معراج خطابت
 
حقوق العباد
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِلِمْ یَکُنْ شَےْئًامَذْکُوْرًا“۔
اس آیت کے پہلے الفاظ کی مناسب سے اس کا نام ھَلْ اَتٰی ہوگیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اس سورة کا پس منظر یہ ہے کہ شہزادے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین بیمار ہوئے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہستی ایسی تھی کہ اگر صرف وہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کردیتی تو خداوند عالم ان کی دعا کو قبول فرماتا اور حصولِ مقصد کیلئے ان کی دعا کافی ہوتی۔مگر ہمیں ایک اجازت کا ذریعہ سکھانے کیلئے یہ سب کچھ ہے۔ پیغمبر خدا کے ارشاد کے مطابق بعض روایات میں یہی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ تم تین روز ے نذر کرو۔اس کو عرفِ عام میں منت ماننا کہتے ہیں۔ یہ نذر کرو کہ خداوند عالم حسنین کوصحت عطا فرمائے گا تو ہم تین روزے رکھیں گے۔
خداوند عالم نے صحت عطا فرمائی۔ ہم اکثر منتیں مان لیتے ہیں اور نذریں کرلیتے ہیں لیکن اس وقت نذر کرلینے میں تو اپنی ضرورت ہوتی ہے۔ وفائے نذر میں پھر تاخیر سے کام لیتے ہیں۔ طرح طرح کے حیلے حوالوں سے یہ یہ بات ہوجائے تو اس نذر کو پورا کریں گے اور وہ بات ہوجائے تو اس نذر کو پورا کریں گے۔ لیکن یہ آلِ رسول ہیں۔ بالکل نمایاں چیز جو ہمارے ذہنوں میں تاخیر کی متقاضی ہے، وہ یہ کہ ابھی تو صحت ہوئی ہے، صحت کے بعد ایک قوت آنے کی منزل ہوتی ہے کہ مریض میں طاقت آجائے۔ مگر وہاں چونکہ نذر صحت کی تھی، طاقت آنے کی تو شرط نہیں تھی۔ لہٰذا ابھی میں عرض کروں گا کہ بچے کتنے ناتوان ہیں، کمزور ہیں لیکن وفائے نذر کی فکر ہوگئی۔
اب ایک پہلو پر اہل نظر غور کریں کہ شہزادوں کی صحت کیلئے نذر کی تھی ماں باپ نے۔ خود شہزادوں نے تو نذرنہیں کی تھی مگر یہ ان کا ذوقِ عبادت ہے کہ نذر کرنے والی صرف دو ہستیاں تھیں اور وفائے نذر میں خود وہ شہزادے بھی شریک ہوگئے جن کی صحت کیلئے نذر مانی گئی تھی۔اب اس گھر میں رہنے کا صدقہ ہے کہ وفائے نذر میں گھر کی کنیز بھی شریک ہوگئی یعنی جنابِ فضہ جو اس گھر کی کنیز خاص ہیں۔
اس زمانہ میں اس قسم کے رشتہ کا نام کنیز ہی ہوتا تھا ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی بہت سی ملکاؤں کے نام ہمیں یاد نہیں ہیں مگر خانہٴ سیدہ کی اس کنیز کا نام لوحِ دل پر نقش ہے اور اگر خود فضہ سے پوچھا جاتا کہ تمہیں تاجدار ہونا پسند ہے یا یہاں کی کنیز ہونا تو وہ بھی اس کنیزی کو
ترجیح دیتیں۔
