افسانہ عقد ام کلثوم
 

30

نتائج

صحاح ستّہ کی خاموشی:-
رات کافی گزر چکی ہے بارش بھی تھم گئی ہے عالیہ اور ایلزبتھ دونوں اپنی اپنی مسہریوں پر گھوڑے بیچ کر سوچکی ہیں ۔
عائشہ بھی اب تھکن محسوس کر رہی ہے اسے صبح کالج بھی جانا ہے ۔ لہذا وہ ڈائری کر سرہانے رکھ دیتی ہے اور کمرہ کی ٹیوب بند کرکے سونے کی تیاری کرتی ہے ۔لیکن آج اس کی نیند اڑی ہوئی لگتی ہے ۔ذہن پر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے سونا چاہتی ہے مگر سونہیں سکتی کروٹ بدلتی ہے مگر کسی کروٹ بھی نیند آنے کا نام نہیں لیتی وہ سوچ وبچار میں غرق ہوجاتی ہے ۔اسے احساس ہوتا ہے کہ ہماری صحاح ستہ میں تو اس نکاح کا کہیں ذکر تک نہیں ملتا ہے حالانکہ حضرت عمر کے فضائل اور مناقب سے یہ چھ کتابیں بھر پور ہیں مگر ایسا واقعہ کسی جگہ نہیں مل جاتا ہے وہ جی میں ہی جی میں ان منقولہ روایات کا سرسری جائزہ لے رہی ہے اور اس کے ذہین میں یہ نتائج پیدا ہوئے ہیں کہ

عمر نے علی کو جھوٹا قراردیا :-
(ا) :- حضرت عمر ساٹھ سال کی عمر میں حضرت علی سے ایک کمسن اور بروائتی صبیہ یعنی دودھ پیتی بچی کا رشتہ طلب کرتے ہیں حضرت مرتضی یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ وہ بچی ابھی چھوٹی ہے شادی کے لائق نہیں ہے مگر خلیفہ باپ کو جھٹلا دیتے ہیں اور خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ تمھارے دل میں اس سے واقف ہوں یعنی قسم کھا کر حضرت عمر نے حضرت علی جھوٹا قراردیا ہے جبکہ دونوں بزرگ ایک دوسرے پر کامل بھروسہ رکھتے تھے حسب العقیدہ ۔

31

انوکھی شادی:-
(ب) :- پھر یہ شادی بھی بڑی انوکھی ہے ۔عقد نکاح کے لئے کوئی محفل مسنون منعقد نہ ہوئی اکابر صحابہ مہاجرین وانصار میں سے کسی کو مدعو نہیں کیا جاتا ہے بلکہ شرفاء کی عادت کے خلاف باپ کہہ رہا ہے کہ میں لڑکی کو تمھارے ہاں روانہ کروں گا ۔اگر تم نے پسند کر لی تو وہ تمھاری بیوی ہوگی ۔استغفر اللہ ایسی بے غیرتی تو ایک گھسیارہ بھی نہیں کرسکتا ہے اور پھر اسلامی تعلیمات کے مطابق تو یہ طریقہ شادی قطعا لغو اور باطل ہے ۔

بلا نکاح دست درازی :-
(ج):- اف اللہ ۔توبہ ،توبہ ۔یہ پہلو کسقدر شرمناک ہے کہ ایک اسلامی خلیفہ ،صحابی رسول ،غیر شرعی طور پر ایک نامحرم ،نابالغ خاندان رسول کی بچی سے دست درازی کررہا ہے ۔بازو کھینچتا ہے ، پنڈلی کھولتا ہے ، سینے سے چمٹا تا ہے ، بو س وکنار کرتا ہے ، وہائی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس وقت آسمان کیوں نہ گرگیا ۔ زمین شق کیوں نہ ہوئی ۔جب وہ معصوم بچی غصّہ میں آکر کہتی ہے کہ اگر تم بادشاہ نہ ہوتے تو تمھاری ناک توڑ دیتی ۔یا آنکھ پھوڑ دیتی ۔

مجرمانہ حملہ :-
(د) :- حاکم بدھن اگر یہ ساری روایات صحیح ہیں تو پھر یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ حضرت عمر نے ساٹھ سال کی عمر میں ایک محرم ،کمسن بچی پر مجرمانہ حملہ کیا اور اگر کوئی دوسرا فرد ایسا کرتا تو اس کو عبرت ناک سزا دی جاتی مگر جب حاکم وقت نے یہ وحشیانہ قدم اٹھایا تعزیری کا روائی ساکت رہی ۔ان روایات سے تو صریحا حضرت عمر کا ظالم ۔فاسق وفاجر ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ایسے فحش الزامات ک موجودگی میں تو واقعہ و بیاہ کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ٹھیک ہے جو عالیہ اس نکاح کی منکر

