افسانہ عقد ام کلثوم
 

46

حضرت فاروق اعظم کا نکاح حضرت ام کلثوم سے
بحوالہ کتب معتبر حضرت شیعہ
1:- ملا محمد بن یعقوب الکلینی فروع کافی میں جو شیعوں کی اول درجہ کی کتاب حدیث ہے میں روایت کرتے ہیں کہ ۔
"حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس عورت کے متعلق جس کا خاوند فوت ہوجائے یہ مسئلہ پو چھا گیا کہ وہ اپنی عدّت کہاں گزارے اپنے گھر میں یا جہاں چاہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا جب عمر فوت ہوئے تو حضرت علی ام کلثوم کے پاس آئے تھے اور اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے تھے ۔(فروع کا فی جلا 2 ص 311)
2:- ملا ابو جعفر محمد بن حسن طوسی شیعہ محدثین کے نہایت بلند پایہ فاضل فروع کا فی کی اس روایت کو تہذیب الاحکام کتاب الطلاق باب عدۃ النساء جلد 2 ص 238 مطبوعہ ایران اور استبصار فیما اختلف من الاخبار جلد 3 ص 352 مطبو عہ نجف اشرف جلد 2 ص 185 مطبوعہ لکھنو میں بھی دو علیحدہ سندوں سے روایت کرتے ہیں ۔
3:- فخر المجتہدین شہید ثانی زین الدین بن احمد عائلی " شرائع الاسلام فی مسائل الحلال والحرام " کی شرح میں متن کی اس عبارت یجوز نکاح الحرۃ العبد و العربیۃ العجمی و الھاشمیۃ غیر الھاشمی وبالعکس کے تحت لکھتے ہیں ۔
حضور نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح حضرت عثمان سے کیا اور ایک بیٹی کا ابو العاص سے حالانکہ دونوں بنی ہاشم میں سے نہ تھے ۔ اسی طرح حضرت علی نے

47
اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر سے کیا اور حضرت عثمان کے پوتے عبداللہ کا نکاح امام حسین کی بیٹی فاطمہ سے ہوا اور فاطمہ کی بہن سکینہ سے مصعب بن زبیر نے نکاح کیا اور یہ سب مرد بنی ہاشم میں سے نہ تھے ۔
(مسالک الافھام ۔کتاب النکاح جلد 1)
4:- شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی حضرت امام باقر( علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا ۔
"ام کلثوم بنت علی اور ان کے بیٹے زید بن عمر کی وفات ایک ہی ساعت میں واقع ہوئی یہ پتہ نہ چل سکا کہ پہلے فوت کون ہوا ۔ پس ان میں سے کوئی دوسرے کا وارث نہیں ہوا ۔ اور دونوں پر نماز جنازہ اکٹھی پڑھی گئی ۔
(تہذیب الاحکام جلد 2 کتاب المیراث ص 380)
5:- شیعہ شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری آنحضرت اور حضرت علی کے امور مشابہت شمار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں " اگر نبی دختر بہ عثمان داد ولی دختر بہ عمر فرستاد" یعنی اگر نبی نے بیٹی حضرت عثمان کو دی تو ولی نے بیٹی حضرت عمر کے نکاح میں دے دی ۔(مجالس المومنین جلد 1 ص 204)
6:- علامہ ابن شہر آشوب مازندرانی لکھتے ہیں ۔حضرت فاطمہ کی اولا د یہ تھی ۔الحسن والحسین و المحسن سقط ،زینب کبری اور ام کلثوم کبری جن سے حضرت عمر نے نکاح کیا تھا (مناقب آل ابی طالب جلد 3 ص 162 علامہ ابن شہر آشوب نے جلد نمبر 2 ص 144 ) علامہ ابن شہر آشوب نے جلد نمبر 2 ص 144 پر بھی اس نکاح کا تذکرہ کیا ہے ۔
7:- اہل تشیع کے بڑے مجتہد مرتضی علم الہدی تحریر کرتے ہیں " یہ کوئی امر ممنوع نہ تھا کہ حضرت علی اپنی بیٹی حضرت کے نکاح میں دے دیں ۔کیونکہ عمر بظاہر اسلام کے قائل اور شریعت پرعامل تھے ۔(کتاب الشافی ص 216)

