معراج خطابت
 
تہذ یبِ اسلامی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُوٴمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃ۔یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَقفوَعْدًاعَلَیْہِ حَقًّافِی التَّوْرٰاة وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ“۔
ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ نے خرید لیا موٴمنین سے ان کے جان و مال کو، ا س کے عوض میں ان کیلئے جنت ہے۔وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں تو قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوبھی جاتے ہیں اور یہ اللہ پر لازمی طور پر وعدہ ہے، توریت، انجیل اور قرآن سب کتابوں میں اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔
اعلان ہوا خریداری کا۔ کس چیز کی خریداری؟ نفوس اور اموال کی خریداری۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مال کو بھی ذلیل نگاہ سے نہیں دیکھنے کے۔ جس طرح جان کا خریدار وہ ہے، اسی طرح مال کا خریدار بھی وہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان بھی اس قابل ہو کہ وہ خریداری کرسکے۔
کوئی ظاہردار اس دنیا میں ایسا ہوسکتا ہے جو کہے کہ ارے مجھے تو مال کی ضرورت نہیں، پیسے کی ضرورت نہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ کہنا کہ صدقِ دل سے بھی ہو۔ یعنی ملتا ہو اور پھر کہے کہ ضرورت نہیں ہے۔ تو پھر ایک بات ہے اور جب نہیں ہے اور کہہ دیا کہ ضرورت نہیں ہے تو ا سکی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اگر سچائی کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ مال کی ضرورت نہیں ہے تو میں عرض کرتا ہوں کہ ازروئے قرآن مجید یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر خالق کی زندگی میں مثالی زندگی انسان کی یہ ہوتی کہ مال اس کے پاس ہو ہی نہیں تو ہر جگہ قرآن مجید میں ”یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰةَ“ کے ساتھ”یُوْتُوْنَ الزَّکوٰةَ“ نہ ہوتا ، حالانکہ ہم قرآن مجید میں یہ دیکھ رہے ہیں کہ جہاں جہاں جس جس انداز میں صلوٰة کا ذکر ہے، زیادہ تر اسی اندا زمیں زکوٰة کا ذکر ہے۔ اگر مدح کے طور پر ہے کہ”اَقَامُواالصَّلوٰة“ تو اسی کے ساتھ ہے”اَتُواالزَّکوٰة“۔ اگر ”اَلْمُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰة“ہے، اس کے ساتھ ہے”مُعْطُوْنَ الزَّکوٰة“ ہے۔
تو جہاں جہاں صلوٰة کا ذکر، وہاں وہاں زکوٰة کا ذکر۔ اب خیر ماشاء اللہ، یہاں کے بارے میں تو خیر معلوم نہیں مگر ہندوستان میں تو بالکل اپنی ذاتی معلومات کی بناء پر کہتا ہوں کہ نماز تو ہر آدمی پر واجب ہے لیکن زکوٰة جن پر واجب ہے، ان کو میں پوری مردم شماری کے لحاظ سے تناسب قائم کروں تو ممکن ہے کہ فیصد میں کوئی نہ نکال سکوں۔فی ہزار نکالوں، تو اگر معاشرہ ایسا ہوا کہ فی ہزار میں ایک پر۔ اس کے پاس اتنا ہوا کہ اس کیلئے شرائط عائد ہوں تو بلاغت ِقرآن کے خلاف ہے کہ ہر جگہ صلوٰة کے ساتھ زکوٰة کا نام لے۔ اگر سو جگہ فرض کیجئے صلوٰة کا ذکر ہوتا تو دو ایک جگہ زکوٰة کا ذکر ہوجاتا کیونکہ یہ ہر ایک کی ضرورت کی چیز نہیں ہے۔ شاذونادر کوئی ہو کہ جس پر زکوٰة واجب ہو۔ تو ان کیلئے دو ایک جگہ حکم آجاتا لیکن یہ کہ ہر جگہ جہاں صلوٰة کا ذکر ، وہاں زکوٰة کا ذکر۔ا س کے معنی یہ ہیں کہ خالق کی نظر میں یعنی اسلام جس معاشرہ کی بنیاد
