افسانہ عقد ام کلثوم
 

دلائل ازکتب اہل سنۃ کی تردید سنی علماء کی زبانی :-
مولوی صاحب نے حافظ ذہبی کے قول پر جو پہلی دلیل پیش کی ہے وہ خلاف واقعہ ہے ۔ اس کی شرعی حیثیت تقرر مہر کی بناء پر مردود قرارپاتی ہے جیسا کہ گذاشتہ بیان میں عرض کیا ہے ۔ پھر زید اور رقیہ کی پیدائش بھی تاریخی اعتبار سے صحیح ثابت نہیں ہوتی ہے ۔

زید ورقیہ پیدائش :-
یہ بات قابل غور ہے کہ مبینہ نکا ح سنہ 18 ھ میں ہوا ۔روایات کی کثیر تعداد سے دلہن ک عمر چھ یا سات بر س سے زائد ثابت نہیں ہوتی ہے ۔حضرت عمر کی وفات سنہ 23 ھ میں ہوتی ہے جبکہ

54
اس بیوی کی عمر گیارہ سال تک ہوتی ہے اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ سنہ 23 ھ یعنی دولھا کی موت کے وقت یہ دو بچے ام کلثوم کے سن بلوغ کے دو سال بعد پیدا ہوئے تو یقینا رقیہ بنت عمر بن خطاب کی عمر اپنے باپ کی وفات کے وقت ایک یا ڈیڑھ سال ہوگی لیکن معتبر مورخ اہل سنت ابن قتیبہ اپنی کتاب "المعارف" میں لکھتے ہیں کہ ام کلثوم کے بطن سے عمر کی بیٹی کا نام رقیہ ہے اور یہ وہی ہے جس کی شادی عمر نے ابراہیم بن لغیم النجام سے کرادی تھی اور وہ ان ہی کے پاس فوت ہوگئی "۔(المعارف ص 80 مطبوعہ مصر)
اب بتا ئیے جو بیٹی ابھی ایک سال یا ڈیڑھ سال کی تھی کس طرح اس کے باپ نے کی تھی کس طرح اس کے باپ نے اس کا نکاح ابراہیم ا لنجام سے کردیا ۔ مگر جھوٹ کے پیر کہاں ہوتے ہیں آگے پیچھے دیکھے بغیر افسانہ تراشی میں مہارت دکھادی ۔مزید بات یہ ہے کہ اسی کتاب اور اسی امام کے حوالہ سے مولوی صاحب نے اپنی دلیل نمبر 9 قائم فرمائی ہے یعنی موصوف کے نزدیک مورخ و کتاب دونوں قابل قبول ہیں ۔

چادروں کی تقسیم والی روایات :-
پوری بخاری میں اس روایت کے علاوہ ام کلثوم کا ذکر موجود نہیں ہے پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ روایت کی کونسی عبارت ہے جو ام کلثوم کو زوجہ عمر ظاہر کرتی ہے ۔مولوی صاحب نے ترجمہ نقل کرتے ہوئے خیانت کردی ہے کہ ام کلثوم کے بعد "بنت علی " کا اضافہ کردیا ہے جبکہ اصل روایات میں صرف ام کلثوم ہے ولدیت بیان نہیں ہوئی یہ مولوی صاحب کا ظنی عبارت ہے جو مذموم ہے ۔زیادہ سے زیادہ اس نکاح کے باراتی لفظ "عندک" سے یہ مفہوم اخذ کرتے ہیں کہ اس سے مراد زوجیت ہوگی ۔ لیکن اگر ہم "عندک "کو لغت کے معنی سے دیکھیں تو صرف "نزدیک" "پاس""قریب" ہونگے ۔قرآن مجید میں بھی یہ لفظ ان ہی معنوں