48
8:- شیخ عباس قمی حضرت علی کی اولاد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " ام کلثوم کے حضرت عمر کے نکاح میں آنے کی حکایت کتابوں میں مسطور ہے (منتہی الآمال جلد 1 ص 135)
9:- علامہ محمد ہاشم خراسانی مشہدی تحریر کرتے ہیں کہ "ام کلثوم بنت فاطمہ اس مخدرہ کا اصلی نام رقیہ کبری تھا ۔جیسا کہ عمدۃ المطالب میں مذکور ہے وہ بہت جلالت شان رکھتی تھیں اور حضرت عمر کی بیوی تھیں " (منتخب التواریخ ص 94)
10:- شیعہ کے خاتم المحدثین ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں " ایسی احادیث وارد ہونے کے بعد اور جو روایات بالاسناد آگے آرہی ہیں کہ جب عمر فوت ہوئے تو حضرت علی ام کلثوم کے پاس آئے اور انھیں اپنے گھر لے گئے اور اس طرح کی اور روایات جنھیں میں نے بحا رالانوار میں درج کیا ہے اس نکاح کا انکار ایک امر عجیب ہے اور اصل جواب یہی ہے کہ یہ نکاح تقیہ اور حالت اضطرار میں ہوا اور ایسا ہونا کوئی امر مستبعد نہیں (مراۃ العقول فی شرح فروع الکافی جلد 3 ص 449)۔
عائشہ بیٹی میں نے شیعہ وسنی دونوں کتابوں سے اس نکاح کے اثبات درج کردئیے ہیں ہمیں افسوس ہے کہ علمائے شیعہ کا یہ نظریہ کہ حضرت حیدر کرار نے اپنی لخت جگر ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) جبر و اضطرار کی صورت میں حضرت عمر کے نکاح میں دی تھی بہت کمزور اور بلا دلیل ہے ۔یہ بات حضرات اہلبیت کے شایان شان نہیں ۔ کلینی نے فروع کافی میں اس نکاح کا ایک باب باندھا ہے اور اس میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام ) سے یہ روایت نقل کی ہے "ان ذلک فرج غصباہ" یہ پہلی عزت ہے جو ہم سے غصب کی گئی " حالانکہ بقول شیعہ اصول کافی کے اس آسمانی وصیت نامہ میں بھی جو ائمہ اہلبیت کے لئے دستور العمل تھا اس نکاح کا ارشاد موجود ہے اس کی روایت امام موسی کاظم

49
سے ہے ۔اس کی رو سے آنحضرت(ص) نے حضرت علی سے بامر جبرئیل یہ عہد بھی لیا تھا کہ خواہ ان کی عزت لٹ جائے وہ اس ہتک پر بھی صبر کریں گے جس پر علی نے کہا تھا "میں نے اسے قبول کیا اور راضی رہا اگر چہ عزت جاتی رہے ۔خدا اور رسول کے طریقے معطل ہوجائیں کتاب (قرآن)کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور کعبہ گرادیا جائے "(اصول کافی ص 173)
اب اس اتہاک حرمت اور عزت جاتے رہنے کی تشریح علمائے شیعہ نے یوں کی ہے "اس سے میری بیٹی کا غصب مراد ہے ۔جیسے جبر وظلم سے لے جائیں گے یہ اشارہ ہے حضرت فاطمہ کی بیٹی ام کلثوم کے غصب کی طرف " (الصافی جلد 3 ص 281 ملا خلیل قزوینی)
بعض شیعوں نے اس نکاح کی تکذیب پر کھسیا نے ہوکر یہ قصہ واہی وضع کیا ہے کہ حضرت علی نے ایک جنیہ کو ام کلثوم کی شکل میں منتقل کر کے عمر کے پاس بھیجدیا یہ جنیہ اہل نجران کی یہودیہ تھی جس کا نام سحیقہ بنت جوہریہ تھا ۔بعد وفات عمر حضرت علی نے ام کلثوم کو ظاہر کیا (جرائح الجرائح ص 136)
بہر حال ہمارے نزدیک ان رکیک تاویلوں کا کوئی وزن نہیں ہے ہم ہر اس بات کو جو اہل بیت کرام کی شان کے لائق نہ ہو غلط اور افتراء سمجھتے ہیں ۔میرا مقصد ان اقوال کو نقل کرنے سے محض یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم بنت علی کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آنا ایک ایسا امر مسلمہ ہے کہ شدید ترین مخالفت کے باوجود بھی اس سے انکار نہیں ہوسکتا ۔گو اسلامی گروہ ميں سے اس نکاح کے مخالفین نے جبر وغصب ،اکراہ و اضطرار کی تاویلات وضع کی ہیں لیکن باوجودیکہ یہ تاویلات ناقابل قبول ہیں اور حضرت علی (علیہ السلام ) کی شان کے لائق نہیں لیکن ان کے ضمن میں اس نکاح کا ایک ایسا اقرار بھی سامنے آرہا ہے جس کا