تو اب تین روزے رکھنے میں حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام نے وفائے نذر کیلئے گویا بس اتنی آسانی اختیار فرمائی کہ معلوم تھا کہ تین روزے رکھنے ہیں اور تین دن افطار ہوگا۔ لہٰذا اب روز کہاں انتظام کرتا پھروں گا۔ ایک دم سے تین روزوں کے افطار کا سامان پانچ آدمیوں کا کرلیاجائے۔ اب اس کیلئے آلِ رسول کی وہ زندگی کہ جس طرح سے یہاں انتظام ہوتا تھا، اسی طرح امیرالموٴمنین نے انتظام فرمایا۔ ایک یہودی کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں سے صوف بہ اُجرت حاصل فرمایا کہ اس کو درست کیا جائے گا اور اس کے معاوضہ میں اتنا اناج جو تین دن تک پانچ روزہ داروں کیلئے کافی ہو، وہ حاصل کیا گیا ۔ وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد ہوگیا۔ وہ اناج بھی اور وہ صوف بھی۔
میں کہتا ہوں کہ ان ہستیوں کے جو روزمرہ کے کام ہیں، انہی سے ہمارے لئے وہ نظامِ حیات مرتب ہوتا ہے جو درحقیقت نظامِ اسلام کا جزو ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اسلام نے پردہ میں رکھ کر ایک طبقہ کو بیکار بنا دیا۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا دیکھے کہ بیکار کوئی طبقہ نہیں ہوتا، صرف نظامِ عمل میں تقسیم عمل ہے اور وہ یہاں بھی نمایاں ہے کہ گھر کے باہر کا جتنا کام تھا، وہ حضرت علی علیہ السلام نے کیا اور گھر کے اندر کا جتنا کام تھا، وہ حضرت فاطمہ زہرا کریں گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ غذا جو دہن تک پہنچے گی، اس میں فقط امیرالموٴمنین علیہ السلام کی کارگزاری شریک ہے اور اس میں حضرتِ خاتونِ جنت کی کارگزاری شریک نہیں ہے۔یہی نظامِ عمل ہے کہ مرد مرد رہتے ہوئے کارآمد ہو اور عورت عورت رہتے ہوئے کارآمد ہو۔
حضورِ والا! یہ تو ہر ایک کی سمجھ میں آئے گا اور وہ تائید کرے گا کہ مرد کیلئے یہ کمال نہیں ہے کہ اس میں مردانگی پیدا ہوجائے بلکہ مرد مرد رہتے ہوئے ترقی کرے اور عورت عورت رہتے ہوئے ترقی کرے۔ اس کے لحاظ سے جو مناسب ہو، وہ کام کرے اور جو اس کے مناسب ِ حال ہو، یہ وہ کام انجام دے۔ اناج اور صوف یہ دونوں چیزیں رکھ لی گئیں۔ حضرت فاطمہ نے صوف کے تین حصے کئے اور اناج کے بھی تین حصے کئے۔ ایک حصہ صوف کا دن بھر میں درست فرمایا اور ایک حصہ اناج کا درست کیا اور غذا بننے کی حد تک جو منزلیں ہیںِ وہ سب سیدہ نے طے فرمائیں۔ اس کے بعد افطار ،وہی روٹیاں جو اس اناج کی تھیں اور اس کے ساتھ کوئی چیز رکھ دی گئی سامنے۔ اب افطار کرنا چاہتے ہیں کہ دروازے پر سے آواز آئی:
”اَنَا مِسْکِیْنٌ مِنْ مَسَاکِینِ الْمَدِیْنَہ“۔
”میں ایک مسکین ہوں مدینہ کے مساکین میں سے“۔
بس یہ آواز آنا تھی کہ روزہ داروں نے ہاتھ روکے۔ امیرالموٴمنین علیہ السلام نے اپنی روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا، سید ئہ عالم نے اپنی روٹی اٹھائی، حسنین نے اپنی روٹیاں بڑھائیں اور فضة جب روزہ کی منزل میں مالکوں سے پیچھے نہیں رہی تھیں تو اِنفاق کی منزل میں کیوں پیچھے رہتیں۔ لہٰذا فضہ نے بھی اپنی روٹی بڑھائی۔
