معراج خطابت
 
صبرواستقامت
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
”کَمْ مِنْ فِئٍَ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ عَلٰی فِئَةٍ کَثِیْرَةٍ وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ“۔
ارشادِ حضرتِ اقدس ہے کہ کتنے ہی کم تعداد کے گروہ ہیں جو بڑی تعداد کے گروہ پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ صبر کا لفظ اگرچہ عربی ہے مگر اتنی کثرت سے زبان پر جاری ہے کہ اُردو زبان کا جزو بن گیا ہے۔ یہ لفظ طرح طرح سے زبانوں پر آتا ہے۔ کوئی سانحہ ہوگیا تو کہا گیا کہ صبر کرنا چاہئے۔ کبھی کسی نے کسی کام میں جلدی کی تو کہہ دیا کہ تم بڑے بے صبرے ہو۔ مختلف انداز سے صبر کا لفظ زبان پر آیا کرتا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی کثرت سے جو لفظ زبانوں پر آتا ہے، اس کے اصل معنی بہت سے حضرات کے ذہنوں سے دور ہیں۔ اس لئے صبر کے مفہوم کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک نئی روشنی کے دلدادہ ترقی پسند گروہ، جو کہ زیادہ تر اقدام پسند ہوتے ہیں، ان کی زبانوں پر یہ ہے کہ صبر بزدلی کی تعلیم ہے اور چونکہ یہ ترقی پسند افراد مذہب سے زیادہ تر دور رہتے ہیں اور ہر چیز میں دنیاوی سیاست کو شریک کردیتے ہیں، ہر چیز کو اسی معیار پر پرکھتے ہیں، اس لئے ان کا نظریہ یہ ہے کہ صبر کی تعلیم اہلِ مذہب نے کمزوروں کی قوتِ مقاومت کو سلب کرنے کیلئے دی ہے تاکہ طاقتور لوگوں کے مقابلہ میں کھڑے نہ ہوں۔
اس کیلئے صبر کی دعوت دی گئی ہے کہ جو حربہ ہو ،اُسے چپکے سے برداشت کرلو۔ جو زیادتی ہو، اُسے سہہ لو۔ صبرکرو، صبر کرو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان ظالموں کے مقابلہ میں نہ کھڑے ہو۔ پس اس گروہ نے صبر کے معنی یہ قرار دئیے کہ چپکے سے ہر حربہ کو برداشت کرلینا۔ یہ تو ترقی یافتہ جدید روشنی کے زیر سایہ تصور پروان چڑھا اور اب قدیم روشنی والے علماء کا ایک مکتب ِ خیال، اس نے صبر کے ایک دوسرے معنی اپنے مذاق کے مطابق قرار دے لئے ہیں، مثلاً صبر یہ ہے کہ احساسِ غم ہی نہ ہو۔ کوئی بھی غم پڑے، اس کا آدمی پر کوئی بھی اثر نہ ہو۔یہ صبر کا معیار ہے۔ کچھ نے یہ صبر کرلیا کہ ہر غم کا احساس تو ہو مگر آنکھ سے آنسو نہ نکلے۔جتنے بھی مصائب ہوں، تم پتھر بنے کھڑے رہو۔ ادھر آنکھ سے آنسو نکلااورانہوں نے کہ تم صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہو۔ یعنی اوّل تا آخر صبر یہی ہے کہ آدمی روئے نہیں، آنسو نہ بہائے۔
اس لئے صبر کے زیر سایہ یہ نعرے اس زمانہ میں بہت بڑھ جاتے ہیں جب اشکباری کا موسم آتا ہے۔ اس وقت ان کو اس سیلابِ اشک پر بند باندھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوجاتی ہے۔ یہ تعلیم بہت زورشور سے جاری ہوجاتی ہے کہ یہ مناسب چیز نہیں ہے۔ مسلمان کو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔مسلمان کو صبر کرنا چاہئے۔ میرے سامنے وہ جدید محاذ بھی ہے اور یہ قدیم محاذ بھی ہے۔ دونوں سے میرا یہ خطاب ہے کہ صبر کا لفظ اب آپ کی اُردو زبان کا جزو ہے لیکن یہ لفظ آپ نے سیکھا کہاں سے ہے؟
یاد رکھئے کہ آپ مذہب سے کتنے ہی باغی کیوں نہ ہوں لیکن یہ لفظ آپ نے مذہب سے ہی یاد کیا ہے۔ اسی سے آپ مذہب والوں کو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کمزوروں کی قوتِ مقاومت کو سلب کرنے کیلئے یہ تلقین کی ہے ۔ گویا ظالموں کو بااطمینان ظلم کرنے کا موقع دیا ہے۔ تو یہ لفظ جب آپ نے مذہب والوں سے سیکھا ہے تو کم از کم اسلامی مذہب کی سب سے بڑی دستاویز تو قرآن ہے۔ قرآن نے صبر کو جس جس معنی میں استعمال کیا ہو، اُسے دیکھئے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیجئے کہ یہ تصورات صحیح ہیں یا غلط۔ خواہ وہ جدید تصورات ہوں یا قدیم۔ قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیجئے اور درمیان میں حدیث بھی ضمناً پڑھ دوں گا۔ اصل بنیاد قرآن ہے۔ تو جو قرآن کو کافی سمجھتا ہے، اُسے تو سر جھکا ہی دینا چاہئے۔
