افسانہ عقد ام کلثوم
 

میں کیا کروں رام مجھے بڈھا مل گیا
عائشہ:-ایسی روایات کونسی ہیں؟۔
عالیہ :- وہ ایسی توہین آمیز روایات ہیں کہ جن کو بیان کرنا بھی مانع شرم وحیا ہے لیکن اس بے ہودگی کی وضاحت اور ان موضوع روایات کی حقیقت روایت ودرایت کے انکشاف کے لئے میں تمھیں چند منقولہ حوالہ جات اپنی ڈائری سے پڑھوادیتی ہوں ۔ انھیں پڑھ کر خود فیصلہ کرنا کہ اس نکاح کے قائل سنی حضرات کتنی زبردست گستاخی شان عمر میں کرتے ہیں ۔
عالیہ اٹھتی ہے اور اپنے صندوق سے ایک ڈائری نکال کر لاتی ہے اور مطلوبہ صفحہ نکال کر عائشہ کی طرف بڑھا کر دعوت مطالعہ دیتی ہے اور کہتی ہے اس کا مطالعہ آرام سے کرو ۔باقی گفتگو کل ہوگی ۔ڈائری میں مرقوم ہے کہ

بے ہودہ روایات:-
ا:- حضرت عمر نے حضرت علی سے ان کی دختر ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا ۔حضرت علی نے فرمایا ابھی وہ کمسن ہے پس عمر نے کہا نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہے بلکہ آپ مجھ کو رشتہ نہیں دینا چاہتے اگر وہ کمسن ہے تو اس کو میرے پاس بھیجدو ۔پس حضرت علی نے ام کلثوم کو بلا کر ایک پوشاک دی اور کہا یہ عمر کے پے لے جاؤ اور ان سے کہہ دو میرے والد کہتے ہیں کہ یہ پوشاک کیسی ہے ؟ پس وہ پوشاک لے کر عمر کے پاس آئیں اور پیغام دیا تو عمر نے ام کلثوم کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔ام کلثوم نے کہا میرا بازو چھوڑ دو ۔پس انھوں نے چھوڑ دیا اور کہا بڑی اچھی پاکدامن لڑکی ہے جاکر باپ سے کہدے کہ کتنی حسین اور کتنی خوبصورت ہے ایسی نہیں ہے جیسا کہ تم نے کہا تھا ۔ پس پھر علی نے ام کلثوم کی عمر سے شادی کردی (ذخائر العقبی ص 168)۔
2:- عمر نے ام کلثوم کارشتہ کیا تو انھوں نے کہا وہ ابھی چھوٹی بچی ہیں ۔عمر نے کہا کہ میری اس سے شادی کردیں ۔ میں اس کی فضیلت طلب کرنا چاہتا ہوں جس کو کوئی بھی طلب کرنے والا نہیں ۔حضرت علی نے کہا میں ام کلثوم کو تمھارے پاس بھیجتا ہوں اگر تم اس کو پسند کرلو تو میں نے اس کی شادی تم سے کردی ۔پس حضرت علی نے اس کو ایک چادر دے کر بھیجا اور کہا اس سے کہدینا کہ یہی و ہ چادر ہے جو میں نے تم سے کہی تھی ۔ام کلثوم نے جا کر عمر سے یہ بات کہی تو عمر نے کہا ،اللہ تم سے راضی ہو میں نے پسند کر لی ۔پس عمر نے ام کلثوم کی پنڈلی کی طرف ہاتھ بڑھا یا اور اس کو کھول دیا ۔ ام کلثوم نے کہا تم ایسا کرتے ہو اگر تم امیر المومنین نہ ہوتے تو میں تمھاری ناک توڑ دیتی پھر ام کلثوم واپس گئیں اور حضرت علی سے واقعہ بیان کیا اور کہا آپ نے مجھے بد کار بڈھے کی طرف بھیج دیا ۔حضرت علی نے فرمایا ۔اے بیٹی وہ تمھارا شوہر ہے ۔پھر مہاجرین کی محفل میں آئے اور کہا مجھے مبارک کہو ۔انھوں نے کہا کس لئے ؟ کہا میں نے ام کلثوم بنت علی سے شادی کرلی ۔(استیعاب جلد 4 ص 467)
عا ئشہ جوں جوں راویات پڑھ رہی ہے فرط ندامت سے پانی پانی ہورہی ہے دل ہی دل میں کڑھتی ہے اس کا ضمیر ضمیر بار بار اسے جھنجھوڑ رہا ہے کہ اگر واقعی یہ بزرگ اس کردار کے تھے تو ان کو ہرگز ہرگز مذہبی پیشوا تسلیم نہیں کرنا چاہئیے ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک باپ ایسا بے غیرت ہو کہ اپنی صغیر سن بیٹی کو خود ہی ایک بڈھے امیدوار کے گھر بھیجدے کہ وہ امتحان کرے ۔ توبہ توبہ یہ گھٹیا حرکت تو کوئی رذیل سے رذیل بھی کرنے پر موت کو ترجیح دینا گوارہ کریگا چہ جائیکہ اسلام کے مہروماہ بزرگ کے بارے میں ایسا اتہام تجویز کیا جائے اور پھر وہ شخص جو ضعیف العمری میں نابالغ لڑکی سے بیاہ کرنے پر ضد ہے کسقدر درندہ صفت اور کمینہ ہے کہ معصوم بچی سے نازیبا حرکت کر رہا ہے جبکہ ابھی تک وہ اس کے حبالہ عقد میں بھی نہیں ۔الامان ۔ایسا کردار ہمارے پیشواؤں کا ہرگز نہیں ہوسکتاہے ۔
اسی خیالی کشمکش میں عائشہ ورق گردانی کر رہی ہے اور اب وہ تیسری روایت دیکھ رہی ہے ۔اس کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر کہیں ایلزبتھ یہ کار وائی پڑھ لے گی تو ہاتھ آیا شکار لمحہ بھر میں نکل جائے گا ۔ساری محنت اکارت ہوگی تاہم وہ ذہنی خلفشار میں گرفتار مطالعہ میں مصروف ہے ۔
3:- عمر بن خطاب نے حضرت علی سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا تو انھوں نے کہا کہ وہ صغیرہ ہے ۔حضرت عمر سے کہا گیا کہ حضرت علی نے آپ کو رشتہ دینے سے جواب دے دیا ہے پس انھوں نے پھر طلب کیا تو حضرت علی نے کہا میں ام کلثوم کو تمھاری طرف بھیجوں گا اگر تم کو پسند آگئی تو وہ تمھاری بیوں ہے پس علی نے ام کلثوم کو بھیجدیا اور عمر نے ان کی پنڈلی کھولی ۔ام کلثوم نے کہا ہٹ جا اگر امیر المومنین نہ ہوتا تو میں تیری آنکھوں پر تھپڑ ماردیتی (اصابہ جلد 2 ص 462)
اس روایت کے پڑھنے پر عائشہ کو ان ظالم حکمرانوں کا خیال آتا ہے جو