کوئی ضروری نہیں کہ امیرالموٴمنین علیہ السلام نے ہر ایک سے کہا ہو کہ تم بھی اپنی روٹی دے دو۔اس لئے کہ سائل ایک تھا۔ اس کے سوال کو پورا کرنے کیلئے ایک آدمی کی غذا کافی تھی مگر یہ تو ماشاء اللہ علمی درسگاہ ہے۔ شعراء بھی ممکن ہے کہیں بیٹھے ہوں۔ شاعری میں جناب ایک ہوتا ہے ”توارد“ یعنی وہی مصرع کسی ایک نے کہا اور وہی کسی دوسرے شاعر کے ہاں بھی آگیا۔ اگر واقعی یہی ہو کہ اس کو اس کا علم نہیں تھا تو کہتے ہیں یہ” توارد“ ہوگیا۔یعنی ایک ہی مصرع اتفاق سے دونوں کے ذہن میں آیا۔ اس نے بھی وہی کہا، اُس نے بھی وہی کہا۔ تو وہ تو ہوتا ہے شاعری میں توارد۔ میں کہتا ہوں چونکہ ان سب کی نیتیں یکساں تھیں ، ان سب کی فطرت ایک ہی تھی، ان سب کا ذوقِ عبادت ایک ہی تھا تو یہ
”تواردِ“ عمل ہے۔ یہاں ضرورت ایک کو دوسرے کے تحریک کرنے کی نہیں ہے کہ یہ ان سے کہیں کہ تم اپنی روٹی انہیں دے دو اور وہ ان سے کہیں کہ تم اپنی روٹی اسے دے دو۔ یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس کی ضرورت تو ایک ہی روٹی سے پوری ہوجاتی مگر ایک ساتھ ہر ایک انفاق پر تیار ہے۔
تو اب سوال یہ کہنے کا نہیں ہے کہ ایسا کرو، اب تو مانع خِیر ہونے کا سوال ہے کہ کوئی دوسرے کو روکے کہ نہیں تم نہ دو، ضرورت کیا ہے؟ تو ان میں سے کوئی مانع خِیر ہونے والا بھی نہیں تھا۔ لہٰذا ایک روٹی کے سائل کو پانچ روٹیاں چلی گئیں۔ پانچ آدمیوں کی غذا چلی گئی۔ روزہ پانی سے افطارکرلیا گیا۔
اب دوسرا دن ہوا۔ یہاں ایک پہلو پر توجہ فرمائیے کہ ابھی اناج رکھا ہوا ہے۔ کیا سیدہ عالم اپنے بچوں کی بھوک کو دیکھتے ہوئے (معاذاللہ) محنت سے جی چراتیں اس وقت؟ ظاہر ہے کہ رات اتنی طولانی ہوتی ہے کہ سحر کے وقت تک دوسرا حصہ غذا کاتیار ہوسکتا تھا لیکن یاد رکھئے کہ یہ حقوق الناس کی اہمیت ہے۔ چونکہ وہ اُجرت عمل میں نہیں لائے ہیں، یعنی جتنا عمل ہوا ہے، اتنے ہی ملکیت میں آئے ہیں۔ باقی اناج گھر میں رکھا ہوا ہے۔ مگر اپنی مِلک نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس کو اس وقت اپنے پیٹ بھرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ لہٰذا روزے پر روزہ ہوگیا۔ اب دوسرا روز جب ہوا تو وہی منزلیں عمل کی طے ہوئیں اور پھر افطار کے وقت سامان آیا اور عین افطار کے وقت دروازے پر سے آواز آئی :
”اَنَا یَتِیْمٌ مِنْ یَتَامٰی الْمَدِیْنَہ“۔
”میں مدینہ کے یتیموں میں سے ایک یتیم ہوں“۔
اندازہ فرمائیے کہ آلِ محمد یتیم کی آواز سنیں اور انہیں قرارآئے! لہٰذا جو پہلے دن ہواتھا، وہی آج دوسرے دن ہوا اور وہ روٹیاں اس یتیم کو دے دی گئیں۔پھر پانی سے افطار ہوا۔اب تیسرا دن ہوا ۔ یہاں اندازہ فرمالیجئے کہ ہر دن جو دوسرا آیا ہے، اس میں بھوک کا ایک درجہ اونچا ہورہا ہے۔ یعنی پہلے دن جتنی غذا کی خواہش تھی، اس سے دوسرے دن زیادہ خواہش غذا ہے اور اب یہ جو تیسرا دن ہے تو اس سے بھی زیادہ خواہش غذا ہے جو انتہائی نقطہ ہے غذا کی خواہش کا۔مگر آج جب افطار کا وقت آتا ہے تو دروازہ پر سے آواز آتی ہے:
”اَنَااَسِیْرٌمِنْ اُسَارٰی الْمَدِیْنَہ“۔
”میں مدینہ کے اسیروں میں سے ایک اسیر ہوں“۔
قرآن مجید نے اسی ترتیب کے ساتھ اس بات کو بیان کیا ہے:
”یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہ مِسْکِیْنًاوَیَتِیْمًاوَاَسِیْرًا“۔
”کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت میں“۔
اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ اللہ کی محبت میں یا طعام کی محبت میں۔ یعنی یہ ضمیر طعام کی طرف راجع ہے کہ باوجود خواہش طعام کے ، باوجودیکہ بھوکے ہیں، پھر بھی کھلاتے ہیں۔ کس کو؟ پہلے دن چونکہ مسکین آیا تھا، تو پہلے لفظ مسکین ، دوسرے دن یتیم آیا تھاتو دوسرے نمبر پر لفظ یتیم اور تیسرے دن اسیر آیا تھا تو تیسرے نمبر پر اسیر۔
یہاں ایک پہلو پر غور کرلیجئے۔ ادب کی ایک اصطلاح ہے اور معنی و بیان ہمارے طلبہ کو بھی پڑھایا جاتا ہے ۔ اس میں ایک صفت ہے لف و نشر مرتب یعنی چند چیزیں ایک ساتھ بیان ہوں اور اس کے بعد اس کے متعلق جو چیزیں ہوں، دوسری جگہ وہ اسی ترتیب سے بیان ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ان معصومین کے عمل اور قرآن مجید کے الفاظ میں لف و نشر مرتب ہے۔لف ہے ان کے عمل میں ، نشر ہے قرآن کے الفاظ میں۔
ماننا پڑے گا کہ خدا نے یا تو اپنے علم وجوبی کے آئینہ میں ان کے کردار کی تصویر دیکھتے ہوئے قرآن کے الفاظ رکھے یا ماننا پڑے گا کہ تنزیل سے پہلے یہ الفاظِ قرآن کو دیکھ رہے تھے۔
مگر زیادہ صحیح یہی پہلی توجیہہ ہے کہ آنا تو دوسروں کا کام ہے۔ پہلے دن مسکین آیا، دوسرے دن یتیم آیا اور تیسرے دن اسیر آیا۔تو اس لئے یہی صحیح ہے کہ اللہ اپنے علم غیب سے ان کے عمل کی ترتیب کو دیکھ رہا تھا، لہٰذا اُس نے لوحِ محفوظ میں جو ان کا عمل ہوگا، اسی ترتیب سے الفاظ درج فرمادئیے۔
اب ایک خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مسکین کے معنی تو معلوم ہیں، عرفی معنی تو مطلق غریب ہونے کے ہیں۔ ایک فقہی اصطلاح ہے مسکین اور فقیر کی۔ اس میں کیا فرق ہے؟ یہ سب فقہ کی باتیں ہیں جو ہمارے طلبہ پڑھتے ہوں گے۔ تو اُسے اس وقت پیش کرنا نہیں ہے لیکن عام طور پر غریب آدمی کو مسکین کہتے ہیں۔ غرض یہ کہ وہ جس معنی سے بھی مسکین ہو، پہلے دن مسکین تھا، دوسرے یتیم۔ یتیم کے معنی بھی سب عام طور پر جانتے ہیں۔ تیسرے دن کون ہے؟ اسیرہے۔اسیر کسے کہتے ہیں؟ عام تصور یہ ہے کہ قیدی۔ لیکن کسی جرم کی سزا میں قید کیاجائے تو اسے اصطلاحِ قرآن میں اور عربی میں اسیر نہیں کہتے۔ اسیر کہتے ہیں جنگ کے قیدی کو۔جنگ میں جو قید ہو، اُس کو اسیر کہا
جاتا ہے۔