میں جب قرآن مجید میں صبر کے موارد دیکھوں تو نہ وہ جدید تصور صحیح دکھائی دیتا ہے ، نہ قدیم تصور درست قرار پاتا ہے۔ وہ دونوں قرآن کی کسوٹی پر ناقص قرار پاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے صبر کے معنی سمجھے ہی نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید کو اور جو آیت میں نے سرنامہ کلام قرار دی ہے، وہ اسی سے متعلق ہے کہ اس صبر کا مطالبہ میدانِ جنگ میں کیا گیا۔ بہت سے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
تو معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی ایسی چیز ہے جو بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا دینے کی دعوت دے رہا ہے کہ تمہاری کتنی ہی کم تعداد ہو لیکن اس سے نااُمید نہ ہو اور جو دوسری جماعت تمہارے مد ِمقابل ہے، اس کی کثرتِ تعداد اور اس کی طاقت کو دیکھ کر مرعوب نہ ہو۔
تو اب کیا میدانِ جنگ کا صبر یہ ہے کہ جب تلوار کا وار ہو تو چپکے سے سر جھکا دو؟ نیزہ آئے تو خاموشی سے سینہ بڑھا دو؟ آخر یہ جو قدیم افراد نے صبر کی تفسیر کی یا نئی روشنی والوں نے ،وہ منطق یہاں کہاں ملتی ہے؟ یہاں تو مجملاً کہا کہ اکثر چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت دیکھئے کہ اس میں دعوت دی جارہی ہے کہ دس گنا مقابلہ سے نہ گھبراؤ۔ ارشاد ہورہا ہے رسول سے:
”اِرْغَبِ الْمُوٴمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ“۔
”اہلِ ایمان کو قتال کی ترغیب و تحریص کیجئے“۔
قتال پر آمادہ کیجئے۔ حضور! جہاد تو جدوجہد سے ہے۔ اس میں گنجائش ہیں کہ بغیر تلوار کے ہو لیکن قتال جس چیز کا نام ہے، اس کے تو معنی ہی جان لیوا مقابلہ کے ہیں۔ جس میں قتل میں مقابلہ ہو تو کون کسے زیادہ قتل کرتا ہے؟ تو قتال میں گنجائش نہیں ہے کہ اسے کسی اور قسم کے مقابلہ پر محمول کیا جائے۔ تو اب کہاجارہا ہے کہ موٴمنین کو قتال کی دعوت دیجئے یعنی خونریز جنگ کی ، خونریز مققابلہ کی۔ اور اس کی تفصیل کیا ہے؟ کہ موٴمنین کو بتائیے کہ :
”اَنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرْوْنَ یَغْلِبُوْامِئَتَیْنِ“۔
”اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہوں تو انہیں دوسو پر غالب آنا چاہئے“۔
”وَاِنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ مِئَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبْوْااَلفًا بِاِذْنِ اللّٰہ“۔
”اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تو ایک ہزار پر غالب آنا چاہئے“۔
اور تتمہ وہی کہ:
”وَاللّٰہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ“۔”اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔
معلوم ہوا کہ یہ جو ہر صبرہے کہ دس گنا مقابلے کی طاقت دے رہا ہے۔
قرآن مجید میں اس کے بعد بلافاصلہ دوسری آیت ہے ۔ مگر مضمونِ آیت سے ظاہر ہوگا کہ یہ بلافاصلہ اُتری نہیں ہے۔ اسی سے ثابت ہوجائے گا کہ ترتیب مطابق تنزیل نہیں ہے۔ جہاں ذرا جوڑ ملتا ہوا دیکھا، خواہ واقعی جوڑہویا اپنے حسب ِمصلحت ہو، وہاں پر آیت رکھ دی۔ اس سے بحث نہیں کہ جب نازل ہوئی تھی تو بیچ میں کتنی مدت گزری تھی، کتنا فاصلہ تھا اور کیا اس درمیان کی مدت میں اگر کئی سال کی ہے تو کوئی اور آیت اُتری ہی نہیں۔ اب مضمونِ آیت دیکھئے کہ یہ مطالبہ ہوا اور اس کے بعد یہ آیت ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا:
”اَ لْاَنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضُعْفًا“۔
”اب اللہ تم سے تخفیف کئے دیتا ہے“۔
یہ دورِ رسول کے مسلمانوں سے خطاب ہے اور ان مسلمانوں کا جو معزز لقب ہے، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ ان سے خطاب ہورہا ہے کہ”الان“۔ تو یہ اب ہے ۔ کیا آیت کے فوراً بعد ابھی حکم دیا اور پتہ چل گیا کہ تم اس پر پورے نہیں اُترے۔ ماننا پڑے گا کہ وہ آیت اُتری، اس کے بعد کوئی معرکہ ہوا جس میں مسلمان پورے نہیں اُترے، اس معیار پر، تب یہ آیت اُتری:
”اَ لْاَنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ“۔
”اب اللہ تم سے تخفیف کرتا ہے“۔ یعنی ہلکا کرتا ہے اور:
”عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضُعْفًا“۔”پتہ چل گیا کہ تم میں کمزوری ہے“۔