55
میں مستعمل ہوا ہے ۔ پس اگر اس روایت کو صحیح سمجھ لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ مطلب ہوگا کہ وہ ام کلثوم جو حضرت عمر کے پاس تھیں ان کے لئے چادر کی سفارش کی گئی ۔ اب لفظ پاس یا نزدیک سے زوجیت مراد لینا کہاں تک درست ہے یہ صاحبان علم خود فیصلہ فرما سکتے ہیں ۔اگر عند کے معنی زوجیت کے ہوتے ہیں تو پھر اسی روایت میں موجود اس جملے کا ترجمہ کیا ہوگا ۔"فقال لہ بعض من عندہ " یعنی وہ لوگ جو عمر کے پاس تھے ان میں سے کسی نے کہا تو اگر عند کے معنی زوجیت کے ہیں تو وہ سب حاضرین اس لحاظ سے عمر کی زوجیت میں داخل ہوگئے ۔
روایت میں موجود ہے کہ مدینہ کی عورتوں میں حضرت عمر نے چادر یں تقسیم کیں تویہ عورتیں حضرت عمر کے پاس تھیں کیا محض پاس ہونے کے باعث وہ سب ازواج قرارپائیں گی ۔ہرگز نہیں تو پھر ام کلثوم میں کیا خصوصیت ملی جو زوجہ سمجھ لی گئی اگر کہنے والا مقصد زوجیت کا اظہار ہی کرنا چاہتا تھا تو آخر وہ عرب ہی ہوگا ۔اس عام و مروجہ الفاظ چھوڑ کراس بے محل لفظ کا استعمال کیوں کیا وہ "تحتک ،زوجک، امراتک " وغیرہ وغیرہ کچھ بھی کہہ سکتا تھا ۔"عند" کا لفظ قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے مگر کسی بھی جگہ اس کے معنی زوجہ یابیوی نہیں پائے اور نہ ہی کسی تفسیر میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے ۔
قابل غور امر یہ ہے کہ اگر ام کلثوم زوجہ عمر تھیں تو ایک شوہر کو خود اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال ہوتا ہے ۔ مجمع عام میں ایک نامحرم کو خلیفہ صاحب کی زوجہ کی ضروریات کا احساس کیوں ہوگیا ؟۔
روایت کو رد کرنے کے لئے یہ غور ہی کا فی ہے کہ اس سفارشی کا نام آج تک ظاہر نہ ہوسکا لہذا اس کی ثقایت ہی نا معلوم ٹھہری اس روایت کا راوی ثعلبہ ابن مالک ہے ۔واقعہ مجلس کا ہے لیکن اور کوئی شخص اس روایت کو بیان نہیں کرتا ہے روای ثعلبہ جو یہ کہتا ہے کہ مجمع میں موجود کسی نے سفارش کی پھر خود

56
ہی کہتا ہے کہ " یعنی ان لوگوں کی مراد اس سے ام کلثوم تھی " یعنی "یریدون ام کلثوم" اب غور کریں کہنے والا اکیلا تھا اب لوگ کہاں سے سفارشی بن گئے ۔واحد یکدم جمع کس طرح بن گئے ۔
بخاری نے اس روایت کو نقل تو کر لیا جس کے اصل راوی کا پتہ معلوم نہیں اور انھوں نے ثعلبہ ہی کے اعتماد پر اس کو درج کرلیا ۔لیکن جب علم رجال میں اس روایت کی پڑتال ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نام کا کوئی آدمی ہی نہ تھا چنانچہ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ہر طرح کے روایوں کے حالات لکھے ہیں مگر ثعلبہ کا کہیں نام پتہ نہیں ملتا ہے ۔
پس یہ ایسی روایت ہے جس کے راوی کانام ونشان بھی معلوم نہ وہوسکا ۔اگر اس روایت کو صحیح بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس سے ام کلثوم کا بیوی عمر ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا ہے پس ماننا پڑتا ہے کہ یہ داستان سر تا پا دروغ گوئی پر مبنی ہے اور جھوٹ کا پروپیگنڈہ کر کرے اسلام اور اس کے بزرگوں کی تذلیل و انتہاک کرتے ہیں جبکہ حق بین نگاہیں یہ واقعہ سنکر جھک جاتی ہیں ۔

نماز جنازہ والی روایت :-
سنن نسائی کی جو روایت خط میں نقل کی گئی ہے ۔مولوی عبد الرحمان صاحب نے اس میں معنوی تحریف کرکے ترجمہ لکھ بھیجا ہے ،حالانکہ اس روایت میں یوں ہے کہ " نافع سے سنا وہ زعم کرتے تھے لفظ زعم" اس پوری روایت کو باطل کردیتا ہے کیونکہ روای کو خود اپنے بیان پر شبہ ہے ۔یہ روایت پر مبنی ہے ۔حدیث کے لئے ضروری ہے کہ حتمی ہو ظنی احادیث سے استلال نہیں کیا جاسکتا ہے پھر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو زعم " کو جھوٹ بولنے کے معنی میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔جیسا کہ لغات کشور ی مطبوعہ لکھنوص 22 میں مرقوم ہے اس معنی کے لحاظ سے یہ ترجمہ بھی کیا جاسکتا

