معراج خطابت
 
یقین کی آخری منزل
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”یَااَیَّتُھَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ فَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ“۔
سورئہ فجر کی آخری آیت ہے۔ ارشاد ہورہا ہے کہ اے اطمینان سے بھرے ہوئے نفس! پلٹ آ اپنے پروردگار کی طرف، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ تو داخل ہوجا میرے بندگانِ خاص میں اور میری بہشت میں داخل ہوجا۔
اطمینان کے مقابل چیز ہے اضطراب۔ ہم چونکہ ، جو ہر اطمینان سے ناشناس ہیں، اس لئے اطمینان کے تقاضوں کو ہم اتنا واضح طور پر بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن چونکہ اضطراب ہم کو درپیش ہواکرتے ہیں، اس لئے اضطراب کے تقاضوں کو ہم زیادہ واضح طور پر بیان کرسکتے ہیں اور چونکہ اطمینان اس کے مقابل چیز ہے، لہٰذا اضطراب کے تقاضوں کے تصور سے ہم اس کے مقابل کے اطمینان کے تقاضوں کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پر سکون حالات ہوں تو اضطراب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آرام ہے، آسائش ہے، کوئی خطرہ نہیں ہے، مصیبت درپیش نہیں ہے۔ کوئی اندیشہ فردا نہیں ہے۔ تو یہاں امتیاز ہی نہیں ہوسکتا کہ کون مضطرب ہے اور کون مطمئن۔اس لئے کہ سبب ِ اضطراب کوئی نہیں ہے۔ تو سب ہی مطمئن ہیں۔ جس طرح سے کہ صبر اور عدم صبر۔ صابر اور غیر صابر کا امتیاز ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ مصیبت نہ آئے۔ جب مصیبت آئے ہی نہیں تو ہر ایک کو صبر کا دعویٰ کرنے کا حق ہے۔ ہر ایک کہے کہ میں بھی میدانِ صبر میں کوئی پیچھے رہنے والا نہیں ہوں۔لیکن جب مصیبت آئے اور پھر آدمی صبر کرنے والا ثابت ہو اور پھر کوئی بے صبرا ثابت ہو، تب امتیاز ہوگا صابر اورغیر صابر میں۔
اسی طرح ہر میدان میں پیغمبر اسلام کو ، ہر غزوے میں بلا مزاحمت فتح ہی ہوتی چلی جائے تو سب مجاہدین برابر کے بہادر ہیں۔ جو حقیقی بہادر ہے، اس کا تعارف تو نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ کوئی کٹھن وقت آئے۔ ضرورت ہے کہ کوئی سخت حالات کا جھونکا ایسا چلے کہ جس میں فرض کیجئے سو میں سے پچاس کے قدم اکھڑ جائیں تو ان سو میں امتیاز ہوجائے گا۔ سو میں جو صابر ثابت ہوئے ہیں، سو میں سے پچاس۔اس طرح امتیاز ہوجائے گا کہ کون ثابت قدم اور کون غیر ثابت قدم۔
اب فرض کیجئے کہ علم الٰہی میں ان پچاس میں سے چند ہیں جو ثابت قدم ہیں ۔ تو ضرورت ہے کہ وقت زیادہ کٹھن ہوتاکہ ان میں جو ممتاز ہیں، وہ آنکھوں کے سامنے آجائیں اور اب بھی اگر دس بیس میں مشترک ہے ثباتِ قدم تو ان میں جو ممتا زہے، وہ ابھی پردے میں ہے۔ لہٰذا کچھ اور سختی وقت میں اضافہ ہو، تب ان میں سے بھی بہت سوں کے قدم اُکھڑ جائیں۔ یہاں تک کہ صفحہ میدان سادہ ہوجائے اور بس ایک فرد رہ جائے تو پتہ چلے گا کہ وہ فردِ فرید ہے۔ پھر ملک کو بھی کلمہ پڑھنا پڑے گا:
”لَافِتٰی اِلَّا عَلِیْ لَاسَیْف اِلَّا ذُوالْفِقَار“۔
اسی طرح اضطراب اور اطمینان میں فرق کیسے ہوسکتا ہے! اگر بالکل متوازی حالات رہیں اور بالکل ہی خوشگوار ماحول ہو اور کوئی وجہِ اضطراب نہ ہو تو اطمینان کا سوال ہی نہیں۔ اطمینان تو اُسی وقت نمایاں ہوسکتا ہے جب اسبابِ اضطراب ہوں اور کوئی مضطرب نہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اندھا ہونا صرف بصارت نہ ہونے کا نام ہے تو یہ دیوار کیوں اندھی نہیں کہلواتی۔ دیوار میں بھی تو بصارت نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اندھا ہونا صرف بصارت نہ ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایسا جس میں بصارت ہو، ہونا چاہئے اور پھر بصارت نہ ہو، تب وہ اندھا ہے۔ ویسے ہی اگر پر سکون حالات ہیں، اس وقت تو سب ہی ٹھہرے ہوئے ہیں، پرسکون ہیں۔ سب ہی کے دل قرار کے ساتھ ہیں۔ کسی کا دل پریشان نہیں ہے۔ اس وقت کہاں پتہ چلے گا کہ کون مطمئن ہے۔نہیں! جس وقت میں کہ ایسے حالات ہوں کہ جن کی وجہ سے اضطراب ہونا چاہئے او رپھر کسی میں اضطراب نہ ہو تو پتہ چلے گا کہ وہ مطمئن ہے۔