اب یہ کمزوری کونسی ہے؟ مادّی حیثیت سے کمزوری تو یہ اسی سے ظاہر تھی کہ یہ دس ہیں اور وہ سو ہیں۔ یہ بیس ہیں ، وہ دو سو۔ یہ سو ہیں تو وہ ایک ہزار ہیں۔اب یہ کمزوری جو ہے، وہ ایمان کی کمزوری ہے۔ آپ ہر دَور میں سب کو معراج پر ہی پہنچا دیجئے۔ یہ آپ ذمہ دار ہیں۔مگر قرآن بتا رہا ہے کہ اس وقت وہ مطالبہ کیوں ہوا؟معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اپنے استحکامِ ایمان کا زعم بہت تھا۔ تو وہ آیت اُتری تاکہ خود اپنے کردار کے آئینے میں دیکھ لیں کہ کتنے پانی میں ہیں۔ پھر دوسری آیت اُتری کہ:
”فَاِنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ مِئَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوْامِئَتَیْنِ“۔
”تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آئیں اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب آئیں“۔
دوگنا مقابلہ تو ضرور ہونا چاہئے ۔ پھر ایک آیت کے تتمہ میں یہ ہے:
”ذَالِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَھُوْن“۔
”اس لئے کہ وہ جماعت ایسی ہے کہ کثرت میں زیادہ سہی مگر عقلِ ایمانی نہیں رکھتی“۔
یعنی تمہاری قلت ِتعداد کے توازن کو تمہاری بصیرتِ ایمانی کے ساتھ پورا ہونا چاہئے۔
اب جو یہ پہلے مطالبہ ہوا کہ تم دس گنا پر غالب آؤ، دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ دوگنے پر غالب آکر دکھاؤ، اس لئے کہ وہ اس بصیرتِ ایمانی سے محروم ہیں۔معنی یہ ہیں کہ آخر کچھ تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق ہو۔ اگر برابر کا مقابلہ ہوا تو تمہارا امتیاز کیا ثابت ہوگا؟ کم از کم دوگنے مقابلے سے تو نہ گھبراؤ۔
میدانِ جنگ میں صبر کا مطالبہ ہورہا ہے۔اب میں ان جدیداور قدیم دونوں نظریات کو اس کسوٹی پر پرکھتا ہوں۔ جدید کیلئے تو یہ عرض کرچکا کہ کیا یہ معنی ہیں کہ چپکے سے سب حربے سہہ لو تو پھر غالب آجاؤ گے؟ حضور! قرآن سمجھنے کیلئے عقل کو خیر باد کہنے کی تو ضرورت نہیں ہے۔قرآن تو عقل والوں کیلئے ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ غور کرو۔ تو اب یہ میدانِ جنگ میں جو غلبہ حاصل کریں گے تو کیا سب حربوں کو چپکے سے برداشت کرکے کریں گے؟ وہ تصور کیسے صحیح رہا کہ صبر بزدلی کی تعلیم دیتا ہے؟ صبر تو اتنی بڑی بہادری کی تلقین ہے کہ دس ہزار پر غالب آنے کی ہمت رکھو۔
وہ دوسرے مکتب ِ خیال کے علمائے کرام جو تعریفیں کررہے تھے اور جسے عوام نے حفظ کرلیاکہ صبر یہ ہے کہ روؤ نہیں۔ بس ادھر آنسو نکلا اور انہوں نے کہا کہ صبر کا دامن چھوٹا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہاں میدانِ جنگ میں صبر کے معنی یہ ہیں کہ روؤ نہیں؟ چاہے میان سے ہنستے ہوئے چلے جاؤ۔ نہ وہ معنی یہاں بنتے ہیں، نہ یہ معنی یہاں بنتے ہیں۔ اس کے بعد اسی صبر کا مطالبہ ہوتا ہے ، ان مصائب میں جو بقضائے الٰہی ہوتے ہیں کہ کسی کا عزیز جدا ہوگیا۔ بیٹے نے باپ کو داغِ جدائی دے دیا۔ باپ کا سایہ بیٹے کے سر سے اُٹھ گیا۔ بھائی ، بھائی سے جداہوگیا۔ وہاں ہر ایک ہی کہتا ہے کہ صبر کرو۔ وہ بھی اپنی طرف سے نہیں کہتا، قرآن مجید نے وہاں بھی یہی کہا ہے:
”وَبَشِّرِالصَّابِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالُوْااِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“۔
”ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو کہ جب ان پر کوئی مصیبت آئے تو ان کا قول یہ ہو کہ ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف ہمیں
جانا ہے“۔
میں عرض کرتا ہوں کہ اس آیت کے زیر سایہ یہ بھی اسلامی تہذیب ہوگئی کہ جب مصیبت پڑے، یہ الفاظ زبان پر بھی جاری کردو۔ اسی آیت کی تلاوت کردو۔ یہ درحقیقت اس کی اصل تعمیل نہیں ہے۔ یہ رمز ہے اس جذبہ کا ورنہ اصل، اسی لئے میں نے یہ ترجمہ نہیں کیا کہ جب مصیبت آئے تو یہ کہیں۔ میں نے ترجمہ یہ کیا ہے کہ جب مصیبت آئے تو ان کا قول یہ ہو۔قول کے معنی ہیں نقطہ نظر۔ یہ لفظی قول نہیں ہے۔ یہ تصور ہے، خیال ہے، عقیدہ ہے، یقین ہے کہ ہم اللہ کے ہیں۔ یعنی بھائی اُٹھ جائے تو ذہن میں اس کے یہ ہو کہ ہم اللہ کے ہیں۔ بیٹا چلا گیا تو سمجھے کہ ہم اللہ کے ہیں۔ یہاں ”ہم“ کے معنی یہ ہیں کہ میں بھی اسی کا ہوں ، جو گیا وہ بھی اُسی کا تھا۔ میں بھی اسی کی مِلک ہوں، وہ بھی اس کی مِلک ہے۔یہ تصور ذہن میں ہو، یہ عقیدہ ذہن میں ہو ، تب اللہ سے شکوہ نہیں ہوگا۔ تب تقدیر الٰہی پر اعتراض نہیں ہوگا۔ اور اصل معیارِ صبر یہاں یہی ہے ان مصائب میں ۔