رکھنا چاہتا تھا، وہاں کوئی قلاش معاشرہ نہیں تھا۔ وہ کوئی مفلوک الحال معاشرہ نہیں تھا۔ وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں ہر شخص پر جس طرح صلوٰة واجب ہے، اسی طرح زکوٰة واجب ہے۔ یہاں تک کہ جن کی ہستی ہمارے لئے بہت بڑی مثال ہے ترکِ دنیا کی یعنی حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام، ان کے بارے میں وسائل الشیعہ میں، ایک معتبر حدیث کی کتاب ہے ہماری کتابوں میں،اجازے جو علماء کے ہوتے ہیں، ان میں جن کتب ِ احادیث کا نام لیا جاتا ہے کہ جن احادیث کی ہم نے روایت کی۔ جس طرح متقدمین کی کتابیں ہیں، کافی، تہذیب، من لایحضرہ الفقیہ ،استبصار۔اسی طرح بعد کے علماء کی جو کتابیں ہیں، ان میں وسائل الشیعہ بھی ہے۔
تو وسائل الشیعہ میں یہ حدیث ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنی قوتِ بازو کی کمائی سے چار سو غلام راہِ خدا میں آزاد کئے۔اب اس زمانہ میں کتنی ہی کم قیمت فرض کیجئے غلام کی لیکن پھر بھی چار سو غلاموں کیلئے ظاہر ہے کہ زرِ خطیر کی ضرورت ہے۔ مگر یہ کہہ دیا گیا کہ جتنے بھی غلام خرید کئے گئے، وہ اپنی ذاتی محنت کے پیسے سے خرید کر آزاد کئے۔
تو معلوم یہ ہوا کہ مال پیش خدا اتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اس آیت میں کہا گیا ، برابر سے دونوں چیزوں کو ، کہ جان کا بھی وہ خریدار اور مال کا بھی وہ خریدار۔ لیکن اب ایک خاص چیز سوچنے اور سمجھنے کی جو اس آیت میں مجھے محسوس ہوئی ہے کہ اس پر تبصرہ ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ خریداری کا درجہ فروخت کے بعد ہے اور فروخت کرنا بندوں کا کام ہے۔قرآن مجید میں حکم ہونا چاہئے تھا کہ تم فروخت کرو۔ جب ہم فروخت کرتے تو وہ ارشاد فرماتا کہ ہم نے خریدا۔ پھر وہ اگر حکم دیتا کہ فروخت کرو تو فروخت کرنا یا نہ کرنا ہمارے اختیار سے وابستہ ہوتا۔ کہا تو اس نے سب سے ہے کہ نماز پڑھو،کیا سب نماز پڑھتے ہیں؟ کہا تو اُس نے سب سے ہے کہ روزہ رکھو، کیا سب روزہ رکھتے ہیں؟اس کی طرف کا حکم سب کیلئے ہے کہ ایمان لاؤ، کیا سب نے ایمان اختیار کیا ہے؟اس کا حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، کیا سب اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جتنے احکام اس کی طرف سے ہیں، وہ تمام احکام ایسے ہیں کہ کچھ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور کچھ اس کی تعمیل نہیں کرتے بلکہ تعمیل کرنے والے کم ہوتے ہیں اور تعمیل نہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ اس نے اطاعت ِ جبری نہیں چاہی تھی۔ اگر جبری اطاعت کروانا ہوتی تو قرآن مجید میں جو یہ کہہ دیا ہے:
”لَوْ شَاءَ“۔”اگر وہ چاہتا تھا تو“۔
”لَاٰمَنَ مَنْ فِیْ الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًا“۔
”جتنے بھی روئے زمین پر ہیں، سب ہی ایمان لے آتے“۔
اگر وہ چاہتا، تو کیا وہ چاہتا نہیں ہے؟ چاہتا ہے مگر یہ چاہتا ہے کہ بندہ ارادةً ایمان لائے۔ یہ نہیں چاہتا کہ وہ جبر سے کام لے۔ جبری طور سے، یعنی خود موٴمن بنا دے۔ ایمان کے راستے کا دکھانا اس کا کام ہے اور ایمان کو دل میں ڈال دینا، جبری طور سے، یہ اُس کا کام نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی معرکة الآرا مسئلہ ہے جبرواختیار کا علمِ کلام میں، اس پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر اس وقت تو میں ایک جملہ کہتا ہوں کہ فردِ نافرمان کا وجود خود دلیلِ اختیار ہے۔
