افسانہ عقد ام کلثوم
 

سیدہ ام کلثوم کا مشہور نوحہ
1:- اے ہمارے نانا کے مدینہ تو ہم کو قبول نہ کر کیونکہ ہم غم وحزن لے کر آئے ہیں ۔
2:- اے مدینہ ! رسول اللہ کی خدمت میں ہماری طرف سے عرض کر کہ ہم اپنے پدر بزرگوار کی مصیبت میں گرفتار ہوئے ۔
3:- اے مدینہ ! ہمارے مدر کربلامیں بے سرپڑے ہیں اور ہمارے فرزند ذبح ہوچکے ہیں ۔
4:- ہمارے نانا کو خبر کر ہم گرفتار کرکے قیدی بنالئے گئے ۔
5:- اور اے خدا کے رسول ! آپ کا خاندان کربلا میں بے گور و کفن پڑا ہے ان کے کپڑے تک چھین لئے گئے ۔
6:- حسین کو شہید کیا اور آپ کی رعایت ہمارے واسطے نہ کی ۔
7:- اے رسول خدا ! کا ش آپ اپنی آنکھوں سے ان قیدیوں کو پالان شتر پر سوار دیکھتے !
8:- یا رسول اللہ ! پردہ وحجاب کے بعد یہ نوبت آگئی کہ لوگ ہمارا تماشہ

93
دیکھنے کے لئے آئے ۔
9:- یا رسول اللہ ! آپ ہماری حفاظت ونگہداشت فرماتے تھے آپ کے بعد دشمنوں نے ہم پر ہجوم کیا ہے ۔
10:- اے فاطمہ ! کا ش آپ اپنی بیٹیوں کو دیکھیں کہ کس طرح قیدی بنا کر شہر شہر پھرائی گئی ہیں ۔
11:- اے فاطمہ ! کا ش ہم سرگشتوں کی جانب آپ دیکھتیں اور کاش زین العابدین کی حالت کو ملاحظہ فرماتیں ۔
12:- اے فاطمہ ! کاش آپ دیکھتیں کہ راتوں کی بیداری نے ہم کو اندھا کردیا ۔
13:- اے فاطمہ ! جو مصائب ہم نے دشمنوں کے ہاتھوں پرداشت کئے ہیں ان مظالم سے کہیں سوا ہیں جو آپ نے اپنے دشمنوں سے اٹھائے تھے
14:- اے فاطمہ ! اگر آپ ہوتیں تو ہماری حالت دیکھ کر قیامت تک روتیں اور نوحہ کرتیں ۔
15:- (اب ذرا) بقیع جا کر حبیب خدا کے فرزند کو پکارو۔
16:- اور کہو کہ اے چچا حسن مجتبی آپ کے بھائی کے عیال و اطفال مارڈالے گئے ۔
17:- اے چچا! آپ کا ماں جایا بہت دور کربلا کی ریت پرپڑا ہے ۔
18:- بغیر سر کے آرام کررہا ہے جس میں پرندے ودرندے نوحہ وبکا کررہے ہیں ۔
19/20:- اے مولا کاش آپ وہ منظر دیکھتے جبکہ بے یارو مددگار اہل حرم کو بے کجادہ اونٹوں پر تشہیر کیا جارہا تھا اس وقت آپ کے اہل عیال سر ننگے نظر آتے تھے ۔

94
21:- اے ہمارے نانا کے مدینہ ! اب ہم تجھ میں رہنے کے قابل نہیں رہے کیونکہ بڑے رنج وغم کو لے آئے ہیں ۔
22:- جب ہم تجھ سے نکلے تھے تو تمام اہل عیال کے ساتھ نکلے تھے اور اب جو پلٹے ہیں تو نہ مردوں کا سایہ ہمارے سروں پر ہے نہ بچے ہماری گودیوں میں ہیں ۔
23:- مدینہ سےنکلتے وقت ہم سب اکٹھا ہوکر نکلے تھےلیکن جب لوٹے تو سر برہنہ ہوچکے تھے ۔ ہماری چادریں چھینی جاچکی تھیں ۔
24:- مدینہ سے نکلتے وقت ہم اللہ کی امان میں تھے ۔جب واپس آئے ہیں تو خائف وترساں ہیں ۔
25:- جب ہم یہاں سے نکلے تھے تو ہمارا والی و وارث حسین ہمارے سرپرموجود تھا اور اب ان کو کربلا میں دفن کرکے آرہے ہیں ۔
26:- ہم وہ اجڑے ہوئے ہیں جن کا کوئی کفیل نہیں ہے ہم اپنے بھائی کے نوحہ گر ہیں ۔
27:- ہم وہ ہیں جن کو شتران برہنہ پر در بدر پھرایا گیا ۔
28:- ہم یسین و طہ کی دختران ہیں ۔ ہم اپنے باپ کی نوحہ گر ہیں ۔
29:- ہم وہ پاکیزہ مخدرات ہیں جن کی طہارت چھپی ہوئی نہیں ہے ۔
30:- ہم بلاؤں پر صبر کرنے والے ہیں ۔ہم صدق وصفا والے ہیں ۔
31:- اے نا نا ! آپ کی امت نے حسین کو مارڈالا ۔اور آپ کا کوئی خیال نہ کیا ۔
32:- اے نانا ! دشمن اپنی مراد کو پہنچ گئے اور ہمارے بارے میں انھوں نے اپنی شقاوت ک انتہا کردی ۔

