معراج خطابت
 
معرفتِ امام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”ھَوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًامِنْھُمْ یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَة وَاِنْ کَانُوْامِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْن“۔
وہ وہ ہے جس نے پیغمبر بھیجا، انہی میں سے جو اُن کے سامنے آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے نفوس کو سدھارتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
میں نے عرض کیا ہے کہ یہ مضمون اس سے پہلے قرآن میں تین جگہ ہے مگر یہاں اس کی شان عجیب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا تعارف کروایا جارہا ہے یہ کہہ کر کہ وہ وہ ہے جس نے ایسا رسول بھیجا۔ اب اس رسول کی عظمت کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اُس کی معرفت حاصل کرنا انسان کیلئے کیونکر ممکن ہے۔ اس کیلئے میں ایک عام اصول آپ کے سامنے پیش کردوں ، اُسے فرصت کے لمحات میں دیکھئے گا کہ صحیح ہے یا نہیں کہ منزلِ کمال پر پہنچ کر نقص کو سمجھنا آسان ہے مگر منزلِ نقص سے کمال کو دیکھنا اور سمجھنا، یہ تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی روز مرہ کی دو مثالیں میں آپ کے سامنے پیش کرسکتا ہوں۔ ایک یہ کہ بوڑھا سمجھتا ہے کہ جوانی کیا تھی اور جوان جانتا ہے کہ بچپنا کیا تھا۔ مگر بچہ سمجھ سکے گا کہ شباب کیا ہوتا ہے؟ یہ ناممکن ہے۔ دوسری مثال جو زیادہ روزمرہ کی ہے، وہ یہ ہے کہ جب جاگتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ سورہے تھے لیکن سوتے میں یہ تصور کرنا کہ جاگیں گے تو کیا ہوگا، یہ ناممکن ہے۔سوتے میں آدمی خواب دیکھتا ہے تو اسی کو بیداری سمجھتا ہے۔ لیکن خواب کے عالم میں بیداری کا تصور نہیں ہوسکتا۔ بیدار ہونے کے بعد خواب کا تصور ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا ایک غیر معصوم کیا سمجھ سکتا ہے کہ معصوم کیا ہوتا ہے؟
یہ تو میں نے عام الفاظ کہے ہیں، غیر معصوم اور معصوم۔ اب اس کے آگے یہ کہ عام آدمی کیا سمجھ سکتا ہے کہ نبی کیا ہے اور انبیاء کیا سمجھ سکتے ہیں کہ خاتم الانبیاء کیا ہے؟
تو اب کیا کوئی مجھ سے سوال کرنے کا حق رکھتا ہے کہ جب ان کو پہچانا ہی نہیں جاسکتا ، ان کی معرفت ہی نہیں ہوسکتی تو پھر آپ منبر پر آکر یہ کوشش کیا کرتے ہیں اور غوروفکر کس لئے ہوتا ہے؟ اب اس کے ماوراء دینی دلیل عرض کردوں کہ مذکورہ بات کا خلاصہ یہ تھا کہ بالاتر ہستیوں کی معرفت ممکن ہی نہیں۔مگر یہ دینی حقیقت ہے کہ معرفت ِخدا واجب ہے۔ ہر بندہ کا فرض ہے کہ معرفت ِخدا حاصل کرے۔تو جب خدا کی معرفت حاصل کرے گا ، حکم ہمیں ہے، تو معرفت ِ رسول اور معرفت ِ امام کا حکم کیوں نہ ہوگا؟ یہ تو مشہور حدیث ہے :
”مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہ فَقَدْ مَاتَ مَیْتَةً جَاھِلِیَّة“۔
” جو مرگیا اور اُس نے اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کی، وہ جاہلیت کی موت مرا“۔
تو اب معرفت ممکن چیز ہے، تبھی تو اس کا حکم ہوا۔ ناممکن چیز کا تو حکم نہیں ہواکرتا۔ اب یہ دونوں باتیں متضاد ہوگئیں۔ ابھی تو یہ تھا کہ معرفت ممکن ہی نہیں ہے، ابھی یہ ہو گیا کہ معرفت ممکن ہے اور واجب ہے۔ تو اب یہ دونوں باتیں کیونکر سمجھ میں آئیں؟ اس کیلئے کوئی منطقی اور فلسفیانہ تقریر کرنا مقصود نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ایک سوئی کو سمندر کے اندر ڈالئے تو سمندر سوئی کے ناکے میں سما نہیں جائے گا۔مگر جتنا اس کا ظرف ہے، اُتنا تو سمندر اس کے اندر آہی جائے گا۔ بس مکلف ہم اسی کے ہیں کہ اپنی ذہن کی کشتی کو ان کے کمالات کے سمندر میں ڈال دیں، جتنی ظرف میں وسعت ہوگی، اُتنا ہی وہ معرفت حاصل کرے گا۔
اسی لئے ان باتوں پر بحث کرنا اور لڑنا بیکار ہے، اس لئے کہ سب اگر یکساں معرفت رکھتے تو ایمان کے درجے کیوں ہوتے؟ حضرت پیغمبر خدا نے اپنے اصحابِ خاص میں ایمان کے درجوں کو مقرر کرکے ہمیں بتایا۔ اب کچھ افراد تو قابل ذکر ہی نہ تھے۔ جہاں سے کہ قابل ذکر سمجھے ، وہاں سے ہمیں درجے بتائے کہ ایمان کے دس درجے ہیں۔ان میں سے آٹھویں درجہ پر مقداد، نویں درجہ پر ابوذر اور دسویں درجہ پر حضرت سلمان فائز ہیں۔تو کیا یہ درجاتِ ایمان درجاتِ معرفت سے الگ ہیں؟ وہ ایک ہی ہے کہ جب تک معرف کامل نہ ہوگی، ایمان کیسے کامل ہوگا؟ تو جب رسول نے اس میں درجے مقرر کردئیے تو وہ تو آپس میں نہیں لڑتے تھے۔ تو اس طرح جو زیادہ سمجھا ہے، اُسے مبارک ہو ، جو کم سمجھا ہے، اُسے بھی مبارک ہو۔ اس میں لڑنے کی ضرورت نہیں۔
