افسانہ عقد ام کلثوم
 

شیعہ روایات کا جواب

عدت گزارنے کا مسئلہ:-
فروع کافی ،استفسار ،تہذیب کی جو روایت عدت گزارنے کے مسئلہ میں مولوی عبد الرحمان صاحب نے نشان کروائی ہے اس کے راوی مجروح ومقدوح اور فاسد العقیدہ ہیں ۔
فروع کافی کے راوی حمید بن زیاد اور ابن سماعہ ہیں ان دونوں کا تعلق مذہب واقفی سے ہے جن کو کفر و زندقہ تک مماثلت ہے جیسا کہ "رجال

59
مامقانی جلد اول ص 378 پر امام رضا علیہ السلام کی احادیث سے ثابت ہے کہ اسی راویت کا ایک راوی حسن بن محمد بن سماعہ ہے جو علماء رجال کے نزدیک بالاتفاق واقفی المذہب تھا ۔(رجال کشی ص 293)
اسی طرح دوسری روایت کا راوی ہشام بن سالم ہے جو فاسد العقیدہ تھا اور اللہ کی صورت مانتا تھا (رجال کشی ص 184)
یہ روایت سلیمان بن خالد سے بھی مروی ہے جو زیدیہ فرقہ سے تھا ۔تنقیح المقال جلد 57 پر ہے ۔نجاشی اور شیخ طوسی نے اسے ثقہ تسلیم نہیں کیا ۔ابن داؤد نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور مقیاس الدرایہ ص 84 پر ہے کہ زیدی ،واقفی ،ناصبی ،ایک منزلت پر ہیں ۔

مسالک الافہام کی روایت :-
مسالک الافہام کتب معتبرہ میں شمار نہیں ہوتی اس میں شارح کی اپنی رائے کا ذکر ہے جو حجت قرار نہیں پاسکتا ہے ۔حالانکہ اس کے خلاف کثرت سے شواہد موجود ہیں ۔

زید و ام کلثوم کا بیک وقت فوت ہونا :-
اس روایت کا راوی سعید بن سالم قداح ہے جو مجہول الحال ہے ۔(دیکھئے رجال مامقانی جلد 1 ص 65)

شہید ثالث کا بیان:
قاضی نوراللہ شوستری نےیہ بیان اس نکاح کی تردید میں دیا ہے اور "اگر" سے مفروضہ قائم کیا ہے کہ بالفرض محال اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ نکاح ہوا تو بھی احتمال خطا کی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت عمر کلمہ گو تو تھے ۔

علامہ شہر آشوب کی رائے :-
علامہ شہر آشوب نے مناقب میں شیعہ وسنی دونوں طرح کی روایات نقل کی ہیں ۔یہ کتاب ذاتی عقید ے سے بالا تر ہوکر نقل برائے نقل پر مبنی ہے "مجمع الفضائل " کے نام سے اس کا اردو ترجمہ سرکار ادیب سید ظفر حسن صاحب قبلہ نے شائع فرمایا ہے جو

60
عام دستیاب ہے ۔ اس کتاب کی جلد 2 ص 274 پر یہ ذکر موجود ہے اور اس کے بعد یہ تحریر کیا گیا ہے کہ "علامہ شہر آشوب نے یہ رائے صاحب شافی اور صاحب الانوار کی لکھی ہے ۔نہ کہ اپنا عقیدہ ۔شیعوں نے اس کی ترویج کو کسی وقت بھی تسلیم نہیں کیا اس غلط روایت کی تردید میں متعدد کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس کے بعد والی روایت نقل کرنے کے بعد تحریر ہے کہ "یہ سب معاویہ شاہی ٹکسال کے کھوٹے سکے ہیں ۔ایسی روایات نہ عقلا صحیح ہیں نہ نقلا ص 474۔

سراکار علم الہدی کی تحریر:-
جناب علامہ مرتضی علم الہدی نے محض اس قسم کے نکاح کی صورت کو جائز قرار دینا فرض کیا ہے نہ کہ حضرت عمر اور حضرت ام کلثوم بنت علی وفاطمہ کے عقد کو صحیح تسلیم کیا ہے ۔