27
رعایا کی بہو بیٹیوں کو اپنی خواب گاہوں کی زینت بنا نے کے لئے بزور شمشیر اغوا کرلیتے تھے اور اسی طرح کا کردار اسے اپنے خلیفہ دوم فاروق اعظم کا نظر آتا ہے کہ لڑکی کا باپ بوجہ صغیر سنی رشتہ دینے سے گریز کر رہا ہے اور وہ مجبور کررہے ہیں ۔لاچار باپ درندہ صفت حاکم کے محل میں اپنی بیٹی روانہ کرتا ہے اور وہ ننگ شرافت اس بچی کی پنڈلی کھول کر جبر کرنے کا ارادہ کرتا ہے کہ بچی کراہیت شدید کر کے مزاحمت کرتی ہے اور اعتراف کرتی ہے کہ اگر تو بادشاہ نہ ہوتا تو تجھے تھپڑ رسید کردیتی ۔ کیا اسلامی تعلیمات یہی ہیں جو اسلام کے دو رہنماؤں کے کردار وں سے اس روایت کے مطابق ظاہر ہوتی ہے اگر یہی اسلام ہے تو پھر کفر اس سے لاکھ درجے اچھا ہے ،یقینا یہ حکایات موضوع اور بے ہودہ ہیں ۔
ایسے ہی ذہنی چڑھاؤ میں مبتلا عائشہ اگلی روایت کا مطالعہ کرتی ہے ۔
4:-عمر بن خطاب نے حضرت علی سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا تو انھوں نے کہا اے امیر المومنین ابھی وہ بچی ہے عمر نے کہا کہ خدا کی قسم ایسی بات نہیں مگر مجھے علم ہے کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟پس علی نے حکم دیا او ربچی کو سجا یا سنورا گیا اور ایک چادر اس کو اوڑھائی گئی اور آپ نس کہا خلیفہ سے جاکر میرا سلام کہہ دے اور کہہ دے اگر یہ چادر پسند آئے تو رکھ لو ۔ ورنہ واپس کردو جب وہ بچی آئی تو عمر نے کہا اللہ تجھ میں اور تمھارے باپ میں برکت لائے ہمیں پسند ہے ۔پس وہ باپ کے پا س واپس گئی اورکہا اس نے چادر نہیں کھولی بلکہ مجھے دیکھا پس آپ نے اس کی شادی کردی ۔اور اس سے ایک لڑکا زید پیدا ہوا ۔(طبقات ابن سعد جلد 8 ص 464)
عائشہ نے محسوس کیا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا باپ رشتہ دینے پر دل سے آمادہ نہیں ہے ۔بہر حال اگلی روایت پڑھتی ہے