جو وہ حضرات کہتے ہیں کہ چپکے سہہ لینا ، تو بتائیے کہ ان مصائب میں چپکے سے سہے گا؟ نہیں، تو اور کیا کرے گا؟یا جنگ کیجئے گا۔ کتنے ہی بڑے باغی ہوں، اس کے سامنے تو سرجھکانا ہی پڑتا ہے۔ عزیز داغِ جدائی دے رہا ہے، تو کیا یہ جائیں گے اس سے جنگ کرنے؟ سر نہ جھکائیں گے تو کیا کریں گے!سلطنت ِ الٰہی کے کتنے ہی بڑے باغی کیوں نہ ہوں ، لیکن بہرحال اس کے مقابلہ میں بغاوتوں کا نشہ ہرن ہوجائے گا۔بغاوت پر آج ایک طبقہ کو بہت ناز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں تو اُس وقت مانوں گا کہ آپ بہت بڑے باغی ہیں کہ جب وہ آپ کو بھیجے تو آپ آئیں نہیں اور جب وہ بلائے تو جائیں نہیں۔
حالانکہ کتنے ہی ترقی یافتہ ذہن کے باغی ہوں لیکن جب اس نے بھیجا ، تب آئے تھے۔ خیر کہہ لیں کہ اُس وقت تک شعورِ بغاوت نہیں ہوا تھا لیکن اب تو ماشاء اللہ پروبال نکل آئے ہیں۔ پَر پرواز پیدا ہوگئے ہیں۔ اب جب وہ بلائے تو جائیے نہیں۔ مگر جب اُس نے بھیجا، تب آئے اور جب وہ بلائے گا، تب چلے جائیں گے۔ جب آئے تھے تو کم از کم روئے تو تھے ، جب جائیں گے، تب تو سانس بھی نہیں لیں گے، چپکے سے چلے جائیں گے۔یہ ہے اس انسانِ ضعیف البنیان کا دعوائے بغاوت۔
تو یہاں اگر سہے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟ تو وہ تصور یہاں پر بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ چپکے سے سہہ لو اور مقابلہ نہ کرو۔ یہاں مقابلے کا سوال کیا؟ پھر علماء سے پوچھئے کہ مفسرین نے صبر کیلئے کہا ہے کہ یہ اتنا جامع لفظ ہے ، جتنے احکامِ شریعہ ہیں، وہ سب صبر میں داخل ہیں۔پوری شریعت صبر میں داخل ہے۔ اس لئے کہ صبر کی دو اقسام ہیں: ایک صبر علی المتروک اور ایک صبر علی المحبوب۔ ناگوارِ طبع بات پر صبر اور گوارائے طبع یعنی محبوبِ نفس چیز سے صبر۔اس کے وجود پر صبر، اُس کی جدائی پر صبر۔ واجبات کی جتنی پابندی ہے۔ وہ سب صبر علی المکروہ میں داخل ہے، کیوں؟ اسلئے کہ خود پابندی نفس انسانی پر شاق ہے۔ نفس انسانی پر بار ہے۔ اسی لئے احکامِ شریعہ کو تکلیف کہتے ہیں کہ وہ اوامر و نواہی کی پانبدی باعث ِتکلیف ِطبع ہے،خود نفس انسانی پر۔
عام نفس کا ذکر ہے، اُن ہستیوں کاذکر نہیں ہے جو بے نفس ہوگئیں اور اپنی رضا کو رضائے الٰہی کا پابند بنالیا۔ ان کی تو نہ خوشی کچھ رہی اور نہ ناخوشی کچھ رہی۔ لیکن عام افرادِ انسانی کیلئے یہ پابندی خود ناگواری کا باعث ہے۔ کچھ افراد تفریح کے عادی ہوں، فرض کیجئے آپ ایک سڑک پر تفریح کیلئے جایا کرتے تھے اور واقعی ہوا خوری سے تفریح ہوا کرتی تھی۔لیکن جس دن سے وہاں کوئی کام ہوجائے گا، اُس کی وجہ سے اب جانا ضروری ہوگیا تو اُسی دن سے تفریح ختم ہوجائے گی اور وہ جانا بارِ خاطر ہوجائے گا۔ یہ انسان کا نفسیاتی تقاضا ہے کہ پابندی بارہے۔ تو اب اگر انسان نے واجبات کی پابندی کی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکمِ الٰہی کی وجہ سے ایک ناگوارِ طبع چیز یعنی پابندی کو برداشت کیا۔ پھر یہ کہ بعض اوقات پانبدی واقعی باعث ِتکلیف ہوتی ہے۔حضور! گرمی میں دوپہر کا وضو تو ٹھیک ہے انسان کیلئے، باعث ِآرام ہے، جو گرمی لگ رہی تھی، اس میں وضو کرنے سے ذرا سکون ہوجائے گا۔ لیکن سردی میں اور نمازِ صبح کا وضو ، وہ کون ہے جس کیلئے باعث ِتکلیف نہ ہو۔
اب اگر حکمِ الٰہی کے دباؤ سے کسی نے اس کو برداشت کیا تو بلاشبہ یہ امر صبر میں داخل ہے۔ صلیبی لڑائیاں جو ہورہی تھیں، ان میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک فوج کے سالار نے شام میں ایک عیسائی فوجی کیمپ قائم کیا تھا اور وہ خیمے کے در پر کھڑا دیکھ رہاتھا کہ ایک عرب آیا۔ سامنے نہر بہہ رہی تھی اور نہر کے اوپر برف جمی ہوئی تھی۔ وہ عرب آیا اور اس نے اس برف کو اپنے ہاتھ سے توڑا اور نیچے سے جو پانی برآمد ہوا،