تو اگر وہ جس نے نماز کا حکم دیا، روزہ کا حکم دیا، اسی طرح حکم دیتا کہ تم فروخت کرواپنے جان و مال کو تو پھر ہمارے بس میں ہوتا کہ فروخت کریں یا نہ کریں۔ اگر ہم فروخت کرتے، تب وہ قیمت کا اعلان کرتا کہ تم نے اپنا جان و مال فروخت کیا، اب میں بتاتا ہوں کہ اس کی قیمت جنت ہے تاکہ تمہارا جان و مال اس کے قبضہ میں جائے اور اس کی جنت وقت آنے پر ہمارے قبضہ میں آئے۔ اگر ہم فروخت نہ کرتے تو ہماری جان ہمارے پاس، اُس کی جنت اُس کے پاس۔ہم جاکر جنت کا دعویٰ نہ کرتے کیونکہ ہم نے وہ معاملہ ہی نہیں کیا جس کی قیمت میں جنت ملتی۔ مگر یہ تو مجھے عجیب بات معلوم ہورہی ہے کہ ہم سے نہیں کہتا کہ فروخت کرو اور خریداری کا اعلان کئے دیتا ہے۔ جو بعد کی منزل ہوتی ہے، اس کا اعلان اورجو قبل کی منزل ہے، اس کا ذکر ہی نہیں۔ تو اب یہ کچھ انوکھی بات ہوئی کہ اللہ نے خرید لیا۔
اب ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں تو مسئلہ حل ہوجائے کہ کن سے خریدا؟ یہ تو نہیں کہا کہ لوگوں سے خریدا۔”ناس“ کا لفظ یہاں نہیں ہے۔
”اِنّ اللّٰہَ اشْتَریٰ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ“۔”اللہ نے خرید کیا موٴمنین سے ان کے جان و مال کو“۔
اس بناء پر کہ ان کیلئے جنت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت ایمان لائے، اسی وقت ہم نے اپنے جان و مال کو فروخت کردیا۔ بس ادھر ہم نے اقرارِ ایمان کیا اور یہ کہا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے یہ اقرار کر لیا کہ اب ہمارا مال ہمارا نہیں ہے، ہماری جان ہماری نہیں ہے۔ یہ جان بھی اُس کی ہے اور یہ مال بھی اُس کا ہے۔
حقیقت میں جتنی پابندیاں ہیں احکامِ شریعت کی، وہ تمام پابندیاں اب اس بیع کے تقاضے پر ہیں۔ ہم نے اپنی جان کو فروخت کر دیا، اب وہ ہم سے مطالبہ رکھتا ہے کہ دن میں اتنا وقت تم میرے اس کام میں صرف کرو جس کا نام نماز ہے اور ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اتنی دیر ہم اپنی جان اور اپنے اوقاتِ حیات پر تصرفِ غاصبانہ کررہے ہیں۔اُس نے کہا گیارہ مہینے شوق سے کھانے پینے کی چیزیں کھاؤ لیکن دیکھو! ایک مہینے میں ، اور وہ بھی رات کو نہیں ، دن کو ہماری طرف سے یہ پابندی ہے کہ ان چیزوں کو استعمال نہ کرو۔ اب یہاں ظاہر ہے کہ جو چیز ہم نے کھائی ہے، وہ مال سے خریدی ہے تو وہ مال بھی مِلکِ غیر تھا، اس لئے یہ تصرفِ ناجائز ہوا اور دن بھر جو کام ہم نے روزے کے تقاضے کے خلاف کئے اور روزہ نہیں رکھا تو وہی بات ہوگئی کہ ہم نے تصرفِ غاصبانہ کیا۔ جتنے بھی احکامِ شرع ہیں، وہ اسی کے تحت آتے ہیں۔ اسی طرح جو محرمات ہیں، جو ناجائز چیزیں ہیں، ہمارا اچھے کپڑے پہننا خالق کا ناپسند نہیں ہے۔ وہ کوئی دوسرا دین ہوگا جس میں
لٹا پٹا رہنا خالق کے تقرب کا باعث ہوتا ہے، یہاں تو ایک مقدارمیں لباس جزوِ صحت ِنماز بن گیا۔
اب نہ جانے کن چور دروازوں سے مسلمانوں میں بھی یہ تصورات داخل ہوگئے ہیں کہ برہنہ رہنا مقتضائے ولایت ِ خدا ہوگیا۔ یہاں تو نماز صحیح نہیں ہوگی جب تک کہ اتنا لباس نہ ہو کہ جس کے بعد آدمی برہنہ نہ کہلائے۔ یہ تو مرد کیلئے لباس ہے، عورت کی نماز تو اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ہاتھوں اور چہرے کے سوا سب اعضاء چھپے ہوئے نہ ہوں۔
تو معلوم ہوا کہ ہمارا لباس پہننا خالق کو ناپسند نہیں ہے۔ یہ نہیں ہے کہ لباس پہنو تو بوسیدہ اور خراب پہنو۔جی نہیں! کہا گیا کہ جب نماز کیلئے آؤ تو جو بہتر سے بہتر لباس تمہارے پاس ہو، وہ پہن کر آؤ۔ اُسے ہماری پریشان حالی منظور ہوتی تو عطر لگا کر نماز پڑھنے کا ثواب کیوں ہوتا؟ آجکل بال پریشان رکھنا اور گویا ہر وقت مصیبت زدہ ہونے کا ثبوت پیش کرنا گویا ترقی پسندی کی علامت بن گیا ہے اور وہاں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کی جاء نمازوں میں کنگھا موجود ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محاسن میں شانہ کرنا شامل ہے یعنی آراستہ ہوکر بارگاہِ الٰہی میں آئے، پریشان حالی کفرانِ نعمت ِ الٰہی ہے۔
