔
تمام دنیا کے مسلمان واجب القتل ہیں ان باتوں کی وجہ سے۔ لیکن اب میں کہتا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ رسول کے پاس جاکر یا کسی روضہ پر جاکر دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دعا مانگنی ہے تو اللہ سے مانگ لو۔ تو اب قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہوں۔ قرآن مجید کی آیت ہے جس میں راوی کا کوئی سوال نہیں ہے، قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسا کیوں نہ ہواکہ:
”اِذْظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ“۔
جبکہ انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا۔
اصطلاحِ قرآنی میں اپنے نفس پر ظلم کرنا گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ یعنی گناہ کرکے وہ کسی اور کا نقصان نہیں کرتا، اپنا نقصا ن کرتا ہے تو”اِذْظَلَمُوْااَنْفُسَھُمْ“، یعنی جنہوں نے گناہ کئے تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ:
”جَاوٴکَ فَسْتَغْفَرُوااللّٰہَ وَاسْتَغْفِرْلَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوااللّٰہَ تَوَّابَارَّحِیْمًا“۔
اگر ایسا ہوتا کہ جب انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا یعنی گناہوں کے مرتکب ہوئے تو آپ کے پاس آتے۔
قرآن کہہ رہا ہے، میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ ”جَاوُکَ“،آپ کے پاس آتے۔ فَ۔ف ہوتا ہے ترتیب کیلئے۔ پرانے زمانہ میں اس ”ف“ کا ترجمہ پس ہوتا تھا۔ آپ کے پاس آتے، پس اللہ سے مغفرت کے طلبگار ہوتے۔ اب ہماری اُردو پس والی نہیں رہی۔اب ہم ترجمے میں اس کا مفہوم یوں ادا کرتے ہیں کہ آپ کے پاس آکر اللہ سے مغفرت کے طلبگا رہوتے یعنی اپنی جگہ پر مغفرت کے طلبگار ہونے سے کام نہیں چلے گا۔آپ کے پاس آتے، آکر اللہ سے طالب ِمغفرت ہوتے، پھر پیغمبر ان کیلئے استغفا رکرتے’لَوَجَدُوااللّٰہَ تَوَّابًارَّحِیْمًا‘،
تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم پاتے۔
یعنی بجائے خود تو ہے ہی توّاب۔ بجائے خود تو ہے ہی رحیم۔ مگر ان کیلئے اُس صفت ِ توابیت و رحیمیت کا مظاہرہ موقوف ہے کہ وہ پیغمبر خدا کی خدمت میں آکر ان سے توسّل کریں۔ صرف اللہ کی طرف رجوع کرکے آپ کے سامنے کہنا کافی نہیں ہوگا بلکہ خود رسول سے بھی کہیں کہ آپ ہمارے واسطے استغفار کیجئے۔ تو اللہ کو تَوَّاب وَرَحِیْم پائیں گے۔ہے تو وہ مگر یہ اس وقت پائیں گے تواب بھی اور رحیم بھی۔ تو اگر توسّل کوئی چیز نہ ہوتا تو رسول کے پاس آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ توسّل کوئی نئی چیز نہ تھا جو قرآن نے کہا ہو۔ اس توسّل کا انبیائے سلف کے دَور میں بھی تصو رموجود تھا۔ قرآن کو دیکھئے ، سورئہ یوسف میں کہ فرزندانِ یعقوب کیوں ان سے آکر کہتے:
”یَاَبَانَااَسْتَغْفِرْلَنَاذَنُوْبَنَا“۔
اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کیلئے،جرائم کیلئے استغفار کر دیجئے۔ اور وہ اس پر بجائے اس کے کہ تنبیہہ کریں کہ استغفار کرنا ہے تو خود کرو۔ میں کیوں کروں؟ وہ وعدہ کئے لیتے ہیں کہ :
”سَوْفَ اَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَبِّی“۔