اس نے اُس سے وضو کیااور سبزے پر کھڑے ہوکر نمازِ صبح ادا کی۔تو اس عیسائی فوجی نے اپنی فوج والوں سے کہا کہ دیکھو! جس قوم میں ایسی بات ہو،اُسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کرسکتی۔
جو جملے اُس نے کہے ہیں، وہ بڑے دُوررس ہیں کہ میں تمہارا سالار تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہوں ۔ میں اس وقت تم میں سے کسی سے کہوں کہ وہاں چلے جاؤ، تم سردی کا عذر کروگے اور ان کا سردار جس نے حکم دیا تھی، وہ کئی صدیاں ہوئیں، اس دنیا سے چلا گیا اور یہ اُس کے حکم کی تعمیل اس وقت کررہے ہیں۔ تو بتاؤ ان سے بڑھ کر قوتِ عمل کس میں ہوگی؟ آجکل کے مسلمان نوجوان دیکھیں، جو یہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ سے کیا ہوتا ہے! دیکھئے جو حقیقت رس ہیں، وہ اس نماز میں کیا طاقت محسوس کرتے ہیں۔اس کے دو جملوں پر آپ کو اور توجہ دلاؤں گا کہ میں تمہارا سالار ، تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوں اور میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ، تم مشکل سے تعمیل کرو گے اور ان کا سالار سامنے نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایمان بالغیب کی طاقت کا اندازہ لگایا۔ یہ تو میں نے وضو کی مثال پیش کی۔اس کے بعد روزہ ، وہ جاڑوں کا روزہ تو خیر، وہاں گرمی کا وضو خیر تھا، یہاں جاڑے کا روزہ خیر۔ مگر گرمی کا ، مئی او رجون کا روزہ جس میں دن کی طوالت بھی زیادہ ہوجاتی ہے اور پھر گرمی کی تپش۔ حکمِ الٰہی کی تعمیل میں آدمی روزہ رکھتا ہے۔ روزے رکھنے والے جو واقعی ہیں، وہ کیا گرمی اور جاڑے میں کوئی فرق کرتے ہیں؟ جس طرح جاڑے میں رکھتے ہیں، اُسی طرح گرمی میں بھی رکھتے ہیں۔ بے شک اس میں مشقت ہے، اس میں بڑی ناگواری ہے۔ اصل ذوقِ شاعری کے کچھ مذہب ہوتے ہیں کہ شاعر چاہے کسی مذہب کا ہو، مگر جب شعر کہے گا تو اسی مذہب کے کہے گا۔
مثال کے طور پر خود شراب سے کتنا ہی پرہیز کرتا ہو، مگر شاعر ہوکر اسے شراب کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ بغیر اس کے شعر نہیں ہوگا۔”بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کے بغیر“۔ ہمیں معلوم ہے کہ زندگی میں کبھی شراب کی طرف رُخ نہیں کیا لیکن شراب کی تعریف کرنے میں انہیں کیسا مزہ آتا ہے!اسی طرح خود واقعی کتنے ہی زاہد و متقی ہوں لیکن شعر میں آکر زاہدوں پر چوٹ ضرور کریں گے۔ پرہیزگاروں پر چوٹ ضرور کریں گے۔چاہے مطلب کچھ بھی ہو لیکن اب مسلک شاعری ہے، وضع شاعرانہ ہے۔ اشعار سے کسی کے مذہب کا پتہ نہیں چل سکتا۔
یہاں ایک لطیفہ یا دآگیا کہ زمانہٴ خلفائے عباسیہ میں ایک شخص نے شعر میں ا پنے جنسی تعلقات کا ذکر کیا۔ اُسے پکڑ کر دربارِ خلافت میں پیش کردیا گیا کہ اس نے خود اقرار کیا ہے اس جرم کا جس کی سزا سنگسار ہونا ہے۔اُس سے پوچھا: بتاؤ یہ الزام تم پر ہے۔ اُس نے کہا کہ میں اپنی صفائی میں بس قرآن کو پیش کرسکتا ہوں۔ سب حیران ہوئے کہ قرآن میں اس کی صفائی کہاں سے آئے گی؟ اُس نے کہا کہ قرآن کی یہ آیت یاد کرلیجئے کہ شعراء کی تعریف میں یہ کہا ہے کہ:
”یَقُوْلُوْنَ مَالَایَفْعَلُوْنَ“۔
”وہ کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں ہیں“۔
اس کی صفائی بہت کارگر ہوئی اور وہ چھوٹ گیا۔ قرآن نے اُسے چھڑوا دیا۔اسی طرح ایک شاعر نے طنز کیا ہے ان پر جو شراب سے پرہیز کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ارے تم نے پی ہی نہیں؟ یعنی تو جو اتنا پرہیزگار بناہوا ہے تو ذائقہ ہی سے واقف نہیں ہے؟ تجھے کیا معلوم کہ اس میں کیا کیف ہوتا ہے؟ تو نے تو پی ہی نہیں۔
چبھتا ہوا جملہ ہے۔میں شکر کرتا ہوں کہ مجمع میں سے زیادہ تر ایسے ہیں کہ واقعی کبھی ان کا دل نہیں چاہا ہوگا ۔ ایسے ماحول کو اللہ کی نعمت سمجھنا چاہئے کہ کتنا ہی ان لوگوں کے ساتھ رہے، تعریف سنی لیکن پینے کے خیال نہیں آیا کہ ہم بھی ذرا اس ذائقہ سے روشناس ہوں۔ لیکن اب میں اس شاعر کو بلاؤں گا ماہِ رمضان میں کہ اب جو پابندی کررہے ہیں، اب ان سے کہو کہ تم نے پانی پیا ہی نہیں، تم نے کھانا کھایا ہی نہیں، روزے کا یہی سب سے سب سے بڑا امتحان ہے کہ جن چیزوں کے ذوق کا خوگر ہے انسان، انہی سے حکمِ الٰہی کی تعمیل میں بچنا ہے۔ا س لئے قرآن مجید میں اسی روزہ کیلئے صبر کا لفظ ہے۔ اکثر علماء ومفسرین کے ارشاد کے مطابق:
”وَاسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلوٰةِ“۔”مدد حاصل کرو نماز اور صبر کے ذریعہ سے“۔
تو بظاہر صبر اور نمزا دو غیر متعلق چیزیں ہیں۔ بعض علماء کے مطابق صبر سے مراد صوم ہے۔ روزہ کا نام بھی صبر ہے۔ پھرگرمی کا روزہ جو ہے، امیرالموٴمنین علیہ السلام کے ایک ارشاد سے اس کا اندازہ ہوتا ہے :
”اَلصَّوْمُ فِی الْحَرِّ جِہَادٌ“۔
ایک اور جگہ:
”اَلصَّوْمُ فِی السَّیْفِ جِہَادٌ فِی الشِّتَاءِ غَنِیْمَةٌ بَارِدَةٌ“۔
فرماتے ہیں”گرمی کا روزہ وہ جہاد ہے کہ علی جیسا مجاہد اس کو جہاد تسلیم کررہا ہے کہ گرمی کا روزہ جہا دہے اور جاڑے کا روزہ؟ وہ تو غنیمت ِ باردہ ہے“۔
وہ برودت بھی ہے کہ موسم ہی برودت کا ہے اور اس کے ساتھ بغیر لڑے بھڑے کا مالِ غنیمت ہے یعنی زحمت کوئی نہیں۔دن چھوٹا ہے، دھوپ بھی زیادہ نہیں ہے۔ سحر سے افطار تک اتنا فاصلہ ہے جتنا گرمی میں دو کھانوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے یا ذرا زیادہ ہے۔ بغیر لڑے بھڑے کا مالِ غنیمت ہے کہ فریضہ ادا ہوگیا، چاہے زحمت کتنی ہی کم ہو۔ جو روزہ نہیں رکھتے، وہ جاڑے میں بھی نہیں رکھتے۔ یہ ہے صبر علی المکروہ۔ اور محرمات سے پرہیز جو ہے، ناجائز کاموں سے ، وہ صبر علی المحبوب میں داخل ہے یعنی پسند ِطبع چیز کی جدائی پر صبر۔ جیسے وہاں پابندی ناگوارِ طبع، ویسے ہی یہاں جس چیز سے منع کیا جائے، اس چیز کو جی چاہنے لگتا ہے:
”اَ لْاِنْسَانُ حَرِیْصٌ عَلَی ماَ مُنِعَ“۔
کسی چیز کو کبھی دل نہ چاہتا ہو مگر جس دن سے ڈاکٹر صاحب پرہیز بتادیں گے، اس دن سے اسی چیز کو دل چاہنے لگے گا۔یہ انسان کی فطرت ہے۔ اگر انسان نے اس کی پابندی کی تو یہ بے شک صبر ہے ۔ تو پوری شریعت بے شک صبر میں داخل ہے۔ وہ تعریف اس پر منطبق کیجئے کہ چپکے سے ہر حربہ کو سہہ لو۔ یہ تعبیر منطبق کیجئے کہ روؤ نہیں۔
معلوم ہوا کہ دنیا صبر صبر چلّا رہی ہے اور صبر کے معنی معلوم ہی نہیں ہیں۔میں نے کئی مواقع پیش کئے کہ میدانِ جنگ میں بھی صبر ہے اور قضائے الٰہی میں جو مصائب ہیں، ان میں بھی صبر ہے اور احکامِ شریعہ کی پابندی بھی صبر ہے۔ اب علمی حیثیت سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صبر کا لفظ مشترک ہے۔ ایک معنی اس کے وہ ہیں ، ایک معنی یہ ہیں۔ اس کو ہر جگہ الگ معنی سے کہا جاتا ہے۔جہاں تک غو رکیا جاتا ہے،ایسانہیں ہے۔میں جہاں تک سمجھ سکا ہوں ،صبر کا وہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی سخت سے سخت ناگواری اور شدت تمہیں فرض کے جادے سے نہ ہٹائے۔اب فرض کیا ہے؟ اسے الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔ جہاں جو فرض ہو، اس پر عمل کرے، مثلاً قضائے الٰہی سے جو مصائب ہوں، وہاں فریضہ یہ ہے کہ قضائے الٰہی پر اعتراض نہ ہو، تقدیر الٰہی سے اظہارِ ناراضگی نہ ہو۔ ضرورت یہ سمجھنے کی ہے کہ جو ہوا ہے، اس پر رونے کا حق ہے۔
بھائی اگر چھوٹ گیاتو بھائی پر رونے کا حق ہے۔ باپ کا سایہ اُٹھ گیا تو سعادت مند بیٹے کو رونے کا حق ہے۔ بیٹا داغِ جدائی دے گیا تو جو فطرت کا تقاضا ہے، یعنی باپ کو رونے کا حق ہے۔ مگر جب رو رہا ہے ، اس وقت بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ جو ہوا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔ بس یہ ایمان کا مطالبہ ہے ، مجملاً یہ سمجھنا چاہئے ، یہ اصول سامنے رکھ کر کہ جس کے ہاتھ میں تقدیر کا قلم ہے، وہ میرا دشمن نہیں ہے اور جاہل نہیں ہے۔چونکہ دشمن نہیں ہے، اس لئے جان کر برائی نہیں کرے گا اور چونکہ جاہل نہیں ہے، اس لئے بے جانے برائی نہیں کرے گا۔