95
33:- انھوں نے عورتوں کی بے حرمتی کی اور ظلم و قہر سے ان کو اونٹوں پر پھرایا ۔
34:- انھوں نے زینب کو خیمہ سے باہر نکالا فاطمہ گریاں ہیں ۔
35:- خیانت سکینہ سوزش غم سے فریاد کناں پروردگار عالم کو مدد کے لئے پکار رہی ہے ۔
36:- خیانت کاروں نے زین العابدین کو ذلت کے ساتھ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی ہیں ان کے قتل کا ارادہ کیا ۔
37:- ان مرنے والوں کے بعد زندگانی دنیا پر خاک ہے کیونکہ اسی دنیا کے سبب ہو کو موت کا جام پلایا گیا ہے ۔
38:- اے سننے والو! یہ ہے میری داستان غم اور شرح حال ہم پر گریہ وبکا کرو ۔
(بحار الانوار حصہ دوم پ 2 ص 83)
سید ہ ام کلثوم سلام اللہ علیھا کا یہ نوحہ شیعہ وسنی محدثین ومورخین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے جب قافلہ سادات اسیری سے رہائی پا کر مدینہ کی طرف پلٹا تو شہزادی نے مدینہ کودیکھتے ہی گریہ وبکا شروع کردیا اور خوب روئیں ۔شہر مدینہ کی جانب توجہ کرکے مندرجہ بالا پر درد نوجہ پڑھا ۔بی بی پاک اسیرہ کربلا کے بعد اس کرہ ارضی پر حیات تھیں اور آپ کا اپنے نانا ،والدہ معظمہ اور برادر محترم کا پکارنا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ بطن سیدہ طاہرہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے تھیں نہ کہ حضرت علی علیہ السلام کی کسی دوسری زوجہ سے ۔
پس ثابت ہوا کہ وہ ام کلثوم جو حضرت عمر کے عقد میں آئیں ۔حضرت

96
علی و فاطمہ (علیھما السلام) کی دختر نہ تھیں ۔کیونکہ زوجہ عمر کا انتقال عہد معاویہ میں ہوگیا جبکہ بنت علی کی وفات سنہ 62 ھ سنہ 65ھ یا سنہ 75 ھ میں با ختلاف روایات بیان ہوئی ہے ۔
لہذا عقل ونقل کی بنیاد پر شیعہ وسنی کی نہایت معتبر ومستند کتب سے روز روشن کی طرح ثابت ہوگیا کہ امیر المومنین سیدنا علی المرتضی اور سیدہ نسا ء العالمین حضرت فاطمہ (علیھما السلام) کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم حضرت عمر کی رشتہ میں پر نواسی تھیں لہذا افسانہ نکاح ام کلثوم ہر لحاظ سے باطل ہے اور اس عقد کو فرض کرنے سے حضرت عمر کی سخت توہین او ر حضرت علی کی بہت بے عزتی ہوتی ہے ۔
ہم قرآن مجید کی اس آیت کو اپنی اس کتاب کا تتمہ بالخیر قرار دے کر التماس دعا کرتے ہیں ۔
"قد بیننا لکم الآیات ان کنتم تعقلون" ہم نے تمھارے سامنے بد لائل ثابت کردیا اگر عقلمند ہو۔

وللہ الحمد ظاھر ا وباطنا
عبد الکریم مشتاق
٭٭٭٭٭