شیخ قمی کا اظہار:-
علامہ شیخ عباس قمی نے صرف اس قصّے کا کتابوں میں لکھا ہونا بیان کیا ہے نہ کہ تائید کا اظہار ۔

منتخب التورایخ :-
یہ کتاب مناظر انہ ہے نہ محققانہ بلکہ ہر طرح کی تاریخی روایات کا مجموعہ ہے لہذا حجت قرار نہیں پاسکتی ۔

علامہ مجلسی کا موقف:-
علامہ مجلسی کی اپنی ذاتی رائے ہے جس کی اساس روایات مذکورہ پر ہے جو کہ صحیح السند ثابت نہیں ہوتی ہیں ایسی ضعیف روایات کی بنیاد پر موافقانہ اختیار کرنا محض خطائے سہودی متصور ہوگا ۔حالانکہ ملت شیعیہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ نکاح محض افسانہ ہے ۔
ہم نے شیعہ وسنی دونوں منقولہ روایات کو علم الرجال کی روشنی میں ناقابل قبول ثابت کردیا ہے ۔ مولوی صاحب کا یہ ارشاد ہمارے نزدیک قطعا مہمل ہے ہم جبر و اضطرار کی صورت میں یہ نکاح تسلیم کرتے ہیں ۔حالانکہ ہماری

61
تحقیق کے مطابق اس نکاح کا انعقاد ہی ثابت نہیں ہے ۔اور کلینی کی کافی میں مندرجہ روایت کی عبارت "ان ذالک فرج غصباہ" قول اما م نہیں ہوسکتا ۔شان امامت ایسے بے ہودہ کلام سے بالا تر ہے یہ روایت ہشام بن سالم جو الیقی سے بیان ہوئی ہے جس کا عقیدہ توحید بھی درست نہ تھا ،امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ "ہشام بن سالم کا عقیدہ اختیار نہ کرو" اس فاسد العقیدہ راوی کے حالات ملاحظہ فرمائیں رجال کشی ص183 پر اس روایت کا ایک راوی حماد بن یزید بھی ہے ۔علامہ حلی نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ عامی یعنی غیر شیعہ تھا ۔ دیکھئے خلاصۃ الاقوال ص 219 نیز اس روایت کی سند بعض نے زبیر بن بکار تک پہنچائی ہے جو کٹر ناصبی اور دشمن اہل بیت تھا ۔اب جس روایت کے راوی اس طرح کے افراد ہوں اس کا کیا مقام ہوسکتا ہے ۔
اسی طرح علامہ خلیل قزوینی نے "انصافی" میں تشریح کی ہے اس کا مدار بھی زبیر بن بکار کی روایت پر ہے ۔زبیر بن بکار شیعوں کے نزدیک قظعا ناصبی ہے مگر اہل سنت علماء نے بھی اسے وضاع ،ناقابل اعتبار اور مردود قرار دیا ہے ۔ملاحظہ کریں (میزان الاعتدال جلد 1 ص 340)
مولوی صاحب نے جو قصہ سحیقہ بنت حرہ جنیہ کا تحریر کیا ہے وہ عقلا لغو ہے ۔ہمارے علماء نے اس کی صحت سے انکار کیا ہے ۔ آیت اللہ آقا سید جعفر بحر العلوم نجفی نے کتاب تحفۃ العالم شرح خطبۃ المعالم جلد 1 ص 240 میں اس روایت میں تحریف ٹھہرایا ہے ۔وہ روایت اس طرح ہے

معصوم کا انکار:-
"عمر بن اذینہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ لوگ ہم پر حجت کرتے ہیں امیر المومنین نے فلاں کو لڑکی بیاہ

62
دی ۔امام ٹیک لگائے تشریف فرما تھے ۔جوش غیرت میں اٹھ بیٹھے اور فرمایا جو لوگ ایسا گمان کرتے ہیں وہ راہ راست کی طرف ہدایت پانے والے نہیں ہیں ۔سبحان اللہ ! کیا امیر المومنین اس بات پر قادر نہ تھےوہ اپنی لڑکی کو ان سے چھڑا سکتے ۔اور ان کے اور اس کے درمیان حائل ہوتے ۔انھوں نے محض گمان کرکے جھوٹ باندھا ہے ۔(ناسخ التواریخ جلد 3 ص 408)
الغرض ہمارے مسلک کے مطابق اس نکاح کا وقوع ہی ثابت نہیں ہے اس لئے اس ضمن میں کسی تاویل من گھڑت کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔

ابو محمد فضل بن شاذان کی تردید:-
جناب ابو محمد فضل بن شاذان بن خلیل نیشاپوری ہمارے جلیل القدر فقہا و ثقہ متکلمین میں سے ہیں آپ امام رضا ،امام محمد تقی ،امام علی نقی ، اور امام حسن العسکری علیھم السلام کے مقتدر صحابی تھے ۔آپ کو اہل سنت نے بھی معتمد علیہ تسلیم کیا ہے ۔آپ اس افسانوی نکاح کی شدت سے تردید فرماتے ہیں کہ "لوگوں نے غلط طور پر وہم کر لیا ہے کہ عمر نے ام کلثوم الکبری بنت امیر المومنین کارشتہ طلب کیا بلکہ انھوں نے تو ام کلثوم بنت جرولی خزائیہ سے نکا ح کیا "۔ (تاریخ قم حسن بن محمد بن حسن نیشاپوری قمی معاصر شیخ صدوق ص 193 مطبوعہ تہران)۔

شیخ مفید کا تبصرہ :-
سرکار علامہ شیخ مفید کا علمی تبحر زہد وتقوی علمائے اہل سنت نے بھی تسلیم کیا ہے آپ نے بھی اس فرضی نکاح کی شدید تردید فرمائی ہے اور تحریر کیا ہے کہ ۔
"یہ روایت جو وارد ہوئی ہے کہ جناب امیر المومنین نے اپنی لڑکی کی شادی حضرت عمر سے کردی ۔بالکل ثابت نہیں ہے ۔چونکہ اس کا راوی زبیر بن بکار ہے ۔

63
جس کا طریقہ مشہور ہے کہ یہ شخص نقل روایت میں ناقابل اعتماد ہے اور متہم ہے ۔ چونکہ یہ حضرت علی علیہ السلام کا دشمن تھا اور بنو ہاشم پر اپنے دعوؤں میں بالکل ناقابل اعتماد ہے ۔درحقیقت یہ روایت اس لئے نشر ہوگئی کہ ابو محمد یحیی بن حسن صاحب نے اپنی کتاب میں اس کو لکھ دیا ۔ لوگوں نے علوی سمجھ کر اس روایت کو صحیح سمجھ لیا ۔ حالانکہ اس نے یہ روایت زبیر بن بکار سے لی ہے اور یہ روایت بھی بذات خود مختلف طور پر نقل کی گئی ہے یہ زبیر بن بکار کبھی یہ نقل کرتا ہے کہ امیر المومنین نے اپنی بیٹی کا نکاح کیا ۔کبھی روایت کرتا ہے کہ عباس کو اس عقد کا متولی بنایا کہیں روایت کرتا ہے کہ یہ عقد حضرت عمر کی دھمکیوں پر واقع ہوا ۔کبھی کہتا ہے کہ اختیار و ایثار پر یہ نکاح ہوا ۔ پھر بعض نے یہ کہا کہ عمر کا ایک لڑکا بھی پیدا ہوا جس کا نام زید ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زید بن عمر کی اولاد بھی ہے ۔بعض نے کہا وہ بے اولاد تھا ۔ کئی کہتے ہیں یہ اور اس کی ماں دونوں قتل کردئیے گئے ۔کسی نے کہا ہے کہ ماں بعد میں بھی زندہ رہی کوئی کہتا ہے کہ عمر نے چالیس ہزار مہر مقرر کیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ چار ہزار درہم مہر دیا کسی نے کہا پانچسو درہم دیا اور اس قول کی ابتدا اور اس واقعہ میں اختلاف کی کثرت اصل روایت کے باطل ہونے کی دلیل ہے جس کی کوئی تاثیر نہیں ہوسکتی ۔(المسائل السرویہ ص 161 المسئلہ العاشرہ مطبوعہ نجف)
اسی طرح علمائے اہل تشیع کی طرف سے لاتعداد کتب اس نکاح کی تردید میں موجود ہیں پس ایسی پر تضاد روایات اور مبنی بر دروغ حکایات کی روشنی میں اس نکاح کودرجہ تواتر معنوی بخشاح اور فریقین کا مسلمہ قرار دینا قطعا معقول و مقبول نہیں ہوسکتا ہے ۔
مولوی صاحب نے حضرت عائشہ کی مثال اس نکاح میں پیش تو کردی ہے لیکن انھوں نے صرف کم عمری کا رخ سامنے رکھا ہے جبکہ روایات کے مطابق عائشہ

