معراج خطابت
 
فلسفہٴ جہاد
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”وَکَاَیِّنْ مِنْ نَبِی قٰتَلَ مَعَہ رِبِیُّوْنَ کَثِیْرٌ فَمَاوَھَنُوْالِمَااَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَاضَعُفُوْاوَمَا اسْتَکَانُوْاوَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ“۔
چوتھے پارے کی آیت ہے، ارشاد ہورہا ہے کہ کچھ نبی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ مل کر اللہ والوں نے جنگ کی(جن کی معیت میں) وہ سست نہیں ہوئے ان نتائج سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پیش آئے اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ انہوں نے سر جھکایا اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن مجید ایک مرقع جماعت کے اوصاف پیش کررہا ہے جونبی کی معیّت میں راہِ خدا میں جہاد کررہے ہیں۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جو انہیں مصائب درپیش ہوئے، اس سے ان میں سستی پیدا نہیں ہوئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فریق مخالف کے مقابلہ میں ان کی طاقت کم تھی۔تعداد میں ان سے کم ہوں گے اور سامانِ جنگ میں ان سے کم ہوں گے ، تبھی تو ان کے مقابلہ میں مصائب پیش آئے اور ان مصائب کی وجہ سے ان میں کمزوری پیدا نہیں ہوئی۔ اس راہ میں مصائب کا پیش آنا دلیل ہے مادّی حیثیت سے ان کے کمزور
ہونے کی۔
مادّی حیثیت سے یہ طاقتور نہیں تھے ورنہ یہ ہوتا کہ یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے بڑے شدّومد کے ساتھ حملہ کیااور مخالف کے پرخچے اڑا دئیے۔ مگر قرآن یہ نہیں کہہ رہا ، یہ کہہ رہا ہے کہ جو مصائب درپیش ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان میں طاقت اتنی نہیں تھی کہ یہ مادّی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرسکتے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ”مَاضَعُفُوْا“،میں نے اس کا ترجمہ نہیں کیا کہ وہ کمزور نہیں ہوئے۔ اگر کمزور نہ ہوتے تو مصائب کیوں پیش آتے۔ میں نے ترجمہ یہ کیا کہ کمزوری نہیں دکھائی انہوں نے۔ کمزوری دکھانا کردار سے متعلق ہے۔ کمزور ہوناکیفیت ہے۔ پہلا لفظ کمزوری کا ثبوت دے چکا ہے کہ مصائب انہیں بہت پیش آئے تو دوسرے جملے کے معنی یہ ہوئے کہ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔اس کے بعد”مَااسْتَکَانُوْا“،انہوں نے سر نہیں جھکایا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی مطالبہ تھا سامنے اور اس مطالبہ کو انہوں نے قبول نہیں کیا ورنہ قبل کے جملوں کے بعد یہ”وَمَااسْتَکَانُوْا“، انہوں نے عاجزی نہیں دکھائی، سر نہیں جھکایا۔
اس پورے کردار کو سمیٹ کر ایک لفظ جو ادا کیا ہے، وہ صبر ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صبر کے معنی از روئے قرآن یہ ہوئے کہ جو پہلے بیان ہوا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ:
”وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ“۔
”اللہ دوست رکھتا ہے ایسے صبر کرنے والوں کو“۔
معلوم ہوتا ہے کہ صبر ایک اجمالی لفظ ہے جس کے تحت میں یہ کردار مضمر ہے جس کا قبل میں ذکر کیا گیا ہے۔یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور ا س کی سچائی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے لیکن قرآن نے یہ کہا ہے کہ نبی ہیں اور ان کے ساتھ یہ جماعت ہے۔تو مجھے کہیں تاریخ کے صفحات پر وہ جماعت نظر بھی توآئے کہ وہ جماعت جس کے کردار کا یہ ذکر ہورہا ہے، یہ جماعت آخر کس معرکہ میں تھی؟ کس جنگ میں یہ جماعت سامنے آئی؟ تاریخ میں اس کا تلاش کرنا بیکار ہے کیونکہ یہ وہ دَور ہے جس میں تاریخ نگاری رائج نہیں ہوئی تھی۔ ہماری تو قدیم سے قدیم تاریخ بھی دورِ اسلام کی ہے۔ قبل اسلام کے حالات اشعار میں، قصائد میں موجود ہیں جو عرب متعلق ہیں اور جسے انہوں نے نظم کیا ہے۔ اس لئے مقولہ ہے :
”اَلشِّعْرُدِیْوَانُ الْعَرَبْ“۔
شعر گویا عرب کا تمام کیفیات ، حالات اور جذبات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کے سوا وہ صاحب ِتالیف نہیں تھے، صاحب ِتصنیف نہیں تھے۔ تو اس وقت کے حالات ہم تک کیسے پہنچیں؟ بس وہ دورِ جاہلیت کے اشعارِ عرب ہیں۔ ان سے ماقبل اسلام کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ اس بناء پر تاریخ میں تلاش کرنے کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔صحیح طریقہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن مجید نے مجمل طور پراس جماعت کا تذکرہ کیا ہے تو پھر قرآن ہی میں تلاش کریں۔ شروع سے آخر تک۔ شاید یہ جماعت مل جائے۔ میں نے تلاش کیا۔ قرآن کا کام واقعہ نگاری تو ہے نہیں۔ قرآن مجید واقعات کو ضمنی مقصد سے پیش کرتا ہے کہ ان سے جوسبق حاصل ہوتے ہیںِ دنیا وہ سبق محفوظ کرے۔دلچسپی کی خاطر تو واقعات بیان کرنا قرآن کو ہیں نہیں۔درس ہے، نتیجہ ہے جو اس اُمت کے لئے کارآمد ہے۔ پس میں نے تلاش کیا کہ جہاں کہیں کوئی جنگ قرآن مجید نے بیان کی ہوگی، اس جنگ کے ذیل میں ہوگا کیونکہ”قٰتَلَ“ وہاں تھاکہ انہوں نے قتال کیا۔