ہاں! کسی بلند مقصد کی خاطر انسان پیوند والا لباس پہنے تو صحیح ہے۔ حضرت امیرالموٴمنین علیہ السلام بے شک پیوند دار لباس پہنتے تھے۔ آپ نے اس کا فلسفہ نہج البلاغہ میں خود بتایا ہے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک نے، عاصم ابن زیاد حارثی نے حاضر ہوکر عرض کیاکہ میرے بھائی نے گھر کے کپڑے پہننے چھوڑ دئیے ہیں، گھر میں پکاہوا کھانا چھوڑ دیا ہے، ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے ہیں اور روکھا سوکھا کھانا کھا لیتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں آؤں گا اور اُسے سمجھاؤں گا، نصیحت کروں گا۔
آپ خوش نہیں ہوئے کہ اس نے بڑا اچھا کیا۔ حضرت تشریف لائے اور بڑے سخت انداز میں کہا: اے شخص! یہ کیا زندگی اختیار کی ہے ؟ کیاتیرے گھر میں پکنے والی غذا مالِ حرام سے ہوتی ہے؟ کیا تیرا پہننے کا لباس مالِ ناجائز سے ہے؟ پھر یہ کس طرح کی زندگی تو نے اختیار کرلی؟ پھر خود ہی فرمایا: کیا تم خیال کرتے ہو کہ خدا نے خود ہی لذائذ اور طیبات کو حلال قرار دیا ہے اور پھر خود ہی ان پر سزا بھی دے گا۔یہ

عدلِ الٰہی کے خلاف ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے؟
اتنے سخت الفاظ میں کہا کہ اُسے تابِ مقاومت نہ رہی۔ فوراً کہا:”سَمْعاً وَطَاعَةً“۔
جو آپ ارشاد فرمارہے ہیں، اُس پر عمل کروں گا۔جو کھانا کھاتا تھا، وہی کھاؤں گا، جو کپڑا پہنتا تھا، وہی پہنوں گا۔
دیکھئے! مقتضائے اطاعت یہی ہے کہ حکم کی تعمیل تو کیجئے، پھر اگر اس کی مصلحت کو سمجھنا بھی ہے تو اُسے سمجھتے رہئے۔ مگر اطاعت کو اس سمجھنے پر موقوف نہ رکھئے۔ اس نے فوراً اقرارِ اطاعت کیا اور حضرت کا غیظ و غضب کا انداز بدل گیا۔ مگر اصحابِ رسول اور اصحابِ آئمہ طالب علم بھی تو تھے اور طالب علم کو حق ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے، وہ پوچھ لے۔پس جب اقرارِ اطاعت کرلیا تو اُس نے دبی زبان سے کہا:
”حضور !میں نے اقرار تو کرلیا مگر یہ حضرت کا لباس جو ہے؟“
دیکھئے! کتنی بڑی خلش آپ کے ذہن کی بھی اُس نے دُور کروادی۔ یہ آپ جو اس روکھی سوکھی غذا اورپرانے لباس میں نظر آتے ہیں، یہ کیا ہے؟ بظاہر پھر حضرت کی تیوریوں پر بل آگئے۔ فرماتے ہیں:”اے شخص! میری تیری برابری نہیں ہے“۔
اب ایک بات کہوں گا کہ حضرت نے کیا معیار مقرر فرمایا؟ میں کہتا ہوں یہی جملہ کہ ہماری تمہاری برابری نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں جائیے اور بڑے بڑے عہدیداروں سے اور بڑے بڑے مسند ِاقتدار پر بیٹھنے والوں سے پوچھئے کہ سرکارِ والا! یہ آپ کے پاس اتنی کوٹھیاں اور ہمارے پاس رہنے کو مکان نہیں ہے؟ وہ یہاں کہیں گے کہ کیا ہماری تمہاری برابری ہے؟
کسی سے یہ کہئے کہ آپ کے پاس اتنی موٹریں ہیں اور ہمارے پاس سائیکل تک نہیں ہے۔ وہ کہیں گے کیا ہماری تمہاری برابری ہے؟محلِ استعمال اس جملے کا دنیا میں یہ ہے۔ مگر امیرالموٴمنین علیہ السلام کے ارشاد فرمارہے ہیں؟ ارے جنہیں اقتدار حاصل ہوجائے، ان سے اللہ کا عہدوپیمان یہ ہے کہ وہ اپنا معیارِ زندگی اپنی رعایا میں سے کمزور ترین فرد کے برابر رکھیں۔ آپ نے اپنے انفرادی عمل کا جو فلسفہ بتایا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر معصومین نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا، حالانکہ وہ سب نورِ واحد تھے، ایک سلسلہ کی کڑی تھے مگر ہر دفعہ امیرالموٴمنین علیہ السلام کا کردار اس محل پر کیوں پیش ہوتا ہے؟
