افسانہ عقد ام کلثوم
 

15

افسانہ
سرمنڈھاتے ہی اولے

افسانہ:-
مطلع ابر آلود ہے آج رات وکٹوریہ گرلز کالج کے ہوسٹل میں خلاف معمول سناٹا چھایا ہوا ہے خنک ہوا کے باعث ہوسٹل کی عمارت برف سے بھی یخ محسوس ہوتی ہے فضا میں دور دور تک بادلوں کے غٹ کے غٹ پھیلے ہوئے ہیں ۔ جنوری کا مہینہ بیت جانے کو ہے لیکن ابر رحمت کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا ہے ۔شاید آج قدرت کو باران رحمت برسانا منظور ہے ممکن ہے اسی وجہ سے فضا کی نچلی سطح پر سیاہ گہرے بادل امڈ رہے رہے ہیں اور اوپر کی سطح سیاہی مائل اور ہلکی سرمئی رنگت کی دکھائی دیتی ہے ۔تاریکی تیزی سے پھیل رہی ہے اور ریلیوں کی روشنیاں مدھم پڑتی جارہی ہے ۔
ہوسٹل میں طاری سکوت اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ طالبات سردی کی شدت سے محفوظ رہنے کی خاطر آج اپنی اپنی قیام گاہوں سے باہر آنا پسند نہیں کررہی ہیں ۔ اسی لئے کمرہ طعام ،گراؤنڈ اور کینٹین وغیرہ سب اجڑے اجڑے سے معلوم ہوتے ہیں کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں ۔اوپر والی منزل کے کمرہ نمبر چار میں روشنی ٹیوب کی کرنیں باہر آرہی ہیں ۔ یکایک ایک مغربی وضع میں ملبوس لڑکی تیزی سے ہوسٹل کا صدر دروازہ کھولتی ہے اور جلدی جلدی اوپر آکر کمرہ نمبر 4 پر دستک دیتی ہے کہ ادھر موسلادھار بارش شروع ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جل تھا ہوجاتا ہے ۔
ایلزبتھ آج خلاف عادت سنجیدہ ہے اس نے ہیٹر کو اپنے قریب کرلیا اور اپنے بستر پر تکیہ کی ٹیک لگا کر گہری سوچ میں ڈوب گئی ہے ۔ دھندلی روشنی اور ہیٹر کی سرخی اس کے چہرے پر تردد اور فکر مندی کے آثار نمایاں کرتی ہیں ۔عالیہ

16
نے کافی کی تین پیالیاں تیار کر لی اور ایک پیالی عائشہ کو دیکر دوسری پیالی ایلزبتھ کو پیش کرتی ہے ۔
"نو بھئی آج ہمارا موڈ آف ہے "ایلزبتھ نے کہا ۔
عائشہ:- کیا ہوا آج تمھارے موڈ کو یہ سردی میں آئی ہو ۔پی لو مزاج ٹھیک ہوجائے گا ۔
ایلزبتھ کافی کا کپ لیتی ہے اور فلسفی طرز ادا سے چسکیاں لے لے کر پیتی ہے ۔باہر بادل گرج رہے ہیں اور بجلی چمک رہی ہے ۔اندر ایلزبتھ گرجدار آواز میں عائشہ پر برستی ہے جبکہ اس کا چہرہ غیض وغضب سے چمک رہا ہے ۔
"تم کیا ہر روز مجھ کو اپنے مذہب کی پریچ کرتی ہو اور اپنے دین کو ہمارے دین سے فائن بناتی ہو ۔ہم کو سب معلوم ہوگیا ہے تمھارا اسلام کیا ہے ۔ تم کس طرح کے نظام کو لانے چاہتے ہو ۔بس اب تم ہم سے ریلیجیس ٹاک مت کیا کرو"۔
عائشہ :- اوہ میم صاحب ! کیا ہو گیا جو آج س قدر لال پیلی ہورہی ہو کیا پتہ چل گیا آج تم کو ۔کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے ۔
ایلزبتھ:- بس ہم نے بولا نا کہ اب مذہبی ٹاک نہیں ہوگا اسی میں بہتری ہے ورنہ ہمارا فرینڈ شپ لوز ہوگا ۔کیا فائدہ ملے گا ۔جاؤ اب آرام کرو اور مجھے بھی سونے دو ۔
عالیہ خالی پیالیاں اٹھالے جاتی ہے اور اپنے بستر میں لحاف اوڑھ کر کسی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف ہوجاتی ہے ۔
عائشہ کو ایلزبتھ کا یہ رویہ مایوس کن معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل چھ ماہ سے ایلزبتھ کو دین اسلام کی تبلیغ کر رہی تھی اور اس محنت میں