اب اضطراب کے تقاضے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں۔ اسی سے سمجھئے گا کہ جو مطمئن ہوگا، اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ایک پریشانی کی منزل آئی یعنی مشکلات درپیش ہوئیں اور انسان نے سوچنا شروع کیا کہ یہ جو مشکلات درپیش ہوئیں تو کیا کرنا چاہئے؟ اگر ایک دو دن میں، ہفتہ دو ہفتہ میں کچھ سمجھ میں آگیا تو خیر اور اگر سمجھ میں نہ آیا تو کچھ ہمدرد جن کی عقل اور سوچ پر بھی بھروسہ ہے، ان کو جمع کیا، ان کے سامنے اپنی مشکل پیش کی اور ان سے کہا کہ آپ افراد میرے ہمدرد بھی ہیں اور صاحبانِ عقل و ہوش بھی ہیں، آپ بتائیے کہ اس مشکل کا کیا حل ہے؟کیا صورتِ عمل اختیار کی جائے؟
یہ دوسری منزل ہے جو اضطراب کی صورت میں طے کی جائے گی۔ اب فرض کیجئے کہ انہوں نے کوئی رائے دی اور وہ مشکل ابھی حل نہیں ہوئی ہے تو نیند اُڑی ہوئی ہے، سو نہیں سکتے۔ رات جاگ کر بسر ہورہی ہے۔ یہ تیسری علامت ِ اضطراب ہے۔ وہ سوچ میں وقت گزارنا پہلی علامت ِ اضطراب تھی۔ دوسری علامت ِ اضطراب کچھ لوگوں کو بلا کر مشورہ کرنا کہ کیا کرنا چاہئے۔ یہ تیسری منزل ہے کہ جب مصیبت آگئی تو راتوں کونیند اُڑ گئی۔ اب ایک ایک سے اپنی مصیبت بیان کررہے ہیں ۔ شاید کہیں سے کوئی روشنی کی کرن آجائے اور کوئی کسی طرح کی مدد دے سکے۔ یہ اضطراب ہر ایک محسوس کرسکتا ہے۔ اب اگر ماحول ایسا ہے کہ جس میں اضطراب ہونا چاہئے اور چونکہ ہماری طبیعت میں اضطراب ہے، تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ محلِ اضطراب ہے اور پھر کوئی مطمئن نظر آئے، مطمئن نظر آئے یعنی یہ باتیں نہ کرے۔ اسے سوچنے کیلئے مہلت کی ضرورت نہ ہو بلکہ بغیر زحمت ِتفکرکے راہِ عمل متعین ہو، معلوم ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ذہن ایک جادے پر مطمئن ہے۔ تزلزل اُسے ہو جسے احساسِ فرض میں تردد ہو اور جسے ایک فرض ادا کرنا ہے، اُسے پھر تردد میں وقت گزارنا کیسا؟
تو وہ کوئی وقت تردد میں نہیں گزارے گا کہ کیا کریں۔ معلوم ہے کہ یہ کرنا چاہئے۔ تو اب وقت کی ضرورت کیا ہے؟ اس فکر میں کہ کیا کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوا، معلوم ہوا کہ یہ مطمئن نہ تھا۔ اچھا صاحب! دوسری منزل کہ خود سمجھ میں نہیں آیاتو ہمدردوں سے مشورہ لیا۔ دیکھا کہ نہیں، یہ شخص تودوسروں سے مشورہ بھی نہیں لیتا کیونکہ مشورہ وہ لے جسے اپنے زاویہٴ نظر کی حقانیت میں شک ہو اور جب اسے معلوم ہے کہ مجھے کیا راستہ اختیار کرناچاہئے تو وہ دوسروں سے مشورہ کیوں لے؟ اور اگر کچھ لوگ بنظر ہمدردی یا مظاہرئہ ہمدردی کیلئے رضاکارانہ طور پر از خود آکر مشورے دیں تو وہ ان مشوروں پر عمل بھی نہ کرے۔ چاہے دنیا مدتوں تک کہتی پھرے کہ بڑا ضدی آدمی تھا کہ بس جو طے کرلیا، وہ کیا۔ حالانکہ فلاں نے یہ مشورہ دیا تھا، فلاں نے یہ مشورہ دیا۔ایسے ایسے صاحبانِ عقل اور ہمدر ، انہوں نے یہ مشورے دئیے اور انہوں نے عمل نہ کیا تو حضور! وہ ان مشوروں پر عمل اُس وقت کرتا جب اُسے اپنے موٴقف کی حقانیت پر شک ہوتا۔
مشورے دیا کریں لوگ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ احساسِ اضطراب کررہے ہیں جو مشورے دے رہے ہیں اور جو مشورہ نہیں لے رہا، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اطمینان سے بھرا ہوا ہے۔ اس کو اضطراب ہے ہی نہیں کہ وہ مشورہ لے اور یہ مشورے دے رہے ہیں۔ تو بربنائے تخیل اضطراب دے رہے ہیں۔تو وہ ان مشوروں پر عمل کیوں کرے؟