مگر اب یہ تین ہستیوں کا ذکر آگیا تو ایک حقیقت کی طرف میں آپ کی توجہ دلاؤں کہ زبان ہے پیغمبر خدا کی۔ جب اس پر یہ تین نام آئے ہیں تو یہ تین خاص نام ہیں کہ ہمیشہ ساتھ آئے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ( مجالس کے فیض سے) جب مقدادکا نام آئے گا تو فوراً ابوذر ذہن میں آئیں گے اور فوراً سلمان ذہن میں آئیں گے۔ یعنی یہ شخصیات لازم و ملزوم ہوگئی ہیں۔ ایک سے دوسرے کا تصو رہونے لگا۔ تو جو حدیثیں ہیں پیغمبر کی ، یہ تین نام ان میں آتے ہیں۔ اب ایک حدیث متفق علیہ، جتنی حالاتِ صحابہ کی کتابیں ہیں، سب میں درجے مذکور ہیں اور حالاتِ صحابہ میں ایک ایک ہزار سے زیادہ صفحات کی کتابیں موجود ہیں جو عام طور سے متداول کتابیں ہیں۔ ان میں سب سے قدیم علامہ عبدالبرکی استیعاب ہے جو بنو اُمیہ کے دارالسلطنت قرطبہ کے عالم تھے۔ اس کے بعد حافظ ابن حجر کی اصابہ ہے اور بھی بہت سی کتابیں ہیں، ان میں متفق علیہ ایک حدیث ہے اور وہ یہ کہ:
”اِنَّ الْجَنَّۃ تَشْتَاقُ اِلٰی ثَلٰثٍ سَلْمَانَ وَاَبِیْ ذَرٍوَمِقْدَادَ“۔
یعنی ایک مسلمان مشتاقِ جنت ہوتے ہے، پیغمبر خدا فرمارہے ہیں کہ تین ہستیاں وہ ہیں کہ جنت جن کی مشتا ق ہے ۔
اب ماشاء اللہ آپ صاحبانِ فکرونظر ہیں اور صاحبانِ فہم ہیں کہ جنت وابستہ ہوتی ہے آخری انجام سے۔ جب پیغمبر نے جنت کی بات کی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے دئیے ہوئے علم سے آخری نفس حیات تک کا جائزہ لے کر سند عطا کی ہے۔ تو ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت تین افراد کی مشتاق ہے۔ وہی تین : سلمان، ابوذر اور مقداد۔ان کی مشتاق ہے ۔ تو بس یہ بات تو ضمناًآگئی ہے۔ا س کو پھیلانا نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پیغمبر نے ایک ترازو دے دی ہے مسلمانوں کے ہاتھوں میں حق و باطل کے امتیاز کی کہ دیکھو! میرے بعد کوئی دوراہا آجائے تو یہ دیکھو کہ یہ تینوں کدھر ہیں؟
اب سب سے بڑی ذات اللہ کی اور میں نے کہا کہ اللہ کی معرفت واجب مگر اللہ کی معرفت کیلئے قرآن مجید نے خود کیا طریقہ اختیار کیا ہے؟ اُس نے بقراط اور ارسطو کی دلیلیں نہیں پیش کی ہیں، فلسفے کے دور و تسلسل میں قرآن نہیں پڑا ہے، اُس نے یہ کہا ہے کہ اگر اسے سمجھنا چاہتے ہو تو اس کے آثارِ عملی کو دیکھو۔ اس کی صنعتوں کو دیکھو، اس کی کاریگریوں کو دیکھو یعنی آثار کو دیکھ کر اس کا پتہ لگاؤ۔
میں کہتا ہوں کہ آج جو علوم و فنون ہیں اور دنیا جن کی دعویدار ہے کہ ہم کسی بات کو بے دیکھے نہیں مانتے تو میں کہتا ہوں کہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا واقعی آپ ہر چیز کو دیکھ کر مانتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب آئے تو انہوں نے تھرمامیٹر لگا کر کہاکہ اتنے ڈگری بخا رہے۔ کیا بخار تھرمامیٹر میں آگیا ہے اور دکھائی دیا ہے؟
تو حضورِ والا!اس کااثر آپ کو معلوم ہے کہ اتنے ڈگری بخار ہو تو پارہ یہاں تک پہنچتا ہے۔ وہ تلازم آپ کو معلوم ہے تو اس لئے اثر کو دیکھ کر موٴثر کو سمجھتے ہیں۔ حکیم صاحب نبض کو دیکھتے ہیں تو کیا اس کا بخار سمٹ کر نبض میں آجاتا ہے اور نبض کو بھی دیکھتے نہیں ہیں، ہاتھ کلائی پر رکھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں نبض کی رفتار کو۔ انہیں اپنے فن کے لحاظ سے وہ تعلق معلوم ہے جو بخار کو نبض کی رفتار سے ہوتا ہے۔ نبض کی رفتار بتاتی ہے کہ کتنا بخا رہے؟ تو آپ کسی چیز کو دیکھ کر نہیں سمجھتے، ہر ایک کے آثار دیکھتے ہیں اور ان آثار سے کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا۔ تو ہم کب کہتے ہیں کہ خدا کو بے دیکھے مانو، اس کے بھی آثار دیکھو اور مانو۔
تو ا س کی معرفت کا ذریعہ یہی ہے کہ اس کے کام دیکھئے اور کاموں کے ذریعے سمجھئے کہ وہ ذات کیسی ہوگی جس نے ایسے کام انجام دئیے۔ قرآن مجید نے اپنے پیغمبر کے اوصاف بیان کرنے کیلئے کہ یہ رسول کیسا ہے؟ اس آیت میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ کام بیان کئے ہیں جو خدا کی طرف سے ان کے ذمہ ہیں اور اس کے بعد انسانی ذہن پر بار ڈالا ہے کہ اب سوچو کہ ان کاموں کے کرنے کیلئے کیسا چاہئے؟جب اُس نے یہ کام ان کے سپرد کئے ہیں تو اب اس ذات کا اندازہ کرو جس کے سپرد اللہ نے یہ کام کئے ہیں۔ اس آیت ِقرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ان کاموں کی تفصیل درج ہے جو خالق کی جانب سے خاتم الانبیاء کے سپرد ہیں۔ تو ان میں سے پہلا کام تلاوتِ آیات ہے۔ اس کی کتاب کی تلاوت کرنا۔ آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرنا۔ دوسرا کام نفوس کو پاک و پاکیزہ بنانا۔نفوس کی اصلاح کرنا۔ یہ دوسرا کام۔