افسانہ
عقد ام کلثوم

مصنف
عبد الکریم مشتاق

ای بک کمپوزنگ: حافظی
نیٹ ورک:شبکہ الامامین حسنین علیھماالسلام

5
بسم اللہ الرحمان الرحیم

تقدیم
لائق حمد ہے وہ ذات باری تعالی جس نے نبی آدم کو عطیہ عقل عنایت فرما کرآدمی سے انسان بنایا ۔عقل کو تمام خوبیوں کا سرچشمہ تجربات کا محافظ ۔عزت کا موجب ،علم کی جڑ اور فضیلت کا باعث مقرر فرمایا ۔ عقل سے بڑھ کر کوئی چیز نفع بخش نہیں اور عقل سے زیادہ کوئی بے نیازی نہیں ، عقل یقینی دوست ہے اس کی مدد سے تمام امور کی اصلاح کی جاسکتی ہے عقلمند کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا ہے عقل ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر ہر بات پرکھی جاسکتی ہے ۔
لاریب وہ خوش بخت ہستیاں مستحق درود وسلام ہیں جن کی عقل درجہ کمال پر فائز ہے ۔ان معزز ومحترم ارواح سراپا عقل پر یہ خلاق عالمین کا انعام خاص ہے کہ انھیں عقل کا عطا کرکے تمام ظاہری وباطنی نجاستوں ،برائیوں ،بد نامیوں اور خامیوں سے اس طرح محفوظ رکھا جس طرح محفوظ رکھنے کا حق ہے ۔
اللہ کی رحمت کے خصوصی حقدار وہ نفوس ہیں جن سے خدانے بھلائی کی اور انھیں صحیح عقل سلیم کے ساتھ اعمال مستقیم بجا لانے کی توفیق عطا کی ۔

6
عقل کو نہ ہی دین سے جدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی علم اور عقل میں جدائی ممکن ہے علم، دین اور عقل تینوں ایک ہی رسی میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ان کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔مذہب شیعہ امامیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مدار قیاس کی بجائے عقل پر ہے چنانچہ ہماری کتابوں کا آغاز بھی کتاب العقل ہی سے ہوتا ہے ۔ہمارے ہاں عقل کو حاکم کی حیثییت حاصل ہے ہم عقل کو ہر معاملہ میں رہنمائی کا چراغ مانتے ہیں ۔احکام شریعت ونصوص کو سمجھنے کے لئے عقل سے بڑا کوئی ذریعہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہے بلکہ ہمارے آئمہ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی حدیث بھی خلاف عقل ہو تو اسے موضوع سمجھ کر قبول نہ کرو۔ ہر وہ چیز جو علم و ادراک کی گرفت میں آسکتی ہے یا تو اسے نصوص (قرآن وسنت) کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے یا عقل سلیم کے ذریعہ سے ۔یا پھر دونوں سے جس کو صرف عقل ک وساطت سے حیطہ علم میں لانا مطلوب ہوگا ۔اس سے وہ تمام امور مراد ہیں جن میں عقل ہی رہنما ہوسکتی ہے اور شریعت کا علم اس پر بظاہر موقوف ہو لیکن شریعت محمدیہ ہی کا دوسرا نام عقل خالص بھی ہے ۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ جب کسی امر میں خرابی معلوم ہو تو کسی عقلمند کی رائے کا اتباع کرو ۔ حکمت کے گہرے راز عقل سے معلوم ہوتے ہیں ۔عقل تمام کاموں کی دوستی کا باعث ہے عقل غور فکر کو درست کرتی ہے ۔چنانچہ آئیے ہم "عقد امّ کلثوم" کو بھی عقل کی روشنی میں دیکھیں اگر یہ قصّہ عقلا قابل اعتبار قرار پایا جائے تو اس کی صحت مان لیں ورنہ اس کو دھرا کر فضول وقت ضایع نہ کیا کریں اور بے عقلی کا ثبوت نہ دیں ۔
پہلے ایک فرضی کہانی سنئے اس کے بعد افسانہ پڑھیےاور پھر حقیقت سماعت فرمائیے تب عقلی فیصلہ کیجئے ۔کہانی یہ کہ