اب ظاہر ہے کہ مشورے نہیں لئے اس نے تو اس سے متعلق کیا ہر ایک شخص دوسرے سے شکوہ نہیں کرے گا؟ ایک دوسرے سے دکھڑا نہیں روئے گا؟ ایک دوسرے سے اس مصیبت کا تذکرہ نہیں کرے گا کہ یہ مصیبت آئی ہے اور دیکھو کتنی مشکل مجھے پیش آگئی ہے ۔ اب یہ کردار وہ ہوگا جس کو ہم نے اضطراب کے تقاضوں کی بناء پر پہلے سمجھ لیا تھا۔اب ہم یہ سمجھے کہ یہ اطمینان کے تقاضے ہیں۔ بس اب جبکہ آپ کے سامنے اضطراب کے تقاضے پیش کرچکا اور اس کے مقابل اطمینان کے تقاضے تو ب دو مواقع پیش کرتا ہوں۔ ایک موقع کو سمجھ لیجئے فضائل اور ایک موقع تمہید ہوگا مصائب کی۔
پہلا موقع تو یہ ہے کہ ایک مشاورتی اجتماع ہوتا ہے اور اس میں طے ہوجاتا ہے کہ اس مقرر کردہ رات کو پیغمبر خدا کی شمعِ زندگی کو خاموش کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب مجلس مشاورت تھی تو طرح طرح کی آراء دی گئیں۔ کسی نے یہ کہا کہ مشکل ہی کیا ہے، قتل کردیا جائے۔ تو کسی دوسرے صاحب ِفکر نے کہاکہ بنی ہاشم کی تلوار معلوم ہے؟ مدتوں خون کا بدلہ لینے میں سلسلہ جدال و قتال جاری رہے گا۔ لہٰذا گویا یہ رائے مسترد کردی گئی۔اس نے کہا کہ چلو قتل نہ کروکہ بدلہ لینے کیلئے سلسلہ جنگ شروع ہوجائے گا۔قید کردیا جائے، بند کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنی ہاشم چھڑواکر لے جائیں گے، یعنی بنی ہاشم سے لوگ پہلے سے متاثر تھے تو پھر کیا کیا جائے؟ایک بہت ہی لال بھجکڑ قسم کا آدمی کوئی تھا، جسے اس وقت تک لوگ پہچانتے بھی نہیں تھے، وہ کھڑا ہوا، تاریخوں میں یہ ہے کہ وہ ایک نجدی بوڑھا تھا۔ ایک شیخ نجد تھا۔ موٴرخین چونکہ اسلام کے موٴرخین ہیں، وہ کہتے ہیں کہ شیطان اس لباس میں آیا تھا۔ یعنی شیطان کو بھی حلیہ یہی پسند تھا۔ بہرحال شیطان آیا ہو یا واقعی وہ شیخ نجد ہو، اُس نے جو رائے پیش کی، وہ پاس ہوئی۔
دو مواقع تاریخ میں ایسے ملتے ہیں جسے لوگ شیطان کے سر منڈھتے ہیں۔ ایک تو یہ جس نے یہ رائے دی ، کہتے ہیں کہ شیطان تھا جو اس شکل میں آیا تھا اور ایک اُحد میں جس نے آواز بلند کی تھی کہ رسول قتل ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ شیطان نے یہ آواز بلند کی تھی۔میں کہتا ہوں کہ جو ویسا کام کرے یا ایسی غلط آواز بلند کرے، وہ شیطان ہوا۔ بہرحال شیخ نجدی نے یا انسان نما شیطان نے یہ رائے پیش کی کہ کیوں کہتے ہو کہ بنی ہاشم بدلہ لیں گے۔ میں ترکیب بتاتا ہوں۔ مخالف تو بہت سے ہیں نا۔سبھی مخالف ہیں سوائے بنی ہاشم کے۔ ہر قبیلہ کا ایک نمائندہ چنو اور ایک ایک آدمی جب ہر قبیلہ کا لے لو گے تو خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا۔ تو بنی ہاشم کس کس سے مقابلہ کریں گے؟یعنی اُس نے یہ
اصول سب سے پہلے پیش کیا کہ بہت سے نمائندے مل کر اگر کوئی جرم کریں تو پھر وہ جرم ہلکا ہوجاتا ہے۔ جرم ، جرم ہی نہیں رہتا۔یہ رائے پاس ہوگئی ۔ کیا کہنا، واہ واہ۔سب کچھ طے ہوگیا۔
قرآن مجید نے اُسے ”کید“ سے تعبیر کیا ہے کہ انہوں نے اپنا منصوبہ بنایا ۔ وہ سب اسی جماعت کے لوگ تھے ، یہاں کا مخبر تو کوئی نہیں تھا۔ وہ رات قریب آگئی اور ان لوگوں نے پورا بندوبست کیا تھاکہ وہ راز باہر نہ جائے۔ مگر قدرت کی لاسلکی اور لاسلکی نہیں، تو جو اس کی طرف کا قاصد ہے یعنی ملک آیا پیغمبر خدا کے پاس اور ان کا پورا منصوبہ آپ کو بتایا کہ آج رات کو آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے تمام لوگ آئیں گے اور گھر کو گھیر لیں گے۔اس کے بعد اس منصوبہ کا توڑ جس کو بلاغت ِقرآنی نے اسی لفظ سے تعبیر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی ترکیب کی اور ہم نے اپنی ترکیب کی۔ جو لفظ ادھر صرف کیا گیا، وہی اپنی طرف صرف کیا ہے کہ انہوں نے :
”مَکَرُوْامَکْرًاوَمَکَرْنَامَکْرًا“۔
انہوں نے ایک ترکیب کی اور ہم نے اپنی ترکیب کی۔ تو جو کسی چیز کا توڑ ہو، وہ اسی لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ اصولِ بلاغت ہے۔ اب خالق نے کیا ترکیب کی اور ترکیب کا لفظ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک خفیہ شکل ہو کہ جس کو دوسرا محسوس نہ کرسکے۔اسی کو ”کید“ یا مکر سے قرآن میں تعبیر کیاجاتا ہے۔