64
کی عمر 9 سال بیان ہوتی ہے اور ام کلثوم کی چار یا پانچ برس ۔پھر مولوی موصوف نے پر نواسی والےرشتے کو سوتیلا ٹھہراکر قابل غور نہیں سمجھا ہے حالانکہ معاشرتی اخلاقی ضابطے اس عذر کو تسلی بخش قرار نہیں دیتے ہیں ۔حضرت عائشہ کی رخصتی مناسب وقت پر ہوتی ہے جبکہ روایت کے مطابق مبینہ ام کلثوم کی شادی قبل ازنکاح ہی دولھا کے گھر مین بڑے میاں کی دست درازی کا شکار ہوجاتی ہے ۔ پر نواسی چاہے سوتیلی ہی سہی ثقافت میں یہ رشتہ ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائیگا اور عام تمدن کی مروجہ عادات ورواسم کے بر عکس سمجھا جائے گا ۔
مولوی عبد الرحمان صاحب نے خط میں ام کلثوم بنت علی وفاطمہ کی عمر کو بارہ سال بیان کیا ہے جو تقریبا صحیح ہے مگر بحث بارہ سالہ ام کلثوم بنت علی و فاطمہ کی نہیں ہے ۔بلکہ صغیرہ ،نابالغہ ،کمسن ،صبیہ ام کلثوم کی ہے جس کی عمر تمام تر روایات میں چار پانچ بر س سے زائد بیان نہیں ہوئی ہے ۔ پس ازروئے روایات اور بمطابق اقرار مولوی صاحب ام کلثوم زوجہ عمر بن خطاب کی مبینہ عمر یعنی چار پانچ سال اور ام کلثوم بنت علی کا سن یعنی بارہ سال ازخود اس قصے کو پاک کردیتے ہیں ۔کہ وہ زوجہ جو صبیہ نابالغہ اور صغیرہ تھی وہ بنت علی ہرگز نہ تھی بلکہ کوئی اور تھی کیونکہ اگر اس دلہن کی عمر بارہ سال ہوتی تو کم سے کم ایک آدھ روایت تو اس ذیل میں ملتی جو اسے بالغہ ثابت کرتی ۔پس ام کلثوم بنت علی کی عمر گیارہ بارہ سال ہونا اس افسانوی نکاح سے ہرگز مربوط نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ جس لڑکی کا رشتہ سنہ 17 ھ میں عمر کے ساتھ طے ہوا تھا وہ حد نابالغی میں محصور رہتی ہے ۔مندرجہ ذیل تمام کتب اہل سنت اس کا واضح ثبوت دیتی ہیں کہ اس نویلی دلہن کاسن ناقابل شادی تھی ۔۔
(1):-استیعاب جلد 2 ص 772۔(2):- ذخائر العقبی ص 117۔(3):- سیرۃ عمر ابن جوزی ص 205۔ (4):- السمط الثمین ص 257۔
65
(5):- طبقات ابن سعد جلد 8 ص 463۔ (6):- نسب قریش زبیری ص 349۔ (7):- اعلام النساء جلد 4 ص 256۔ (8):-ابن عساکر جلد 7 ص 25۔ (9):- اصابہ جلد 2 ص 269۔ (10):- المہذب موصلی ص 142۔ (11) تذکرۃ خواص الامۃ ص 331۔ (12):- ہدایۃ السعداء ص 259 ۔ (13):- صوعق محرقہ ص 55 ۔(14):- براہین قاطعہ ص 159 وغیرہ وغیرہ ۔
پس حضرت عمر کو توہین سے بچانے اور ناموس صحابہ کے تحفظ کے لئے واحد ترکیب یہی ہے کہ اس افسانوی نکاح کے انعقاد سے انکار کیا جائے ورنہ بلاوجہ اس عقد نامحمود پر اصرار ایک طرف اسلام کے دو راشد خلیفوں کی تعظیم کو ختم کرےگا تو دوسری طرف اسلام کی تعلیمات کو مکروہ بناتا رہے گا ۔ کیونکہ یہ زمانہ محض عقیدت کے پھولوں سے نہیں مہکتا ہے بلکہ اب حقائق کو فطرت عقل و شعور اور ماحول کے ترازو میں تول کر تسلیم کیاجاتا ہے لہذا اندرونی فرقہ وارانہ تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مسلم زبان کو بند کرنے کی خاطر ضروری ہ ےکہ اس بیہودہ حکایت اور بے حیا روایات کو ٹھکرادیا جائے ۔ جیسا کہ مخلص دانشور ان اسلام نے بلا لحاظ سنی وشیعہ اس افسانوی نکاح کو افتراء قرار دیا ہے ۔
آشی! مجھے احساس ہے کہ میرے معروضات طویل ہوگئے شاید تم اکتا ہٹ محسوس کرنے لگی ہو مگر یہ درگزر تمھاری پریشانی کا سد باب کرنے کے لئے معاون ثابت ہوگا ۔ میری حقیر رائے یہ ہے کہ تم ایلزبتھ کو شیعہ اور سنی دونوں علماء کا تردیدی بیان مطالعہ کرادو ۔اور اس پر واضح کودو کہ یہ نکاح محض تراشیدہ قصہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔نہ ہی حضرت عمر ایسے چال چلن والے تھے اور نہ ہی حضرت علی کا کردار اس طرح کا تھا یہ تو محض سیاسی سازش کے تحت افسانہ اختراع کیا گیا جسے کوئی بھی صاحب عقل سلیم مسلمان صحیح نہیں سمجھتا ۔پس ایک مصنوعی تاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

