افسانہ عقد ام کلثوم
 

افسانوی نکاح کا شرعی حیثیت سے ابطال :-
علامہ سبط ابن جوزی کے اس تبصرہ کے بعد ڈائری میں مرقوم وہ بحث جس کے مطابق اہل سنت کے مذاہب اربعہ کی فقہ میں روایات مندرجہ بالا کی روشنی میں اس نام نہاد فرضی نکاح کو باطل

36
ثابت کیا گیا یہے ۔عائشہ بغور پڑھ رہی ہے اس بحث میں حنفی ،شافعی ،جنبلی اور مالکی فقہ کے مطابق ٹھوس دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ یہ نکاح ہر صورت میں باطل ہے اور شریعت اسلامیہ کی کھلی مخالفت ہے ۔

پہلی دلیل:-
ان روایات سے ثابت ہے کہ عقد مفروضہ میں ایجاب وقبول واقع نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں گواہ بیٹھے نظر آتے ہیں ۔مذہب اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایجاب وقبول نکاح کا رکن ہے ۔کسی مسلمان کا نکاح بغیر دو عادل آزاد ،بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی کے منعقد نہیں ہوسکتا پس چونکہ اس افسانوی نکاح میں یہ شرائط مفقود ہیں اس لئے یہ نکاح قطعا باطل اور غیر اسلامی ہے ۔

دوسری دلیل:-
روایات بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی کے ولی یعنی حضرت علی نے فرمایا "میں ام کلثوم کو تمھارے پاس بھیجوں گا اگر تم کو پسند آگئی تو اس کی شادی تم سے کردوں گا" (استیعاب جلد 4 ص 267) یا یہ کہا کہ "میں اس کو تمھارے پا س بھیجوں گا اگر تم نے پسند کرلی تو وہ تمھاری بیوی ہے "(استیعاب جلد 4 ص 469)
"اگر"کے لفظ پر منحصر عقد اصطلاح میں "عقد معلق"کہلواتا ہے ۔اور مالکیوں ،شافعیوں ،اور حنفیوں کے نزدیک نکاح معلق باطل ہے بلکہ نکاح کو "منجز "ہونا چاہئے ۔

تیسری دلیل :-
روایات منقولہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ام کلثوم اس وقت کو سن اور نا بالغ تھیں مگر ان روایات میں نکاح کے صیغے جاری ہونے کا کسی جگہ تذکرۃ نہیں ملتا ہے اگر چہ نابالغ بچی کے نکاح میں ایک وکیل اور ایک گواہ کا ہونا کافی ہے تب بھی مذہب حنفی کے مطابق باپ کی موجودگی شرط ہے ۔ اگر باپ غائب ہے تو نکاح ناجائز ہوگا ۔

37
اگر فرض کیا جائے کہ ام کلثوم کی عمر اس نکاح کے وقت دس گیارہ بر س کی تھی تو یہ مفروضہ اور خطر ناک ہوگا کہ روایات یہ ثابت کرنے سے قاصر ہیں کہ ام کلثوم سے حضرت عمر کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہو بلکہ واضح طور پر روایات میں مذکور ہے کہ حضرت عمر کی دست درازی کے بعد ان کو بتا یا گیا کہ"اے بیٹی وہ تمھار شوہر ہے "۔(استیعاب جلد 4 ص 467)یعنی اس بد تمیزی سے قبل لڑکی بالکل بے خبر ہے ۔جبکہ اہل سنت کے ہاں امر مسلمہ ہے کہ حرہ بالغہ عاقلہ کا نکاح اس کی مرضی کے خلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ اور نہ ہی ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ بالغہ اور نا کتخدا کو کسی سے نکاح کرنے پر مجبور کرے لہذا دونوں صورتوں میں نکاح درست قرار نہیں پاتا ہے تو پھر حضرت عمر کے لئے ایسا ناجائز نکاح تجویز کر کے ان کو توہین وتذلیل کیوں کی جاتی ہے ۔برادران اہل سنت کو اس کا سختی سے لحاظ رکھنا چاہئیے ۔