خالق نے کیا ترکیب کی؟ ارشاد ہوا کہ اب ہم آپ کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ آپ چلے جائیے اور یہ ہمارا ذمہ ہے کہ آپ کے جانے کی ان کو خبر نہیں ہوگی۔ یہ بات ہمارے ذمہ ہے ، آپ چلے جائیے۔ مگر اپنے بستر پر علی کو سلاجائیے۔متفق علیہ ہے، ہر جگہ قول مل جاتا ہے کہ وہ نہیں وہ۔ مگر یہاں دنیائے تاریخ سنسان ہے۔ یہاں بس ایک ہی نام ہے۔ جو فرشتے نے نام لیا، وہی ہر موٴرخ نام لے گا کہ علی کو اپنے بستر پر سلاجائیے۔ ترکیب قدرت کی طرف کی یہ ہے کہ رات بھر وہ سمجھتے رہیں کہ رسول بستر پر ہیں اور اب اس نے ایک ذات کو منتخب کیا کہ ذات ایسی ہو جس پر رسول ہونے کا دھوکہ ہوسکتا ہو۔
جناب! یہ تو پیغام خدا کی طرف سے پیغمبر خدا تک پہنچا۔ ان کو اگر خود عمل کرنا ہوتا تو کسی سے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔ مگر اس ہدایت کا جزو ایک دوسری شخصیت سے متعلق ہے۔ لہٰذا دوسری شخصیت کو بلانا لازمی تھا۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام بلائے گئے او رجو صورتِ واقعہ تھی، وہ بیان کی گئی کہ خالق کی طرف سے یہ اطلاع آئی ہے کہ گھیرا جائے گا یعنی مکان کا محاصرہ ہوگا، میرے قتل کے ارادہ سے، اور خالق کی ہدایت پر میں چلاجاؤں گا اور تمہیں اپنے بستر پر لٹاجاؤں گا۔ اب ہر دل و دماغ رکھنے والا آدمی غور کرے کہ یہ منزلِ تقاضائے اضطراب ہے یا نہیں؟ یہ صورتِ حال ایک عام انسان کیلئے اضطراب پیدا کرنے والی ہے یا نہیں؟ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ بڑا سخت محلِ اضطراب ہے۔
اب ایک لفظ میں اس محلِ اضطراب کوواضح کردوں کہ علی عام حالت والے علی ہوتے تو اتنے سخت خطرہ میں نہیں تھے جتنے رسول بن کر لیٹنے میں خطرہ میں ہیں۔
ہم نے دنیا میں بھیس بدلتے ہوئے دیکھے ہیں مگر عموماً وہ بھیس بدلا جاتا ہے جو خطرہ سے دور ہو۔ یہ نیا بھیس بدلنا دیکھا کہ جس کے قتل کا منصوبہ ہے، اس کی چادر اوڑھی جائے۔ یہی کہہ دیتے کہ بستر پر لیٹ رہو مگر کھلے بندوں کہ ہر ایک دیکھ سکے کہ کون ہے؟ ارے لیٹو اور چادرِ رسول اوڑھو اور بستر رسول پر لیٹو۔ رسول نما ہوکر لیٹو۔
تو کتنا صبر آزما ہے۔ پھر یہ صبر آزما تو عام لفظ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اطمینان آزما محل ہے۔ اب اضطراب کے تقاضے تو عرض کرچکا۔ اتنی اہم اور خطرناک منزل ۔ مجھے ملے کسی غلط سے غلط تاریخ میں۔ کسی دمشق کے کارکانے کی صحیح ڈھلی ہوئی ۔ اگرچہ دعویٰ ذرا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہر غلط سے غلط بات خرمن احادیث میں مل جاتی ہے اور بنامِ صحاح ملتی ہے۔ مگر بعض جگہ سچائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ جھوٹ کو قدم رکھنے کا موقع نہیں ملتا۔
تو صاحب!کوئی غلط سے غلط روایت نہیں ملتی کہ انہوں نے یہ سن کر کہا ہو کہ مجھے کچھ مہلت دیجئے سوچنے کیلئے۔ انکار نہ کرتے مگر کچھ مدت تو مانگتے، کچھ مہلت تو طلب کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سوچنے کیلئے ہی سہی ، مہلت طلب نہ کی۔ پھر اگر مہلت مل بھی جاتی تو پہلے خود سوچتے، پھر اس کے بعد یہ کوئی یکہ و تنہا اپنے گھر کے آدمی نہیں تھے، تین بھائی ان سے بڑے تھے اور ان سب میں دس دس برس کا فاصلہ۔ آپ سے دس برس بڑے عقیل۔ عقیل سے دس برس بڑے جعفر او رجعفر سے دس برس بڑے طالب، جن کے نام پر کنیت ہوئی ابوطالب۔ وہ سب میں بڑے۔ اب آپ عمر کا حساب کیجئے کہ یہ جب چوتھے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ طالب تو پیغمبر خدا کے ہم عصر تھے۔ یعنی بوقت ِ بعثت حضورکی عمر چالیس برس اور طالب کی عمر بھی چالیس ہی برس ہوسکتی ہے۔ ان سے چھوٹے جعفر رسول سے دس برس چھوٹے، ان سے چھوٹے عقیل ، رسول سے بیس برس چھوٹے، ان سے چھوٹے علی ، رسول سے تیس برس چھوٹے۔