قتال کا مطلب خونریز جنگ کا ہوتا ہے،لہٰذا جہاں کہیں کسی خونریز جنگ کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوگا، وہیں یہ جماعت مجھے ملے گی۔میں نے قرآن میں تلاش کیا تو دوسرے ہی پارہ میں ایک جنگ کا ذکر مجھے مل گیا جس کی پہلی ہی سطر میں نبی کا لفظ ملا۔ مجھے بہت اُمید ہوئی کہ وہاں یہی کہا گیا تھا:
”کَاَیِّنْ مِنْ نَبِی“۔
کوئی نبی ہے۔ یہ نبی کی جنگ ہمیں مل رہی ہے تو وہ جماعت بھی یہیں ملے گی۔ اسے پڑھنا شروع کیا اور اس واقعہ میں ہمارے لئے بصیرتوں کا اتنا سرمایہ ہے کہ تقریباً متوسط سائز کے قرآن میں دوصفحوں میں وہ واقعہ درج ہوا ہے۔ ارشاد ہوا:
”اَلَمْ تَرَاِلَی الْمَلَاءِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْقَالُوْالِنَبِی لَھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ“۔
”کیا تم نے نہیں دیکھا،
ترجمہ میں کچھ اختلاف ہے۔ بعض لوگ جو خطاب ہو، واحد کا، اس کا مخاطب پیغمبر خدا کو قرار دے لیتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں: ”اے محمد“۔ مجھے اس سے اختلاف ہے۔جو آیت کا مضمون ہو، اس کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ مخاطب خود رسول ہیں یا نہیں۔ بعض جگہ تو مخاطب رسول ہیں جیسے:
”قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ“۔
وہ سوا رسول کے کون ہے جس سے یہ کہا جائے۔ اسی طرح اور بہت سی آیات ہیں:
”قُلْ لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًااِلَی الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی“۔
اور جگہ بلکہ زیادہ جگہ جو یہ واحد کا خطاب ہے، اس سے خاص رسول مخاطب نہیں ہیں جیسے آجکل کے طرزِ تحریر میں بھی رائج ہے۔ لکھنے والا لکھتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے ہو؟ یہ کسی خاص آدمی سے متعلق نہیں ہے۔ جو اس کلام کو پڑھے، وہ مخاطب ہے۔ہر ناظر یا دیکھنے والا، اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا مخاطب ہے۔اسی طرح سے:
”اَلَمْ تَرَ“۔
قرآن میں آیا ہے:
”اَرَاءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن“۔
کیا تم نے نہیں دیکھا۔ ہر جگہ اس سے رسول کو مخاطب سمجھنا درست نہیں ہے اور بعض جگہ اس کا مضمون بالکل شانِ رسول کے خلاف ہے۔رسول قطعاً مخاطب نہیں ہیں بلکہ عام مخاطب ہے کہ جو بھی چشم بینا و گوشِ شنوا رکھتا ہو، اس سے خطاب ہے۔ اس لئے میں نے یہ علامت قرار دی ہے اپنے نقطہ نظر کی کہ جہاں مخاطب رسول ہیں، وہاں اپنے معیارِ تہذیب کے لحاظ سے ہیں۔ ترجمہ آپ کے ساتھ کرتا ہوں:
”قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہ“۔
”کہئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرے نقش قدم پر چلو“۔
”قُلْ لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًااِلَی الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی“۔
”کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا سوائے صاحبانِ قرابت کی محبت کے“۔
یہ جہاں میں نے ترجمہ کیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مخاطب رسول کو سمجھ رہا ہوں اور ایسی آیات جہاں میرے نزدیک یہ نہیں ہیں، وہاں تم کے ساتھ ترجمہ کرتا ہوں جیسے میں نے ابھی یہ ترجمہ کیا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا اس جماعت کو؟
”اَرَاءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن“۔
”کیا تم نے دیکھا اس کو جو قیامت تک کی تکذیب کرتا ہے“۔
آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جہاں میں ترجمہ تم کے ساتھ کرتا ہوں، وہی جیسے ”جزایں نیست “میں مَیں نے کہا تھا کہ قبل کی اُردو اور تھی۔ وہاں تم اور آپ نہیں تھا۔ ہر ایک کا ترجمہ ”تو“ کے ساتھ تھا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا؟ مگر اب ہماری اُردو پرانی نہیں رہی۔ ہم ہر ایک کیلئے تو نہیں کہتے۔ جہاں رسول مخاطب ہیں، وہاں آپ کے ساتھ ترجمہ مناسب ہے اور جہاں دوسرے مخاطب ہیں، وہاں تم کے ساتھ ترجمہ کروں گا۔اگر کوئی اور نبی ہو تو میں پھر بھی تم کے ساتھ ترجمہ کردوں مگر جس کو اُس نے حبیب کا درجہ دیا ہو، میرے نزدیک تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ اُسے آپ سے مخاطب کیا جائے۔