اب ایک او رپہلو کی طرف توجہ فرمائیے۔ ایک تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیغمبر خدا کے زمانہ میں جیل خانہ نہیں تھا ورنہ جو جیل خانے میں ہو، وہ کہاں آئے گا۔ تو اس زمانہ میں جیل خانہ نہیں تھا۔ قیدی کے معنی تھے بس کچھ حدود میں جسے نظر بند کہتے ہیں کہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔اس کے بعد وہ عام قیدی نہیں ہے۔ اسیر ہے یعنی جنگی قیدی ہے۔ اسیر جنگ جو ہوتا تھا، اس کو بھی بند کرکے نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ وہ کچھ حدود کے اندر مقید ہوتا تھا۔ اب ان حدود کے اندر چاہے تو محنت مزدوری کرکے کسب ِ معاش کرے،چاہے تو کسی سے سوال کرکے پیٹ بھرے۔ بہرحال اگر وہ بند کرکے رکھاجاتا تو غذا کی ذمہ داری اس بند کرنے والے پر تھی۔ چونکہ وہ آزاد رکھاجاتا تھا، حدودِ خاص کے اندر۔ تو ہ اپنا اپنا ذوق تھا۔ آج بھی ہے۔کچھ محنت کرکے کھاتے ہیں، کچھ سوال کرکے کھاتے ہیں۔ تو ایسا ہی اس وقت بھی تھا۔
اب جو خاص پہلو ہے توجہ دلانے کا، وہ یہ کہ زمانہٴ رسول میں جنگ کا قیدی کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اسیر ہے تو کوئی غیر مسلم ہے۔ تو جناب! وہاں تو میں اتقادکھاسکا یتیم کے معاملہ میں، لب و لہجہ سے میں نے اتقاد کھایا کہ آلِ محمد یتیم کی آواز سنیں اور انہیں قرارآئے۔ مگر آج تیسرا روزہ ہے اور معراج ہے خواہش غذا کی۔ دو دن تھا امتحان حقِ ایمانی کا اور آج ہے امتحان حقِ انسانی کا۔ یہ چیزیں غیر مسلم دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہیں کہ یہ ہے اسلام کی فراخ حوصلگی اور یہ ہے رہنمایانِ دین کی فیاضی۔ جس طرح خالق کی عطا موٴمن و کافر نہیں دیکھتی، اسی طرح یہ اس کے نمائندے ہیں جن کی عطا موٴمن و کافر نہیں دیکھتی۔
اب ایک چیز پر غور، الفاظِ قرآنی پر غور کرنے سے جو چیز سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ کہ اصل نذر تھی روزہ رکھنے کی۔ کھانا کھلانے کی نذر نہ تھی۔ا س کے معنی ہیں وفائے نذر تو ہوگئی روزوں سے۔ یہ فاضل عمل ہے جو اس صورت سے ہورہا ہے۔ ماشاء اللہ آپ حضرات صاحبانِ عمل ہیں اور یہ مرکز تدریس ہے۔ یہاں ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ کیوں نہ ہو! ارشاد ہوتا ہے:
”یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِوَیَخَافُوْنَ یَوْمًاکَانَ شَرُّہ مُسْتَطِیْرًا“۔
”یہ لوگ نذر پوری کرتے ہیں اور اندیشہ آخرت رکھتے ہیں“۔
اگر کھاناکھلانا متعلق نذر ہوتا تو پھر بیچ میں واؤ نہ آتا۔ یوں کہا جاتا کہ:
”یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِوَیَخَافُوْنَ یَوْمًاکَانَ شَرُّہ مُسْتَطِیْرًایُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ“۔