تیس برس پر ایک واقعہ یاد آگیاکہ جب پیغمبر خدا کی ولادت ہوئی، جنابِ آمنہ بنت وہب آپ کی والدہ ہیں تو جنابِ فاطمہ بنت اسد موجود تھیں۔ عموماً ایسے مواقع پر خاندان کی بزرگ جوخواتین ہیں، وہ آجاتی ہیں۔ ولادت کے بعد جنابِ ابوطالب کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا کہ آمنہ کہ ہاں ایسا بیٹا پیدا ہوا۔ جو شروع سے شکل و شمائل سے اندازہ ہوتا تھا ، وہ بتایاکہ آمنہ کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ یہ ہمارے ہاں کافی کلینی کی روایت ہے جو عرض کررہا ہوں کہ جنابِ ابوطالب نے فرمایا: تیس برس اور صبر کرو تو ایسے ہی بچے کی میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں۔ اسی لئے آجکل کی متمدن دنیا میں لوگ اولاد کی تعداد کو محدود بنانا چاہتے ہیں۔ ہر ملک میں تمدن کی نشانی یہ ہے کہ اولاد کی تعداد کو محدود بنایا جائے۔ہمارے ہاں ایک وقت میں دیواروں پر لکھاہوتا تھا کہ ایک گھر میں تین بچے اچھے۔ اس کے بعد وہ مٹ گیا اور یہ نکلا کہ ہم دو ہمارے دو۔بہت خوبصورت جملہ ہے ، ہم دو ہمارے دو۔
میں نے کہا کہ بس ! اس کے بعد منزلِ توحید ہے۔ یہ ہوگیا کہ تین سے بات چلی اور دو تک پہنچی۔ اس کے بعد ایک کی نوبت نہیں آئی کیونکہ ایک تک تو دنیا بہت دیر میں پہنچتی ہے۔اب مَیں حقیقت ِتاریخی کی بناء پر عرض کرتا ہوں کہ یہ چوتھے فرزند ماں باپ کے، اور جو یہ ہیں، وہ کوئی قبل والا نہیں ہے۔ سب سے چھوٹے ہیں مگر فردِ اکمل یہی، یعنی حاصلِ حیاتِ ابو طالب وہی ہیں جو اپنے ماں باپ کی چوتھی اولاد ہیں۔ تو دنیا اگر اس نظامِ تمدن پر چلتی ہوتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا فردِ اکمل کے فیض سے محروم رہ جاتی۔یہ مشاہدہ سب سے بڑی دلیل ہے اس فلسفے کے بطلان کی۔ یعنی اس فلسفے نے یہ طے کیا ہے کہ قبل والے افراد کارآمد ہیں اور بعد والے بیکار ہیں۔ جب ہمارے سامنے یہ ہے کہ
اصل کام کا وہی آخری فرد ہے جس کو آنے سے آپ نے روک دیا، اپنے منصوبہ کی بناء پر تو ہم اس کی حقانیت پر کیونکر ایمان لائیں۔
غرض یہ کہ اتنے بھائی ، سب سے بڑے طالب، ان سے چھوٹے جعفر، ان سے چھوٹے عقیل۔ تو کسی اور سے رائے نہ لیتے، اپنے بھائیوں سے تو جمع کرکے رائے لیتے کہ یہ پیغام مجھے ملا ہے، آپ حضرات کی کیا رائے ہے؟ مگریہ وہ کرتا جو مضطرب نفس رکھتا ہو۔اس سے ہم واقف ہیں ، اس کا تقاضا یہ ہے ۔ مگر یہاں ایک لمحے کی مہلت طلب نہیں کی جاتی۔ جب مہلت طلب نہیں کی جاتی تو نہ خود سوچنے کا سوال اور نہ رائے اور مشورہ کا سوال۔ بس جواب دینے سے پہلے ایک سوال کئے دیتے ہیں اور وہ سوال یہ ہے کہ میرے بستر پر سورہنے سے حضور کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ پیغمبر خدا فرماتے ہیں کہ ہاں! خدا نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ انہوں نے یہ سوال کیوں کیا؟ مجھے تو اس حقیقت کے اظہار کیلئے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ بس اپنی جان کی قیمت پوچھ رہے ہیں۔پیغمبر خدا نے جب فرمادیا کہ ہاں! مجھ سے حفاظت کا وعدہ ہوا ہے۔ انہوں نے نہ اپنے لئے پوچھا تھا، نہ انہوں نے ان کیلئے بتایا۔انہوں نے ان کیلئے پوچھا تھا کہ آپ کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ اور انہو ں نے اپنے لئے فرمادیا کہ مجھ سے حفاظت کا وعدہ ہواہے۔ بس یہ سننا تھا کہ سر سجدئہ خالق میں رکھ دیا۔