چوتھی دلیل:-
ان بے ہودہ روائیوں سے پوری طرح واضح ہے کہ اس نکاح کو صحابہ رسول (ص) سے مخفی رکھا گیا ان کو اس عقد کی خبر تک نہ ہوئی جب ام کلثوم ناراض ہو کر واپس گئیں تو حضرت عمر نے لوگوں سے مبارک باد ی کا مطالبہ کیا ۔جب صحابہ نے وجہ دریافت کی تو انھوں نے ام کلثوم سے شادی کی خبر دی ۔ حلبی نے اپنی سیرت میں تو شرافت کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دئیے ہیں انھوں نے روایت لکھی ہے کہ " حضرت عمر نے مجلس مہاجرین میں جا کر یہ کہا کہ "مجھے مجامعت کرائیے ۔صحابہ نے کہا کس سے تو عمر نے کہا میں نے ام کلثوم سے شادی کر لی ہے " (کتاب السیرت ص463)
(ڈائری کی یہ عبارت پڑھ کر عائشہ نے اپنا منہ گریبان میں چھپا لیا اور" لا حول " پڑھنا شروع کیا ۔) اس کے بعد حلبی نے اظہار معذرت کیا کہ

38
شاید ایسی بات کرنے کی حرمت صحابہ کو نہیں پہنچتی تھی ۔(بحوالہ کنز المکتوم ص 46)
حالانکہ شریعت کا حکم ہے کہ نکاح کا بر سر عام کرو ۔یہاں تک ہے کہ دف بجاؤ تاکہ حرام وحلال کا فرق معلوم ہوسکے خود حضرت عمر کا قول ہے کہ نکاح کا پہلے اعلان کیا جائے حضرت عمر کے دوسرے سارے نکاح بھی بر سر عام ہوئے اور دیگر کسی بھی صحابی نے چوری چھپے نکاح نہیں کیا ہے ،پس یہ پو شیدہ نکاح خود اپنے آپ کو افسانوی ثابت کرنے کا بین ثبوت ہے ۔

پانچویں دلیل:-
ابن سعد کی طبقات میں اور دیگر کتابوں میں یہ مرقوم ہے کہ ام کلثوم کا حق مہر چالیس ہزار درہم مقرر ہوا ۔یہ رقم حضرت عمر کے اپنے ہی قول کے خلاف بات ہے ۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے "ازالتہ الخفا"جلد دوم ص 112 میں تحریر کیا ہے ۔حضرت عمر نے فرمایا "حق مہر زیادہ نہ ہو" چونکہ رسول اللہ (ص) نے اپنی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہ مقرر فرمایا "اسی طرح شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے کہ حق مہر کا بڑھانا خلاف اصول پیغمبر ہے چونکہ صحیح احادیث میں حق مہر بڑھانے کی ممانعت وارد ہے اور حدیث میں ہے حق مہر آسان باندھو ۔(تحفہ اثنا عشری ص 591 فارسی)
مولی شبلی نعمانی نے الفاروق ص 570 پر اسی رقم مہر یعنی 40 ہزار کا ذکر کیا ہے جو سراسر مخالفت سنت رسول (ص) بلکہ خود حضرت عمر کا اپنے قول و اصول سے انحراف ہے کہ دوسروں کو تو وہ زیادہ مہرباندھنے پر روکتے تھے اور خود ساٹھ سال کی عمر میں کمسن دلھن کا چالیس ہزار مہر دینے پر آمادہ ہوگئے ۔

چھٹی دلیل :-
زیر بحث روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سنہ 17 ہجری میں حضرت عمر کی نویلی دلہن کی عمر چار پانچ برس کی تھی اور بعض مورخین کے