17
کچھ کا میابیاں بھی حاصل ہوئی تھیں ۔مگر آج بارش کے دن تو اس کی محنت پر بھی پانی پھرتا نظر آرہا تھا بھلا اسے کیسے چین آسکتا تھا جب تک کہ وہ ایلزبتھ سے پوچھ نہ لے کہ اچانک ہوا کارخ کیسے تبدیل ہوگیا ۔ عائشہ ایلزبتھ کے پلنگ کے پاس پڑے ہوئے ہیٹر کے قریب اپنی کرسی لاتی ہے اور ایلزبتھ کا بازو پکڑ کر کہتی ہے ۔
"آخر ایسی بھی کیا ہے بے رخی یار ۔کچھ بتاؤ تو سہی آج کیا ایسی نئی بات تمھیں معلوم ہوگئی جو اس قدر برہم ہورہی ہو۔ میں تمھیں یقین دلاتی ہوں کہ میں برا نہیں مانوں گی ۔ڈونٹ وری ۔یہ ریسرچ ہے ،اگر تمھارا آب جکشن درست ہوگا تو ہم اسے مان لیں گے ۔ اور اگر تمھیں کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو گی تو اس کو دور کرنے کی کوشش کریں گے " ہاں شاباش بتاؤ۔تمھیں ہماری قسم"۔
ایلزبتھ :- اچھا اگر تم مجبور کرتی ہو تو سنو ۔تم اپنے دین کو ہمارے سامنے بہت پاک پاکیزہ بتلاتی ہو اور ہم عیسائیوں پر عیش ونشاط کا الزام دہرتی ہو ۔مگر ہم نےمطالعہ کیا ہے کہ ہمارا جیس گرائسٹ عین عالم شباب میں یعنی بتیس سال کی عمر میں صلیب دیا گیا لیکن اس نے شادی تک نہ کی ہماری تننر اور پریسٹننر مجرد زندگی کرنا روحانیت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں ۔ ٹھیک ہے ہمارا عام لوگ عیاش وشرابی ہے مگر ہمارے مذہبی فادرز تو بلند اخلاق کا نمونہ ہیں ۔
لیکن ہماری حیرت کا انتہا نہیں رہا ہے کہ تم مسلمان کا سردار عمر دی گریٹ اپنی نابالغ پرنواسی سے شادی رچا تا ہے اور اگر میں وہ سارا واقعہ کہوں تو آفریڈ ہوں کہ تم سخت فیل کروگی ۔جب تم لوگ کے پاپا کا کیریکٹر ایسا ہے تو پھر پبلک کیسا ہوگا ؟۔

18
عائشہ :- ہوں ، ں ۔ سمجھی تو تمھارا مطلب حضرت عمر فاروق اور حضرت ام کلثوم بنت علی کے نکاح سے ہے ناں ؟۔
ایلزبتھ :- او یس ۔ تھنک اٹ کہ حضرت عمر کی بیٹی حضرت حفصہ رسول اسلام کے حرم میں تھیں لہذا حضرت ام کلثوم حضرت حفصہ کی نواسی ہوئیں ۔تب حضرت عمر کا اپنی سوتیلی پر نواسی کو اولڈ ایج میں وائف بنانا ایسا ورسٹ واقعہ ہے جو کسی نوبل فیملی میں آج تک نہیں سنا گیا ہے ۔
عائشہ :- مائی ڈیئر ! یہ بات بظاہر درست ہے اور اس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ۔کی انتہائی سبکی اور بے عزتی پائی جاتی ہے ۔یقینا جس وقت یہ نکاح ہو ا حضرت عمر فاروق عمر رسیدہ تھے ، اولاد کی نعمت بھی حاصل تھی اور بیویاں بھی موجود تھیں ظاہر ی اعتبار سے انھیں اس عقد کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔مگر رسول اللہ صلعم سے انھیں کچھ ایسی وابستگی تھی اور کچھ ایسا والہانہ رابطہ تھا کہ وہ خاندان نبوت سے تعلق بڑھانے کے انتہائی متمنی تھے ۔ اس ارشاد پیغمبر نے ان کے ارادے اور ان کی طلب کو اور بھی قوت دے رکھی تھی ۔ خود (عمر) فرماتے ہیں ۔
"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ (وآلہ)وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن کل نسبتی ،سببی ،اور صہری رشتے ٹوٹ جائیں گے ۔سوائے میرے نسب وسبب اور صہر کے ۔مجھے حضور سے نسب (قریشیت ) اور سبب (حفصہ کے نکاح کا تعلق)تو حاصل تھا ۔میں نے چاہا کہ یہ تعلق صہر بھی مجھے حاصل ہوئے ۔(استیعاب جلد 3 ص773 ذکر ام کلثوم)
حضرت امام زین العابدین(علیہ السلام) بیان کرتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے ام کلثوم رضی اللہ عنھا کا رشتہ مانگا تو حضرت علی مرتضی نے کہا میں نے اپنے بھتیجے عبدا اللہ بن جعفر کے لئے رکھا ہو ا کہے ۔حضرت عمر