شاہ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں ، مدارج النبوة فارسی زبان میں ہے،اس میں تحریر فرماتے ہیں کہ دنیا میں یہ سب سے پہلا سجدئہ شکر ہے جو اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے کیا تھااور شریعت ِ اسلام میں سجدئہ شکر جزوِ مسنون ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ عمل ہیں جو بلند افرا دکے کردار سے جزوِ شریعت ہو گئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پہلا سجدئہ شکر انہوں نے کیا۔ محدث دہلوی لکھ رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ یہ شریعت میں جزوِ مسنون ہے۔ تو دو پہلو ا س کے پیش کئے دیتا ہوں۔ یا تو یہ کہ لوحِ محفوظ میں یہ پہلے سے شریعت کا جزو تھا اور مانئے کہ علی قبل از نزولِ قرآن دیکھ رہے تھے اور یا یہ مانئے کہ دیگر احکام قرآنِ صامت کے حکم سے ہیں اور یہ حکم قرانِ ناطق کے حکم سے ہے۔
بہرکیف علی علیہ السلام کے کردار میں اضطراب کا پہلو نظر نہیں آیا، نہ سوچنے کیلئے وقت کی مہلت مانگی، نہ عزیزوں اور ہمدردوں سے مشورہ کیا۔ باپ بے شک اس وقت نہیں تھے لیکن تین بھائی بڑے اور ایک ان میں سے باپ کے برابر عمر رکھتے ہیں۔ وہ موجود تھے لیکن کسی سے رائے نہیں لی گئی۔ معلوم ہوا کہ نفس مطمئن ہے۔
اب بستر پر لیٹ گئے۔ذرا غور کیجئے کہ بستر پر لیٹے تو اضطراب کا تقاضا یہ ہے کہ نیند اُڑجائے۔ ہمارے نزدیک اضطراب کے علاوہ اور بھی بہت سے اسباب ہیں نیند کے اُڑنے کے۔ جسے رات کو کبھی سونے کی عادت نہ ہو، کوئی کسی عبادت کا ذوق رکھتا ہواور وہ مجبوری سے اُسے انجام نہ دے سکے تو اُسے قلق ہوتا ہے، اضطراب ہوتا ہے، بے چینی ہوتی ہے جس کی وجہ سے نہ سو سکے۔ فرض کیجئے کہ اس وقت کوئی صاحب مجلس میں آنے کا ارادہ رکھتے ہوں اور بر وقت کوئی رکاوٹ ایسی پیدا ہوجائے کہ وہ نہ آسکیں تو یہ بستر پر بار بار یاد آئے گا کہ دیکھو! میں مجلس میں جانا چاہتا تھا مگر نہیں جاسکا۔
ان کی پوری رات محرابِ عبادت میں گزرتی تھی، جاگ کر بسر ہوتی تھی۔ رات کو سونا کہاں تھا او رپھر ذوقِ عبادت ان کا۔ رات بھر ان کو تصور رہنا چاہئے تھا کہ اب میں نماز پڑھتا ہوتا، اب میں تہجد پڑھتا ہوتا۔ اب میں فلاں عبادت کرتا ہوتا۔ آج فرض کے شکنجے کی زنجیر یں ڈال کر مجھے لٹا دیا گیا ۔ تو انہیں نفسیاتی طور پر قلق ایسا ہونا چاہئے تھا کہ نیند اُڑے گی۔ا س قلق اور اضطرا ب کو وہ محسوس کرے گا جس کی عبادت بربنائے عادت ہو اور جو حقیقت ِعبادت سے واقف ہو۔اُسے قلق نہیں ہوگا کہ جس کے کہنے سے روز عبادت کرتا تھا، اُسی کے کہنے سے تو آج لیٹا ہوں۔
لیکن حکم لیٹنے کا تھا، سونے کا نہیں تھا۔ رسول نے فرمایا تھا کہ حکم خدا یہ ہے کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ۔ حکم لیٹنے کا تھا، سونے کا نہیں تھا اور عقلاً ہو بھی نہیں سکتا ، اس لئے کہ تکالیف ِشریعہ اور احکام افعالِ اختیاری سے متعلق ہوتے ہیں۔آدمی کے اختیار میں لیٹناہے، سونانہیں ہے۔تو عقلاً حکم لیٹنے ہی کا ہوسکتا ہے، سونے کا نہیں ہوسکتا۔ مگر خود فرمایا ہے کہ جیسی گہری نیند شب ِ ہجرت سویا، ایسی کبھی نہیں سویا تھا۔
گہری نیند کیوں آئی؟ حکم فقط لیٹنے کا ہے، سونے کا نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سونا نہ سونا نفس کی کیفیت سے متعلق ہے۔ اگر نفس مضطرب ہوتا تو جاگ کے رات کٹتی بلکہ شاید رو کر کٹتی مگر یہ نفس مطمئن ہے۔
بہرحال اطمینان سے سوتے رہے اور بربنائے روایت بھی میں کہتا ہوں کہ ہمارے لئے تو ان کا کہہ دینا کافی ہے اور اصولِ عقلی کے اعتبار سے ایسی بات جو خود انسان کے بیان سے معلوم ہوسکے، اس میں اس کا بیان معتبر ہے۔ وہاں گواہیاں بھی نہیں ہوتیں۔ گواہ لیٹنا دیکھ سکتے ہیں، سونا نہیں دیکھ سکتے۔ تو جو چیز خود آدمی ہی کے بیان سے ظاہر ہو، اس میں اس کا بیان مستند ہے۔ اس میں گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ تو ہمارے لئے ان کا کہہ دینا کافی ہے کہ میں شب ِ ہجرت جیسی گہری نیند سویا، کبھی نہیں سویا۔ مگربربنائے واقعہ ہر صاحب ِفہم کومیں دعوت دیتا ہوں کہ درایتاً غور کرے کہ یہ سو رہے تھے یا نہیں؟