تیسرا کام جو ہے، اس میں دو کام ہیں۔ الفاظ ایک ہیں معنی دو ہیں۔ ایک کتاب کی تعلیم دینا ، دوسرے حکمت کی تعلیم دینا۔تو ایک کام ہوا، کتاب کی تعلیم اور ایک کام حکمت کی تعلیم۔یہ چار کام اس نے اپنے رسول کے ذمے کئے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ ان کاموں ہی سے ایک بحث کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اگر قرآن کافی ہوتاتو فریضہ رسول صرف”یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ“ پر ختم ہوجاتا۔ جب تلاوتِ آیات کردی تو وہ کتاب پہنچ گئی۔ اب وہ کتاب کافی ہے تو رسولکا اس کے آگے کوئی کام ہونا بھی نہیں چاہئے۔ مگر یہاں بات اور آگے بڑھے گی۔ یہ تو گویا ابجد ہے تعلیم رسول کے نفاذ کی۔
”یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ“۔
”یہ اس کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں “۔
اس کے بعد یہ ہے:
”یُزَکِّیْھِمْ“۔
”ان کے نفوس کو پاک و پاکیزہ بھی بناتے ہیں“۔
یہ دوسر اکام ہوا۔تیسرا کام ان کا یہ ہوا کہ تعلیم دیتے ہیں کتاب کی۔ اب کیا یہ کوئی اور کتاب ہے؟ وہی تو کتاب ہے جس کی آیات یہ سناتے تھے۔ اور جس وقت سنارہے تھے، وہ سب اہل زبان تھے، عربی دان تھے۔ خود عرب۔ اس کے باوجود تلاوتِ کتاب کرتے ہیں۔اس کی آیتوں کو پڑھتے ہیں او رپھر تعلیم بھی دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل زبان جو عرب تھے، وہ بھی بغیر رسول کی تعلیم کے قرآن کو نہیں سمجھتے تھے۔
آجکل کے حضرات ترجمے دیکھ کر سمجھتے ہیں۔ قرآن کا ترجمہ پڑ ھ لیا، سمجھ گئے ، علم قرآن حاصل ہوگیا۔ ابھی دو منٹ کی بات ہے ، ایک صاحب تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ میں تفسیر قرآن لکھ رہا ہوں ۔ میں نے کہا کہ آپ عربی سے واقف ہیں؟ کہا : جی نہیں۔ عربی سے واقف نہیں۔ تو میں نے کہا کہ وہ قرآن کی تفسیر نہیں ہوگی، ترجموں کی تفسیر ہوگی۔
جو اہل زبان تھے، وہ بھی رسول کی تعلیم کے بغیر نہیں سمجھتے تھے، کتاب کی تعلیم رسول نے دے دی لیکن پھر بھی کچھ باقی رہ گیا۔جس کیلئے تعلیم کتاب کے بعد چوتھی کلاس تعلیم حکمت کی قائم ہوئی۔ یہ حکمت وہ فلسفہ نہیں ہے جس کے ارسطو وغیرہ عالم تھے۔ یہ حکمت وہ ہے جو اسرارِ کتاب ہیں۔ جو رموزِ کتاب ہیں۔ آخر چار درجے کیوں قرار دئیے گئے؟ا س کے معنی یہ ہیں کہ یہ طالب علموں کی صلاحیت کے لحاظ سے ہے۔ ایک کلاس عام ہے، وہ تلاوتِ کتاب کی ہے۔ اس میں تو موٴمن و کافر کی بھی تفریق نہیں۔ پیغمبر خدا کعبے میں جاکر جتنے لوگ گردوپیش ہیں، انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں۔تو اس میں تو دیکھا نہیں جاتا کہ کون سن رہا ہے اور اگر سنائیں نہیں تو حجت کیونکر قائم ہو؟ پھر کافر پر کفر کا الزام کیونکر آئے؟ پھر اُسے سزائے کفر کیوں ملے؟ اب جب آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا تو اس سے کچھ نے اثر لیا۔ کچھ نے اثر نہ لیا۔ جنہوں نے کچھ بھی اثر نہ لیا، وہ کافر کے کافر رہے۔ تو اب جب انہوں نے اسلام قبول ہی نہیں کیا تو فرائض رسول ان کی نسبت ختم ہوگئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مدرسہٴ ہدایت ِ رسول سے ان کا نام خارج کردیا گیا۔ لیکن جنہو ں نے اثر قبول کیا، یعنی مسلمان ہوگئے، اب وہ دوسری کلاس میں داخل کئے گئے جو تزکیہ نفوس کی کلاس ہے۔اب ان کے نفوس کی اصلاح کی جائے گی۔ عبادات کے احکام تزکیہ نفس کیلئے ہیں۔ اسی لئے عبادت کا حکم دیا جارہا ہے تو کہاجارہا ہے:
”اِنَّ الصَّلوٰة کَانَتْ عَلَی الْمُوٴْمِنِیْنَ کِتَابًا مَوْقُوْتًا“۔
نماز موٴمنین پر فرض ہے جو بہ اعتبارِ اوقات مقرر ہے۔ روزہ کا حکم دیا جاتا ہے:
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ“۔
اے صاحبانِ ایمان! تم پر روزہ فرض ہے۔
اب ہر جگہ انہیں پکارا جارہا ہے جو پہلی کلاس پاس کرچکے ہیں اور وہ ، وہ ہیں جو ”ایھاالذین اٰمنوا“میں کم سے کم بقلم خود شامل ہیں۔ اب ان کیلئے یہ فریضہ ہوگیا۔ ان کو احکام دیجئے ، ان کے نفو س کے تزکیہ کیلئے جو سامان ہیں، ذرائع ہیں، وہ انہیں بتائیے اور سکھائیے۔
تو فریضہٴ رسالت ان کیلئے آگے بڑھا۔”یُزَکِّیْھِمْ“کہ یہ ان کا تزکیہ نفس بھی کریں۔ ان کے نفوس کی اصلاح بھی کریں۔ جب پہلی کلاس میں ہر ایک نے دیکھ لیا کہ ہر ایک نے اثر قبول نہیں کیا۔ ارے اگر ہدایت ِپیغمبر میں ایسی کیمیاوی تاثیر ہوتی کہ جبری طور پرتبدیلی ہےئت کردے، ماہیت بدل دے تو فوراً سب موٴمن کیوں نہ ہوجاتے؟ معلوم ہوا کہ جیسے ہدایت ِ الٰہی میں جبرکارفرما نہیں ہے، ورنہ کافر کا وجود نہ ہوتا، اسی طرح ہدایت ِپیغمبر میں وہ کیمیاوی اثر نہیں دیا گیا ہے کہ ایک دم سننے والا بدل جائے۔ جبھی تو سننے کے بعد کچھ مسلمان ہوئے، کچھ نہیں ہوئے۔