19
فاروق مہاجرین کے پاس (اور ایک دوسری روایت کے مطابق مہاجر اور انصار کے پاس)آئے اور کہا کہ مجھے مبارکباد کیوں نہیں دیتے ۔ انھوں نے پوچھا کس بات کی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ،نے فرمایا ۔ام کلثوم بنت علی جو حضرت فاطمہ کی بیٹی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم کو یہ فرما تے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر نسب اور سبب منقطع ہو جائے گا مگر میرا نسب اور سبب ۔پس میں نے کہا کہ مجھے آنحضرت کے ساتھ نسب اور سبب دونوں حاصل ہوجائیں "۔
(یہاں سبب سے مراد سبب کامل ہے جو ایک طرف سے حضرت حفصہ کے ذریعہ اور دوسری طرف سے حضرت ام کلثوم کے ذریعہ صہری تعلق سے تکمیل پذیر ہو)
(مستدرک امام حاکم جلد 3 ص 142)
ہمارے امام بہیقی نس اکابر اہلبیت رسول کی سند سے حضرت عمر فاروق سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ انھوں نے حضورکو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر تعلق صہر کا ہو ،یا سبب کا ، یا نسبت کا ہر ایک سلسلہ ٹوٹ جائے گا سوائے میرے صہری سببی اور نسبی تعلق کے مجھے آنحضرت سے نسبی ربط تو حاصل تھا میں نے چاہا کہ اس کے ساتھ مجھے حضور سےیہ سببی تعلق بھی حاصل ہوجائے "
(سنن کبری جلد 7 ص 114 مطبوعہ دکن ۔طبقات ابن سعد جلد 8)
پس یہی وہ ایک وجہ تھی جس کے تحت حضرت عمر نے یہ نکاح کیا ۔ اس سے نہ ہی کوئی عیاشی مقصود تھی اور نہ ہی دنیوی غرض بلکہ استحکام تعلق سببی کی خاطر یا آنحضرت صلعم کے امتثال کی خواہش پر آپ نے یہ نکاح کیا ۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرق عمر کے باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔
ایلزبتھ :- یہ تو کوئی وجہ معقول نہیں ہے کیونکہ ابھی کچھ ہی روز قبل تم نے کہا تھا کہ اسلام میں رشتہ داری معیار فضیلت نہیں ہے بلکہ پرہیز گاری

20
بنیاد پر مراتب کے درجات بنتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ تم نے کہا تھا کہ رسول کے والدین بھی بوجہ غیر مسلم ہونے کے جہنمی ہیں اور آپ کے چچا جو مربی و سرپرست بھی تھے وہ بھی رسول کی رشتہ داری سے کوئی فائدہ نہ اٹھائیں گے اور ابو لہب کو بھی رسول کا چچا ہونا مفید نہ ہوگا ۔تو پھر اب یہاں وہ با ت اپلائی (APPLY) نہیں ہوتی ہے ۔ تم نے خود ہی کہا ہے کہ حضرت حفصہ حضرت عمر کی بیٹی رسول کے نکاح میں تھیں ۔کیا یہ سبب کافی نہ تھا ؟ تب کیا ضروری تھا کہ پیرانہ سالی میں تین بیویوں کی موجودگی میں اپنی سوتیلی پر نواسی سے شادی رچائی ۔یہ ایسا مکروہ واقعہ ہے جو کسی شریف خاندان میں کبھی سنا نہیں گیا ہے ۔معاف کرنا ۔اس بے جوڑ رشتہ کو دیکھر کوئی مہذب آدمی ایسا نہ ہوگا ۔جو حضرت عمر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھے ۔تم خود کوئی ایسی ایک ہی مثال ساری دنیا میں ڈھونڈ کردو کہ از آدم تا ہنوز کیا کوئی ایسا بے حیا اور بے غیرت شخص گزرا ہے ۔جس نے تین ازواج کی موجودگی میں اپنی بیٹی کی نواسی سے بیاہ رچا یا ہو ۔اور ایسی خلاف فطرت خواہش ظاہر کی ہوجو ننگ شرافت ہے ۔تو سل رسول والا خیال بھی مہمل نظر آتا ہے کہ یہ توسل آپ کے اولاد کے لئے سوچنے جو اس وقت جوان تھے ۔بڑھاپے میں کمسن بچی سے خود شادی کرلینا بڑی بے شرمی سی بات معلوم ہوتی ہے ۔
اور ہاں ابھی جو تم نے حوالہ دیا تو اس سے یہ بات سامنے آئی کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ "یک نشد دو شد " ہم تو حضرت عمرکی حرکت نا زیبا پر متعجب تھے تم نے اپنے دوسرے بزرگ کو اس سے بھی زیادہ گرا ہوا بیان کیا کہ حضرت علی جس کو تم لوگ شیر خدا کہتے ہو اپنی بات کا اتنا کچا اور اپنے قول کا اتنا کمزور ہے کہ اپنے بھتیجے کو دیا ہوا رشتہ بلاوجہ توڑ کراپنی کمسن