دو ہی اقسام ہیں برائی کرنے والوں کی۔ یہ اگر پیش نظر رہے تو ”رِضًابِقَضَائِہ تَسْلِیْمًا لِاَمْرِہ“کی حقیقت یہی ہے اور رونے کا حق ہے۔ وہ حضرات جو کہہ رہے ہیں کہ صبر کا تقاضا یہ ہے کہ روئیں نہیں، یہ غلط فہمی زمانہٴ رسول میں بھی موجود تھی اور رسول نے اس کو رَد کردیا۔ مگر نہ جانے کیا ہوا کہ چودہ سو برس کی مسافت طے کرکے وہ تصور آیا ہے جسے رسول نے غلط کہا ہے۔ وہ تصور نہ آیا جس کی رسول اصلاح کی تھی۔ جس وقت ابراہیم فرزند رسول کا وقت ِاحتضا ر تھا،ان کا سر پیغمبر رسول کے زانو پر تھا اور حضرت کی چشم ہائے مبارک سے آنسو رواں تھے جو ان کے رخساروں پر ٹپک رہے تھے۔ تو مذکورہ تصور کے مورثانِ اعلیٰ وہاں تھے۔ رسول کے پاس بیٹھ کر اس حالت میں ان کی انسانیت متقاضی ہوئی کہ پیغمبر کے عمل پر تعجب خیز اور اعتراض کے ساتھ سوال کریں۔
میں کہتا ہوں کہ اس عالم میں ایسے اعتراض کی انسانیت متقاضی ہوہی نہیں سکتی۔ مگر مجسم خلق عظیم کے پاس رہنے والے وہ افراد ایسا غیر انسانی عمل کررہے ہیں کہ عین اس وقت جب ابراہیم حالت ِاحتضار میں ہیں، (آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو) کہنے لگے:
”اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَتَبْکِیْ“۔یا رسول اللہ! آپ رو رہے ہیں؟“
کیا مطلب ہوا؟ یعنی گویا رونا آپ کی شان کے خلاف ہوا۔ صحابہ کا فرض یہ تھا کہ ہر وقت رسول کو شان یاد دلاتے رہیں، ان کو خدا نے ان کی شان کے سنبھالنے کیلئے رکھا تھا۔ تو یا رسول اللہ ! آپ گریہ فرماتے ہیں؟ تو پیغمبر خدا نے جو اس کا جواب دیا، اس کا ابھی عقلی تجزیہ کروں گا ، آپ نے ارشاد فرمایا :
”اِنَّ الْقَلْبَ لِیَحْزُنَ وَاِنَّ الْعَیْنَ لِتَدْمَعَ وَ ٰ لکِنْ لَا نَقُوْلُ اِلَّامَایَرْضٰی“۔
”دیکھو! دل تو رنجیدہ ہوتا ہے اور آنکھ اشکبا رہوتی ہی ہے لیکن ہماری زبان سے ایسا کوئی کلمہ نہیں نکل سکتا جو رضائے رب کے خلاف ہو“۔
تو اب یہ تصور ہوا ۔ اب عجیب بات ہے کہ ہماری وراثت میں غلط تصور آئے اور صحیح تصور نہ آئے۔ اس کا کیا مقصد ہے کہ دل تو رنجیدہ ہوتا ہی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ صبر کا وہ تصور کہ احساسِ غم ہی نہ ہو، آجکل ڈاکٹروں نے ایسی دوائیں ایجاد کردی ہیں کہ بیہوشی سنگھانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ وہ حصہ بے حس ہوجائے ، کتنا ہی نشتر بھونکا جائے، کتنی ہی سوئی چبھوئی جائے، اس میں کچھ اثر ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ عمل کرلیا ہے کہ مریض نے آپریشن کے درمیان اُف نہیں کی۔ کچھ بھی نہیں کہا۔ تو جناب! یہ اُف نہ کرنا کوئی کارنامہ ہے؟ ارے جب جسم کا وہ حصہ بے حس ہوگیا ہے،تو اب جتنا چیرا پھاڑا گیا، تو وہ کچھ نہیں بولا۔ تو یہ کونسی قابلِ تعریف صفت ہے۔
جنابِ والا! اگر دل اور دماغ ایسے ہی ماؤف ہوگئے ہیں کہ خوشی اور غم کا احساس ہی نہیں ہوتا تو یہ صبر کا کارنامہ کب ہوا؟ اس کے بعد یہ تصور کہ آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ احساسِ غم ہو یا نہ ہو، آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ دل اور آنکھ میں تعلق کس نے رکھا ہے کہ دل کو رنج ہوتا ہے تو ہاتھ تو نہیں پسیجتا۔پیر میں تو کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ یہ آنکھ ہی سے آنسو کیوں نکلتے ہیں؟معلوم ہوتا ہے کہ جو دل اورآنکھ کا خالق ہے، اس نے کوئی درمیان میں رابطہ رکھا ہے کہ جب دل پر اثرہوگا، تو آنکھ سے آنسو نکلیں گے۔اب اگر دل اور آنکھ دونوں مزاجِ معتدل پر رہیں تو یہ اثر ضرور نمودار ہوگا۔ وہ کیفیت ہے ، کوئی عمل نہیں ہے جس پر کوئی فتویٰ دیا جاسکے۔ اس سے کوئی شدید سے شدید حالت ہٹانہ سکے ، یہ ہے معیارِ صبر۔
اُن مصائب میں جو بقضائے الٰہی ہوتے ہیں، اپنے بس کی بات جو ہے، وہ یہ ہے کہ ایمان کے تقاضے کے خلاف کوئی عمل نہ ہو۔ خیال بھی ذہن میں نہ آئے۔ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ میدانِ جنگ میں ثباتِ قدم۔اصل اختیاری کام یہی ہے۔ نہ غازی ہونا اپنے بس کی بات، نہ شہید ہونا اپنے اختیار کی بات۔ اپنے اختیار میں ثابت قدم رہنا ہے۔ بس وہاں جس صبر کا مطالبہ ہے، وہ ثابت قدمی ہے۔ احکامِ شریعہ میں جو صبر ہے، وہ اس کی پابندی ہے۔ چاہے کتنی ناگواری ہو، جو صبر کا تقاضا ہے، وہ انجام دو۔