غرض یہاں ترجمہ یہ ہوگا”اَلَمْ تَرَ“، ”کیا تم نے نہیں دیکھا“۔ بنی اسرائیل کے عمائد کے گروہ میں”مَلَا“ کہتے ہیں، ممتا ز آدمیوں کی جماعت۔
”اِلَی الْمَلَاء مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلِ“۔
بنی اسرائیل کے عمائد اور بڑے لوگ ، ان کو نہیں دیکھا کہ جب وہ آئے،
”اِذْقَالُوْالِنَبِی لَھُمْ“۔
اپنے نبی سے جو اس وقت تھا یہ کہا ۔ الفاظ بہت اُمید افزا ہیں کہ وہ جماعت یہاں ملے گی۔ انہوں نے یہ کہا:
”اَبْعَثْ لَنَامَلِکًا نُقَا تِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ“۔
ہمارے لئے ایک سردار مقرر کر دیجئے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ اُمید بڑھی کہ اتنا ذوقِ جہاد رکھنے والے لوگ ہیں کہ خود اپنے رسول سے تقاضا کررہے ہیں ، خواہش کررہے ہیں۔ اتنا ان کا دل بیتاب ہے راہِ خدا میں جنگ کرنے کیلئے تو ضرور وہی جماعت ہوگی۔ مگر اب نتیجہ جو ہے، عملی طور پر، وہ بہت مایوس کرے گا لیکن یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ چونکہ اس نبی کے دَور کے لوگ تھے اور اس کے گردوپیش کے آدمی تھے، تو وہ اتنا مانتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جنگ بغیر اُدھر کے سردار کے نہیں ہوسکتی۔ فقط جنگ کرنا ہوتی تو نبی سے آکر کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ خود ہی کانفرنس کرتے، خود ہی شوریٰ سے اجماع سے کسی کو اپنا سردار مقرر کرلیتے۔ لیکن جیسے بے بسی ہے، مجبوری ہے،کیونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنا ہے، تو بیچارے سب آکر نبی سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ایک ایسا سردار مقرر کردیجئے، مقرر کردیجئے یعنی اللہ سے مقرر کروا دیجئے۔ اللہ سے آپ کہہ دیجئے کہ مقر رکردے۔ بعد میں بتادیجئے گا کہ اللہ نے مقرر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ” مقرر کیجئے “کے معنی یہ نہیں تھے کہ آپ مقرر کیجئے۔
اس سے ایک اور عملی نتیجہ ہمارے لئے پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی سردار کو مقرر کرنا اللہ کا کام تھا جس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ جبھی تو رسول نے یہ کہا کہ اللہ نے مقرر کیا۔مطلب ان کا یہی تھا مگر اس مطلب کے حاصل کرنے کیلئے نبی سے کہا کہ آپ مقرر کر دیجئے۔ اسی طرح اگر دل میں یہ ہے کہ اللہ روزی دینے والا ہے لیکن ہم اس کے کسی مقرر سے کہیں کہ آپ ہمیں روزی دے دیجئے تو یہ شرک نہیں ہوگا۔
شرط یہی ہے کہ دل و دماغ میں یہ ہو کہ اصل عطا کرنے والا اللہ ہے تو پھر اگر دل و دماغ میں یہ ہے ، عقیدئہ ایمان یہی ہے تو الفاظ سے شرک نہیں ہوگا۔
”اَبْعَثْ لَنَا مَلِکًانُقَا تِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ“۔
”ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے“۔
اس کیلئے سردار مقرر کردیجئے۔ اندازقرآن مجید کی اور آیات میں بھی یہی ہے۔ خود ہمارے رسول کے ذریعہ سے بھی جو پیغام پہنچائے گئے ہیں کہ جو بات ہونے والی ہو، علم الٰہی میں اس کو رسول کی زبان سے بطور خطرہ پیش کیا جاتا تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو، یہ ”کہیں ایسا نہ ہو“ کا انداز نتیجہ سے یہ ثابت کرتا تھاکہ یہ ہونے والا ہے اور اس کیلئے ایک نظیر قرآن کی پیش کردوں۔
قرآن میں کہا گیا ہے ، اس اُمت کو مخاطب کرکے، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہمارے رسول کی وفات ہوجائے یا قتل ہوجائیں تو تم پچھلے پیروں لوٹ جاؤ۔ میں نے کہا کہ سنت کلامِ الٰہی یہ ہے کہ جو بات ہونی ہوتی ہے، اس کو قبل میں رسول یوں کہا کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو۔ یہ خطرہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خطرہ کااظہار اِتمامِ حجت ہوتا ہے کہ اب تو ہوشیار رہیں کہ ایسا نہ ہونے پائے۔کہا جارہا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تو نبی نے کیا کہا:
”قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَ لَا تُقَاتِلُوْا“۔
نبی نے کہا کہ ابھی گویا یہ میری طرف سے تبصرہ ہے کہ شکر خدا کرو کہ ابھی جنگ کا فریضہ ادھر سے عائد نہیں ہوا لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم درخواست کررہے ہو۔ غرض کررہے ہو او رپھر اُدھر سے فریضہ عائد ہوجائے جنگ کا تو تم جنگ نہ کرو۔