50
انکار کسی صورت میں ممکن نہیں تھا ۔پس یہ نکاح تواتر معنوی سے منقول اور فریقین کی کتابوں میں مسلم وموجود ہے ۔
اب آخر میں تمھارے ان شبھات اور وسواس کا ازالہ کیا جاتا ہے جو تم نے اپنے خط میں ظاہر کئے ۔

پہلا اعتراض:-
تمھارا یہ اعتراض کہ حضرت ام کلثوم کمسن تھیں اور حضرت عمر کافی عمر رسیدہ تھے اس لئے یہ نکاح بے جوڑ ہوا بلکہ امر مستعبد معلوم ہوتا ہے ۔

جواب:-
اس کا جواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمروں میں کافی فرق تھا ۔حضرت عائشہ صدیقہ حضرت فاطمہ الزہرا (سلام اللہ علیہا ) سے بھی عمر میں چھوٹی تھیں اور بہت صغیر سنی میں آنحضرت کے نکاح میں آئی تھیں اگر اس نکاح میں کوئی قباحت نہیں ہے تو حضرت ام کلثوم کا حضرت عمر فاروق اعظم کے نکاح میں آنا یہ کونسا امر مستبعد ہے ۔عربی تمدن میں خاوند اور بیوی کا قریب العمر ہونا ضروری نہ تھا ۔
دوم یہ کہ میری تحقیق کے مطابق حضرت علی مرتضی کی صاحبزادی جو اس وقت صغیرہ تھیں اور پانچ سال کے قریب تھیں وہ ام کلثوم تھیں جو حضرت فاطمہ کے بطن سے نہ تھیں اور کسی اور بیوی سے تھیں یہ ام کلثوم صغری کہلواتی تھیں ۔ام کلثوم کبری جو سیدہ فاطمہ کی صاحبزادی تھیں وہ ہرگز صغیرہ نہ تھی اور حضرت فاروق اعظم کے نکاح میں وہی تھیں ان پر اگر کہیں صغیرہ سنی کا اطلاق ہے تو فی نفسہ چھوٹا ہو نے کی وجہ سے نہیں محض مقابلتا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ہے ۔
سوم یہ کہ حضرت ام کلثوم حضرت فاطمہ کی چھوتھی اولاد تھیں اور حضرت زینب سے چھوٹی تھیں ۔حضرت امام حسین (علیہ السلام ) اور حضرت ام کلثوم کے مابین صرف ایک بیٹی حضرت زینب ہیں شیعہ عالم شیخ طوسی کے بیان کے مطابق حضرت امام حسین (علیہ السلام)

51
ہجرت کے تیسرے سال ربیع الاول کے آخر میں پیدا ہوئے ۔حضرت سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنھا (علیہا السلام) کی اولاد میں فاصلہ کم تھا ۔اما م حسن اور امام حسین (علیھماالسلام) کی عمروں میں فرق ایک سال سے بھی کم تھا ۔قرین قیاس ہے کہ حضرت ام کلثوم پانچ یا چھ ہجری کے قریب پیدا ہوئیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم کے نکاح میں یہ کس وقت آئیں ۔حافظ ابن حبان اس واقعہ نکاح کو سنہ 17 ھ میں بیان کرتے ہیں ۔ اس حساب سے حضرت ام کلثوم کا یہ نکاح 12 سال کی عمر میں ہوا اور عربی آب وہوا کے مطابق یہ عمر قابل شادی ہے ۔اہل تشیع نے مقدمہ فدک میں حضرت ام کلثوم کو گواہ کے طور پر بھی پیش کیا ہے ۔
پس ثابت ہوا کہ صغیر سنی کا عذر محض اس حد تک ہی معقول ہوگا کہ حضرت عمر کے مقابلے میں ان کی عمر چھوٹی تھی نہ کہ نا قابل شادی تھیں ۔

دوسرا اعتراض :-
جو تم نے کہا کہ حضرت ام کلثوم حضرت عمر کی پر نواسی بھی تھیں تو یہ رشتہ سوتیلا تھا اور اسلامی شریعت میں یہ نکاح جائز ہے ۔اور جن بیہودہ روایات کا ذکر تم نے کیا ہے وہ تمام کی تمام موضوع قرار پاتی ہیں کہ ان میں نابالغ ام کلثوم کا ذکر ہے جبکہ میری تحقیق کے مطابق زوجہ عمر حضرت ام کلثوم بالغہ تھیں پس جب یہ روایات ہی جھوٹی ہیں تو پھر خلفائے راشدین کی شان میں تنقیص کیوں تسلیم کی جائے ۔
علی ھذا القیاس میں نے اجمالی طور پر تمھارے شکوک کو رفع کرنے کی کوشش کی تاکہ جس غلط فہمی کی شکار ہوگئی ہو اس کی اصلاح کر سکو اور تمھارے قلبی شبہات کا ازالہ ہو ۔امید ہے کہ تم مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں حتمی رائے قائم کروگی ۔اور دشمنان دین کے مقابل اپنے مسلک کی حفاظت باحسن کرسکو گی ۔ والسلام