57
ہے کہ نافع یہ جھوٹ بولتے تھے کہ ابن عمر نے ام کلثوم و زید کی نما ز جنازہ ایک ساتھ پڑھی ۔امام بخاری کا اپنی صحیح میں یہ واقعہ نہ نقل کرنا اس بات کی دلیل ہے وہ اس کو صحیح نہیں سمجھتے تھے لہذا تاریخ صغیر میں اس کا ذکر کرنا کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے سنن ابو داؤد سے نقل کردہ روایت میں یہ تصریح موجود نہیں کہ ام کلثوم حضرت علی (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ۔جبکہ حضرت عمر کی اور بیویوں کا نام بھی ام کلثوم تھا (تفصیل آیندہ صفحات پر ملاحظہ کریں) ۔دارقطنی کی روایت ان ہی کی تابع ہے جب اصل کا انحصار "زعم" پر ہے تو نقل مصدق نہیں ہوسکتی ہے ۔
مستدرک حاکم کی روایت سے ثابت ہے کہ ام کلثوم کا رشتہ حضرت علی نے اپنے بھتیجے سے منسوب کررکھا تھا اور حضرت عمر ایک منسوبہ لڑکی کے لئے دباؤ ڈال کر اپنے نکاح میں لینے پر مجبور کررہے تھے ۔ خود مولوی صاحب کے اصول مسلمہ کی روسے یہ ان دونوں حضرات کی شان کے خلاف بات تھی کہ ایک زبان دیکر رشتہ طے کرچکے بعد میں اپنی زبان سے پھر جائے اور دوسرا کسی ہاشمی مرد کے رشتے کو توڑواکر ایک کمسن لڑکی کو اپنی پیران سالی کی بھینٹ چڑھائے پس ناموس صحابہ کا تحفظ یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس روایت کو ٹھکرادیا جائے بیہقی کی روایت کا بھی یہی جواب ہے ۔
طبقات کی وہ روایت جس میں زید اور رقیہ کے جنم لینے کا ذکر ہے ۔وہ ہم تاریخی اعتبار سے کا لعدم قرار دے چکے ہیں ۔ اور ابن قتیبہ دینوری کی روایت پر بھی بحث گزشتہ صفحات میں کی جاچکی ہے اسی طرح طبری کی روایت کا جواب بھی بیان بالا میں دیا جا چکا ہے واضح ہو کہ ابن قتیبہ دینوری نے معارف ہی میں لکھا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی تمام لڑکیوں کی شادی اولادعقیل و اولاد عباس سے ہوئی تھی سوائے ام الحسن اور فاطمہ کے (صفحہ 70) اس میں ام کلثوم کا نام نہیں ہے ۔

58
گو کہ ہم سنی کتب سے پیش کردہ دلائل کو صرف یہ کہکر نظر انداز کرسکتے تھے کہ یہ ہماری روایات نہیں ہیں مگر ہم نے شیعہ و سنی افتراق سے قطع نظر کرتے ہوئے متحدہ محاذ پر ایک غیر مسلم اعتراض کو رد کرنے کے لئے یہی مناسب سمجھا کہ مسلک سنیہ سے ان روایات کو باطل ثابت کردیا جائے تاکہ وہ لوگ جو اس نکاح کے قائل ہیں اپنے خیالات کی اصلاح کرلیں اہل سنتہ علماء کی کثیر تعداد نے نکاح کو من گھڑت قراردیا ہے ۔چنانچہ مولوی محمد انشاء اللہ صاحب صدیقی حنفی چشتی بدایوانی اپنی کتاب "السر المختوم فی تحقیق عقد ام کلثوم"میں لکھتے ہیں۔
" نا ظرین یہ سب راوی اول کی فضولیات ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابتدا ایک مفتری زبیر بن بکا ء ایسے کذاب اور وضاع حدیث نے حضرت عمر فاروق پر یہ تہمت لگائی ہے اور حضرت علی پر یہ جھوٹ بولا ہے کہ عقد ام کلثوم بنت علی کا واقعہ اپنے دل سے تراش کر بیان کردیا"۔
پس یہی ایک صحیح حل اس اعتراض کا ہے کہ اسلامی شریعت بھی محفوظ رہتی ہے اور صحابہ بلکہ راشد خلیفوں کی عزت بھی برقرار رہتی ہے ۔