21
بچی کی جوانی خراب کرنے کے لئے ایک بڈھے کھوسٹ کو دے دیتا ہے ۔ تاکہ بیچاری ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ضیعیف دولھا کی عمر کے دن گنتی ری ۔اگر تم لوگ کا اسلام ایسا ہی ہے اور اس کے بزرگ اس قسم کے کردار والے ہیں تو ایسے اسلام کو میرا دور ہی سے سلام ہے ۔
عالیہ جو اپنی مسہری پر لیٹی ان دونوں کی گفتگو غور سے سن رہی تھی اس کلام پر چونک اٹھی اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے کلیجے میں کسی شقی القلب نے زہر آلود خنجر گھونپ دیا ہے بے اختیار ہوکر اٹھی اور بے قابو ہو کر چلائی ۔
عالیہ :-(O .YOU SHUT UP) یہ نہیں ہوسکتا کہ تم میرے پیشوا کی شان میں کوئی لفظ بے ادبی کا استعمال کرو ۔ اور میں اس کو خاموشی سے سن لوں یہ قصہ واہی ہے ۔نہ ہی حضرت عمر ایسے گرے ہوے انسان تھے اور نہ ہی حضرت علی علیہ السلام کا ایسا کردار تھا جیسا عائشہ نے بیان کیا ہے ۔ہمارا دین تہذیب اور اخلاق کا سرچشمہ ہے ۔اس کے قوانین فطری ہیں ۔مسئلہ ازدواج یہ کہ خدانے اپنی کتاب میں ان عورتوں کا بیان کیا ہے جس سے نکاح حرام ہے ۔بے جوڑا اور غیر ہم پلہ رشتہ داریوں سے اشارۃ منع کیا ہے اور یہ ممانعت حکم عدل میں مضمر ہے ۔ظاہر ہے کہ ایک ساٹھ سالہ بزرگ تین ازواج کی موجودگی میں صغیر سن بیوی سے عدل کرہی نہیں سکے گا ۔پس حضرت عمر قرآن کے اس حکم سے اگر واقف تھے تو پھروہ ایسی غلطی کیسے کرسکتے تھے ۔ توبہ توبہ مس عائشہ نے تو اوپر یہ بھی بیان کر دیا کہ حضرت عمر یہ شادی رچا کر لوگوں کے مجمع میں آگئے اور زبر دستی مبارکباد یاں قبول کرنے کی خواہش فرمائی ۔حالانکی کوئی بھی شریف النفس انسان اس طرح کی حرکت کرتا نظر نہیں آئے گا چہ جائیکہ حضرت عمر پر ایسے دیوانہ پن کا