تب یہ اطعام یہاں ہوتا اسی وفائے نذر کا کہ وہ نذر پوری کرتے ہیں اور کس طرح کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں۔ مگر چونکہ نذر کے پورا کرنے میں تو روزے ہوگئے۔ اب یہ مزید اطاعت تھی خالق کی۔ لہٰذا بیچ میں واؤ آئی یعنی وفائے نذر ایک عمل ہے اور اطعامِ طعام ، یہ دوسرا عمل ہے۔ اب اس کے بعد ایک نتیجہ نکلے گا تھوڑی دیر کے بعد اور تھوڑی دور پر۔ اس کو ابھی سے ذہن نشین رکھئے گا کہ وفائے نذر روزوں کے ساتھ ہے اور یہ کھانا کھلانا جو ہے، یہ بغیر نذر ہے۔یہ مزید طاعت و عبادت ہے جو اس صورت سے انجام پائی۔
اب اس کے بعد خالق نے جزائیں بیان کرنا شروع کیں اور جتنی نعماتِ جنت ہیں، سب کو سمیٹ کر۔ قرآن مجید میں یہ سب نعمتیں متفرق طور پر مذکور ہیں ۔ کہیں حوریں ہیں، کہیں قصور ہیں، کہیں چشمے ہیں۔ لیکن یہاں سب ایک جگہ جمع ہوگئی ہیں جتنی نعماتِ جنت ہیں، سب اکٹھی کردی گئی ہیں۔ لیکن باریک بین نگاہوں نے جو دیکھا تو اس سورة میں سب نعمتیں جمع ہیں مگر حور کا ذکر نہیں ہے۔ تو اب فکر ہوئی کہ یہ کیا بات ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کا ذکر ہے مگر یہاں اس سورة میں حور کا ذکر نہیں ہے۔ تو سمجھ میں یہ آیا کہ چونکہ صاحبانِ کردار میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی تھیں ، اس لئے حور کا تذکرہ خلافِ بلاغت تھا۔
جہاں سے جزائیں شروع ہوئیں، وہاں سے ایک نقطہ ہے:
”جَزَاھُمْ بِمَاصَبَرُوْا“۔
”اللہ نے انہیں جزامیں عطا کیا اس کی کہ انہوں نے صبر کیا“۔
اب اس کے بعد سب نعماتِ جنت کی فہرست ہے۔ایسے چشمے، ایسے قصر، ایسے لباس ، ایسے زیور۔ سب تفصیلات ہیں۔ کس چیز کی یہ جزا ہے؟ ”بِمَاصَبَرُوْا“۔اب اصطلاحِ قرآن دیکھی تو پتہ چلا کہ صبر روزہ کا نام ہے۔
”یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلوٰةِ“۔
”اے صاحبانِ ایمان! صبر و صلوٰة سے سہارا حاصل کرو“۔
تو صلوٰة کے تناسب سے وہ صبر جو میدانِ جنگ کا ہے، وہ تو کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا تھا ۔ پتہ چلا کہ صبر صوم کا نام ہے۔تو اب جو ارشاد ہوا کہ:
”جَزَاءً بِمَاصَبَرُوْا“۔
”اللہ نے یہ سب جزا ان کے صبر کے بدلہ میں دی“۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ جنت کی سب نعمتیں تو روزوں کی جزا میں صر ف ہوگئیں، وہ تمام نعمتیں ختم ہوگئیں صرف روزہ کی جزا میں مگر کردار تو ابھی ان کا فاضل ہے۔اس کے بعد بھی سب نعمتیں بیان کرکے یہ مناسبت ہے ابتدائے خطاب میں”جزاءً بما صبروا“۔ جزا سے جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ پورا ہوا۔
اب اس سلسلہ کے بعد کیا کہاجارہا ہے:
”اِنَّ ھٰذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءً“۔
ابھی تک تو غائب کے انداز میں بات ہورہی تھی، یہ وہ انداز ہے جو سورئہ الحمد میں ہے کہ پہلے اللہ کا ذکر بطور غیبت:
”اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن“۔
معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ کی بارگاہ سے بندہ غیر حاضر ہے۔ اس کی تعریف کررہا ہے، اس کے اوصاف بیان کررہا ہے لیکن اوصاف بیان کرتے کرتے گویا اس کے تقرب کا درجہ اتنا اونچا ہوگیا، گویا معبود کا جلوہ بالکل سامنے نظر آرہا ہے اور یہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوگیا۔ تو کہتا ہے:
”اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن“۔
”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں“۔
اب اس غیبت نے حضور کی شکل اختیار کرلی۔ بالکل اسی طرح یہاں یہ اُدھر سے ہے کہ ابھی تک تو ان بندوں کا بطورِ غیبت ذکر ہورہا تھا، سب الفاظ غائب کے تھے۔
”یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ“۔
جمع مذکر غائب کا صیغہ اور ”جَزَاھُمْ بِمَاصَبَرُوْا“جمع مذکر غائب کا صیغہ۔ اب تذکرئہ جزا میں بندہ کا تقرب نظر قدرت میں ایسا سمایا کہ آپ اسے مخاطب بنالیا۔
”اِنْ ھَذَاکَانَ لَکُمْ“۔
ابھی تک تو ان کا ذکر ایسے ہورہا تھا جیسے کسی اور سے کیا جارہا ہے۔ مگر اب خود انہیں مخاطب کرکے کہاجارہا ہے”اِنْ ھَذَاکَانَ لَکُمْ“،”لَھُمْ“نہیں ہے۔ ان کیلئے نہیں، اے آلِ رسول۔ یہاں مخاطب فقط رسول نہیں ہیں بلکہ سب ہیں ۔ تو اب جو وحی آئی ہے ، یہ ایک ذات پر نہیں ہے۔
اب خالق خود ان سے مخاطب ہوکر کہہ رہا ہے :
”اِنْ ھَذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءٌ“۔
اے آلِ محمد! یہ تمہارے لئے۔ یاد رکھئے کہ آیہٴ تطہیر میں منزلِ آیہٴ تطہیر جو ہستیاں ہیں، ان میں پیغمبرخدا بھی شامل ہیں۔ لیکن ھَلْ اَتٰی کی منزل میں پیغمبر خدا شامل نہیں ہیں۔
ماشاء اللہ عربی دان حضرات کیلئے تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ آپ حضرات کیلئے توضیح کی ضرورت ہے کہ اس جملے کے دو انداز ہوسکتے تھے: ایک یہ کہ ”اِنْ ھَذَاجَزَائٌکُمْ“،”یہ تمہاری جزا ہے“۔ان الفاظ کے معنی یہ ہوتے کہ جزا پوری مل گئی۔ ارے تم نے یہ کیا تھا ، لو یہ تمہاری جزا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جزا کا حق ادا ہوگیا۔ لیکن متکلم قرآنی الفاظ کا اضافہ بلاوجہ نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں کہاجارہا ہے کہ یہ تمہاری جزا ہے۔ عربی میں تنوین ہوتی ہے تقلیل کیلئے۔”رِضْوَانٌ مِنَ اللّٰہِ“، یعنی اللہ کی ذرا سی مرضی بڑی سے بڑی چیز ہے۔ یہ ذرا سی کس چیز کے معنی ہوئے؟ یہ ”رضوانٌ“ میں جو دو پیش ہیں، اس تنوین سے یہ صورت پیدا ہوئی کہ تھوڑی سی مرضی بھی۔
اب ذرا دیکھئے کہ وہی تنوین ہے”اِنْ ھَذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءٌ “۔ اے آلِ رسول! یہ تو تمہاری تھوڑی سی جزا ہوئی۔
کیا عادل خالق بندہ کے پلّے کو گراں رہنے دے اور اس کے عوض میں کچھ عطا نہ کرے۔ مگر سرمایہ جزا تو ختم ہوگیا۔ اب اور کچھ کہاں سے آئے؟ تو عادل نے توازن قائم کیا:
”کَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُوْرًا“۔
تمہاری کوشش قابل شکرگزاری ہے۔
بابِ فضائل میں یہ تین دن ھَلْ اَتٰی والے اور بابِ مصائب میں تین دن کربلا والے۔ وہ بھی بس تین دن ہی تھے کیونکہ تین روزے ختم ہوگئے۔ اب چوتھا دن ہوا تو اب روزہ تو نہیں ہے لیکن غذا بھی تو ابھی نہیں ہے۔ پھر امیرالموٴمنین علیہ السلام انتظام فرمائیں گے۔ تب غذا ہوگی۔ تو یہ چوتھا دن بھی شامل ہے۔ یہ روایت بین الفریقین مسلّم ہے۔ یہاں تکہ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں بھی یہ پورا واقعہ درج کیا ہے۔ تفسیر میں درج تو کردیا ہے لیکن لوگوں نے اس کو اصل منزل سے ہٹانے کیلئے اوپر مکیہ لکھ دیا ہے۔اٹھا کر دیکھئے قرآن مجید، کہیں کے بھی چھپے ہوئے ہوں، تو ا س کی پیشانی پرسورئہ دھر کے نیچے مکیہ لکھا ہوا ہے تاکہ جو اصل منزل ہے، اُس سے دور ہوجائے۔ تلاش کرنے سے مل جاتے ہیں ایسے قرآن جن میں مدنیہ لکھا ہوا ہے۔ مگر عام طور پر مکیہ لکھ دیا گیا ہے تاکہ ذہن شانِ نزول کی طرف جائے ہی نہیں۔مفسرین مجبور ہیں کہ اس کے ضمن میں شانِ نزول کا تذکرہ کریں۔
بہرحال اب چوتھا دن ہے۔ روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ باوجودیکہ پیغمبر خدا روز بیت الشرف میں تشریف لاتے تھے، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ، مگرجیسے یہ بھی قدرت کا انتظام ہے کہ اس تین دن میں، میں کہتا ہوں کہ جب یہ حضرات راہِ عمل میں تھے، پیغمبر خدا تشریف نہیں لائے۔ چوتھے روز حضور تشریف فرما ہوئے۔ اب حفظ ِآداب ہے اس گھرانے کا کہ جونہی رسول اللہ تشریف لائے تو سب تعظیم کیلئے کھڑے ہوئے۔ تو یہاں میں نے حوالہ دیا تھا کہ بچے کتنے ناتواں ہیں، یہ بعد میں پتہ چلے گا۔ تو اب سب کھڑے ہوئے ہیں تعظیم کو۔ حسن اور حسین بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں راوی نے ان کی کیفیت بیان کی ہے کہ حسن اور حسین جو کھڑے ہوئے تو ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، تھرتھرا رہے تھے۔
پیغمبر خدا نے بچوں کی جو یہ کیفیت دیکھی ، میں کہتا ہوں کہ راوی کی نظر جو پہلے پیروں پر پڑی تو پیغمبر خدا کی نظر بھی پہلے پیروں ہی پر پڑی ہوگی۔ اس کے بعد سب کے چہرے دیکھے ہوں گے تو اس کے بعد خاص تغیر محسوس ہوا ہوگا۔ فرمایا: یہ کیا عالم ہے؟ امیرالموٴمنین نے عرض کیاکہ خدا و رسول زیادہ واقف ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ وہ اپنی رودادِ عمل خود سناتے؟ کہا کہ خدا و رسول زیادہ واقف ہیں۔ اتنی دیر میں جبرئیل امین بسم اللہ سمیت ۳۱ آیاتِ مدحیہ لئے ہوئے اُترے اور وہ سورة پڑھ کر پیغمبر خدا نے تمام اہل بیت کو سنایاکہ تم لوگ بیان کرو یا نہ کرو، خالق نے تمہاری ساری روداد سنا دی ہے۔
اب بتائیے جن کا ذکر خدا رسول سے کرے، ان کا ذکر اگر ہم کریں تو عبادت نہ ہوگی؟