جوش کے عالم میں آدمی نتائج پر کہاں غو رکرتا ہے! خود اپنے متعلق غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے یہ کہا تو ان کی آتش عزم میں برافروختگی پیدا ہوگئی اور ان کے جوش میں اور زیادہ طوفانی کیفیت پیدا ہوگئی۔ انہوں نے جو یہ کہا کہ:
”ھَلْ عَسَیْتُمْ“۔
”کہیں ایسا نہ ہو کہ“
”اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ“
”جنگ کا فریضہ عائد ہوتو تم“
”اَ لَا تُقَاتِلُوْا“۔
”جنگ نہ کرو“۔
تو وہ کہنے لگے:
”قَالُوْاوَمَالَنَا اَلَّانُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَدْاُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَاوَاَبْنَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْااِلَّا قَلِیْلًا مِنْھُم“۔
”ہمیں کیا ہوجائے گا کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں جبکہ ہم گھر اور اہل و عیال کو چھوڑ کر نکلے ہوں گے“۔
یعنی اسی مقصد سے روانہ ہوں گے تو یہ ہوہی کیونکر سکتا ہے کہ ہم جنگ نہ کریں یعنی اس خطرہ کو سننے کے بعد انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہرگز یہ نہیں ہوگا۔ ممکن ہی نہیں ہے ، ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر اب باوجودیکہ تفصیل پھر بیان کرے گاقرآن ،لیکن آپ کی زحمت ِ انتظار کو کم کرنے کیلئے خالق سمیٹ کر نتیجہ کا اعلان کئے دیتا ہے:
”فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْااِلَّا قَلِیْلًا مِنْھُمْ“۔
جب جنگ کا فریضہ عائد ہوا تو سن لو ابھی سے ،تفصیل بعد کو سننا ابھی سے نتیجہ سن لو کہ جب فریضہ عائد ہوتو ”تَوَلَّوا“جتنے تھے ، سب نے پیٹھ پھرائی،”اِلَّا قَلِیْلًا مِنْھُمْ“سوائے تھوڑے سے آدمیوں کے۔ قلیل خود بھی کم ہے اور قلیلاً میں ترمیم تقلیل آئی ہے کہ کم اور بہت ہی کم۔ سب کے سب نے پیٹھ پھرائی، سوائے بہت کم کے۔ اور بہت ہی کم کے سوا ان میں سے۔ اب مسلمان یہیں بتادیں کہ حق ان کم کے ساتھ تھا یا زیادہ کے ساتھ تھا؟
”تَوَلَّوا“سب نے پیٹھ پھرائی،”اِلَّا قَلِیْلًا مِنْھُمْ“سوائے بہت تھوڑے آدمیوں کے،
”وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ“۔
”اور اللہ ظالموں کو پہلے سے جانتا تھا“۔
یعنی میدانِ جنگ سے فرار کرنے والوں کو اللہ نے ظالمین کا لقب دیا اور بلا تبصرہ قرآن کی ایک آیت یاد کرلیجئے:
”لَایَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ“۔
”میرا عہد ظالموں کو کبھی نہیں پہنچتا“۔
آیت اتنے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی تو روداد پوری مکمل جیسے ہم نے سن لی ہوتی کہ خود مطالبہ کیا اور متنبہ بھی کردیا گیا۔ خطرہ کا اظہار کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جتنے تھے، سب روگرداں ہوجائیں۔ ہم کو بصیرت اتنے میں بھی حاصل ہوجاتی مگر نہیں، زحمت ِ انتظار کو ختم کرنے کیلئے یہ نتیجہ سنا دیا گیا۔لیکن ابھی واقعہ بیان کرنا ہے۔ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارے لئے سردار مقرر کر دیجئے۔
”اِذْقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا“۔
ان کے نبی نے یہ کہا کہ سنو! تم نے خود درخواست کی ہے تو تمہاری دعا قبول کی جاتی ہے، تمہاری عرضداشت منظور کی جاتی ہے۔ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو سردار مقرر کیا ہے۔
بس جناب! خود ہی تو کہا تھا کہ مقرر کروا دیجئے اور اب جو نامزدگی ہوئی تو بُرا منانے لگے یعنی اگر کہہ دیا جاتا کہ تم اپنی پسند کا سردار مقرر کرلو تو خوش ہوجاتے۔ نہیں اُدھر سے نامزدگی ہوگئی۔
”اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ“۔
تمہارے لئے طالوت کو سردار اُس نے مقرر کردیا ۔ تو اب کہنے لگے:
”قَالُوْااَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا“۔
اس کو ہم پر سرداری کا حق کہاں سے ہوگیا؟
”وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکُ مِنْہُ“۔
اورہم اس سے زیادہ سرداری کے حقدار ہیں“۔
دیکھئے! عہدہ کی جاذبیت کیا کرواتی ہے۔ اب ماضی کو نہ دیکھئے۔ جب تک عہدہ کا سوال بیچ میں نہ آیا، کیسے اطاعت گزار ثابت ہورہے تھے، کیسے سعادت مند نظر آرہے تھے۔”اَنّٰی یَکُوْنُ“۔”اَنّٰی“ کے معنی”مِنْ اَیْنَ“ کے ہوتے ہیں۔کہاں سے اس کیلئے سرداری ہوگئی اور:
”نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ“۔
اور ہم اس سے زیادہ سرداری کے حقدار ہیں۔
”وَلَمْ یُوْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ“۔
ارے اس کے پاس پیسہ تو ہے ہی نہیں، مفلس آدمی ہے اور وہ سردار بنے گاہمارا؟
یہ مفلسی کا سوال تو پیغمبر خدا کے مقابلہ میں اٹھایا جاتا تھا۔ وہ بھی قرآن میں ہے:
”وَقَالُوْالَوْنُزِّلَ ھٰذَاالْقُرْآنُ عَلَی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمْ“۔
آخر یہ قرآن مکہ اور مدینہ کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اُترا۔ یہ بڑے آدمی کا محاورہ اتنی مسافت طے کرکے نہ جانے کن کن راستوں سے ہم تک بھی پہنچ گیا کہ ہم دولت مندوں کو بڑا آدمی کہتے ہیں۔یہی ہماری زبان کا جزو ہے۔ یہ ان کی زبان تھی کہ انہوں نے کہا کہ یہ مکہ اور مدینہ کے کسی لکھ پتی، کروڑ پتی پر کیوں نہ اُترا۔ اگر اس پر اُترتا تو ہمیں ماننا آسان ہوجاتا کیونکہ ہماری طبیعت میں دولت مندوں کے سامنے ہی جھکنا ہے۔ یہ اس نے منتخب بھی کیا تو ایک ایسے یتیم کو کہ جس کے باپ کا دادا کے سامنے انتقال ہوگیا۔ اس لئے اپنی خاندانی وراثت سے بھی وہ محروم ہوگیا۔ ایسے کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچانے کیلئے منتخب کیا تو وہاں کہا گیا:
”نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُوْتٰی سَعَةً مِنَ الْمَالِ“
اُسے پیسے میں وسعت تو دی ہی نہیں گئی ہے۔ دولت تو اس کے پاس ہے ہی نہیں۔ تو اب پیغمبر نے جوا ب دیا۔ تین ٹکڑے ہیں :
”قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ“۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ نے اس کو منتخب کیا ہے۔ کہاں سے حق ہوا؟ اللہ کی طرف سے ہوا۔ اللہ نے اسے منتخب کیا ہے۔ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم ہی نے تو کہا تھا کہ اللہ سے منتخب کروادیجئے۔ اس نے منتخب کیا۔ اب یہ جو ہے کہ پیسہ نہیں ہے ، اس کے مقابل میں کہا جارہا ہے کہ اللہ نے بلاوجہ منتخب نہیں کیا ہے:
”وَزَادَہُ بَسْطَةً فِیْ الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ“۔
اللہ نے اس کو علم اور جسمانی طاقت یعنی شجاعت میں فوقیت دی ہے۔ یعنی پیسہ نہ دیکھو، علم کی دولت دیکھو، شجاعت دیکھو۔ اب کسی کے مقابلہ میں دنیا کہے کہ پیسہ نہیں تھا، کسی کے مقابل میں کہے کہ زر کم ہے، اس سے کچھ نہیں بنے گا، علم کو دیکھئے اور شجاعت کو دیکھئے کہ
کتنی ہے۔
اور ابھی تو شخصی حکم تھا کہ اس کو منتخب کیا اور اس کی وجہ بتائی کہ کیوں منتخب کیا! رسول کا اعلان:
”وَاللّٰہُ یُوْتِیْ مُلْکَہُ مَنْ یَشَاءُ“۔
یہ اختیار اللہ کو ہے کہ وہ اپنی طرف سے اقتدار کو جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے۔ اس میں دوسروں کی رائے کا دخل نہیں ہوا کرتا۔
”وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلَیْمٌ“۔
اور اللہ قادر بھی ہے اور علیم بھی ہے۔
یعنی بلاوجہ انتخاب نہیں کیا کرتا۔ کچھ ہوتی ہیں وجوہِ اختیار جس کی بناء پر وہ انتخاب کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد مزید اطمینان کیلئے کہا جاتا ہے:
”وَقَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اَنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہ اَنْ یَاتِیَکُمْ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ وَبَقِیَّۃٌ مِمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھَارُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰئِکَۃُ“۔
دیکھو! اس کی، اللہ کی طرف سے سرداری کی نشانی یہ ہے ۔ قرآن کی زبان میں معجزے کو آیت کہاجاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ، میں تمہیں بتاتا ہوں ایک معجزہ، وہ دلیل ہوگا اس کی کہ اس کو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی سرداری کی اُدھر کی طرف سے علامت اور پہچان یہ ہے کہ تابوتِ سکینہ آئے گا ۔ تابوتِ سکینہ میں الواح توریت تھے اور تبرکاتِ انبیاء تھے۔ یہ سب جب بیت المقدس پر بت پرستوں کا حملہ ہوا تو لوٹ لیا گیا تھا۔ چنانچہ توریت بھی غائب ہوچکی تھی ۔مدتوں پتہ ہی نہیں چلا کہ توریت کیا ہوئی؟اس لئے کہ پورا صندوق ہی لے جایا گیا تھا اور کئی سو برس وہ غائب رہا۔ پتہ نہیں چلا کہ اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے معجزہ یہ بتایا ، ثبوتِ انتخابِ الٰہی یہ بتایا کہ وہ تابوت یا صندوق جو تمہارا گم شدہ ہے، وہ تمہارے پاس آجائے گا اور اس میں سکون کا سرمایہ ہوگاتمہارے پروردگار کی طرف سے اورجتنا بچا کھچا سرمایہ ہے، آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا۔ تبرکات جتنے رہ گئے ہیں، وہ تابوت کے اندر تم تک پہنچ جائیں گے اور اُسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کوئی آدمی کا ذریعہ نہیں ہوگا۔
اتنا نمایاں معجزہ ہے۔ اس سے علمائے اسلام کے درمیان کی ، علم کلام کی ایک بحث طے ہوجاتی ہے کہ پتہ چلتا ہے کہ معجزہ انبیاء سے مخصوص نہیں ہے بلکہ جو اُدھر کا عہدہ ہو، اس کیلئے معجزہ ہوتا ہے۔