اب اس ارشاد کی روشنی میں میرا ذہن گیا اپنے حدودِمطالعہ کی طرف کہ یہ سادگی کے جتنے واقعات ہیں، سب کوفہ کے ہیں۔ یعنی اس دَور کے نہیں ہیں جب گوشہ نشین تھے۔یہ زندگی جو جزوِ تاریخ بنی ہے، یہ اُس دَور کی ہے جب آپ کرسیِ اقتدار پر متمکن تھے۔ آپ کے سامنے دو نمونے موجود ہیں کہ ایک سائل آیا مسجد میں اور اُس نے سوال کیا۔ حضرت ے بھوسی بھرا ہوا جَو کا آٹا، جو آپ نوش فرمارہے تھے، وہی اس کی طرف بڑھا دیا۔ اُس نے کہا :”اے بندئہ خدا! یہ تو میرے حلق سے نہیں اُترے گا“۔
آپ نے فرمایا: یہ مجھ کو دے دو، میں ہی اس کو کھاؤں گا۔ میرے پاس تو یہی ہے اور اگر اچھی غذا کی تلاش ہے تو حسن مجتبیٰ کے دروازے پر جاؤ، وہاں مہمانوں کیلئے غذائے لذیز موجود ہوگی“۔
توآپ سنا کرتے ہیں لیکن چونکہ ذکر علی ابن ابی طالب علیہما السلام میرے لئے اور آپ کیلئے بھی باعث ِثواب ہے ، لہٰذا بیان کرتا ہوں کہ وہ وہاں گیا اور فوراً اُس کیلئے کھانا آگیا۔وہاں کے معیارِ زندگی کے لحاظ سے وہ پر تکلف کھانا تھا۔ اس نے کھانا اس طرح کھایا کہ ایک نوالہ کھاتا ہے اور ایک رکھتا جاتا ہے۔ حضرت نے توجہ کی اور کہا کہ یہ کیا کررہے ہو؟اگر تمہارے ساتھ اہل و عیال ہیں تو یہاں کوئی ممانعت نہیں ہے، تم لیتے جانا۔ اُس نے کہا کہ میں اکیلاآیا ہوں مگر مسجد میں ایک سائل کو دیکھ کر آیا ہوں۔ ایک محتاج کو دیکھ آیا ہوں۔ میں نے سوال کیا تو وہ سخی تو ایسا تھا کہ جو اُس کے پاس تھا، وہ اُس نے اٹھا کر مجھے دے دیا مگر میں نے دیکھا تو بھوسی بھرا ہوا آٹا ہے جسے میں کھا ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ میں اُس کیلئے لئے جارہا ہوں۔
اس فقیر کیلئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ارے وہ فقیر نہیں ہیں، وہ تو مالک ِ دین و دنیا ہیں۔ہمارے والد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ایک ہی وقت میں دونوں نمونے موجود ہیں۔ اگر (معاذاللہ) یہ ترکِ اولیٰ بھی ہوتا تو امیرالموٴمنین کے علم و رضا کے ساتھ امام حسن علیہ السلام کے ہاں وہ غذائیں تیار کیوں ہوتیں اور آپ سائل کو وہاں کیوں بھیجتے؟اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی حکمِ شرعی
بحد ِ احتساب نہیں تھا بلکہ یہ آپ کا انفرادی عمل تھا، آپ کے موٴقف کے لحاظ سے۔
اسی لئے یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ بڑا نازک مرحلہ ہے کہ کہہ دیں کہ اتباع کرنا چاہئے، اتباع کرنا چاہئے۔کسی ایک معصوم کا نام لے دیا کہ اتباع کرنا چاہئے۔مثلاً کوئی ہنگامہ ہوا ، کہا کہ امام حسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔
یاد رکھئے!آنکھیں بند کرکے اتباع بھی نہیں کرنا چاہئے ، اس لئے کہ چودہ سیرتیں ہیں۔وہ سب محمد تھے۔اس لئے جس محل پر جس معصوم کی سیرت کا اتباع ضروری ہے، اس کیلئے بھی وہ نظر حقیقت شناس ہونی چاہئے جس کا اصطلاحی نام اجتہاد ہے کہ کس محل پر کس معصوم کی سیرت پر عمل ضروری ہے کیونکہ سیرتیں سب صحیح ہیں مگر ہر ایک ہر ایک محل کے لحاظ سے صحیح ہے۔ ہر ایک کے موٴقف کے لحاظ سے ٹھیک ہے۔ کسی ایک کو لے لینا اور ہر جگہ اسی کا حوالہ دے دینا ، یہ کُل کو جزو میں محدود کرنا ہے۔
غرض یہ کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا اچھا پہننا اللہ کو ناپسند نہیں ہے مگر پھر بھی کچھ پابندیاں عائد کردیں۔ خالص ریشم نہ ہو، آرائش کرو مگر سونا نہ پہنو،وہ بھی مردوں کیلئے۔ عورتوں کیلئے یہ حکم نہیں ہے۔اسی طرح ہمارا اچھا کھانا اُسے ناپسند نہیں ہے۔ اُس نے کہا ہے:
