افسانہ عقد ام کلثوم
 

70

حقیقت
افسانہ تمام ہوا ۔اب حقائق کا رخ ملاحظہ فرمائیے ۔روائتی ودرائتی اعتبار سے عقد ام کلثوم ایک مفروضہ بد نہاد کاروائی قرار پایا ۔اب تاریخی اجمال سے اس نام نہاد نکاح کی حیثیت سماعت فرمائیں ۔

تاریخی خامیاں :-
(1):- یہ عقد ذیقعد سنہ 17 ھ میں منعقد ہونا بیان کیا گیا ہے ۔اسی سال حضرت زینب بنت علی علیھما السلام کی شادی خانہ آبادی جناب عبد اللہ بن جعفر سے ہوئی ۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بڑی بیٹی کی موجودگی میں چھوٹی دختر کا نکاح پہلے کیوں کردیا گیا ؟
(2):- تاریخ میں تصریحا مرقوم ہے ۔ام کلثوم اور ان کے صاحبزادے زید جنکی عمر بیس بر س تھی کا انتقال ایک ہی وقت پر ہوا ۔امام حن نے عبداللہ بن عمر کو نماز جنازہ پڑھنے کو کہا جبکہ ام کلثوم سنہ 61 ھ میں واقعہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھیں اور اسیران کربلا میں تھیں ۔عبداللہ بن عمر کا یزیدی حکومت پر بہت اثر ورسوخ تھا حتی مختار کو ان ہی عبداللہ کی سفارش پر رہا کردیاگیا تھا حالانکہ وہ اعلانیہ بنی امیہ کے جانی دشمن تھے ۔ مگر ان عبداللہ بن عمر کی سوتیلی ماں ہوتیں تو وہ ضرور غیرت کھاتے اور اپنے باپ کی عزت کو بازاروں میں در بدر نہ ہونے دیتے ۔
(3):- مورخین نے لکھا ہے کہ بعد از وفات عمر حضرت ام کلثوم کا نکاح عون بن جعفر سے ہوا حالانکہ شیعہ روایات میں سنہ 17 ھ میں بی بی زینب و ام کلثوم

71
دونوں کا عقد ایک ہی وقت میں ایک ہی وقت میں عبد اللہ اور عون سے ہوا ۔بعد از وفات عمر حضرت عون سے بی بی ام کلثوم کا نکاح اس لئے نا قابل تسلیم ہے کہ جناب عون بن جعفر زمانہ عمر ہی میں جنگ فارس میں کام آگئے یعنی عون حضرت عمر کی زندگی ہی میں انتقال کرگئے ۔پس بعد از موت عمر کیا عون کی روح سے شادی ہوئی ؟ ۔سنہ 20 ھ میں ام کلثوم کا دوسرا عقد جناب محمد بن جعفر طیار سے ہوا جو جنگ صفین میں شہید ہوگئے اس کے بعد ام کلثوم کی نسبت سے ان کی کنیت ام کلثوم ہوگئی جبکہ اصل نام زینب صغری تھا ۔
(نوٹ :- بعض علماء اور عہد حاضر کے محققین کا خیال ہے کہ حضرت ام کلثوم کا عقد صرف عون بن جعفر ہی سے ہوا جو واقعہ کربلا میں جہاد کے میدان میں شہید ہوئے ۔)
(4):- کسی بھی روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وقت نکاح یعنی سنہ 17 ھ میں منکوحہ ام کلثوم بالغہ تھیں بلکہ صغیرہ اور صبیہ کے الفاظ کمسنی پر زور دیاگیا ہے ۔جبکہ حضرت ام کلثوم بنت علی و فاطمہ سنہ 17 ھ میں قابل شادی تھیں ۔ام کلثوم کا نابالغی اور کمسنی پر تمام مورخین کا اتفاق ہے اور ابن حجر مکی نے اس سلسلہ میں ایک وضاحتی بیان لکھا ہے جو آپ آئندہ ملاحظہ کریں گے ۔
(5):- اہل بیت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افراد نے اکثر اس نام نہاد نکاح کا انکار کیا ہے چنانچہ علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں ۔
"اہل بیت کی جماعت جہلا اس نکاح سے کرتی ہے جس سے ہمیں تعجب ہوتا ہے " ابن حجر مزید لکھتے ہیں "جب حضرت علی نے

72
ام کلثوم کو حضرت عمر کے پاس بھیج دیا تو وہ ان کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ۔ان کو اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ ان کے بوسے لئے ان کے حق میں دعا ئے خیر کی اور حضرت عمر نے ام کلثوم کو اپنی گود میں بٹھایا اور اپنے سینے سے چمٹایا ان کے ساتھ یہ برتاؤ ان کی عزت کے خیال سے کیا کیونکہ ام کلثوم اپنی کم سنی کی وجہ سے اس عمر کو نہ پہنچی تھیں کہ ان پر شہوت ہوسکتی جس کی وجہ سے حضرت عمر پر یہ باتیں حرام ہوتیں ۔اگر وہ بہت چھوٹی بچی نہ ہوتیں تو ان کے والد ان کو حضرت عمر کے پاس بھیجتے ہی نہ تھے "۔(صواعق محرقہ مطبوعہ مصر 94)۔
اب ہم علامہ ابن حجر مکی سے پوچھتے ہیں کہ اگر یہ ام کلثوم واقعی بنت علی و فاطمہ تھیں (معاذاللہ ) تو سنہ 17 ھ میں و ہ گیارہ بارہ برس کی ہوچکی تھیں اتنی چھوٹی کس طرح ہوگئیں کہ مؤرخین نے صبیہ تک تعبیر کردیا حالانکہ مورخین نے ام کلثوم کا سن پیدائش سنہ 5 ص یا سنہ 6 بیان کیاہے پھر کس طرح حضرت علی علیہ السلام کا ان کو حضرت عمر کے پاس بھیجنا درست ہوگیا اور حضرت عمر کا بوس کنار ،سینے سے لپٹنا اور گود میں لینا جائز ٹھہرا ۔جبکہ عرب کی آب ہوا کے مطابق قریشی عورتوں کی حالت یہ تھی کہ بی بی عائشہ صرف نو برس کی عمر میں ہم بستری کے قابل ہوگئیں تھیں چنانچہ محترمہ خود فرماتی ہیں کہ اتنی عمر میں رسول نے میرے ساتھ جماع کیا ۔پس عقل ونقل دونوں طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ام کلثوم بنت علی و فاطمہ سنہ 17 ص میں بالغہ تھیں اور ام کلثوم زوجہ عمر اس وقت بلک ننھی ،نادان ،گود میں بٹھانے بلکہ بوسے کے قابل اور تمام بد دیکھے جانے کے لائق بچی تھیں ۔یہ وہی ام کلثوم تھیں جو سنہ 49 ھ میں فوت