میں اپنے پروردگار سے عنقریب تمہارے لئے استغفار کروں گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ توسّل پر انبیائے سلف کا اجماع قائم تھا۔
قرآن کہہ رہا ہے کہ آپ کے پاس جاتے اور آپ ان کیلئے طالب ِمغفرت ہوتے ، تب وہ اللہ کو تواب اور رحیم پاتے۔ یعنی رحمت ِ الٰہی کی توجہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ آپ ان کیلئے استغفا رکریں۔ اب جو توسّل کے شواہد ہیں، وہ انشاء اللہ کل عرض کروں گا۔
پس ایک آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعد اس کے معیار پر حدیثیں منتخب کرکے، حاکم ایک اپنے وقت کے امام فن حدیث تھے۔انہوں نے مستدرک لکھی۔ وہ مستدرک حاکم کہلاتی ہے۔اس میں ایک حدیث ہے کہ جب جنابِ آدم سے ترکِ اولیٰ ہوا، کوئی مجرم کیا روئے گا اپنے جرم پر جیسے انبیاء ترکِ اولیٰ پر روتے تھے اور گڑگڑاتے تھے اور بارگاہِ الٰہی میں مثل بید کانپتے تھے۔
تو وہ گناہ ہوتا تو نظر رحمت پھر جاتی مگر وہ گناہ تو ہوتا نہیں، وہ ان کی بلندیٴ منزل کے لحاظ سے ہوتا تھا جس پر خدا تنبیہہ کرتا تھا کہ تم نے بہت براکیا اور اس پر یہ ایسے لرزتے تھے جیسے کوئی ملزم بھی نہ لرزے گا۔ تو نظر توجہ سلب نہیں ہوتی ہے۔اب اس کیلئے میں نے کہا کہ دلیل اس کی کہ وہ گناہ نہیں تھا۔ جو بھی ہوا، آدم سے، نوح سے، ابراہیم سے، کسی سے بھی، کوئی اس قسم کا فعل جس کو ہم ترکِ اولیٰ کہتے ہیں اور دنیا اس کو خلافِ عصمت کہتی ہے، ہم عجیب ہیں کہ ہمیں اللہ کی طرف سے صفائی پیش کرنا ہے اور انبیاء کی طرف سے، آدم سے لے کر خاتم تک سب کی وکالت بھی ہمیں کرناہے۔
تو جناب! اب ہم کہتے ہیں کہ ترکِ اولیٰ گناہ نہیں ہے۔ میں بس ایک مختصر سا معیار پیش کرتا ہوں کہ اگر اس عمل پر جس پر سخت سے سخت تنبیہہ ہوئی ہے، عہدہ سلب ہوگیا ہوتو گناہ ہے اور اگر عہدہ برقرار رہا تو سمجھئے کہ یہ سب ان کے مزید کمالِ نفس کیلئے محرک کے طور پر تھا۔یہ سب عتاب جو تھا، وہ محرک کے طور پر تھا ورنہ سزایافتہ کو پھر عہدہ نہیں دیا جاتا۔ اسی معیار پر آدم کو دیکھئے کہ ترکِ اولیٰ تھا یا نہیں، انہیں پھر زمین پر بھیجا گیا۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ جنت سے نکالا جانا سزا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ سزا اس وقت مانوں گا کہ جب زمین پر بھیجے گئے تو وہ منصب سلب کرلیا جاتا۔ زمین پر آئے تو اُسی منصب پر آئے ۔ تو اس لئے اسے سزا تو کہا نہیں جاسکتا۔خاصیت اُس عمل کی کہاجاسکتا ہے کہ مزید شاید جنت میں رہتے ، اس عمل کی وجہ سے ، جلدی جانا پڑا۔ مگر آئے وہ جہاں کیلئے تھے، جہاں کے صاحب ِ منصب تھے۔ اعلان یہی ہوا تھا کہ:
”اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَ رْضِ خَلِیْفَہ“۔
جنت کیلئے پیدا ہوئے ہی نہیں تھے، زمین کیلئے پیدا ہوئے تھے۔
اب حدیث جو پڑھوں گا، وہ درحقیقت تفسیر قرآن ہے کہ اب اس منزل پر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر گناہ ہوتا اور یہ سب بطورِ سزا ہورہا ہوتا تو خالق کو کیا ضرورت کہ ترکیب بتائے معافی کی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ نظر رحمت مڑی نہیں ہے۔یہ تڑپ رہے ہیں، اس تنبیہ کی بناء پر رو رہے ہیں کہ میری خطا معا ف کردے۔ قرآن کہہ رہا ہے:
”فَتَلَّقٰی آدَمُ مِنْ رَبِّہ کَلِمَات فَتَابَ عَلَیْہِ“۔
آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے یعنی خدا نے سکھایا کہ یوں کہو تو تمہاری توبہ قبول ہوگی۔ ارے تم بے چین ہو کہ تم مجرم ہو تو میں تمہیں ترکیب بتائے دیتا ہوں تاکہ تمہاری خطا معاف ہوجائے۔ میں تمہیں سکھاتا ہوں۔ ارے معاف کرنا تھا تو یونہی معاف کردیتا۔مگر نہیں۔ ان کے دل کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے خود ترکیب بتاتا ہے ۔ ارشاد ہوا کہ کچھ کلمات اللہ نے سکھائے، جب ہی تو انہوں نے سیکھے۔ وہ نہ سکھاتا تو کیونکر سیکھتے؟ ”تَلَّقٰی آدَمَ“آدم نے سیکھے۔”مِنْ رَبِّہ“، اپنے رب سے کچھ کلمات یعنی اُستاد نے ابھی نظر توجہ ہٹائی نہیں ہے۔ انہوں نے سیکھے اپنے اللہ سے ، اپنے معلم سے، اپنے مرکز فیض سے کچھ کلمات۔”فَتَابَ عَلَیْہِ“، وہ کلمات سیکھے تو اللہ نے توبہ قبول کی۔
یعنی کلمات اپنی زبان پر جاری نہ رکتے تو وہ نتیجہ مرتب نہ ہوتا۔ یہ کلمات اُسی نے سکھائے، پھر یہ کلمات زبان پر جاری ہوئے تو اس نے توبہ قبول کی۔
”اِنَّہُ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم“۔
”وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے“۔
ہے توبہ قبو ل کرنے والا تو اس نے بتائی یہ ترکیب۔ خود ہی ترکیب بتائی۔ اب وہ ترکیب کیا تھی؟ قرآن کو کافی کہنے والے وہ ترکیب بتائیں کہ کیا تھی؟
اور جب نہیں بتاسکے تو کہیں کہ نہیں بتاسکتے۔ پھر ہم بتائیں گے کہ وہ کلمات کیا تھے۔ تو اس مستدرک حاکم کی حدیث میں ہے جو معیارِ صحیحین پر پوری اترتی ہے کہ جناب وہ کلمات جو تھے، وہ یہ تھے کہ بارگاہِ الٰہی میں انہوں نے عرض کیا:
”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍاَنْ تَغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ“۔
”اے میرے پروردگار! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد کے حق کا واسطہ ، میری توبہ قبول فرما“۔
یہ الفاظ تھے جو جاری کئے۔ میں کہتا ہوں کہ ان الفاظ کو توبہ کا ذریعہ قبول کیوں قرار دیا؟ میں کہتا ہوں کہ جس کا واسطہ دلوانا تھا، اس کے درجہ کو نمایاں کرنے کیلئے۔ تو آدم ابوالبشر کے وقت سے سنت ِتوسّل قائم ہوئی او رانہوں نے ان کے وسیلہ سے دعا کی۔
اب ایک بہت ہی نازک بات عرض کررہا ہوں جسے کوئی بہت ہی حد سے بڑھا ہوا سمجھ سکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ براہِ راست خداہدایت نہیں کرسکتا، اپنے کمالِ ذات کی وجہ سے۔ لہٰذا رسول کی ضرورت ہوئی۔ حضور! کوئی کام براہِ راست ہم نہ کرسکیں، اس میں کسی سے ذریعہ طلب کرنا ہوتا ہے۔ ذریعہ کے معنی وسیلہ کے ہیں۔خالق نے ان کو اپنے اور ہمارے درمیان واسطہ بنایا۔ بغیر اس کے کام نہیں چلتاتھا۔ بس میں ایک دم کہہ دوں جو کہنا ہے کہ جب اللہ نے ان کو اپنے مطلب کا وسیلہ بنایاتوہم انہیں اپنے مطلب کا وسیلہ کیوں نہ بنائیں؟
بس ایک جملہ کہہ دوں کہ وہ اپنے کمال کی وجہ سے ہم تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ہم اپنے نقص کی وجہ سے اُس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ لہٰذا اُسے بتقاضائے کمال وسیلہ کی ضرورت ہوئی اور ہمیں بتقاضائے نقص وسیلہ کی ضرورت ہے۔ اور پھر انہوں نے ہمیں دوسرے وسیلے بتائے۔ اگر دوسرے وسیلے نہ بتانا ہوتے تو کیوں کہتے :
”اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ“۔
میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں، ایک کتاب اللہ اور ایک میری عترت جو میرے اہلِ بیت ہیں۔
”مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَالَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِیْ“۔
جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے، کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
”وَاِنَّھُمَا لَنْ یَفْتَرِقَاحَتّٰی یَرِدَاعَلَیَّ الْحَوْض“۔
یہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔
میں کہتا ہوں کہ دنیا کے سامنے دو چیزیں رکھیں کہ یہ دو چیزیں چھوڑتا ہوں اور ان کیلئے کہاکہ ان سے تمسک رکھو۔ مگر اب میں کیا کہوں اُمت ِمسلمہ کے کردار کو کہ مقامِ ہدایت میں جیسے ایک دوسرے سے جدا نہ تھے ، اسی طرح مقامِ مظالم میں بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہے اور یہ مظالم کرنے کیلئے دنیا کی کوئی غیر قوم نہیں آئی۔ میں نے کہا تھا کہ انہی کے ہاتھوں قرآن بھی موردِ مظالم بنا اور اہل بیت بھی موردِ مظالم بنے۔ایک ظلم تو واقعی حقیقتاً دونوں پر ہے کہ جس میں پناہِ بخدا ہم بھی داخل ہیں۔ ایک تو قرآن پر ظلم یہ ہے کہ اس کو اپنی کتاب کہنے والے اس پر عمل نہ کریں تو اس ظلم میں کہیں ہم نہ شریک ہوں کہ ان کو اپنا امام کہنے والے ان کی تعلیمات پر عمل نہ کریں ۔ تو وہ اگر قرآن پر ظلم ہے تو یہ اہل بیت پر ظلم ہے۔ اس کے بعد جو ظاہری مظالم ہوتے ہیں، ان میں بھی قرآن اہل بیت کے ساتھ ہے اور اہل بیت قرآن کے ساتھ شریک ہیں۔
اب دو تین باتیں مسلّماتِ تاریخی ہیں کہ قرآن جلایا بھی گیا، نیت سے بحث نہیں۔ یہ بات مسلّم ہے کہ قرآن جلایا گیا۔ تو اب جو قرآن کے ساتھ تھے، اس میں خانہٴ سیدہ پر جمع شدہ لکڑیاں دیکھئے ، خواہ کربلا میں بلند ہوتے ہوئے شعلے دیکھئے ۔ ہاں اربابِ عزا! قرآن پر بھی تیر برسائے گئے ہیں۔ سلسلہ بنی اُمیہ کا ایک حکمران ولید ابن عبدالمالک۔ اس نے قرآن سے فال دیکھی اور فال میں یہ آیت نکلی:
”وَیْلٌ لِّکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ“۔
”وائے ہو ہر جبار سرکش کیلئے“۔
توبس قرآن پر غصہ آگیا۔ قرآن کو سامنے رکھ کر اپنے ہاتھ میں تیر کمان لے کر تیر چلائے گئے جس سے اوراقِ قرآن پارہ پارہ ہوکر منتشر ہوگئے۔ اس کے بعد کچھ اشعار کہے۔ یہ مسلمان صاحب ِ اقتدار ہے جو ایک مقدس نام کے ساتھ حکومت کررہا ہے۔ پیغمبر خدا کی طرف نسبت دے کر حکومت کررہا ہے اور وہ یہ اشعار پڑھتا ہے جس میں خدا پر بھی طنز ہے اور قیامت پر بھی طنز ہے۔ سب کا انکار ان میں مضمر ہے۔ وہ قرآن سے مخاطب ہوکرکہتا ہے:
اَتُوْعِدُ کُلَّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ فَھَا اَنَا ذَاکَ جَبَّارٌ عَنِیْدُ
اِذَامَاجِئْتَ رَبَّکَ یَوْمَ حَشْرٍفَقُلْ یَارَبِّ مَزَّقَنِیْ الْوَلِیْدُ
نام بھی اپنا درج ہے کہ سندرہے۔ تو دھمکایا کرتا ہے ہر جبار و سرکش کوتو لے یہ میں جبار وسرکش ہوں۔ جب اپنے پروردگار کے پاس حشر کے دن آنا تو کہہ دینا کہ مجھے ولید نے پارہ پارہ کیا تھا۔