”تمہارے لئے سب طیبات حلال ہیں“۔
یہ اور بات کہ کسی کو حرام ہی میں مزہ ملے۔ ورنہ جو حلال غذائیں ہیں، ان میں ذائقے کی کمی نہیں ہے۔ اس میں لذیذ سے لذیذ تر غذائیں کھانے کا آپ کو حق ہے او ر کوئی الزا م نہیں، مکروہ نہیں ہوگا۔سوائے چند خاص چیزوں کے کہ جنہیں کہہ دیا کہ مکروہ ہیں۔یہ نہیں ہے کہ لذیذ کھانا مکروہ ہے۔ یہ کسی عالم نے نہیں کہا ہوگا۔پس ہمارا اچھا کھانا اُسے ناپسند نہیں ہے۔ پھر بھی کچھ پابندیاں ہیں۔ گوشت حلال ہے مگر ذبیحہ کا ہونا چاہئے، تب جائز ہوگا۔ یہ سب کیا ہے؟ سب چیزیں پسندیدہ ہیں۔ اللہ کو ناگوار نہیں ہیں مگر اس میں پابندیاں ہیں۔ یہ صرف اس لئے کہ تمہیں مطلق العنان ہونے کا احساس نہ ہو کہ جان ہماری ہے، مال ہمارا ہے۔ جو چاہیں کھائیں، جوچاہیں پئیں۔
ہر وقت ایک بالادست صاحب ِ اقتدار کا احساس ہونا چاہئے۔ اسلام نے اپنے حکیمانہ نظامِ شریعت کے لحاظ سے وہ مشکل کام انجام دیا کہ دنیا میں جو ہمیشہ متضاد چیزیں سمجھی گئیں، ان کو اکٹھا کردیا یعنی ہمیشہ جسم اور روح دو الگ الگ چیزیں سمجھی گئیں۔ہمیشہ جسمانی ترقی کو روحانی ترقی کے خلاف سمجھا گیا۔ روحانی ترقی ہے تو پھر جسم کے تقاضے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اسی کا ایک رُخ ہوگیا دنیا اور دین ، کہ دنیا و دین ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ یا دنیا کو لو یا آخرت کو لے لو۔یا دنیا کو لو یا دین کو لو۔ یہ تصور عام تھا لیکن اسلام نے اپنے حکیمانہ نظامِ شریعت کے لحاظ سے اس کو بدلا۔اس کا تقاضا یہ تھا کہ جب دو چیزیں الگ الگ ہوگئیں تو کچھ کے ماہر اور ہوئے اور کچھ کے ماہر اور ہوئے۔ ا س کے معنی یہ ہوئے کہ علومِ دنیا کے ماہر بالکل الگ ہوں گے اور علومِ دین کے ماہر بالکل الگ ہوں گے۔پھر حکومتیں بھی الگ الگ ہوگئیں۔ دنیاوی حکومت کے سربراہ اور ہوں گے، دینی حکومت کے سربراہ اور ہوں گے۔ عیسائیت میں رہبانیت تھی۔ لہٰذا وہاں کا وہ مقولہ بالکل صحیح کہ جو قیصر کا حق ہے، وہ قیصر کو دیتے ہیں، جو پوپ کا حق ہے، وہ پوپ کو دیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں شعبے الگ الگ ہیں۔ تو ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہوئے۔ اسلام نے دین و دنیا کو بالکل سمو کر ایک ایسا مزاجِ معتدل پیدا کیا جس کی وجہ سے معیارِ دین بالکل بدل گیا۔
دنیا میں ہر جگہ پیشہ کوئی اور ، اور مذہب کوئی اور یعنی ایک عیسائی ڈاکٹر ہے تو چھ دن تک ڈاکٹر ہے، ساتویں دن جب وہ گرجا جائے گا، تب معلوم ہوگا کہ عیسائی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے ڈاکٹر ہونے میں عیسائیت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ایک تاجر جب دوکان پر ہے تو اس وقت اس کے مذہب کا کوئی سوال نہیں۔ ہاں! جب وہ عبادت کیلئے جائے گا تو اس وقت مذہب کا سوال ہوگا۔
اسی طرح ان کی عبادت بس گرجا میں جاکر ہوگی، اپنے گھر میں نہیں ہوسکتی، نہ روز ہوسکتی ہے۔ جب گرجا پہنچیں گے تو وہاں عبادت کریں گے۔ وہاں پھر خدا کو یاد کریں گے۔ اسلامی نظام نے یہ کام کیا کہ خدا کو یاد کیا نہیں جاتا، بلکہ خدا کو یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم ڈاکٹر ہو تو بھی مسلمان ڈاکٹر ہو۔ اگر تم تاجر ہو تو تم کو مسلمان تاجر ہونا ہے۔ اگر تم کسی اور شعبہ کو اختیار کئے ہوئے ہو ، تو بھی تم کو مسلمان ہونا ہے۔