73
ہوگئیں اور اس کے بعد دنیا میں ان کاوجود نہ تھا ۔سنہ 50 کے بعد جو ام کلثوم دنیا میں تھی وہ زوجہ عمر ہرگز نہ تھیں کیونکہ ایک ہی عورت کا سنہ 49 ھ دونوں کے خلاف ہے اور جو شخص ان دونوں کو ایک ہی کہے یا دونوں کے حالات ایک ہی عورت کے قرار دے یا دونوں کے تعلقات ایک ہی بی بی سے منسوب کرے ۔اس کے دماغ کا علاج کرنا ضروری ہوگا ۔ ایک بچہ بھی یہ سجھ سکتا ہے کہ سنہ 50 سے قبل مری ہوئی ام کلثوم اور تھی اور کربلا والی ام کلثوم اور .

ام کلثوم کی شخصیت کے تعین میں سنی علما کی گھبراہٹ:-
علمائے اہل سنت نے اپنے خلیفہ دوم پر سیدہ طاہرہ کی ناراضگی کا الزام دور کرنے کے لئے نکاح کلثوم کا افسانہ تو مشہور کردیا مگر اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بہت کچے سہارے ڈھونڈے اور لاکھ کو ششوں کے باوجود بھی یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ جس ام کلثوم بنت علی کا عقد سنہ 17 ھ میں فرض کیا گیا وہ جناب امیر علیہ السلام کی کونسی صاحبزادی تھیں وہ کب مری اور کس کس سے عقد کیا ۔ ایک جماعت علمائے اہل سنت نے دعوی کیا کہ ام کلثوم جناب زینب سے بڑی تھیں مثلا ابن سعد ،امام نووی ،حافظ ذہبی ، مسعودی وغیرہ اسی اشتباہ کی وجہ سے اہل سنت میں اختلاف ہے کہ عبداللہ بن جعفر سے ام کلثوم کی شادی کب ہوئی ۔ چنانچہ ابن سعد نے طبقات میں لکھا ہے کہ عبداللہ بن جعفر کا عقد ام کلثوم سے ان کی بہن زینب کے انتقال کے بعد ہوا ۔لیکن ابن انباری نے اس کے

74
خلاف یہ لکھا ہے کہ عبد اللہ بن جعفر کی شادی پہلے ام کلثوم سے ہوئی ان کے مرنے کے بعد زینب س نکاح کیا حسن عدوی ک بھی یہی رائے ہے ۔
حالانکہ یہ بلکل غیر معقول بات ہے کیونکہ علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ام کلثوم زوجہ عمر کا انتقال معاویہ بن ابو سفیان کے دور میں ہوا پھر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ زینب بنت علی کے پہلے شوہر عبد اللہ بن جعفر ہیں اگر ابن انباری اور عدد ی کا قول مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ بی بی زینب کی شادی 49 سال کی عمر میں ہوئی جو قطعا باطل ہے کیونکہ سنہ 17 جناب علی علیہ السلام خود نے حضرت زینب کا عقد عبد اللہ سے کیا ۔
مصری ادیب حسن قاسم اپنی کتاب "السیدہ زینب " میں دعوی کرتے ہیں کہ ام کلثوم کی شادی حضرت عمر سے ہوئی اور عہد معاویہ میں ان کا انتقال ہوا اور مدینہ میں وفات پائی (صفحہ 23) مگر یہی صاحب آگے جا کر پھر لکھتے ہیں کہ ام کلثوم واقعہ کربلا میں موجود تھیں اور شام میں مدفون ہوئیں (صفحہ 64)۔
"دروغ گو حافظہ ندارد" اب بھلا سوچیں معاویہ کے دور میں مرگئی ام کلثوم یزید کے زمانہ حکومت میں اس قیدی بننے کے لئے مدینہ کے قبر ستان سے اٹھ کر شام چلی گئی تھی؟۔
بعض علمائے اہل سنت مثلا ابن جوزی اور لیث وغیرہ نے دعوی کیا ہے کہ ام کلثوم بنت علی جن کا اصل نام رقیہ تھا وہ کم سنی میں وفات پاگئیں ۔
جن لوگوں نے اس افسانوی نکاح کو بیان کیا ہے انھوں نے عمر کی

75
وفات کے بعد مختلف شوہروں کو مختلف ترتیب سے بیان کیا ہے ۔اور یہ اختلاف ازخود ثابت کرتا ہے کہ کہانی جھوٹی ہے ۔