تمھارا خیر اندیش
عبد الرحمان عفی عنہ

52
دشوار گزار سخت تکلیف دہ راستے طے کرنے کے بعد جب کوئی امن و سکون کی جگہ پاتا ہے تو وہاں دلکشی کے ساتھ ساتھ فتح مندی کے جذبات بھی محسوس ہونے لگ جاتے ہیں ۔مولوی عبد الرحمان صاحب کا یہ مکتوب عائشہ کےلئے ایک سہارا تھا ویسا جس طرح ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اسے اپنے رہنما مولی عبد الرحمان صاحب کی صلاحیتوں اور قابلیت پر بھروسہ تھا چنانچہ اس خط کا اس نے بڑے اشتیاق اور بے تابی سے مطالعہ کیا اس کو اس ا عتراض کا حل فرقہ واریت سے بالا تر درکار تھا ۔کیونکہ شیعہ و سنی مباحث درپیش حالات میں یکساں طور پر غیر کار آمد تھے ۔ایک عیسائی اور غیر مسلم معترض کی زبان بندی کیلئے شیعہ وسنی کتب کے مندرجات کافی نہ تھے بلکہ یہ اعتراف تو اور بھی اعتراض کو تقویت پہنچا رہا ہے کہ کل ملت اسلامیہ کا اتفاق ثابت کرتا ہے کہ یہ نکاح ضرور ہوا کوئی بھی غیر مذہب والا محض اس خوش اعتقادی کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوگا کہ فلاں روایت فلاں بزرگ کی شان کے خلاف ہے جبکہ معترض بجائے خود اس شاندار شخصیت کی شان ہی کا قائل نہیں ہے ۔عائشہ یہ خط عالیہ کو پڑھاتی ہے تاکہ اس کا تبصرہ بھی سن سکے ۔
عائشہ :- عالیہ ہمارے مولانا صاحب نے یہ گرامی نامہ ارسال کیا ہے ۔ اس کو پڑھ کر تم اپنے خیالات کا اظہار کرو ۔کیونکہ زیادہ تر اس میں تمھارے مذہب پر ہی زور صرف ہوا ہے ۔اصل معاملہ ابھی تک لاینحل ہے ۔ ایلزبتھ کی نگاہوں میں شیعہ وسنی سب مسلمان ہیں روایات شیعہ کی ہوں یا سنیوں کی عیسائی کو اس سے کیا واسطہ ؟
عالیہ :- مجھے تمھاری بات سے اتفاق ہے ۔ میں اس خط کا بغور

53
مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رائے پیش کرسکتی ہوں ۔
عالیہ نے پوری توجہ سے مولوی عبد الرحمان صاحب کے ارسال کردہ خط کو پڑھا اور اس کے مندرجہ کا جائزہ پورے جذبہ تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے لیا ۔عالیہ نے اس خط کی ابتدائی عبارت ہی سے اندازہ قائم کرلیا کہ اس افسانوی نکاح کو مشہور کرنے کا واحد مقصد یہی تھا کہ شیعوں کے عقائد کے خلاف حضرت عمر کو اہل بیت (علیہم السلام ) کاحقیقی دوست ورشتہ دار ثابت کیا جائے یہ افسانہ تراشتے وقت یہ بات قطعا ذہن میں نہ رہی کہ یہ مفروضہ آئندہ نسلوں کے لئے بے چینی پیدا کردےگا ۔اور تعلیمات اسلامیہ پر بد نما داغ بن جائے گا ۔لیکن اس وقت وضاعین کو صرف فضائل عمر یہ کی نشر واشاعت سے سرو کار تھا ۔دین کی پرواہ نہ تھی چنانچہ شیعہ دشمنی اور اصحاب نوازی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ من گھڑت واقعہ بھی مشہو کردیا گیا ۔حالانکہ صحیح کتب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔تاہم مولوی صاحب موصوف نے جن روایات اہل سنت کو دلائل قرار دیا ان پر عالیہ کی جرح یوں مرتب ہوئی ۔