ملائکہ اُسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کوئی آدمی نظر نہ آئے تو مان لیں گے کہ ملائکہ آرہے ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ واقعی ملائکہ انہیں نظر آئے تھے یعنی وہ یہ محسوس کررہے تھے کہ یہ عام انسان نہیں ہیں جو لارہے ہیں۔
”اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَةٌ لَکُمْ“۔اس میں تمہارے لئے نشانی ہے۔ ایک نمایاں معجزہ ہے۔
”اِنْ کُنْتُمْ مُوٴْ مِنِیْنَ“۔
اگر تم صاحبانِ ایمان ہو۔ یعنی اب ان کا ایمان اس کے تسلیم کرنے اور صبر کا کردار برقرار رکھنے سے وابستہ ہے۔ اتنا معجزہ بھی دیکھ لیا۔ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے کہ ایسے ایسے بیانات رسول سے دنیانے سنے اور ایسے ایسے رسول کے ثبوتِ حقانیت دیکھے اور پھر بھی راہِ راست سے منحرف ہوئے۔ جب قرآن کی روشنی میں دیکھا کہ ہوا ہے ایسا تو پھر حیرت باقی نہیں رہتی۔
”فَلَمَّافَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ“۔
جب طالوت افواج کو لے کر چلے ۔ ماشاء اللہ مجاہدین کی کثرت وہ ہے کہ فوج نہیں ہے۔ قرآن کی زبان میں افواج ہے۔ جُند ایک فوج کو کہتے ہیں اور یہاں جنود ہے۔جب طالوت لشکروں کو لئے ہوئے ، فوجوں کو لئے ہوئے روانہ ہوئے تو پہلے ایک آزمائش کا اعلان کردیا کہ ایک تمہارا امتحان ہونا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک نہر سامنے بہہ رہی ہوگی۔ امتحان یہ ہے کہ اس کے پانی کو پینا نہیں۔ گویا تمہارا امتحان عطش ہوگا۔ باوجود نہر کے سامنے ہونے کے:
”اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَھْر فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ“۔
جو اس میں سے پی لے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جو اس میں سے پی لے گا، کچھ بھی تو مجھ سے اس کا کوئی ربط نہ ہوگا۔
”وَمَنْ لَمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہُ مِنِّیْ“۔
جو بالکل نہیں پئے گا، وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہوگا۔ قرآن کا جملہ میں پڑھوں گا اور مستقبل کے کردار کا مرقع آپ کی نظروں کے سامنے پھر جائے تو میں کیا کروں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ پئے نہیں، سوا اس کے کہ چلّو میں پانی لے کر پھینک دے۔
”اِلَّا قَلِیْلًا مِنْھُمْ“۔
سب نے پانی پی لیا، سوائے کم بہت ہی کم لوگوں کے۔ انہی سے پتہ چل گیا مستقبل کے نتیجہ کا جو پہلے اعلان ہوچکا:
”فَلَمَّاجَاوَزَہُ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْامَعَہُ“۔
جب وہاں سے آگے بڑھے وہ، یعنی طالوت اور جو اُن کے ساتھ اہلِ ایمان تھے تو ان سب نے کہا:
”قَالُوْالَا طَاقَۃَ لَنَااَلْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہِ“۔
مقابل کا نام جالوت تھا۔ اسی کے وزن پر ادھر والے کا نام طالوت ہوگیا تھا۔ پس انہوں نے کہا کہ ہم میں طاقت نہیں ہے جالوت اور اس کے ساتھ والوں سے مقابلہ کرنے کی۔
”قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُلٰقُوااللّٰہَ“۔
ان لوگوں نے جنہیں کچھ گمان تھا کہ اللہ کو منہ دکھانا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پوری جماعت کو تو تصور ہی نہیں تھا کہ اللہ کو منہ دکھانا ہے۔ ان لوگوں نے جن کو گمان تھا کہ وہ اللہ سے ملاقات کریں گے، وہ جو اللہ کو منہ دکھانے کا ذرا تصور رکھتے تھے، انہوں نے یہ کہا:
”کَمْ مِنْ فِئَۃ قَلِیْلَۃ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَة بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ“۔
ارے بھئی ہمت کیوں ہارتے ہو۔ بہت ممکن ہے کہ تھوڑی سی جماعت ہو اور وہ کثیر جماعت پر غالب آجائے اللہ کے حکم سے اور اصل ے ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
”وَلَمَّابَرَزُوالْجَالُوْتُ وَجُنُوْدُہُ“۔
جب جالوت اور اس کا لشکر نکلے تو اب اس جماعت نے جو ثابت قدم تھی اور کہہ رہی تھی کہ کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں پر غالب آسکتے ہیں، انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھادئیے:
”قَالُوْا رَبَّنَا اَفْرِغ عَلَیْنَاصَبْرًاوَثَبِّتْ اَقْدَامَنَاوَانْصُرْنَاعَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ“۔
پروردگار! ہم پر اپنی طرف سے صبر انڈیل دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کی قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔
اس چھوٹی سی جماعت کے ثباتِ قدم کا نتیجہ یہ تھا کہ:
”فَھَزَمُوْاھُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَقَتَلَ دَاوٴدُجَالُوْتَ“۔
اللہ کے حکم سے ان کو شکست دے دی۔ حضرت داؤد جالوت کی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے آئے تھے۔
اب نتیجہ آپ کے سامنے پیش کرنا ہے کہ مجھے نبی تو مل گیا، وہ جماعت نہیں ملی۔ اب میں نے خیال کیا کہ یہ نبی تو ایسے تھے کہ ان کا نام تک ہمیں نہیں معلوم ۔ نبی تھے اور رسول ہونا بھی اس معنی سے نہیں ثابت۔ اگر کوئی رسول ہو ، اولوالعزم ہو تو وہاں وہ جماعت بھی دستیاب ہوگی۔ میں نے مزید ورق گردانی کی تو بہت زیادہ ورق نہیں الٹنے پڑے۔ اب مجھے حضرت موسیٰ مل گئے ۔ میں نے کہا کہ یہ تو کلیم اللہ ہیں، اولوالعزم ہیں، صاحب ِشریعت و کتاب ہیں۔لہٰذا ان کے ساتھ کی جماعت تو اس معیار پر ضرور ہوگی کیونکہ جتنا بڑا رسول ہو، ویسے ہی گویا اس کے ساتھ والے ہوتے ہیں۔
یہ حضرت موسیٰ ہیں۔ ان کا کیا کہنا تو ان کے ساتھ کی جماعت کا کیا کہنا۔ لیکن اب قرآن مجید کو پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اُسے بھی قرآن نے تفصیل سے پیش کردیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جن کے اچھے اوصاف ہوں، ان کا ذکر کرنے سے فائدہ ہے لیکن کوئی کیسا تھا، اس کا ذکر کرنے سے کیا فائدہ؟ میں تو دیکھتا ہوں ایسے تاریک مرقعوں کو قرآن زیادہ پھیلا کر بیان کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی نقطہ نگاہ سے اس میں درس زیادہ ہے کہ آدمی ایسوں سے بچنے کی کوشش کرے۔
ہمارے قبلے بیت المقدس پر اس وقت بھی دوسروں کا قبضہ تھا۔ارشاد ہورہا ہے کہ موسیٰ نے اپنے ساتھ والوں سے کہا:
”اُدْخُلُواالْاَ رْضَ الْمُقَدَّسَۃِ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ“۔
دیکھئے! یہاں ان کی ہمت ڈھارس اور اطمینان بلند کرنے کے سامان کئے گئے ہیں کہ انہیں پہلے سے بتائے دیتے ہیں کہ آخر میں قلم تقدیر جاری ہوچکا ہے۔ آخر میں وہ زمین تمہارے قبضہ میں آئے گی۔ بس تمہارا کام یہ ہے کہ داخل ہوجاؤ اس ارضِ مقدس میں۔
”اَلَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ“۔جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے۔
فیصلہ تقدیر کا اعلان کردیا۔ اگر علم غیب نہ ہوتا تو اعلان کیونکر کرتے؟ فیصلہ تقدیر کا۔ مگر شرط یہ ہے :
”وَلَا تَرْتَدُّوْاعَلٰی اَدْبَارِکُمْ“۔
دیکھو! پچھلے پاؤں پلٹنا نہیں، فرار نہ کرنا۔اگر فرار ہوئے تو اللہ کو وعدہ یاد دلا کر شکوہ نہ کرنا کہ تو نے یہ وعدہ کیا تھا، یہ بجلی ہمارے خرمن پر کیوں گری؟ تو پچھلے پاؤں پلٹ نہ جانا ، فرار نہ کرنا۔ مطلب وہی ہے:
”فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ“۔
ورنہ پھر گھاٹا ہوگا ، ورنہ پھر خسارہ ہوگا، خرمن پر بجلیاں گریں گی۔ یہ اعلان کردیا کہ جاؤ، داخل ہوجاؤ ۔ مگر یہ چلے تو کیا ہوا؟ حضرت موسیٰ سردار ہیں اور ان کے ہمت بڑھانے سے آگے بڑھے ہیں بیت المقدس کے بارے میں پتہ کرنے کیلئے۔وہاں پہنچے تو وہاں کے قد آور آدمی نظر آئے تو کہنے لگے کہ جناب! یہ تو بہت ہی قد آور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
”وَاِنَّالَنْ نَدْخُلَھَا حَتّٰی یَخْرُجُوْامِنْھَا“۔
انہوں نے کہا تھا کہ داخل ہوجاؤ۔ پھر وعدہ کرتاہوں کہ اللہ تمہیں فتح دے دے گا۔ مگر وہ کہتے ہیں ”لَنْ نَدْخُلَھَا“، ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔”حَتّٰی یَخْرُجُوْامِنْھَا“، جب تک وہ نکل نہ جائیں۔
سبحان اللہ! جہاد کرنے لگے ہیں، یہ عجیب داخل خارج ہے کہ وہ خارج ہوجائیں تو ہم داخل ہوجائیں گے۔ یعنی مالِ غنیمت لوٹنے میں ہم آگے بڑھ جائیں گے۔
”فَاِنْ یَخْرُجُوْامِنْھَافَاِنَّادَاخِلُوْن“۔
اگر وہ نکل جائیں گے تو یقین مانئے کہ ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔ بڑا کارنامہ کریں گے۔وہاں تو پھر بھی قرآن نے کچھ پردہ رکھا تھا کہ”اِلَّا قَلِیْلًا“۔ سوائے تھوڑے سے، بہت ہی کم سہی لیکن خیال ہوتا ہے کہ جب افواج تھیں تو کم بیس ہوسکتے ہیں، تیس ہوسکتے ہیں، پچا س ہوسکتے ہیں۔ وہ بھی کم اور بہت کم ہوئے لیکن یہاں تو قرآن نے شمار کرکے بتا دیا ہے کہ:
”قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ“۔
صرف دو عدد آدمیوں نے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے، یعنی پوری جماعت اللہ کا خوف نہیں رکھتی تھی۔
”قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ“۔
کہا دو آدمیوں نے، جو اللہ کا خوف رکھتے تھے۔
”اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا“۔
جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ قرآن کی تفسیر نہیں کررہا ہوں کہ تفسیر بالرائے ہو مگر ایک آیت سے دوسری آیت یاد آجائے تو کیا کروں کہ قرآن نے ان دو کو کہا ہے کہ جن پر نعمت اپنی خاص اُتاری تھی۔
اب ہم دعا کرتے ہیں سورئہ حمد میں:
”صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ“۔
راستہ ان کا جن پر تو نے اپنی نعمت اُتاری ہے۔ تو ہم تو ثابت قدم لوگوں کو سمجھتے ہیں کہ ان پر اللہ کی نعمت ہے۔ انہی کے ساتھ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔
دو آدمیوں نے ، جو اللہ کا خوف رکھتے تھے، اور جن پر ہماری نعمت ِ خاص ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ تم آگے تو بڑھو۔
”اُدْخُلُوْاعَلَیْھِمُ الْبَابَ“۔دروازہ کے اندر تو داخل ہو۔
”فَاِذَادَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ“۔
ہم یقین دلاتے ہیں کہ اگر تم داخل ہوجاؤ گے تو غلبہ تمہارا ہی ہوگا یعنی نبی کی بات غلط نہیں ہوسکتی۔ یہ دو آدمی تھے صرف جو یہ کہہ رہے تھے:
”فَاِذَادَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْااِنْ کُنْتُمْ مُوٴمِنِیْنَ“۔
اللہ پر بھروسہ کرو، اگر تم موٴمن ہو۔ مگر ان بیچارے دو کی صدا، صدابصحرا ہوگئی اور انہوں نے وہی کہا جو پہلے کہا تھا اور بڑے دل شکن انداز میں یعنی گستاخی کی پیغمبر کے ساتھ اور خدا کے ساتھ۔انہوں نے کہا:
”قَالُوْایَامُوْسٰی لَنْ نُدْخُلَھَااَبَدًامَادَامُوْافِیْھَا“۔
پورے عزم بالجزم کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں ہیں، اس وقت تک ہم داخل نہیں
ہوں گے۔
”فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ“۔
نبی سے رسول کہہ رہے ہیں کہ آپ جائیے اور آپ کا پروردگار چلاجائے یعنی نہ وہ ان کو رسول مان رہے ہیں ، نہ اس کو پروردگار مان رہے ہیں۔ بس وہ انہی کا، حضرتِ موسیٰ کا پروردگار ہے۔آپ اور آپ کا پروردگا ردونوں چلے جائیے۔”فَقَا تَلَا“۔ بس آپ دونوں جنگ کرلیجئے، آپ قتال کرلیجئے۔ ہم یہیں پر ”قَاعِدُوْن“، ہم یہیں پر بیٹھے ہوں گے۔ یہ دل شکن طرزِ تخاطب وہ تھا کہ رسول کا دل ٹوٹ گیا اور بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھادئیے اور خدا سے یہ کہا:
”قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَااَمْلِکُ اِلَّانَفْسِیْ وَاَخِیْ“۔
اے پروردگار! تو دیکھ رہا ہے انہیں مجھے قابو نہیں ہے۔سوا اپنے نفس کے اور اپنے بھائی کے۔
معلوم ہوا کہ جب دنیا پلٹ گئی تب بھی بھائی ساتھ رہا۔
مجھے نہیں قابو کسی پر بھی سوا اپنے نفس کے اور اپنے بھائی کے۔
”فَافْرِقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ“۔
بس تو ہی اب فیصلہ کردے ہمارے درمیان اور اس فاسق گروہ کے درمیان۔ شروع میں اللہ نے ظالمین کا لقب دیا تھااور اب دوسرا تحفہ ملا، رسول کی زبانی فاسقین کا اور اگر خالق ایسے لوگوں کو فاسقین کہہ رہا ہے ، کوئی پوری جماعت کو عدول کہہ دے کہ سب عادل ہیں تو وہ اپنے فیصلے کا ذمہ دار ہے۔ میں نے پھر تلاش کرڈالا ، نہ کہیں جنگ کا مجھے ذکر ملا کسی نبی کے بیان میں اور جب جنگ کا ذکر نہیں ملا تو وہ جماعت مجھے کہاں ملتی ؟ تو کیا کروں کہ الفاظِ قرآنی تو تشنہ تصدیق عمل رہے۔ اس نے ایک اوصاف کا مرقع پیش کیا۔
نبی مجھے ملا مگر جماعت نہیں ملتی ۔ تو وہ جماعت کونسی ہے جس کے اوصاف یہاں بیان کئے۔مایوس ہوا۔جس دَور کی تاریخ ہے ہی نہیں، اس کی تلاش کیسے کروں؟جہاں سے تاریخ ملی، اسے تلاش کیا تو قرآن میں جماعت نہیں ملی۔ تاریخ میں مل گئی۔ اب وہاں جماعت نظر آرہی ہے تو نبی نظر نہیں آتا۔ اب اگر قرآن کو ماننا ہے اور ان اوصاف کے مصداقِ اکمل کو مشاہدہ کے طور پر ایک جماعت میں آپ دیکھ رہے ہیں تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ چاہے نبی سامنے نظر نہ آرہا ہو، مگر جماعت وہ یہی ہے جو نبیوں کی ساتھی ہے۔ وہ نبی نہیں ہیں مگر جس کے ساتھ ہے، وہ نمائندئہ قوم انبیاء کا ہے۔
ہر متن قرآن کی شرح مجھے مل جائے گی۔ جب اس جماعت کے کردار کو دیکھوں گا ۔ اس نے کہا تھا جو مصائب آئیں راہِ خدا میں، اس کی وجہ سے عمل میں سستی پیدا نہیں ہوئی۔وہ مصائب تو تعداد میں ایسے ہیں، بے سروسامانی ہے۔ سب ایک طرف۔ پانی بند ہوگیا مگر ان کی قوتِ عمل میں کوئی سستی پیدا نہیں ہوئی۔ جو اللہ کی راہ میں ان کو مصیبت پیش آگئی، اس سے ان میں سستی پیدا نہیں ہوئی اور”مَاضَعُفُوْا“،
انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بہتر(۷۲) کو فوج کیوں کہاجاتا ہے ۔ کہیں بہتر(۷۲) کی فوج ہوتی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ مولا اگر ان کو فوج نہ سمجھتے تو ترتیب ِلشکر کیوں کرتے؟