32
ہے تو وہ ہرگز غلطی پر نہیں ہے لیکن اب ایلزبتھ کو کیسے مطمئن کیا جائے ۔
عائشہ ان ہی خیالات میں کھوئی رہی کہ رات بیت چکی ۔صبح کی آذان ہوئی عالیہ بھی بیدار ہوئی اور ایلزبتھ بھی جاگ گئی ۔عائشہ وعالیہ نے اپنے اپنے طریقوں سے نماز فجر ادا کی اور کالج جانے کی تیاری کرنے میں مصروف ہوگئیں ۔مگر عائشہ کے چہرے پر بے خوابی پوری طرح جھلک رہی ہے ۔اس میں وہ پہلے سا انہماک نہیں پایا جاتا ہے ۔سکون و آرام کا بہترین ذریعہ تو نیند ہی ہوتا ہے اگر نیند غائب ہوجائے تو قرار باقی نہیں رہتا ہے ۔عالیہ عائشہ کا روگ سمجھتی ہے مگر دونوں کی خواہش یہ ہے کہ ایلزبتھ سے یہ کیفیت پوشیدہ رکھی جائے ۔اترا چہرہ ، آنکھوں کی سوجن ،پیشانی پر شکنیں، اڑی رنگت ۔الجھے بال ،پریشان حال دیکھ کر ایلزبتھ نے عائشہ سے پوچھا ۔
ایلزبتھ :- مس عائشہ کیا بات ہے آج بہت وریڈ دکھائی دیتی ہو ؟
عائشہ :- نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ۔بس یونہی رات کو نیند پوری نہیں ہوئی طبیعت بوجھل سی محسوس ہوتی ہے ۔تم لوگ ایسے سوئے کہ آنکھ جھپک کر بھی نہ دیکھا ۔
ایلزبتھ :- کوئی ہم سے ناراضگی تو نہیں ؟۔
عائشہ :- نہیں نہیں قطعا نہیں تم جیسی سویٹ دوست سے بھلا کس طرح ناراضگی ہوسکتی ہے ۔
عالیہ :- واقعی عائشہ تمھارا چہرہ علیل دکھائی دے رہا ہے ۔ویسے بھی باہر سردی ہے اور آج کالج میں پڑھائی ہونے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے تم تو آج آرام ہی کرو ۔چھٹی لے لو ۔
عائشہ :- یہ تم نے دل کی بات کہی ۔میرا بھی ایسا ہی ارادہ تھا ۔ تم میری عرضی دیدینا ۔

33
عالیہ اور ایلزبتھ اپنی اپنی کتابیں تیار کرتی ہیں اور ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد کالج روانہ ہوجاتی ہیں عائشہ پر اب نیند کا غلبہ ہے ۔وہ کمرے کا دروازہ بند کرکے لحاف اوڑھ کر سوجاتی ہے ۔اور دو تین گھنٹے کی کچی نیند لینے کے بعد بیدار ہوتی ہے اور رات والی ڈائری کا پھر سے مطالعہ شروع کردیتی ہے اب وہ ان روایات کی تحقیق کرنا چاہتی ہے ، اور ان کے راویوں کا اقتدار معلوم کرنے کی خواہشمند ہے ۔

روایوں کا اقتدار :-
اس نے دیکھا کہ روایت نمبر 1 کو ابن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کیا ہے ۔

محمد بن اسحاق :-
جس کی روایت ذخائری العقبی میں درج ہے اس کے بارے میں یحیی قطان نے کہا ہے کہ "اسحاق کذاب ہے " ۔مالک نے کہا "ابن اسحاق دجّال ہے "۔ سلیمان تمیمی نے کہا "ابن اسحاق کذاب ہے "۔ دار قظنی نے کہا کہ قابل احتجاج نہیں لے ۔(میزان الاعتدال جلد 3 ص 21)
روایت نمبر 2 کو ابو عمرو نے زبیر بن بکار سے روایت کیا ہے ۔

زبیر بن بکار:-
زبیر بن بکار حدیث گھڑتا تھا اس کی حدیث ناقابل قبول ہے (میزان الاعتدال جلد 1 ص 340)
تیسری نمبر 3 روایت سفیان نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے ۔

عمرو بن دینار:-
امام احمد نے کہا ہے کہ ابن دینار ضعیف ہے ۔امام نسائی اور مّرہ نے بھی ضعیف کہا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد نمبر 2 ص 287)
چھوتھی نمبر 4 روایت ابن سعد نے محمد بن عمر واقدی سے روایت کی ہے ،