دیدہ دلیری دیکھ رہیں مسلمان مجرم کی۔ تو معلوم ہوا کہ تیرباراں ہوا قرآن پر۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو قرآن کے ساتھی تھے، ان کیلئے تیروں کو تلاش کرنا ہے۔ چاہے جنازئہ حسن پر تیروں کی بارش دیکھ لیجئے اور چاہے کربلا میں تیروں کو دیکھ لیجئے۔ مجھے مصائب میں آگے بڑھنا ہے ورنہ وہ تیر یاد دلاتا جو عاشور کے دن کے تھے۔ وہ سب آپ کے پیش نظر ہیں۔
اب تیسرا پہلو پیش کرتا ہوں کہ قرآن نیزوں پر بھی بلند کیا گیا اور ہر غیر جانبدار صاحب ِنظرمنصف موٴرخ سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا یہ ہنگامی ایک ترکیب تھی؟ وقتی جو اس وقت سوجھ گئی؟
جناب! پہلے سے منصوبہ بناہوا تھا ورنہ مسجد جامع دمشق کا وہ قرآن جس کو ایک آدمی اکیلا اٹھا نہیں سکتا تھا، اس کو میدانِ جنگ میں ساتھ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سے یہ روزِبد پیش نظر تھا کہ جب ہماری جنگ کی تمام ترکیبیں ختم ہوجائیں گی تو آخر میں قرآن سے کام لیں گے ور نہ اس کو ساتھ لینا خلافِ فطرت ہے۔کہاں شام اور کہاں میدانِ صفین جو عراق کی حدود میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔ اس کے لئے بڑا قرآن ساتھ لایا گیا تھا۔ تو اب میدانِ صفین کا ایک منظر ہے اور شایدمستقبل کا ایک منظر بھی بغیر میرے بیان کئے ہوئے آپ کے ذہن میں آجائے ۔ دھندلکا تھا ، اس وقت پوری روشنی نہیں ہوئی تھی۔ اس دن یقین تھا کہ آج میدان میں ہماری فوج نہیں رک سکتی ، شکست ہوگی۔ ایسا وقت کہ ابھی چیزیں صاف طور پر نظر بھی نہیں آرہی تھیں۔ پوری طرح صبح نہیں ہوئی تھی۔ اندھیرا تھا کہ اس اندھیرے میں یہ منظر نظر آیا کہ بہت سے قرآن مختلف قدوقامت کے نیزوں پر بلند ہیں اور سب سے آگے ایک قرآنِ اعظم جس کو ایک آدمی اٹھانہیں سکتا تھا، وہ جامع دمشق کا قرآن تھا۔ اُسے کئی آدمی مل کر اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ سب سے آگے ہے۔
میں کہتا ہوں کوئی منظر آپ کے سامنے آیا کہ کوفہ و دمشق کا راستہ ہے اور مختلف نیزوں پر ، میں تو یہی محسوس کرتا ہوں کہ مختلف
قدو قامت کے قرآن ہیں۔ کوئی جوان کا سر ہے، کوئی نوجوان کا سر ہے اور کوئی بچے کا سر ہے۔مختلف قدوقامت کے قرآن نیزوں پر بلند ہیں ایک ایک طویل نیزہ پر قرآنِ اعظم وہ ہے جس کو سب سے آگے رکھا ہے۔ بالکل صفین کا مرقع ہے جو آج کھنچا ہوا ہے۔
اربابِ عزا!انہوں نے کوفہ کے بازاروں میں نیزے پر بھی ثابت کردیا اپنے نانا کے ارشاد کی سچائی کو کہ دیکھو ہم سے قرآن کبھی جدا نہیں ہوتا۔ سر اور گردن الگ الگ ہوگئے لیکن ہم سے قرآن الگ نہیں ہوا۔ اس کے گواہ ہیں صحابیِ رسول زید بن ارقم جنہوں نے اپنے بالا خانے پر سے جو سرِ راہ تھا، یہ سنا کہ قرآن مجید کی آواز آرہی ہے اور یہ آیت ہے:
”اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْامِنْ اٰیٰتِنا عَجَبًا“۔
تم سمجھتے ہو کہ اصحابِ کہف کا واقعہ کوئی عجیب ہے تو فوراً ان کی زبان پر آیا کہ نہیں، آپ کا واقعہ اس سے زیادہ عجیب ہے۔ تو یہ نیزہ پر سر ہے اور زبان پر تلاوتِ قرآن ہے۔ دیکھے دنیا کہ قرآن جدا نہیں ہوا۔ سروگردن علیحدہ علیحدہ ہوگئے ۔
اب میں کہتا ہوں کہ وہ سجدئہ آخر تھا جو عصر کو ہوا تھا اور یہ اس کے تعقیبات ہیں جو نیزے پر ادا ہورہے ہیں۔ بہرحال انہوں نے ثابت کردیا کہ قرآن ہم سے جدا نہیں ہوتا۔