تو جب پہلے فیض میں، پہلے درجہ تعلیمی میں، پہلی کلاس میں ہم نے دیکھ لیا کہ کچھ نے اثر قبول کیا، کچھ نے نہیں کیا تو دوسرے درجہ میں یہ کیسے ہوگا کہ جب مسلمان ہوگئے تو سب برابر ہوگئے؟ اب اس کلاس میں بھی کچھ پر پورا اثر وہگا، کچھ پر ناقص اثر ہوگا، کچھ پر بالکل نہ ہوگا۔قرآن کہہ رہا ہے کہ پیغمبر کے جلسے میں شریک ہوتے ہیں، نماز کے بعد حضرت کی تقریر سنتے ہیں۔ اگر مسلمان نہ ہوتے تو پھررسول کا خطبہ کیوں سنتے؟مگر جونہی وہاں سے اٹھتے ہیں تو، قرآن کہہ رہا ہے، کوئی روایت نہیں بیان کررہا ہوں، کہ فوراً آپس میں کہتے ہیں؟ یہ ابھی کیا کہا تھا؟”ماذاقال“۔ یہ ابھی کیا کہا تھا؟ ارے خود سن رہے تھے، دوسرے سے کیوں پوچھ رہے ہو کہ ابھی کیا کہا تھا؟
معلوم ہوتا ہے کہ اُچاٹ ذہن کا طالب علم ہے جو کلاس میں بیٹھتا ہے مگر ذہن کہیں اور ہوتا ہے۔ یہ قرآن مجید کردار بیان کررہا ہے۔ اس معزز گروہ کا جو پیغمبر کے آس پاس ہے اور حضرت کا خطبہ سن رہا ہے اور اسی وقت پوچھ رہا ہے کہ ابھی کیا کہا تھا؟یعنی ابھی سنا تھا ، ابھی بھول گئے کہ کیا کہا تھا۔ سمجھے ہی نہیں کہ کیا کہا تھا؟
تو اب بتائیے ان پر اثر ہوگا؟ تو اب جب اثر نہ ہوا تو فریضہ رسول ان کی نسبت ختم ہوگیا۔ اب وہ تیسری کلاس میں، جو علم الکتاب کی ہے، اس میں داخل نہیں کئے جائیں گے۔ اب یہ الفاظ یاد کرلیں۔کتاب کے معنی ان تک نہیں پہنچ سکتے۔علم الکتاب کی کلاس میں یہ داخل نہیں کئے گئے کیونکہ اس کی پہلی کلاس ہی میں میں فیل ہوگئے۔ اب وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی اور انہوں نے علم الکتاب سے فیض حاصل کرلیا، وہ اس لائق ہوں گے ، چنے ہوئے حضرات جنہیں رموزِ کتاب بتائے جائیں، انہیں اسرارِ کتاب بتائے جائیں۔ وہ چوتھا درجہ ہے حکمت کا۔ا س کے بارے میں قرآن نے کہا ہے:
”مَنْ یُوْتِی الْحِکْمَةَ فَقَدْاُوْتِیَ خَیْرًاکَثِیْرًا“۔
جسے حکمت عطا ہوگئی، اُسے بہت بڑی خیر عطا ہوگئی۔
اب مجھے ایک اور مکتب ِ خیال یاد آگیا جو کہتا ہے کہ پیغمبر خدا کی حیثیت، میں تو معاذاللہ کہہ کر ہی کہوں گا، کہ آپ کی حیثیت معاذاللہ ایک چٹھی رساں کی سی تھی۔ارے خدا کی کتاب ان کے نزدیک چٹھی کی سی ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بات اس وقت صحیح ہوتی اگر فریضہ رسول
” یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ“پر ختم ہوجاتا۔ تلاوتِ آیات کردی ، چٹھی پہنچا دی۔ اب جاکر اطمینان سے گھر بیٹھیں۔ مگر ان کا کام تو ختم نہیں ہوا۔ قرآن نے کہا:”یُزَکِّیْھِمْ“۔ یہ ان کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں۔ تو کیا چٹھی رساں کا کام یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایک کے گھر جاکر پوچھے کہ کون ان میں سے سچ بولتے ہیں ، کون جھوٹ بولتے ہیں؟ کون امین ہیں؟ کون خائن ہیں؟ کون نمازی ہیں؟ کون غیر نمازی ہیں؟ کیا چٹھی رساں کا یہ کام بھی ہے؟
اس کے بعد یہی نہیں بلکہ علم الکتاب کے بھی بتانے کے ذمہ دا ریہ ہیں۔چٹھی رساں تو بعض اوقات اس زبان کو بھی نہیں جانتا جس میں لکھا ہوا خط اس نے لاکر دیا ہے۔ تو کیا چٹھی رساں کو روک کر آپ کہئے گا کہ ارے بھئی! یہ خط پڑھتے بھی تو جاؤ۔ وہ کہے گا کہ میرا کام چٹھی پہنچانا تھا، میرا کام اس خط کو پڑھنا نہیں تھا۔ مگر خالق کہہ رہا ہے:
”یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ“۔
ارے یہ کتاب کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ علم الکتاب بھی ان کے ذریعہ سے ملے گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس چٹھی رساں سے پوچھئے کہ اصل مطلب لکھنے والے کا کیا ہے؟ اس کے راز بھی بتائیے، اس کے رموز بھی بتائیے تو برائے خدا بتائیے کہ اگر کتاب کو کافی سمجھتے ہیں تو جتنا کتاب میں ہے، اُسے تو مانئے۔
لیجئے! اب ایک اور بات یاد آگئی، وہ ایک ہی بات ہے، اُسے غلاف میں لپیٹ لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے ۔ کبھی کسی دوسرے نعرے کی صورت میں کہہ دیا ، کبھی کسی فلسفے کی صورت میں کہہ دیا کہ مآخذ دین فقط کتا ب ہے، سنت نہیں۔ ہے وہی بات کہ کتاب کافی ہے۔ یہ وہی نعرہ ہے جو پروان چڑھ رہا ہے مختلف صورتوں میں کہ مآخذ دین بس کتاب ہے، سنت نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ اسی ایک آیت سے اس کا بھی فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ تلاوتِ آیات کرتے ہیں۔ لیجئے جناب ! کتاب تو پہنچ گئی۔اب”یُزَکِّیْھِمْ“، یہ تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ اب وہ الفاظ جن سے تزکیہ نفس ہوتا ہے، وہ کب جزوِ کتاب ہیں، وہ آپ ہی کے اقوال سے ہوں گے اور آپ ہی کے افعال سے ہوں گے جو سب جزوِ سنت ہیں اور اس کے بعد اتناہی نہیں،”یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ“، یہ کتاب کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ تو اب تعلیم کیلئے جو تشریحات یہ کرتے ہیںِ وہ جزوِ کتاب ہوتے تو تلاوت میں پہنچ نہ جاتے۔ معلوم ہوا کہ وہ سب ان کے ارشادات ہی ہیں جن کے ذریعہ سے کتاب کی تعلیم دی گئی۔اس کے بعد حکمت کی تعلیم بھی یہ دیتے ہیں۔