حضور! عرب کی نیچی نیچی دیواریں ، لٹکتے ہوئے نیزے، کھنچی ہوئی تلواریں، آپس میں چرچے ہورہے ہیں کہ ابھی حملہ کردیں یا انتظا رکریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ابولہب بھی تھا محاصرین میں۔اُس نے یہ کہا کہ یہ بھاگ نہیں سکتے، صبح ہونے دو، صبح کو حملہ کرنا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دیواریں اتنی نیچی تھیں کہ ان کے آنے میں وہ سد ِ راہ نہیں تھیں۔ صبح کو جب چاہا ، آگئے چھلانگیں لگا کر۔کسی نے جاکر دروازہ تو نہیں کھولا تھا۔ تو چرچے ہورہے ہیں کہ جائیں یا نہ جائیں۔ رات گزر رہی ہے۔ اب ہر صاحب ِعقل غو رکرے کہ اگر نفس مضطرب ہوتا تو رات بھی راز راز ہی نہیں رہ سکتا تھا۔ بار بار چادر اُلٹ کر دیکھتا کہ آتو نہیں رہے، آتو نہیں رہے۔یہ رات بھر راز رہنا بتاتا ہے کہ یہ تو سورہے تھے۔ان کو اس سے مطلب ہی نہیں تھا کہ آرہے ہیں یا نہیں آرہے۔
میں ایک عام مثل دہراتا ہوں ، یہ سنجیدہ آدمی نہیں بولتے ہیں۔ہوسکتا تھا کہ میں شاید بالائے منبر ا س مثل کو استعمال نہ کروں مگر مجھے یہاں مطلب اسی سے ہے۔ چونکہ مثل کے اندر ایک حقیقت مضمر ہوتی ہے، اس لئے پست سہی مگر میرے کام کی وہی ہے۔ میں گہری نیند کا فلسفہ بتانا چاہتا ہوں جو انہوں نے فرمایا۔ جیسی گہری نیند سویا، حضور! مثل مشہور ہے کہ جب گہری نیند کسی کو آئے تو کہتے ہیں کہ گھوڑے بیچ کر سوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جو گھوڑے بیچ کر سوئے، وہ تو گہری نیند سوئے گا او رجو جان بیچ کر سوئے؟
معلوم ہوا کہ ان کے کردار نے بتایا کہ یہ ہے نفس مطمئن۔اب یہ باپ کا اطمینانِ نفس ہے اور بیٹے کی منزل آئی اور اس کے سامنے مرحلہ یہ درپیش ہے کہ یزید طلبگارِ بیعت ہے۔ بیعت نہ کرنے کے نتائج ہر صاحب ِعقل کے سامنے ہیں۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ بیعت نہ کرنے کے نتائج کیاہوسکتے ہیں؟ اب یہ مشکل منزل ہے یا نہیں؟
تو جو اضطراب کے تقاضے وہاں بتلاچکا ہوں، وہی یہاں بھی ہیں کہ پیغام ملا تو کوئی روایت نہیں بتاتی کہ انہوں نے ہمدردوں کو جمع کیا ہو۔ بھی ہاشم جن سے ہم کربلا میں متعارف ہیں۔ اسی وقت تو ان کے علاوہ بھی بہت سے افراد موجود ہیں ۔ جنابِ محمد حنفیہ ہیں، جنابِ عبداللہ ابن عباس ہیں جو انتہائی مدبر ہیں۔ بہت ہی صاحب ِ ہوش و خرد اور ہوشیار مانے جاتے تھے۔ لوگ ان کو بلاتے تھے اور مشورہ لیتے تھے۔مگر کوئی روایت نہیں بتاتی کہ ان لوگوں کو بلا کر ان سے مشورہ لیا ہو کہ کیا کرنا چاہئے۔ ارے جبکہ سمجھے ہوئے ہیں کہ بیعت ِ یزید میرے لئے ناروا ہے تو پھر مشورہ کیوں لیتے؟
لوگوں نے آآکر بنظر ہمدردی مشورے دئیے، کچھ نمائشی ہمدرد، کچھ حقیقی ہمدرد۔ مگر مصلحت ِ امام سے بے خبر۔ جنابِ عبداللہ ابن عمر نے بھی مشورہ دیا اور عبداللہ ابن مطیع، جو جنابِ مختار کے نکلنے کے وقت کوفے کے گورنر تھے، ان سب نے مشورہ دیا۔ آج ان مشوروں کو پیش کیاجاتا ہے اور انہوں نے کسی مشورے پر عمل نہیں کیا۔ کچھ لوگ جو چاہتے ہیں کہ الزام ہم عائد نہ کریں، وہ تقدیر کے سپرد کرتے ہیں۔بڑ ے بڑے ممتاز اہل قلم لکھتے ہیں کہ وہ تو مشیت کا فیصلہ تھا یعنی صحیح تو یہی لوگ کہتے تھے مگر کیا کیا جائے کہ تقدیر میں یہی تھا۔مشیت اسی کی متقاضی تھی۔ کچھ لوگ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ بڑی ضد تھی اور بڑی کد تھی۔اتنے ہمدردوں کا مشورہ تھا اور اس کا نہ مانا مگر میں اب پوری ذمہ داری کے ساتھ ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہتا ہوں کہ جتنے مشورے آپ لوگ پیش کررہے ہیں، ان سب مشوروں کو لائیے اور میرے سامنے پڑھئے کہ کیا کیا مشورہ کس کس نے دیا ۔ تو جتنے مشورے تھے، وہ یہ کہ یہاں سے جارہے ہیں آپ تو عراق نہ جائیے، طائف چلے جائیے، یمن چلے جائیے او رکسی دوسری جگہ چلے جائیے۔ جبل طے، طے کے پہاڑوں پر مشورہ دیا گیا کہ جائیے۔ بڑے مشہور قلعے ہیں، آپ کی حفاظت ہمارا قبیلہ کرے گا۔یہ مشورے کہ آپ جاتے ہیں تو بچوں اور عورتوں کو کیوں لئے جاتے ہیں؟یہ ہیں مشورے ان لوگوں کے مگر کسی مشورہ دینے والے نے یہ نہیں کہا ہے کہ یزید کی بیعت کرلیجئے۔