39
نزدیک صبیہ یعنی دودھ پیتی تھی یا پھر صغیرہ ونابالغہ تھیں اور ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں منقول روایت کے تحت وہ بہت چھوٹی تھیں ورنہ ان کے باپ ان کو عمر کے پاس نہ بھیجتے ۔ شہاب الدین دولت آبادی کے نزدیک ان کو عمر پانچ بر س کی تھی ۔
یاسین موصلی نے المہذب ص 98 پر اور عمر رضا کحالہ نے اعلام النساء ص 256 پر تحریر کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ذیقعدہ سنہ 18 ھ میں یہ شادی کی شادی کے ایک سال بعد دخول کیا حالانکہ نابالغ بچی سے دخول کرنا فعل حرام ہے خواہ وہ منکوحہ ہی کیوں نہ ہو ۔ اب صاف ظاہر ہے کہ جب بوقت نکاح عمر چار پانچ برس تھی تو ایک سال بعد بالغ ہونا ممکن نہیں ہے پس روائتی لحاظ سے یہ نکاح بالکل من گھڑت افسانہ ہے ۔
عائشہ پوری دلچسپی سے یہ ڈائری مطالعہ کر رہی ہے اسے یہ احساس ہےکہ اس نے اپنی سہیلی ایلزبتھ پر اسلام کی تعلیمات کو محض اس دلیل کے بل بوتے پر فوقیت دی ہے کہ اس کے احکام سائنٹفک ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کے محافظ بھی ہیں اس نے شارح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور اخلاق محمدیہ کے بیشتر نمونے بطور مثال پیش کرکے ایلزبتھ کے عقیدے میں ڈگمگا ہٹ پیدا کردی ہے ۔ تہذیب اسلام اور اصول دین کی جامعیت پر مدلل مباحثے کر کے اسلام کو ایک عالم گیر ضابطہ حیات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب وہ خوف زدہ ہے اسے ڈرہے کہ اس واقعہ دل سوزکی روشنی میں اگر ایلزبتھ نے کہہ دیا کہ اسلام کے دانت ہاتھی کے مانند دیکھنے کے اور کھانے کے اور ۔یہ تو ایسا کالا مذہب ہے کہ ایک ستون اسلام بزرگ جو پیغمبر کا خلیفہ ونائب اعتقاد کیا جاتا ہے اور جسے تاریخ میں فاروق اعظم

40
لکھا جاتا ہے اس نے اٹھاون برس کے سن میں تین بیویوں کے ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کی سوتیلی نواسی سے شادی رچائی ۔بلکہ بلا نکاح اس سے ایسی حرکات ناشائستہ کیں جو کوئی بھی شریف شخص نہیں کرسکتا ۔اور دوسرے ستون اسلام نے اپنی بیٹی کو بازاری سودے کی طرح بطور نمونہ اس کے پاس بھیجدیا تو میرے پاس ان معقول اعتراضات کا کیا تسلی بخش جواب ہوگا ؟ اگر خدا نخوستہ یہ روایات سچی ہیں تو بنی آدم کی تاریخ میں ایسی مذموم مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتی ہے ۔اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیرے دین حقہ کی اشاعت کے لئے خلوص نیت سے دعوت تبلیغ کی کوشش کی تھی اب مجھے اس خلفشار سے بچا ۔ میرے دل کو تویہ اطمینان ہے کہ یہ قصہ بالکل واہیات اور مہمل ہے اور محض اسلام کو بدنام کرنے کے لئے بزرگان اسلام کو بے آبرو بنانے کی خاطر دشمنان دین نے اسے گڑھا ہے ۔تاکہ دین کو محض عیاشی و شہوت پرستی کا ضابطہ بنا کردنیا کے سامنے ذلیل کردیا جائے ۔اور اس مصطفی مذہب کو نفرت آمیز جامہ پہنا دیا جائے یہ روایات تو خلفائے راشدین کی سیرت پر ایسا بد نما داغ لگا تی ہیں جسے صاف کرنا ممکن نظر نہیں آتا ہے ۔اے رب العزت ! میری رہنمائی فرما اور اپنے معزز دین کی عزت و توقیر کو بحال رکھ مجھے اس مشکل سے نکال ۔بے شک یہ قصہ عقلا ونقلا شرعا وشرفا بالکل بے سروپا اور بے بنیاد ہے ۔لیکن ایلزبتھ کو کس طرح مطمئن کیا جاسکتا ہے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی بچ جائے ۔
عالیہ اور ایلزبتھ کالج سے واپس آگئی ہیں لیکن عائشہ ابھی اس موضوع پر ایلزبتھ سے گفتگو کرنا پسند نہیں کرتی ہے جب کہ وہ خود کو مکمل طور پر اس