لہٰذا ہر شعبہ حیات میں یادِ الٰہی کارفرما ہوگئی۔ دیکھئے! روز مرہ کی زندگی میں کہ آپ بزاز کی دکان پر گئے اور اس سے کہا کہ اچھے سے اچھا کپڑا دکھاؤ۔ نئے ڈیزائن دکھاؤ، نئی وضع دکھاؤ۔ اس سے مطلب نہیں کہ خوشنما ہے یا بد نما ہے۔اس نے نئی وضع دکھانا شروع کی۔ اب تک جتنا کام ہورہا ہے، یہ مادّی ضرورت کیلئے یعنی تن آسانی کی خاطر۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن ادھر ایک کپڑا آیا اور اگر آپ پابند ِشرع ہیں اور آپ نے پوچھا کہ یہ خالص ریشم تو نہیں ہے؟ بس پتہ چل گیا کہ انسان اپنی تن پوشی کی راہ میں خالق کو نہیں بھولا ہے۔
اسی طرح بازار گئے، طرح طرح کی لذیذ غذائیں نظر آئیں۔ پوچھا کہ یہ ذبیحہ ہے؟ پتہ چل گیا کہ شکم پُری کی خاطر اللہ کو فراموش نہیں کیا جارہا۔ یہ تو روز مرہ کی بات ہے۔ اب ایک شعبہ ہے، جس کا مجھے تجربہ تو نہیں ہے مگر اندازہ تو ہے ہی کہ کچھ لوگوں کو شکار کا شوق ہوتا ہے۔ شکار پر گئے، شکار ملا، کتنی دوڑ دھوپ اور تگ و دَو کے بعد۔فوراً گئے، جاکر دیکھا کہ ارے یہ تو مرگیا۔تو اِدھر کہا کہ ارے یہ تو مر گیا، اس کے معنی یہ ہیں ضرورتِ مادّی کے اس تگ و دَو کے عالم میں بھی بندہ خدا کو نہیں بھولا۔
اور جناب! اب وہ ناقابلِ بیان مرحلہ،میرا تجربہ نہیں ہے اور یہ مقام منبر کا تقاضا بھی نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ایسی نفسانی خواہش جس کی تکمیل میں انسان اور حیوان میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کیلئے تمام شرائط حاصل اور تمام موانع ختم اور اس کے ساتھ تراضی طرفین حاصل، دونوں بالکل آمادہ لیکن فوراً احساس ہوتا ہے کہ جب تک خاص الفاظ زبان پر جاری نہ کریں، اس وقت تک ایک پردہ درمیان میں ہے۔ جب ایجاب و قبول کے صیغے جاری ہوں گے، تب جاکر یہ ہمارے لئے حلال ہے۔
بس معلوم ہوگیا کہ طوفانی خواہشات کے اس تموّج میں بھی بندہ خدا کو نہیں بھولا۔میں کہتا ہوں کہ ناجائز تعلقات بھی تو کبھی دائمی رہتے ہیں۔ عمر بھر ناجائز تعلقات رہے، کیا ایسا نہیں ہوتا؟ تو جو فرق دائمی ناجائز تعلقات میں اور عقد ِ دائمی میں ہے، وہی فرق عارضی ناجائز تعلقات اور عقد ِ عارضی میں ہے۔ اس کے وقتی ہونے سے خصوصیت نہیں پیدا ہوتی۔ فرق باضابطہ اور بے ضابطہ ہونے کا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے کو مطلق العنان نہ سمجھو۔یہ سمجھو کہ ہماری جان اصل میں کسی اور کی ہے اور ہمارا مال اصل میں کسی اور کا ہے۔
جس وقت ایمان اختیار کیا، اُسی وقت اقرار ہوگیا کہ اب ہمارا مال نہیں ہے اور ہماری جان ہماری نہیں ہے۔ اسی میں در حقیقت اسلامی سیاست بھی مضمر ہے۔ جس وقت ایمان لے آئے، اس وقت اقرار ہوگیا کہ اس کے مقابلہ میں نہ ہماری جان ہماری، نہ ہمارا مال ہمارا۔ تو اس کے اقتدار کے مقابلہ میں نہ شوریٰ کا حق رہا، نہ اجماع کا حق رہا۔اس لئے کہ شوریٰ میں چھ سات آدمی جمع ہوئے ، وہ سب کیا ہیں؟ ایمان لائے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اگرایمان لائے ہوئے نہیں ہیں تو ان کے شوریٰ کو معتبر نہیں سمجھتا، خواہ پانچ چھ ہوں ۔
اب عدد یہی یاد ہے کیونکہ تاریخ میں یہی آیا ہے۔ پس خواہ پانچ ہو یا چھ ہوں، سو دو سو ہوں، ہزار دو ہزار ہوں، دس ہزار ہوں۔ جتنی مردم شماری اس وقت کی کوئی سمجھے، اس کا نام اجماع ہو۔سوال یہ ہے کہ یہ سب ایمان رکھنے والے بحمدللہ، بہ اقرارِ خود سب موٴمن ہیں ورنہ مسلم ہی نہیں ہیں کیونکہ بغیر اقرارِ ایمان کوئی مسلمان بھی نہیں ہوتا۔ اگر مسلمان ہے تو مدعیِ ایمان ضرور ہے۔ جب مدعیِ ایمان ہے یعنی جماعت ہے
موٴمنین کی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت ایمان لائے تھے، اسی وقت اللہ کے مقابلہ میں بے اختیار ہوگئے تھے۔ بے اختیار با اختیار۔