اب جن الفاظ کی مدد سے حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، وہ بھی جزوِ سنت ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب تو ایک چوتھائی دین کی حامل ہوئی۔ جس نے کتاب کو لے کر سنت کو چھوڑ دیا، اُس نے ایک چوتھائی دین اختیار کیا، تین چوتھائی دین چھوڑ دیا۔
تو غرض یہ چار کام ہیں جو پیغمبر خدا کے ذمہ ہیں جن کی تفصیل میں نے بتائی۔ اب یہ معلم کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے کہ اس نے ہر درجہ کیلئے ان لوگوں کو منتخب کیا جن پر اثر ہوا۔معلوم ہوا کہ یہ سب پیغمبر خدا کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے۔
یاد رکھئے کہ کتاب بے زبان ہے۔ وہ اس سوجھ بوجھ کو نہیں رکھ سکتی۔ پہلا کام جو پیغمبر خدا کے سپرد کیا گیا، وہ دیکھئے کہ کتنا اہم ہے! تلاوتِ آیات، یہ بظاہر ہمارے نزدیک بہت آسان ہے۔ قرآن اُٹھاتے ہیں اور پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ تلاوت کہتے کسے ہیں؟ الفاظ جو نازل شدہ ہیں، انہی کو پڑھے، تب تلاوت ہوگی۔میں ترجمہ پڑھ کر سناؤں تو کیا وہ تلاوت ہوگا؟ یہ عیسائیوں کا تصور ہے کہ ہر زبان والی بائبل ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ تصور نہیں ہے۔ اصل قرآن تو وہی ہے، یہ سب ترجمے ہیں۔ تو یہ ترجمہ سنانا ہوگا، تلاوت نہیں ہوگی۔کیوں؟ اس لئے کہ زبان بدل گئی۔ وہ عربی تھی، یہ اُردو ہوگئی۔
اچھا! زبان بھی وہی رہے لیکن الفاظ بدل جائیں، تب بھی آپ کہیں گے کہ یہ تلاوت نہیں ہوئی۔ اب یہ نیت پر ہے یا وہ تشریح ہوگی یا تحریف ہوگی۔ الفاظ بالکل وہی رہیں، ترتیب بدل جائے!
”فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہ خِیْفَةً مُوْسٰی“۔
اب ماشاء اللہ صاحبانِ علم موجود ہیں کہ عربی قواعد میں فعل کے بعد پہلا درجہ فاعل کا ہے، پھر مفعول کا درجہ ہوتا ہے۔اب کوئی اُستاد طالب علم کو بتانے کیلئے یوں کہے:
”فَاَوْجَسَ مُوْسٰی خِیْفَةً فِیْ نَفْسِہ“۔
کوئی لفظ گھٹا ہے نہ بڑھا ہے۔ بالکل وہی الفاظ ہیں جو آیت میں تھے۔ صرف موسیٰ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا ہے۔ تو اس طرح بات تو وہی ہے لیکن یہ پیغام بھیجنے والے کا کلام نہیں ہے۔فرض کیجئے کہ ایک صاحب کو کسی نے کوئی پیغام پہنچانے کیلئے دیا۔ اب وہاں تک جاتے جاتے بیچارے ایک لفظ بھول گئے مگر مطلب سمجھ لیا تھا، اس لئے فوراً ذہن میں اس کی جگہ دوسرا لفظ سوچ لیااور جاکر کہہ دیا کہ یہ پیغام دیا ہے۔ اب اگر پیغام دینے والے کو پتہ نہیں چلا تو خیر مگر اب یہ واپس آئے اور انہوں نے کہا کہ کیا کہا تھا؟ اب انہیں اپنے الفاظ یاد تھے، کہا: میں نے یہ کہا ہے۔ کہا:میں نے یہ تو نہیں کہا تھا؟ میں نے تو یوں کہا تھا۔ تو وہ تصدیق نہیں کریں گے کہ میرا کلام پہنچایا۔
اب یہ دیکھئے کہ یہ رسول نہیں فرمارہے ہیں کہ میں تلاوت کرتا ہوں، آیاتِ خدا کی، بلکہ جس کا کلام ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر ماشاء اللہ صاحبانِ علم موجود ہیں۔ ماضی کا صیغہ نہیں ہے جو ایک واقعہ خاص کا پتہ دے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تلاوت کردی، بلکہ مضارع ہے جو استمرار کا پتہ دیتا ہے۔ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ یعنی ان کا طریقہ یہی ہے ، ان کی شان یہی ہے، ان کا شیوہ یہی ہے کہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس میں ماضی بھی داخل ہے، اس میں حال بھی داخل ہے اور مستقبل بھی داخل ہے۔سب زمانے داخل ہیں۔ وہ تصدیق کررہا ہے کہ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، نہ اس میں کمی ہوتی ہے، نہ زیادتی ہوتی ہے۔ نہ اُدھر کا لفظ اِدھر ہوتا ہے اور نہ اِدھر کا لفظ اُدھر ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی دلیل عقلی نہ ہوتی اور کوئی دلیل نقلی بھی نہ ہوتی تو آیت کا یہ جزو رسول کے سہوونسیان سے بری ہونے کیلئے کافی تھا۔اس ایک جزو”یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِہ“میں کتنی رفعت ہے، کتنی بلندی ہے اور اس کے بعد”یُزَکِّیْھِمْ“۔ ان کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ کوئی صفت دوسرے تک نہیں پہنچائی جاسکتی جب تک کوئی اس صفت کا خود حامل نہ ہو۔خالق کہہ رہا ہے کہ یہ دوسروں کے نفوس کو طاہر کرتے ہیں، پاک کرتے ہیں تو یہ تنہا”یُزَکِّیْھِمْ“خود ایک آیت ِ تطہیر ہے۔