22
الزام لگایا جائے صاحب عقل اور آشنا ئے تہذیب وتمیڑ اس شخص کو صحیح الداماغ سمجھے گا جو ساٹھ سال کی عمر میں اپنی صغیر سن پر نواسی سے شادی رچا کر بازاروں میں لوگوں سے مطالبہ کرتا پھرے کہ اس شادی پر اسے مبارک باد پیش کرو ۔کیا یہ اپنے جرم کی رسوائی نہ ہوگی ؟ یہ تمام قصہ واہیات ہے اور اس کا حقیقت ہے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
عائشہ :- نہیں مس عالیہ یہ محض تمھارا قیاس ہے اور محض ذاتی نظرئیے سے روایات کا ابطال نہیں ہوسکتا ہے جبکہ ایسی روایات تم شیعوں کی کتابوں میں بھی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ یہ نکاح ہوا ۔
عالیہ :- دیکھئے بہن ۔ہم شیعہ تو ایسے اتہام کو گالی گلوج میں شمار کرتے ہیں ۔ہمارے نزدیک جناب ام کلثوم بنت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نہ ہی حضرت میں آئیں اور نہ ہی آسکتی تھیں ۔کوئی بھی صاحب عقل سلیم اس بات کو قبول نیں کرتا کہ حضرت عمر جیسا زیرک شخص ایسا خود رفتہ ہو کہ سن و سال اور فطرت سب کا خیال برطرف کرکے ایسے بے جوڑ ازدواج کی طرف متوجہ ہوا ۔
آپ لوگوں کو ہم پرشکوہ ہے کہ ہم حضرت عمر کو اچھا نہیں سمجھتے لیکن آپ لوگ خود اس بات کو فرض کرکے حضرت عمر کی سیرت پرایسا دھبہ لگاتے ہیں کہ اگر ہم اس کو اپنی زبان پر لائیں تو آپ برا مان جائیں ۔بہتر یہ ہے کہ اس قصّہ کو ترک کردیجئے ۔ورنہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنی معروضات پیش کروں ۔
عائشہ :- تم بڑے شوق سے اپنے خیالات کا اظہار کرو ۔مگربلا نفسانیت اور طعن وتشنیع۔
عالیہ:- میں پوری کوشش کروں گی کہ رواداری سے بعد اختیار نہ ہو اور تمھارے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ لگے ۔تاہم اگر دوران گفتگو کوئی کلام ناگوار

23
گزرے تو افہام وتفہیم کی خاطر درگزر کرلینا ۔بڑی مہربانی ہوگی ۔جان من! یہ قصّہ ایسا بے ہودہ اور ناگفتہ بہ ہے کہ اگر معاذاللہ تمھارے کہے سے صحیح مان لیا جائے تو اسلام کے دوبڑے ارکان کی سیرت داغدار ہوجاتی ہے اور ان کی ایسی توہین وتذلیل ہوتی ہے کہ جو شخص سنے گا وہ ان کے کردار بلکہ نام سے بھی نفرت کرے گا ۔جس کی ایک زندہ مثال مس ایلزبتھ تمھارے سامنے بیٹھی ہے ۔اگر تم واقعی اس قصّہ واہی پر زور دینا چاہتی ہو تو پھر تمھیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر ایک بڑے بے حیا ،بے غیرت اور حرصی ہوس پرست آدمی تھے انھوں نے اپنی آخری عمر میں ایسے غیر معقول کا م کی خواہش کی جس کا تصور کرنا بھی ذلالت ہے ۔اب اگر پہاڑ کو کھودنا ہی چاہتی ہو تو اس سے بر آمد ہونے والا چوہا بھی نرالا ہوگا ۔غیر مسلمانوں کے لئے تو یہ بحث ناٹک ہوگا ۔ یعنی سنی المذہب لوگ جو حضرت عمر کا بڑا عالی وقار ،بلند خیال اور پاکیزہ کردار اعتقاد کرتے ہیں جب اس بات کو ثابت کریں گے تو یہ کوشش حضرت عمر کو بد ترین بے حیا اور انتہائی بے غیرت ثابت کرنے کی ہوگی کہ ایسے سفیہ النفس تھے کہ جس لڑکی کو ان کی بیٹی نواسی کہتی تھی اس سے ساٹھ سا ل کی عمر میں شادی کی خواہش تھی جبکہ شیعہ جن پر دشمن عمر ہونے کا الزام ہے وہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ حضرت عمر ایسے برے آدمی نہ تھے ۔تم خود غور کرو ۔اگر آج کوئی نیچ سے نیچ قوم کا بڈھا بھی اپنی بیٹی کی نواسی سے بیاہ کرنے کی خواہش کا اظہار کردے تو لوگ اس کو کیا کہیں گے ؟
اگرنعوذ با للہ یہ قصّہ سچ ہے تو حضرت حفصہ پر بھی افسوس ہے کہ انھوں نے اپنے پدر بزرگوار کو یہ نہ سمجھایا کہ ابا جان آپ کی مت کیا ہوئی کہ میری نواسی سے شادی کرتے ہوئے کچھ بھی حیا نہیں آتی۔ایسی بے ہودگی نہ صرف ہند وپاکستان

24
میں قابل مذمت ہے بلکہ اہل عرب میں بھی یہ بات سخت مذموم ہے اور پھر جب ہم ان روایات کو دیکھتے ہیں تو اور بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور حضرت عمر کے خلاف نفرت کے جذبات مین تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ۔