41
قابل نہیں بنالیتی کہ اس واقعہ کے ہر گوشے پر روشنی ڈال سکے ۔عالیہ نے اشارۃ عائشہ سے پو چھا ہے کہ اس کی تحقیق کس نتیجہ پر پہنچی ہے مگر اس نے اشارہ ہی سے اسے منع کردیا ہے کہ ایلزبتھ کے سامنے یہ بات نہ کی جائے ۔ایلزبتھ نے عائشہ سے پوچھا ۔
ایلزبتھ :-کہو عائشی اب تمھاری طبعیت کیسی ہے ؟
عائشہ :- ٹھیک ہے ۔کچھ دیر آرام کیا ہے ۔
عالیہ :- کیوں بھئی چائے چلے گی ؟
ایلزبتھ:- کیوں نہیں ضرور چلے گی ۔
عالیہ چائے تیار کرتی ہے اور تینوں سہیلیاں چائے پیتی ہیں ۔چائے کے بعد ایلزبتھ کسی کام سے شہر چلی جاتی ہے ۔
عالیہ :- کیوں عائشی کس نتیجے پر پہنچ سکی ہو ؟
عائشہ :- بھئی جو کچھ تک معلوم ہوا ہے ۔وہ تویہ ہے کہ یہ واقعہ دوخلفائے راشدین کی انتہا درجہ تو ہین وتذلیل کرتا ہے مگر یہ نکاح نہ صرف سنی کتب سے بیان کیا جاتا ہے بلکہ شیعہ کتب میں بھی اس کی تائید میں روایات ہیں اور مولوی شبلی نعمانی جیسے مورخ نے بھی اس کو الفاروق میں لکھا ہے حالا نکہ انھوں نے روایت ودرایت کا خصوصی لحاظ رکھا ہے لہذا میں یہ چاہتی ہوں کہ اس معاملہ کی جانچ پڑتال اور چھان بین کیلئے اپنے استاد محترم مولوی عبد الرحمان صاحب سے مدد حاصل کروں کیوں کہ ان کو تاریخ پر خصوصی عبور حاصل ہے ۔ان کی جانب سے مفصل جواب موصول ہونے پر کوئی حتمی رائے قائم کرنے کے قابل ہوں گی ۔
عالیہ :- ہاں ٹھیک ہے ۔ان سے ضروری وضاحت دریافت کرو

42
چنانچہ عائشہ اپنے استاد مولوی عبد الرحمان صاحب کو خط تحریر کرکے صورتحال سے آگاہ کرتی ہے اور استفسارات کا جواب چاہتی ہے ۔ مولوی صاحب واپسی جواب میں اپنی شاگرد عائشہ کو لکھتے ہیں کہ