دیکھئے! ایک ہی معنی ہیں جو سب جگہ بنتے ہیں یا نہیں؟ ضرورت اس کی نہیں ہے کہ الگ الگ معنی قرار دیں۔ جہاں صلح کرکے بیٹھ جانا فرض کا تقاضا ہو، وہاں کھڑا ہوجانا بے صبری ہوگا۔ جہاں کھڑا ہوجانا فرض کا تقاضا ہو، وہاں لوگ لاکھ مشورے اس کے خلاف دیں، فلاں صاحب نے مشورہ دیا، فلاں صاحب نے مشورہ دیا، اتنے خیر خواہ تھے اور فلاں صاحب نے مشورہ دیا اور انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس پر عمل نہ کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ (معاذاللہ) بڑے ضدی تھے۔بہت ضد تھی مزاج میں ۔ میں کہتاہوں یہ نقطہ نظر کے ساتھ الفاظ بدلتے ہیں۔ جسے آپ ضد کہتے ہیں، وہی ثباتِ قدم ہے۔ جس کے مطلب کے ساتھ وہ ثباتِ قدم ہوتا ہے، وہ اسے ضد قرار دیتا ہے۔ اب چونکہ آپ اسی ثباتِ قدم کو ضد کہہ رہے ہیں تو میں اس لفظ کو اپنا لوں گا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا نام ضد ہے تو کون نبی ہے جو ضدی نہ تھا؟ کون رسول ہے جو ضدی نہ تھا۔ چونکہ راہِ حق میں ثباتِ قدم کبھی پھولوں کی سیج نہیں ہے، ہر نبی کو مصائب برداشت کرنا پڑے ہیں۔ ہر پیغمبر کو مشکلات برداشت کرنا پڑ ی ہیں۔ مشکلات سے گھبرا کر اور مصائب سے دل برداشتہ ہوکراگر ہٹ جایا جائے تو پھر حق ہم تک کیونکر پہنچتا؟
اب اس لفظ کو استعمال کرکے کہتا ہوں کہ یہ امانت ِحق جو ہمارے ہاتھوں تک پہنچی ہے،یہ ان کی ضدوں کا صدقہ ہے۔ پیغمبر خدا نے کیا مشکلات برداشت نہیں کیں؟ تیرہ برس تک جسم مبارک پر پتھر کھائے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ مخالف جماعت کا طرزِ عمل ہے کہ وہ کافر تھے مگر ان کے ہاتھوں میں پتھر تھے، تیر نہیں تھے۔کسی وقت مسلمان ہوں اور ان کے ہاتھوں میں تیر ہوں تو صابر کا کردار ایک ہی ہے۔ رسول کے مقابلہ میں پتھر تھے، وہ اُسے برداشت کررہے تھے۔ ان کے مقابلے میں تیر تھے، یہ اُسے برداشت کررہے تھے۔ صابر کے کردار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ آدم سے لے کر خاتم تک سب کا معیار یہی ہے اور یہی وہ میراث ہے جس کے لحاظ سے معصوم نے فرمایا:
اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِثَ آدَمَ صِفْوَةِ اللّٰہِ۔اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِثَ نُوْحَ نَجِیِّ اللّٰہ۔ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلِ اللّٰہ“۔
سب کے وارث کہے جارہے ہیں۔ یہ کیا وراثت ِنسبی ہے، خاندانی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر وراثت نسبی ہوتی تو اس فہرست میں موسیٰ کا نام نہ آیا، عیسیٰ کا نام نہ آتا کوینکہ وہ ان کے شجرہ میں نہیں ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ یہ وراثت نسبی نہیں ہے، یہ وراثت منصبی ہے۔ حفاظت ِ حق کا بار جو آدم کے کاندھوں پر تھا، وہ دوش بدوش منتقل ہوتا ہوا آپ کے کندھے تک آیا اور آپ کو وہ کردار اختیار کرنا ہے۔رسول سے کہا گیا:
”فَاصْبِرْکَمَاصَبَرَاُولُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ“۔
”پیغمبر! اسی طرح صبر کیجئے جس طرح آپ سے پہلے صاحبانِ عزم پیغمبروں نے صبر کیا“۔
تو یہ صبر کا کردا رجسے دنیا ضد کہہ رہی ہے، یہ تمام انبیاء و مرسلین کی وراثت ہے۔ اب میں الفاظ بدلتا ہوں ، اقبال کی زبان میں کہ انہوں نے کہا:
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آمدپدید
حقیقت میں ضرورتِ شاعری کے ماتحت اس میں دو نام آسکے، اُدھر اور اِدھر کے۔ دورِ قدیم سے موسیٰ آسکے اور پھر دورِ جدید میں شبیر آسکے۔اُدھر دورِ قدیم میں فرعون آسکا اور اِدھر دورِ جدید میں یزید(ملعون) آسکا۔وہاں انہوں نے دو دو نام لئے مگر بعد میں کیا کہا؟
زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغِ حسرتِ میری است
یہاں موسیٰ کا نام نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ حقیقت، جس کے موسیٰ حامل تھے، وہ بھی شبیریت تھی اور وہ حقیقت جس کا فرعون حامی تھا، وہ بھی یزیدیت تھی۔ یعنی یہ نام شخصی نہیں ہیں بلکہ یہ نام گویا صفت کے ہیں کہ ان صفات کا آدمی جس درجہ کا ہو، وہ شبیر ہوتا ہے اور اس صفت کا آدمی جس درجہ کا ہو، وہ یزید ہوتا ہے۔