محمد بن عمرواقدی:-
امام نسائی نے کہا ہے کہ واقدی کذاب ہے اور بغداد میں اپنی کذب بیانی کی وجہ سے مشہور ہے (تہذیب التہذیب جلد 9 ص 366)

34
امام بخاری نے کہا ہے کہ واقدی متروک الحدیث ہے ۔مرّہ نے کہا ہے کہ واقدی کوئی شے نہیں ہے یحیی بن معین نے کہا واقدی ضعیف ہے ۔ابن مدائنی کا قول ہے کہ واقدی کی بیس ہزار حدیثیں بے اصل ہیں ۔امام شافعی نے کہاواقدی کی تمام کتب جھوٹ کا انبار ہے اسی واقدی کی کتابوں یورپین حضور کی شان میں گستاخیاں کرنے کا مواد تلاش کیا ہے اور اسکی فضولیات اورلغو باتوں سے اسلام کو نقصان پہنچا ہے ۔(روزنامہ امروز لاہور ص 1 19 اپریل سنہ 1978 عیسوی)
پانچویں روایت کی سند معلوم نہیں ہے چھٹی روایت بہیقی کی ہے جس پر جرح کی جاچکی ہے اسی طرح ساتویں روایت پر بھی بحث ہوچکی ہے یہ روایت عموما مجہول الحال رواۃ سے مروی ہیں جن کے احوال بھی کتب رجال میں نہیں ملتے ہیں مثلا ابن سعد نے انس بن عیاض لیثی ۔عمار بن ابی عامر ،۔ابو حصین اور ابو خالد اسماعیل وغیرہ سےروایت کی میزان ا عتدال میں ان تمام روایوں کو مجہول الحال لکھا گیا ہے ۔ملاحظہ کریں میزان الاعتدال جلد 3 ص 395۔
اسی طرح ہشام بن سعد بھی راوی ہے جسے نسائی نے ضعیف کہا ہے (میزان الاعتدال جلد 3 ص 254) ۔اسماعیل بن عبدالرحمان سدی کو یحیی بن معین نے ضعیف لکھا ہے ۔لیث نے کاذب قرار دیا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد 2 ص 110) عطا بن مسلم خراسانی کو بخاری نے ضعیف قرار دیا ہے ۔اس کی حدیث سے احتجاج باطل ہے ۔(میزان الاعتدال جلد 2 ص 119) عبید اللہ بن موسی کوامام احمد بن حنبل صاحب تخلیط کہا ہے ۔اس کی حدیث بری ترین ہیں (میزان الاعتدال جلد 2 ص 170) عبدالرحمان بن زید

35
بن اسلم کو امام نسائی نے ضعیف کہا ہے ۔(میزان الاعتدال جلد 2 ص 105)
اسی طرح ابن شہاب زہری کا ناصبی ہونا اور دشمن علی ہونا مشہور ہے ا لغرض یہ واقعہ ناقابل اعتبار روایوں کی روایات پر انحصار کرتا ہے جن کا علم رجال کی روشنی میں حال بیان کیا گیا ہے ۔یہ احوال پڑھ کر عائشہ دل سے مطمئن ہے کہ یہ بے بنیاد روایات محض صحابہ کی زبر دست توہین اور ہتک اسلام کرنے کے لئے دشمنان دین نے گھڑی ہیں اور ان کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق ثابت نہیں ہوتا ہے ۔اور جب عائشہ نے ڈائری میں یہ بھی پڑھا کہ خود علمائے اہل سنت نے ان مردود روایات کو ٹھکراردیا ہے تو اسے مزید سکون محسوس ہوا ۔ چنانچہ اس نے دیکھا کہ اہل سنۃ کے جلیل القدر شیخ الاسلام امام سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الا متہ ص 331 پر ان روایات کےبارے میں با ایں الفاظ تبصرہ کیا ہے ۔

سبط ابن جوزی کا تبصرہ :-
میرے نانا نے کتاب المنتظم میں ذکر کیا ہے کہ علی نے ام کلثوم کو عمر کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کو دیکھیں اور عمر نے ان کی پنڈلی کھولدی اور ان کو ہاتھ سے چھوا ۔میں کہتاہوں کہ خدا کی قسم یہ بد ترین بات ہے اگر یہاں کوئی کنیز بھی ہوتی تو عمر اس سے یہ بد سلوکی نہ کرتے کیونکہ با اجماع المسلمین اجنبی عورت کو مس کرنا حرام ہے ۔لہذا یہ بات حضرت عمر کی طرف کیسے منسوب کی جائے "۔