28
5:- حضرت علی نے حکم دیا اور ام کلثوم کو آراستہ کیا گیا اور حضرت عمر کے پاس بھیجا گیا جب عمر نے اس کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور لڑکی کو اپنی آغوش میں لے لیا اور بوسے دیئے اور دعا کی اور جب وہ اٹھنے لگی تو پنڈلی سے پکڑ لیا اور کہا ۔باپ سے کہدینا میں بلکل راضی ہوں جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس آئی اور ان کو سارا واقعہ سنایا تو علی نے ان کا نکاح عمرسے کردیا ۔(صواعق محرقہ جلد 1 ص 159)
یہ روایت دیکھ کر عائشہ اس عالم میں نظر آرہی ہے اگر زمین جگہ دے تو زندہ دفن ہوجائے ۔فاروق اعظم کی کتنی شرمناک انداز میں توہین کی گئی ہے ایسی رنگ رلی تو محمد شاہ رنگیلے کے باب میں بھی نہیں مل سکتی ہے ۔ امیر المومنین خلیفہ المسلمین ،صحابی رسول ساٹھ سالہ بزرگ ایک غیر محرم نابالغ بچی کو نکاح کرے بغیر گودہی میں کھینچ کر بو س و کنار کرتا ہے پھر پنڈلی کی طرف دست درازی کرتا ہے یہ خلیفہ راشد کا کردار ہے یا کسی اوباش وعیاش فاسق وفاجر بادشاہ کی بد کرداری کا نمونہ ہے ۔
6:- جب عمر نے علی سے رشتہ مانگا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے بھی رسول خدا کا نسب وسبب حاصل وہ تو علی نے حسن اور حسین سے کہا تم اپنی بہن کی شادی اپنے چچا عمر سے کردو ۔انھوں نے کہاوہ عورت ہے اپنے لئے خود اختیار کرےگی ۔پس علی غصّہ میں کھڑے ہوگئے اور حسن نے ان کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا اے ابا جان آپ کی ناراضگی ناقابل برداشت ہے پس حسن وحسین نے ام کلثوم کی شادی کردی ۔(صواعق محرقہ ص155)
عائشہ نے اس روایت کا جھوٹ خود ہی اپنی عقلی مہارت سے تلاش کرلیا کیونکہ نابالغ بچی یا بالغ عاقلہ عورت کے نکاح کااختیار شرعی ولی کو ہے ۔ کوئی عورت اپنے

29
شرعی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی جیسا کہ امام مالک نے موطاء میں لکھا ہے جب ام کلثوم کے شرعی والی یعنی والد حضرت علی خود موجود تھے تو ان کو حسن وحسین سے شادی کی درخواست کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ شرعا تزویج حق ان ہی کا تھا ۔ اس دلیل پر عائشہ نے اس روایت کو مردود ٹھہرایا ۔ اور اگلی روایت کا مطالعہ کیا ۔
7:- عمر نے علی سے ان کی بیٹی ام کلثوم بنت فاطمہ کارشتہ طلب کیا علی نے کہا مجھ پر کچھ امراء ہیں ۔ ان سے اجازت مانگ لوں پس آپ اولاد فاطمہ کے پاس آئے اور ان سے تذکرہ کیا انھوں کہا شادی کردیں ۔آپ نے ام کلثو م کو بلایا جبکہ وہ صبیہ (نابالغ بچی)تھیں ۔ اور کہا جاکر عمر س ے کہدے کہ میں نے تیری مطلوبہ حاجت پوری کردی ۔جب ام کلثوم یہ پیغام لے کر عمر کے پاس گئیں تو انھوں نے ام کلثوم کو پکڑ کر سینہ سے چمٹا لیا اور کہا میں نے اس کے باپ سے رشتہ مانگا تھا تو انھوں نے اس سے میری شادی کردی (ذخائر العقبی ص169)۔
عائشہ اس بے سروپا روایت پر سیخ پا نظر آتی ہے ۔ پیچ و تاب کھائی ہوئی غور فکر میں مصروفہے اس نے سوچا کہ کبھی اولاد کو بھی کوئی باپ امراء کہتا ہے حضرت علی کو کیا ہوا جو اولاد فاطمہ کو امراء کہکر خلاف اخلاق بات کررہے ہیں ۔پھر جب شادی پر رضا مندی ہوگئے تو محض رضامندی نکاح کے لئے کافی نہ ہوگی بلکہ صیغہ ایجاب وقبول رکن ہیں ۔ گواہوں کی موجودگی ضروری ہے لیکن یہاں بلا عقد ہی لڑکی روانہ ہوگئی اور دولھا صاحب بغیر نکاح ہی لڑکی کو سینے سے چمٹاکر شادی کا اعلان کررہے ہیں ۔ یہ بالکل بکواس ہے کیونکہ حضرت فاروق شرعی مسائل سے واقف تھے اور ایسا وہ نہیں کرسکتے تھے ۔ یہ قطعا جھوٹ ہے ۔