با اختیار کیا ہے؟ ثبوتِ اختیار۔ بے اختیار کیا ہے؟نفی اختیار۔تو اب وہ دس ہزار ہوں یا دس لاکھ ہوں، دس کروڑ ہوں ، دس ارب ہوں، وہ سب بے اختیار، بے اختیار۔تو بے اختیاروں کے مجمع سے بااختیار کیونکر نکلے گا؟ اس کو معمولی ریاضی کے طالب علم حساب پڑھنے والے بچے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بڑے سے بڑا تختہ کاغذ کا ہو، اس پر جتنے زیرو بن سکتے ہیں، بنا دیجئے تو جو عدد بنے گا، وہ صفر ہی ہوگا۔
تو جناب! اپنی جان اپنی نہیں، اپنا مال اپنا نہیں۔ یہی فلسفہ قربانی ہے۔ اپنا نہیں ،اُس کا ہے تو اُس کی راہ میں خرچ ہونا چاہئے۔ اس لئے حقیقت میں ہر حکمِ شرع ایک حد تک قربانی کا مطالبہ ہے۔نماز جو ہم پڑھتے ہیں،اس میں بھی کچھ اپنے اوقات، کچھ اپنی مصروفیات او رکچھ اپنے مشاغل کی قربانی ہے۔ روزے میں کتنی خواہشوں کی قربانی ہے۔ اسی طرح زکوٰة میں کچھ مالی قربانی ہے اور حج میں تو ہر قسم کی قربانی ہے۔ مالی قربانی الگ، رکھ رکھاؤ اور وقار کی قربانی الگ۔ اپنی وضع قطع اور اپنے لباس کی قربانی الگ۔
معاف کریں آجکل کے نوجوان! بال بڑھانے پر کچھ لوگ بڑے ریاض کرتے ہیں، بڑی محنت کرتے ہیں۔ طرح طرح سے بناتے ہیں۔ حج کیا تو منیٰ میں جاکر فارغ البال ہونا پڑے گا۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی قربانیاں ہیں جن کا پوری زندگی مطالبہ ہے اور اگر انسان اسے پورا کررہا ہے تو وہ حقیقت میں قربانیاں پیش کررہا ہے۔ اگر محل شہادت نہیں آیا تو یہی قربانیاں اس کو پیش خدا بلند سے بلند مرتبے حاصل کروانے کیلئے کافی ہیں کیونکہ شہادت تو وابستہ ہے ایسے کچھ حالات سے جو سینکڑوں برس پیدا نہیں ہوتے اور اگر انسان نے شوقِ شہادت میں کوئی اپنی طرف سے ایسا کام کیا جو اُس کے خیال میں اس کے تقاضائے شہادت کو پیدا کرے تو یاد رکھئے کہ پھر وہ ہلاکت ہوگی، شہادت نہیں ہوگی۔
بڑا نازک مرحلہ ہے۔ شوقِ شہادت میں اگر کوئی غلط قدم اُٹھ گیا تو شہادت کی منزل دور ہوگئی، ہلاکت ِ ابدی رہ گئی۔ جان جب حقیقت میں اس کی دی ہوئی ہے تو جتنی قربانی جس وقت وہ چاہ رہا ہے، اتنی ہی کرو۔اگر اس سے زیادہ قربانی کرو گے تو وہ تو اپنے جی کی خاطر ہوگی۔ یعنی شوقِ شہادت میں قربانی پیش کررہے ہیں تو وہ تو آپ کے شوق کی راہ میں قربانی ہوئی، وہ اللہ کی خاطر تو نہیں ہوئی۔ تو شوقِ شہادت کوئی غلط قدم نہ اٹھوائے ورنہ پھر شہادت کی منزل بہت دور ہوجائے گی۔
مجھے یہ بات اس لئے کہنے کی ضرورت ہوئی کہ جب تک کوئی ہوا چلتی ہے، تو لوگ اندھا دھندقدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ایک لفظ چلا شوقِ شہادت کا۔ ہر جگہ اگر یہ ہوا چلنے لگی تو نہ جانے کتنے غلط قدم اٹھ جائیں گے۔ وہ بڑا خطرناک ہوگا۔ اس کی وجہ سے ہلاکت ِ ابدی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا بہت سمجھ بوجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شہادت کا مرحلہ اتنا آسان نہیں ہے۔ یاد رکھئے کہ خونریزی سے بہت لوگوں کو نفرت ہوگئی ہے۔ ارے خونریزی؟ میں کہتا ہوں کہ اگر معرکہ جہاد میں آنا ہے تو ہر آدمی کو قاتل ہونے کیلئے آنا چاہئے۔ اگر شوقِ شہادت میں کوئی کمی رہ گئی ، قاتل ہونے کی کوشش میں، تو پھر وہ ہلاکت ہوگی، شہادت نہیں ہوگی۔ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو تہہ تیغ کریں گے اور اگر ہم نے کوئی کمی کردی کہ بہت اچھا ہے کہ شہید ہوجائیں اوربہت بُرا ہوگا کہ شہید نہیں ہوں گے۔یہ بڑی سخت منزل ہے، اسی لئے ہر منزل پر ضرورت ہے زندہ رہنما کی۔