یہ اس کی تصدیق ہے کہ ان کا نفس پاک ہے، اس کے معیار پر پاک ہے۔ یہاں جناب! ”پاک کرے گا “ نہیں ہے، کہ کوئی سمجھے کہ کچھ ہے، جب تک پاک کیا۔”پاک کرے گا“ نہیں ہے، پاک ہے اور اس کے بعد”یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ“، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب کی تعلیم دیتے ہیں ،ایک کام اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، دوسرا کام۔ اور یہ کام جب تک کیلئے ہے کہ جب تک ان کی رسالت ہے۔ کتاب کی تعلیم بھی، حکمت کی تعلیم بھی۔تو اب یہ معلم ہیں نوعِ انسانی کے ، کب تک؟ جب تک رسالت ہے اور رسالت ِ پیغمبر کب تک؟ قیامت تک۔ میں کہتا ہوں کہ قیامت تک کہنا بھی ہمارے حدودِ تعبیر کی کوتاہی ہے۔ کون کہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے ان کی رسالت ختم ہے؟ اگر قیامت کے آنے سے ان کی رسالت ختم ہے تو شفاعت کس اعتبار سے؟
تو رسالت میں تو میرے نزدیک قیامت کی قید لگانا درست نہیں ہے۔ رسالت تو لامحدود ہے۔ مگر ہاں! تعلیم۔ اسے کہہ لیجئے کہ قیامت تک ان کے ذمہ ہے کیونکہ جب تعلیم حاصل کرنے والے نہیں رہے تو کلاس کن کیلئے۔ لہٰذا کتاب و حکمت کی تعلیم تا قیامت۔
صاحب ِعلم حضرات کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ معلم کسی کلاس کا کیسا ہونا چاہئے؟ اب اس کی ذرا تشریح کروں گا کہ اگر کوئی معلم ایسا ہے کہ چھ مہینے تک تو بچوں کواس سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہو اور چھ مہینے کے بعد بچے اس کے برابر آجاتے ہوں اور دو مہینے کے بعد اس سے زیادہ سمجھنے لگتے ہوں تو کیا یہ معلم اس لائق ہے کہ اس درجہ کا معلم ہو؟سب سمجھ گئے کہ نہیں، اس لائق نہیں ہوسکتا۔ اب اگر کسی معلم سے پانچ برس تک کی تعلیم متعلق ہے ، تو یہ اگر ایساہے کہ سال بھر کے بعد طالب علم برابرآجاتا ہو ، پھر آگے بڑھ جاتا ہو ، کیا وہ معلم اس لائق ہے؟ اب پانچ سے دس اور دس سے بیس برس تک کی بات کریں۔ ایک اصول قائم ہوگیا۔ وہ اصول کیا قائم ہوا؟ کہ جتنے بھی زمانے کیلئے کوئی شخص معلم ہو، جتنی ممکن ترقی طالب علموں کے دماغوں کی، اتنے زمانہ میں ہوسکتی ہو، معلم کو اُس سے بالا تر ہونا چاہئے۔ جب وہ معلم بنایا گیا، اُسی وقت ورنہ وہ مستحق نہیں ہے کہ معلم بنایا جائے۔اب جسے خالق نے قیامت تک کیلئے معلم بنایا ہو، تو بربنائے اصولِ تعلیمی ، قائل ہونا پڑے گا کہ عالم الغیب خدا کے علم میں جتنی امکانی ترقی نوعِ بشر کی قیامت تک ہے، اُس سے یہ معلم اونچا ہوگا، جب اس نے معلم بنایا ہے۔
اب انسان روزِ قیامت تک کتنی ترقی کرسکتا ہے؟ وہ ہم اور آپ اس وقت سمجھ بھی نہیں سکتے۔ ارے جس لائن میں ترقی کررہا ہے، ہے تو ذہن کی ترقی، چاہے مصرف غلط ہو۔ ترقی کا انکار تو نہیں کیاجاسکتا۔تو انسان کتنی ترقی کرسکتا ہے؟ اس کی رفتار یہ ہے کہ اس کو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ دس برس بعد کیا ہوگا اور بیس برس بعد کیا ہوگا؟ جبکہ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ تیس برس پہلے کہا جاتا تھا کہ یہاں بیٹھ کر تم دہلی کی آواز سنو گے او رکوئی نہیں مانتا تھا۔ آج تو راستہ چلتے دنیا بھر کی آوازیںآ رہی ہیں۔
ارے کسی وقت تو چائے خانوں ، ہوٹلوں میں جانے کی ضرورت تھی، اب تو ساتھ لئے پھرتے ہیں اور جہاں ہیں، وہاں دنیا بھر کی آوازیں سن رہے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے کتنے تھے کہ صرف آواز سن رہے ہوں۔ جہاں کی بات سنو گے، وہاں کی تصویر بھی دیکھ لو گے۔اسے اگر دس بیس برس پہلے کہاجاتا تو کوئی تسلیم نہ کرتا۔ کہنے والے کو دیوانہ کہا جاتا۔ لیکن اب؟ پہلے تو ذرا کمیاب تھا، بعض گھروں میں تھا۔اب تو ہر گھر میں یہ بھی ہوگیا کہ یہاں سے بیٹھ کر پورا منظر دیکھئے، چاہے دیکھنے کا ہو ، چاہے دیکھنے کا نہ ہو۔وہ الگ بات ہے۔ تو یہ بات ابھی دس بیس برس پہلے سمجھ میں نہ آتی۔ تو اب جب رفتارِ ترقی یہ ہے تو دس برس بعد کیا ہوگا، بیس برس بعد کیا ہوگا اور سو برس بعد کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ مجھے تو آسانی اس میں محسوس ہوئی کہ یہ ترقیاں جوہورہی ہیں اور بہت سی ہوچکی ہیں، یہ کن لائنوں پر ہورہی ہیں؟ کس چیز میں یہ ترقیاں ہورہی ہیں؟ تو میری تو سمجھ میں یہ آیا کہ یہ تمام ترقیاں دو چیزوں میں ہورہی ہیں: ایک سرعت ِ رفتار ، ایک شدتِ اختصار ۔ مہینوں کی مسافت ہفتوں میں طے ہونے لگی، پھر ہفتوں کی مسافت دنوں میں۔ اس کے بعد دنوں کی مسافت منٹوں میں طے ہونے لگی۔ اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ثانیوں اور دقیقوں میں طے نہ ہوگی۔بہت سے کام جو ایک جماعت مل کر ایک عرصہ میں کرتی، وہ ابھی تھوڑی دیر میں مشینوں کی مدد سے ہوجاتے ہیں۔