66
ہوسکتی اور محض افتراء پرادازی اور بہتان تراشی بزرگان اسلام کی پاک سیرتوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں نیز ایلزبتھ پر یہ بات بھی واضح کرو کہ کسی دیندار کا عمل بد ہرگز دین خراب ہونے کی دلیل نہیں ہوتا ورنہ پھر حواری حضرت عیسی یہودہ عسکریوتی جس نے مسیح کو گرفتار کروایا اس کی بد کرداری کی دلیل پر مذہب عیسائیت کی تردید کی جاسکے گی ۔اگر مسئلہ میں تمھیں کوئی مزید اعتراض ہو تو وہ مجھ سے علیحدہ ڈسکس کرلینا ۔فی الحال ایلزبتھ سے جان چھڑاؤ ۔شکریہ عالیہ ۔
عائشہ جس کے نزدیک یہ مسئلہ آزمائشی و امتحان بن چکا تھا بیتاب ہے کہ اسے ایسا معقول حل مل جائے کہ ایلزبتھ کالوٹا ہو ا رجحان پھر پلٹ آئے وہ جیسے ہی فرصت وفراغت کے لمحات پاتی ہے اسی تحقیق وجستجو میں رہتی ہے ۔ایلزبتھ کا رویہ عائشہ کے ساتھ گو برا نہیں لیکن کم سے کم پہلے سے بدلا ضرور محسوس ہوتا ہے وہ نہ ہی کوئی مذہبی گفتگو کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتی ہے اور نہ ہوی اسلامی لٹریچر کا مطالعہ اس ذوق وشوق سے کرتی ہے جو کچھ عرصہ قبل تھا ۔ایلزبتھ کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے پاس اس اعتراض کا کوئی عقلی جواب نہیں ہے ۔وہ مطمئن ہے کہ عائشہ اس داغ بد نما کو صاف کرنے میں کسی طرح کامیاب نہ ہوگی کیونکہ وہ اس نکاح کی تائید کرچکی ہے اور عالیہ جس نے اس نکاح ڈھونک قرار دیا ہے اس وقت تک معتبر نہ قرار پائے گی جب تک دونوں مسلمان لڑکیوں میں اتفاق نہ ہوجائے پس ان کا باہمی جھگڑا اور نا اتفاقی اس الجھن کو سلجھانے میں سنگ راہ رہے گی ۔
ایلزبتھ کو عائشہ کی سنائی ہوئی وہ بات بھی یاد ہے کہ اس نے مشکواۃ شریف سے ایک روایت بیان کی تھی کہ جب حضرت عمر نے حضرت فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا رشتہ پیغمبر اسلام سے طلب کیا تھا تو رسول (ص) نے جواب دیا تھا کہ یہ ابھی بچی