یہ پورے مطالعہ کی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کسی کا یہ مشورہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہتا کہ آپ یزید کی بیعت کرلیجئے۔ اس لئے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یزید کی بیعت تو دھندلی نگاہ والوں کو بھی ان کیلئے ناروامعلوم ہورہی ہے۔ اب آجکل دنیا کہہ رہی ہے کہ بیعت کیوں نہ کرلی؟ یہ سب کچھ ہوگیا اور بیعت نہیں کریں گے۔ انکارِ بیعت میں اتنی شدت؟ یہ تو ضد ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر صحیح راستے پر قائم ہونا ضد ہے تو کونسا نبی ہے جو ضدی نہ ہو۔ کونسا رسول ہے جو ضدی نہ ہو۔خدا کی قسم! صدائے حق کا ہم اور آپ تک پہنچنا ان کی ضدوں کا صدقہ ہے۔
پھر ذرا انصاف کیجئے آپ، اس رُخ پر سوال کرتے ہیں کہ ان کو بیعت سے اتنا انکار کیوں ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اسے کیوں نہیں سوچتے کہ یزید کو بیعت پر اتنا اصرا رکیوں ہے؟ جبکہ تمام عالم اسلام نے بیعت کرلی تو اگر یہ بیعت نہ کریں تو یزید کا کیا بگڑتا؟ جبکہ اصولِ جمہوریت یہ ہے کہ کثرتِ رائے سے ہر بات طے ہو۔ تو اقلیت کی رائے ناقابل اعتبار ہے۔ اس سے اصل مقصد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کچھ
لوگ نہیں مانتے ، نہ مانیں۔یہ پوری طاقت کیوں صرف کی گئی کہ ان سے بیعت لی جائے؟ یہ آخر یزید کو اتنا اصرا رکیوں ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ حسین ایک فرد نہیں ہیں، فرد اہمیت حاصل کرتا ہے کسی نظام کا نمائندہ ہوکر۔ ایک فردِ عرب ہوتا تو کتنے گوشہ و کنار میں آدمی ہوں گے جنہو ں نے بیعت نہ کی ہوگی۔ ارے خود ان کے اور بھائی تھے،کسی اور نے بیعت کی؟ جنابِ محمد حنفیہ بھی تو علی کے بیٹے تھے، ان سے بیعت کیوں نہ طلب کی؟ عبداللہ ابن جعفر بھی خاندان کے بزرگ تھے، ان سے کیوں بیعت طلب نہ کی؟ آخر یہ انہی سے اصرار کیوں ہے کہ بیعت طلب کی جائے؟
معلوم ہوتا ہے کہ حسین سے بیعت بحیثیت ایک فردِ عرب کے نہیں تھی، بحیثیت ایک نمائندئہ خاندانِ بنی ہاشم کے نہ تھی بلکہ حسین سے بیعت اس شریعت کا نمائندہ ہونے کے لحاظ سے تھی۔ یزید جانتا تھا کہ جب تک حسین نے بیعت نہ کی، اس وقت تک شہنشاہیت کے سامنے شریعت کا محاذ قائم ہے او رجس دن یہ بیعت کرلیں گے، اس دن شریعت کا محاذ ہمیشہ کیلئے سیاست کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ اس لئے حسین سے بیعت کیلئے پورا اصرار تھا۔
توایک جملہ آپ کیلئے کافی ہے ، میں کہتا ہوں کہ یزید حسین کو پہچانتا تھاکہ یہ کون ہیں اور حسین خود اپنے آپ کونہ پہچانتے کہ میں کون ہوں؟یہ جانتے تھے کہ اس وقت میرے بھائی حسن مجتبیٰ ہوتے تو مجھ سے نہ کہا جاتا۔ جو کچھ کہنا تھا، اُن سے کہاجاتا۔اگر ہمارے پدرِ بزرگوارہوتے تو جو کچھ مقابلہ کرنا تھا، ان سے کیا جاتا۔ہم سے براہِ راست کوئی مطلب نہ ہوتا۔ مزید آگے بڑھئے کہ اگر ہمارے نانا رسول اللہ ہوتے تو جو کچھ سند جوازِ حکومت کی مانگنا ہوتی، وہ ان سے مانگی جاتی، ہم سے نہ مانگی جاتی۔ مگر چونکہ میرے نانا نہیں ہیں اور میں ہوں، اس لئے مجھ سے بیعت طلب کی جارہی ہے۔ تو میرے بیعت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میرے بڑے بھائی ہوتے تو بیعت کرلیتے، میرے والد ہوتے اور وہ ہتھیار ڈال دیتے، میرے نانا ہوتے اور وہ مہر تصدیق ثبت کردیتے۔
میں کہتا ہوں کہ اب فقط ان کی بات نہیں ہورہی، اب ان کا بیعت کرنا ان سب کا بیعت کرنا تھا اور ان کا بیعت سے انکار ان سب کا انکارِ بیعت ہے اور جب رسول تک بات پہنچ گئی تو میں کہتا ہوں کہ ان کا بیعت کرلینا شریعت ِ الٰہی کا سرجھکا دینا ہے۔