تو تمام ترقیاں ان دوچیزوں میں: ایک سرعت ِ رفتار، دوسری شدتِ اختصار۔تو جو معلم بناکر بھیجا گیا ہے، اس کے واقعاتِ حیات میں کوئی مثال ایسی ہونی چاہئے تھی کہ دنیا لاکھ ترقی کرجائے ، پھر بھی پیچھے رہے، آگے نہ جاسکے۔اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ جاکر ہوآئے اور زنجیر ہلتی رہے۔
یاد رکھئے کہ جب وہ دنیا میں تشریف لائے تھے تو اس وقت انسان کی سمت ِسفر چار تھیں:مشرق، مغرب، شمال او رجنوب۔ اگر اسی وقت کے معلم ہوتے تو اسی دنیامیں گھما پھرا کر پہنچا دئیے جاتے۔ مگر بھیجنے والے کو معلوم تھا کہ انسان کی سمت ِسفر بدلے گی۔ یہ چاند تک پہنچے گا اور ستاروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا او رکون کہہ سکتا ہے کہ نہیں پہنچے گا۔جب چاند تک پہنچ گیا تو اور ستاروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ تو اب سمت ِسفر ادھر ہوگئی۔تو جسے معلم بنا کر بھیجا گے اہے، اس کیلئے لازم ہے کہ اُسے اتنی دور تک پہنچا دیا جائے کہ اب لاکھ انسان اونچا ہوجائے، پھر بھی پیچھے رہے، آگے نہ جاسکے۔
میں تو کہتا ہوں کہ ابھی انسان چاند تک گیا ہے، جسے ہمارے پرانے ریاضی والے کہتے تھے کہ فلک الدنیا پر ہے۔ فلک الدنیا یعنی سب سے نیچے کا آسمان جو بس ہمارے اوپر ہے۔ وہاں تک ابھی انسان کی پرواز ہوئی ہے مگر اس کے آگے اب یہ چاہے جہاں جائے، ستارہ مریخ تک جائے، زہرا تک جائے، عطارد تک جائے، اب میں کہتا ہوں کہ ستارہ زحل تک پہنچ جائے۔ ستارہ زحل سب سے اونچا ہے ان میں۔ وہاں تک بھی پہنچ جائے تو میں کہوں گا کہ ہمارے رسول کا روندا ہوا راستہ ہے۔
ایک بڑی بحث ہے، اس کاتجزیہ اسی سے ہوجاتا ہے، اتنے ہی سے ہوجاتا ہے۔ عقلی ضرورت جو معراج کی ہے۔ اب غور کرلیجئے کہ یہ جو چاند تک گئے ہیں ، یہ اگر روحانی طور پر گئے ہوں تو معراجِ روحانی مان کر بات بن جائے گی اور اگریہ سب جسم سمیت گئے ہوں تو اپنے رسول کو ان سے پیچھے نہ سمجھئے۔ یہ منزل تھی ان کی جو افضل المرسلین قرار دئیے گئے، خاتم النبیین قرار دئیے گئے اور ان کا مرتبہ تمام رسولوں میں برتر ہوا۔عام طو رپر تو ذہن میں آتا ہوگا کہ یہاں سے بابِ مصائب بہت دور ہے لیکن فضائل و مصائب اتنے دست و گریباں ہیں کہ مجھے
منتقل ہونے میں کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی۔
یہی وہ حقیقت ہے کہ جس پر شاہ عبدالعزیز دہلوی کی کتاب ”سر الشہادتین“ کی پوری بنیاد قائم ہے۔ اہل علم حضرات واقف ہوں گے کہ خاندانِ ولی اللہ کو ایک خاص عظمت و اہمیت حاصل ہے۔ یہ ان کی اولاد ہیں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی۔ سب سے منفرد تھے۔ان کے تعارف کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ صاحب ِتحفہ اثناء عشریہ ہیں یعنی اس کتاب کے مصنف جس کے نہ معلوم کتنے ایڈیشن چھپ چکے ہیں،ان کی ایک کتاب”سرالشہادتین“ ، جتنے شہادت نامے اس وقت ہیں، چاہے یہاں ہوں، چاہے وہاں ہوں، سب کا مآخذ ، سب کی بنیاد اسی پر قائم ہوتی ہے ۔ اسی کے ترجمے ہوئے:”ذکر الشہادتین“،” تقریرالشہادتین“،”تحریر الشہادتین“، مختلف زبانوں میں۔ تو سر الشہادتین کی بنیاد اسی چیز پر ہے یعنی بنیادفضیلت ِ رسولپر ہے۔ سرالشہادتین کا ترجمہ ہے”دوشہادتوں کا راز“۔ ابھی تو شاید سمجھ میں نہ آئے کہ دو شہادتوں کا راز اور اس کی بنیاد فضیلت ِپیغمبر خداپر ہے ۔ مگر پوری کتاب کی داغ بیل اسی بنیاد پر ہے کہ ہمارے پیغمبرتمام پیغمبروں سے افضل ہیں۔کوئی فضیلت کسی رسول یا نبی کو نہیں ملی مگر یہ کہ اس کی مثل یا اس سے بہتر فضیلت ہمارے رسول کو حاصل ہوئی ہے۔ بالکل خلاصہ عرض کررہا ہوں۔ ان فضائل میں جو پیغمبر خدا کو حاصل ہوئے، ایک فضیلت ِشہادت بھی ہے یعنی بہت سے انبیاء ایسے ہیں جوراہِ خدا میں شہید ہوئے ہیں، جنابِ زکریا، جنابِ یحییٰ۔ ہماری مجالس میں ذکر ہوتا رہتا ہے ، ہماری مجالس بھی بہت بڑا مدرسہ ہیں دینیات کا۔ ہمارے پیغمبر پر اگر کسی دشمن کا حربہ کارگر ہوجاتا اور وہ نمایاں طور پر شہید ہوجاتے تو شاہ عبدالعزیز کا خیال یہ ہے کہ لوگ خوفزدہ ہوجاتے اور اسلام کی ترقی میں رکاوٹ ہوجاتی۔ جیسے ان کے تحت الشعور میں یہ بات ہے کہ جو گردوپیش کے لوگ ہیں، ان میں ابھی خامی ہے۔ بہرحال وہ حقیقت ان کے ذہن میں ہے۔