67
ہے صغیرہ ہے ۔اب کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ ایک شخص پندرہ سولہ برس بعد اس بچی کارشتہ مانگتا ہے جس کی ماں کا رشتہ اسے عذر صغیر سنی کی بنا پر دینے سے انکار کیا گیا اور یہ انکار رسول (ص) نے کیا ۔ اگر یہ شخص حکم رسول کا پابند یا لحاظ در نبی ہے تو اس کو یہ خواہش زیب نہ یتی تھی ۔ بلکہ ازروئے شریعت اسلامیہ یہ گناہ تھا کیونکہ جس بات سے رسول روکیں اس سے رکنا واجب ہے ۔
ایلزبتھ مطمئن ہے کہ اگر عائشہ نس اس مسئلہ پر گفتگو کی اور اس نکاح کو مستحسن ٹھہرایا تو اسی کی سنائی ہوئی روایت سے وہ اس کی تکذیب کر سکے گی اور یہ بھی ثابت کردےگی کہ یہ عمل خلاف سنت رسول(ص) تھا ۔
عائشہ کو عالیہ نے اپنا تبصرہ دے دیا ہے وہ اس کا مطالعہ کررہی ہے اور مندرجات اس کے دل میں اترتے ۔جی کو لگتے اور عقل ونقل پر پورے پڑتے محسوس ہورہے ہیں اس کو عالیہ کا دیا ہوا یہ مشورہ بالکل معقول لگا ہے کہ اس توہین آمیز نکاح کا انکار کردینا ہی ہماری شرم سے جھکی ہوئی نگاہوں کو اٹھانے کا واحد حل ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے یہ بھی کھٹکا ہے کہ میں پہلے اس نکاح کی حمایت میں بیان دے چکی ہوں اب خود ہی اپنی بات سے کس طرح پھر سکتی ہوں ۔اور پھر یہ کہ عالیہ کا تعلق مذہب شیعہ سے ہے اس نے اپنے نظریات کے مطابق اس نکاح کو افسانوی ثابت کیا ہے ۔ مگر وہ پھر سوچتی ہے کہ عالیہ کا تبصرہ دونوں مذاہب کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے اور شیعہ وسنی دونوں مذاہب کے علماء کی شہادتوں سے یہ قصّہ من گھڑت ثابت کیا گیا ہے پس میں کوئی ایسی ہستی تو ہوں نہیں جو غلطی کرنے سے محفوظ ہوں میں کیوں نہ اپنی نظر یاتی اصلاح کرلوں ۔اور ایلزبتھ کے سامنے سر اٹھا کر اعلان کردوں کہ یہ نکاح ہرگز نہیں ہوا ہے ۔یہ ہمارے علماء کی