بسم اللہ الرحمان الرحیم
نحمدہ ونصل علی رسولہ الکریم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ ۔ بعد ازدعائے نیک بختی وشفقت مخلصی کے تحریر ہے کہ تمھارا استفسار نامہ موصول ہوا ۔واضح ہو کہ یہ بات ازروئے کتب معتبرہ اہل سنت وشیعہ کے پابت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نکاح ساتھ ام کلثوم کے ہوا ۔جو حضرت فاطمہ و علی کی صاحبزادی تھیں اس نکاح سے چند فائدے ظاہر ہوتے ہیں ۔
ا:- اس نکاح کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت عمر کی باہمی دوستی ثابت ہوتی ہے اگر ان میں رنجش و عداوت ہوتی جیسا کہ روافض کا خیال ہے تو حضرت مرتضی کبھی اپنے دشمن ومخالف اپنے خاندان میں نہ لیتے ۔
ب :- اس عقد سے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا کافر و منافق و مرتد نہ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے ۔ورنہ حیدر کرار اپنی پیاری دختر کا نکاح کبھی نہ کرتے ۔پس یہ نکاح اس بات کا ثبوت ہے حضرت علی کو حضرت عمر کے ایمان و عبادت ،زہد وتقوی پر بھروسہ تھا ۔
ج :- اس عقد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے کبھی کسی قسم کا رنج اور صدمہ حضرت علی یا حضرت فاطمہ کو دیا ہوتا تو یہ نکاح ہرگز نہ ہوتا ۔یہ نکاح اخلاص اور اتحاد اور محبت باہمی پر شاہد ہے ۔ لہذا حضرت عمر پر شیعوں کے

43
مطاعن کی تردید کے لئے کافی ہے ۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،کا نکاح حضرت ام کلثوم بنت علی کے ساتھ مندرجہ دلائل ازکتب اہل سنتہ سے ثابت ہوتا ہے ۔
1:- حافظ ذہبی تحریر فرماتے ہیں "حضرت ام کلثوم بنت علی مرتضی جو حضرت فاطمہ کے بطن سے تھیں اپنے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریفہ سے پہلے پیدا ہوچکی تھیں ۔ ان سے حضرت عمر نے چالیس ہزار درہم مہر پر نکاح کیا ۔اور ان کے ہاں زید اور رقیہ پیدا ہوئے ۔حضرت عمر کی شہادت کے بعد ام کلثوم نے پھر عون بن جعفر سے نکاح کیا ۔
(تجدید اسماء الصحابہ ص 250)
2:- حضرت امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ایک دفعہ مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک عمدہ چادر بچ گئی ۔حاضرین مجلس میں کسی نے کہا " یہ چادر آپ حضور اکرم (ص) کی صاحبزادی کو جو آپ کے نکاح میں ہے دیے دیں ۔ اس سے ان کی مراد حضرت علی (علیہ السلام) کی بیٹی ام کلثوم تھی ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ام سلیط اس چادر کی زیادہ حقدار ہیں وہ جنگ احد کے دن ہمارے لئے پانی کی مشکیں اٹھا اٹھا کر لائی تھیں ۔(صحیح بخاری کتاب الجہاد جلد اول باب حمل النساء القرب ص403 کتاب المغازی جلد نمبر 2 ذکر ام سلیط ص 572)۔
3:- امام نسائی اپنی سنن میں حضرت نافع سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک دفعہ نو اکٹھے جنازے پڑھائے ان ہی میں حضرت ام کلثوم بنت علی المرتضی کا جنازہ بھی تھا ۔یہ سعد بن عاص کی حکومت کا دور تھا ۔