میں کیا کروں کہ ان کا بیان ہے کہ پھر اسلام کی ترقی رک جاتی۔ یعنی بہت سے لوگ جو توقعات لئے بیٹھے ہیں، خوشگوار اُمیدوں میں ہیں، ان کو مایوسی ہوجاتی، اسلام کی ترقی رُک جاتی۔ حکمت ِربانی ا س کی متقاضی نہیں تھی کہ براہِ راست ان پر دشمن کا ظاہر بظاہرکوئی حربہ کارگر ہو۔ لیکن اگر یہ فضیلت فضائلِ رسول میں شامل نہ ہوتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کادرجہ دوسرے انبیاء سے گھٹ جاتا۔لہٰذا منظورِ قدرت ہوا کہ براہِ راست تو حضرت پر کسی کی تلوارکا وار نہ لگے ، کسی کا نیزہ کام نہ کرے مگر یہ فضیلت آپ کے فضائل میں شامل بھی ہوجائے۔ اس کیلئے خالق نے پیغمبر خدا کو دو نواسے عطا فرمائے اور شروع سے یہ اہتمام کیا کہ ان کی خصوصیت پیغمبر خدا سے نمایاں سے نمایاں تر ہوتی چلی جائے۔ جو بھی شخص ہے ، وہ اپنے باپ کی اولاد کہلائے گا، نسبت اسی کی طرف ہوگی۔ فرزند اپنے باپ کا ہوگا۔ یہ ہیں نواسے لیکن خدا نے ان کو اُن کابیٹا قرار دیا۔ یہ ان کی خصوصیت رکھی کہ یہ فرزند رسول ہیں۔
اس کے علاوہ ہر ایک غذا شیر مادر سے ہوتی ہے لیکن ان کی غذارسول کے لعابِ دہن سے ہوئی تاکہ اجزائے جسم رسول ان کے جسم میں شامل ہوجائیں۔ یہ اہتمام خالق نے کیا۔ میں کہتا ہوں کہ جب حضرت نے یہ سب اس مقصد کی تکمیل کیلئے کیا تو ہم بھی جب مجالس کریں تو اُسے بدعت نہ کہئے۔ یہ سب اہتمام ہوا اور اس کے بعد آخری بات یہ کہ شہادت کی دو اقسام ہیں: ایک شہادتِ سرّی اور ایک شہادتِ جہری۔ شہادتِ سرّی یعنی خفیہ شہادت۔ وہ زہر سے ہوتی ہے اور شہادتِ جہری یعنی کھلم کھلا۔یہ شہادت تلوار سے ہوتی ہے۔یہ دونوں اقسام کی شہادتیں دونوں نواسوں میں تقسیم ہوگئیں۔ شہادتِ سرّی حسن مجتبیٰ کے حصہ میں آئی اور تلوار والی شہادت حسین کے حصہ میں آئی۔اسی طرح
فضیلت ِشہادت دونوں نواسوں کے ذریعہ سے فضائل رسول میں شامل ہوگئی۔
یہ ان کی کتاب کا خلاصہ میں نے عرض کیا۔ اب نتیجہ نکالنا میرا کام ہے۔ خود تشریف فرماہوتے تو ان کی کتاب کا خلاصہ ان کو سنا کر تصدیق کرواتا ۔ اب آپ دیکھئے کہ جو نتیجہ نکل رہا ہے، وہ صاف ہے یا نہیں ہے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ شہادتِ حسن بھی شہادتِ رسول ہے اور شہادتِ حسین بھی شہادتِ رسول ہے۔بس اب بہت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ جب آپ نے یہ کہہ دیا تو اب اتنا بتا دیجئے کہ حسن کا قاتل کس کا قاتل؟اور حسین کا قاتل کس کا قاتل؟پھر اس قاتل کے بارے میں کچھ کہنے سننے میں اختلاف نہ رکھئے اور جو رسول کے قاتل کو کہنا جائز ہو، وہ حسین کے قاتل کو کہنا جائز سمجھئے اور جو رسول کے قاتل کیلئے کہنا جائز ہو، وہی حسن کیلئے قاتل کیلئے کہنا جائز سمجھئے۔
ایک اعتراض جو مجالس پر ہوتا ہے او ر تمام منطق و فلسفہ اور شریعت و قرآن و حدیث کے حربے صرف کئے جاتے ہیں۔ سوچ سوچ کر ہماری عزاداری پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔ یعنی روتے ہم ہیں اور تکلیف دوسروں کی آنکھوں کو ہوتی ہیں۔ سینوں پر ماتم ہم کرتے ہیں اور درد دوسروں کے سینوں میں ہوتاہے۔ اعتراض یہ ہے کہ تم وفاتِ رسول کا غم اتنا کیوں نہیں کرتے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض اس وقت تک ہے جب کہو کہ وفاتِ رسول اور شہادتِ حسین ۔ لیکن شاہ صاحب کے ارشاد کی روشنی میں سال میں دو تاریخیں ہیں: ایک وفاتِ رسول کی ، ایک شہادتِ رسول کی۔ اب یہ آپ فیصلہ کیجئے کہ وفات کی یادگار منائیں یا شہادت کی۔وفات کی یاد میں ہمارے لئے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے مگر شہادت کی یاد میں جو اختیاری اقدامات ہیں، وہ ہمارے لئے نمونہ ہیں۔
تو اب بتائیے حیاتِ اسلام کیلئے کون زیادہ مفید ہے؟ ہم سے کیا پوچھنا، اسے آسمان سے پوچھنا چاہئے کہ وفاتِ رسول پر کیوں خون کی بارش نہیں ہوئی اور شہادتِ حسین پر کیوں خون کی بارش ہوئی؟ اب اسے دیکھ لیجئے علامہ ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں، جو ہماری رَد میں نہایت سخت طریقہ سے لکھی گئی ہے، مطالب السئول میں دیکھ لیجئے، علامہ کمال الدین محمد ابن طلحہ شافعی اس کے مصنف ہیں، تذکرہ خواص الامة علامہ سبط ابن جوزی کی تصنیف میں دیکھئے کہ شہادتِ حسین پر چالیس دن تک جو کپڑا زیر آسمان پھیلایا جاتا تھا، اس پر خون کے نشان نظر آتے تھے۔ ہمارے شعراء مبالغہ کے طور پرکہتے ہیں ”خون کے آنسو“۔حقیقت میں کائنات نے چالیس دن تک خون کے آنسو بہائے ۔ اس کے معنی ہیں کہ عاشور کے دن ہی اس نے یومِ غم نہیں منایا بلکہ اربعین کی تاریخ بھی اس نے مقرر کر دی۔ بیس صفر تک چالیس دن پورے ہوتے ہیں جس میں کائنات سوگوار رہی ہے۔
کوئی کہے کہ راویوں نے بعد میں بیان کیا کہ خون کی بارش ہوئی مگر جناب! سب سے قدیم تاریخ کربلا کی طبری ہے، طبری نے بڑی تفصیل کے ساتھ واقعہ کربلا بیان کیا ہے۔