68
تحقیق وتصدیق ہے ۔
پس عائشہ نے ارادہ کرلیا کہ آج وہ ایلزبتھ کی پیدا شدہ غلط فہمی کو دور کردے گی ۔وہ برملا کہہ دے گی کہ ایسی خلاف عقل اور دشمن شرافت باتوں سے اسلام کو دور کابھی لگاؤ نہیں ہے ۔وہ بلا جھجھک اعلان کردے گی ۔کہ سابق زمانے کے شریر سیاستدانوں کی دماغی ایجاد یں ہیں جن کے بل بوتے پر انھوں نے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کیا ۔ہم ایسے حیا سوز واقعات بلکہ تہمات کی سختی سے تردید کرتے ہیں ۔ہم ایسے حیا سوز واقعات بلکہ تہمات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور ان سے بیزاری و لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اس نام نہاد نکاح کا تعلق نہ ہی ہمارے عقائد و ارکان سے ہے اور نہ ہی اصول وفروع سے ان کا کوئی واسطہ ہے یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی ۔ لہذا اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیئے کسی مذہب کی تحقیقات کے لئے ہمیشہ اسے کے بنیادی اصول وقواعد کو جانچا پرکھا جاتا ہے اگر اس کے اصول فطری ہم آہنگی کے حامل ہوں اور اس کے فروع بمطابق عقل وشعور ٹھہریں تو اس مذہب کی حقانیت کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔کتا بیں خواہ کیسی ہی پایہ کی ہوں ۔علماء چاہے کتنی ہی شان رکھتے ہوں بہرحال ان کی ایسی تحریریں جو حضرت عمر یا کسی اور برگزیریدہ ہستی پر بے شرمی و بے غیرتی کا الزام عائد کریں وہ ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں کیونکہ اسلام اوراس کے اکابر بزرگوں کی عزت وجلالت پر دھبہ لگانے سے بہتر یہی ہے ایسی روایات کو پانی سے دھو ڈالیں اور ایسے علماء کی باتوں کو بالائے طاق رکھ دیں ۔(مولوی شبلی نعمانی نے واقعہ قرطاس کا انکار اسی عذر پر کیا ہے (الفاروق )) ۔
عائشہ کوآج قلبی سکون اور ذہنی قرار محسوس ہورہا ہے ۔وہ خوش ہے کہ اسے ایک الجھن سے نجات مل گئی ۔اسے سکھ کی سانس نصیب ہوئی عائشہ خدا کے حضور نماز شکرادا کرتی ہے جب عائشہ نماز سے فارغ ہوتی ہے ۔

69
تو ایلزبتھ کو کمرے میں موجود پاتی ہے ۔
ایلزبتھ :- مس آشی کیا بات ہے آج بڑی تم fresh اور سمارٹ دکھائی دے رہی ہو ۔ چہرہ بارونق اور کھلا ہوا ہے ۔
عائشہ :- ہوں ۔ بنانا بھی کوئی تم سے سیکھے ۔کوئی خاص بات تو نہیں ہے ۔
ایلزبتھ :- اس میں بنانے کی کیابات ہے واقعہ گزشتہ دنوں کی نسبت آج تم تر وتازہ اور ہشاش بشاش نظر آرہی ہو۔
عائشہ :- اچھا بھئی ۔ ایسا ہی ہوگا ویسے مجھے تو آج تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ۔
اس رسمی گفتگو کے بعد عائشہ اصل مقصد کی طرف آتی ہے اور ایلزبتھ کو کہتی ہے کہ
عائشہ :- ایلزبتھ تم نے جو اس دن حضرت عمر کے نکاح پر اعتراض کیا تھا میں نے اس کی ریسرچ کی ہے اور اطلاعا عرض ہے کہ حضرت ام کلثوم سے حضرت عمر کی شادی کرنا عادتا ،شرافت ،ادب ،تہذیب ،رسم ورواج اور انسانی حیاء وعزت کرے اعتبار سے ناممکن تھا اور ہم مسلمانوں کے نزدیک ایسی تمام روایات جھوٹی ہیں ۔یہ صرف اسلام کوبدنام کرنے کے لئے دشمنوں نے گھڑی ہیں ۔ یہ نکاح نہ ہی عقل سے صحیح ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی نقل سے کچھ سادہ لوح لوگوں نے اس افسانہ کی تائید ضرور کی ہے مگر اسلامی شریعت کے لحاظ سے نہ ہی یہ نکاح فقہ کے مطابق صحیح ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی تاریخ سے اس کے انعقاد کی تصدیق وتوثیق ہوتی ہے ۔روایتا اور درایتا اس نکاح کی نفی ثابت ہے
عائشہ ایلزبتھ کو علماء کے بیانات پڑھوا دیتی ہے اور اس کی غلط فہمی دور کردیتی ہے ۔