44
حضرت علی (علیہ السلام )کی بیٹی ام کلثوم جو حضرت عمر کے نکاح میں رہ چکی تھیں ان کا جنازہ اور ان کے بیٹے زید کا جنازہ اکٹھا رکھا گیا ۔ نماز جنازہ میں حضرت ابن عمر ،ابن عباس ،ابو ہریرہ ،ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سب حضرات شامل تھے ۔ حضرت ابن عمر نے امامت فرمائی ۔ (سنن نسائی جلد 1 کتاب الجنائز باب اجتماع جنائز الرجال و النساء صفحہ 317 مطبوعہ دہلی )
سید نا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس نماز جنازہ میں شریک ہونے والوں میں حضرت امام حسن ، امام حسین ،امام محمد بن حنفیہ اور حضرت عبد اللہ بن جعفر کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔تاریخ الصغیر الامام بخاری ص 53 مطبوعہ آلہ آباد)
4:- سنن ابی داؤد میں حضرت عمار مولی حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ "وہ بھی حضرت ام کلثوم اور ان کے بیٹے زید کے جنازہ میں حاضر تھے ۔اس میں لڑکے کا جنازہ اس جہت میں رکھا گیا تھا جو امام کی طرف تھی ۔(سنن ابو داؤد جلد نمبر2 ص 455)
5:- دار قطنی نے تحریر کیا ہے کہ "ام کلثوم بنت علی جو حضرت عمر کی بیوی تھیں ان کا اور ان کے لڑکے زید بن عمر کا جنازہ رکھا گیا اور وہاں ان دنوں امام سعید بن عاص تھے ۔(دار قطنی جلد 1 ص194 مطبوعہ دہلی)
6:- امام حاکم نے روایت نقل کی ہے کہ امام زین العابدین کہتے ہیں حضرت عمر نے حضرت علی (علیہ السلام) سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا ۔ حضرت علی نے کہا میں نے تو اسے اپنے بھتیجے کے لئے رکھا ہوا ہے ۔ حضرت عمر نے کہا آپ ام کلثوم کو میرے نکاح میں دے دیں ۔بخدا مجھ سے زیادہ کوئی اس کا منتظر اعزاز نہیں اس پر حضرت علی (علیہ السلام) نے حضرت عمر کو یہ نکاح دے دیا (مستدرک جلد 3 ص 142مطبوعہ دکن)۔

45
7:- ابو بکر بیہقی اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت علی مرتضی (علیہ السلام) سے کہا مجھے اپنی لڑکی ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ (ص) کا رشتہ دے دیں حضرت علی مرتضی(علیہ السلام) نے اس تفصیل کے بعد جو امام حاکم کی اوپر والی روایت میں درج ہے کہا کہ میں نے اس کا رشتہ (آپ کو ) دے دیا ۔
8:-حافظ ابو عبد اللہ محمد بن سعد زہری نے لکھا ہے کہ ام کلثوم بنت علی جن کی والدہ حضرت فاطمہ تھیں ان سے حضرت عمر نے نکاح کیا اور وہ چھوٹی عمر کی تھیں ان کے ہاں حضرت عمر سے زید اور رقیہ پیدا ہوئے (طبقات ابن سعد جلد 9 ص 33)
9:-ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری تحریر فرماتے ہیں کہ ام کلثوم کبری جو حضرت فاطمہ ک صاحبزادی تھیں حضرت عمر بن خطاب کے نکاح میں تھیں ۔ (کتاب المعارف ص 70 مطبوعہ مصر)
10:- امام طبری اپنی مشہور تاریخ میں لکھتے ہیں کہ "حضرت عمر نے ام کلثوم بنت علی سے نکاح کیا ۔ ان کی والدہ حضرت فاطمہ بنت رسول تھیں ان کا مہر جیسا کہ بیان کیا گیا ہے چالیس ہزار درہم ہم باندھا گیا انکے ہاں ام کلثوم سے زید اور رقیہ دو بچے پیدا ہوئے (تاریخ الامم الملوک جلد 5 ص 16 مطبوعہ مصر)
مندرجہ بالا حوالہ جات کتب اہل سنت والجماعت سے نقل کئے گئے ہیں کہ اب میں وہ حوالے پیش کرتا ہوں جو صرف مذہب شیعہ کی معتبر کتابوں سے ماخوذ ہیں تاکہ ثابت ہو جائے کہ یہ نکاح بلا امتیاز فرقہ تاریخ سے بالا تفاق مسلمہ ہے ۔