7

کہانی:-
ایک تھا بادشاہ ۔ہمارا تمھارا اللہ بادشاہ ۔ بادشاہ بہت مشہورتھا ۔اس کے چرچے گھر گھر تھے ۔ نوشیروان کا عدل حاتم کی سخاوت ۔رستم کی شجاعت ،سکندر کی فتوحات ،لقمان کی حکمت افلاطون کا فلسفہ ،غرض دنیا کے تمام گذرے ہوئے مشاہیر لوگوں کے صفات اس بادشاہ کی رعایا نے اپنے ظل سچائی کے لئے میراث تجویز کر رکھے تھے ۔عوام کی محبت اس سے عقیدت بن چکی تھی لوگوں میں مشہور تھا کہ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو یہ سلطان ضرور نبی ہوجاتا ۔ رعیت کا ہر دلعزیز یہ فرمانروا جملہ صفات حسنہ سے متصف سمجھا جا تا تھا جب یہ بادشاہ اپنی عمر کے اٹھا ون سال پورے کرچکا تو اسے بیٹھے بٹھا ئے یہ خیال سوجھا کہ اپنے محسن و رہبر داماد کی صغیر سن نواسی جس کی عمر چار یا پانچ بر س کے لگ بھگ ہوگی بیاہ رچائے تاکہ محسن مذکورہ سے اس کار شتہ دوہرا ہوجائے ۔سبب پکا ہوجائے چنانچہ بادشاہ اب تدبیریں سوچنے لگا کہ کس طرح وہ اپنے اس ارادہ کی تکمیل کرسکتا ہے ۔اس کہ یہ بھی خوف تھا کہ میرے نکاح میں تین بیویاں پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ اولاد بھی جوان ہیں ۔ سن وسال بھی شادی رچانے والے نہیں ۔کروں تو کیاکروں ؟ نام ناموس کا بھی خیال تھا اور شریعت کی پابندی بھی ملحوظ تھی ۔ کچھ درباریوں ،حواریوں سے بادشاہ نے اپنی اس خواہش کا تذکرہ کیا ۔ چند خوشامدیوں نے بڑھاپے کے جوان عزائم کی تعریفوں کے پل باندھے ۔بوڑھی گھوڑی کی لال لگام میں گوٹہ کناری کی لڑیاں لٹکا ئیں اور بادشاہ حضور کو ایسا مکہ لگایا کہ ان کی رال ٹپکنی شروع ہوئی جی ہی جی میں پھولا نہ سمایا ۔داڑھی پر گھنا خضاب کیا ۔نئی پوشاک زیب تن کی ۔کنگھی پٹی ڈھالی اور بن سنور کر شاہانہ شان کے ساتھ اپنے داماد کے داماد کے پاس اس کی نابالغ بچی کا رشتہ مانگنے چلا ۔بڑھاپے میں

8
بیاہ کے چاؤ نے اس قدر حواس باختہ کر رکھا تھا کہ سلام نہ دعا نہ خیر نہ خیریت جاتے ہی شاہی فرمان جاری کیا کہ اپنی بیٹی کا رشتہ ہم کو دو۔ لوگ ہکے بکے منہ تک رہے ہیں کہ بادشاہ کی عقل بڑھاپے میں سٹھیا گئی ہے کہ اس گئی گذری عمر میں اپنی نواسی کا رشتہ مانگنے آگیا ہے ۔اور بڑی لڑکی چھوڑ کر نابالغ بچی سے نکاح کرنے کی خواہش کر رہا ہے ۔لڑکی کا باپ اپنی جگہ پر انگلی منہ میں لئے حالت سکتہ میں ہے کہ یہ کیسا بادشاہ ہے ۔حاکم تو رعایا کا محافظ ہوتا ہے ۔عوام کی بہو بیٹیوں کا باپ ہوتا ہے اس کا ذہنی توازن بھی بحال ہے کہ نہیں ؟بلکل رسم ورواج کے خلاف ۔تہذیب وتمدن کے برعکس ،ادب وتمیز کے غیر موافق یہ شخص کیسی بیہودہ فرمائش کر رہا ہے مگر اقتدار کی نشیلی آنکھوں میں جھلکتا ہوا غیض وغضب ،متکبرچہرہ پر نشاۃ جلالت سلطلنت کا رعب ودعب پیشانی پر غصیلی شکنیں مرعوب کررہی ہیں ۔ناراضگی کی صورت میں انجام عبرتناک اس شخص کی نگاہوں میں گھوم رہا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں مجبور و محکوم ہوں اور یہ حاکم جابر ومغرور ہے ۔اگر سفید انکا ر کروں گا تو عتاب کا مورد ٹھہروں گا ۔اذیت بھی اٹھاؤں گا ۔اور زک بھی ۔کیوں کہ جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو محافظت محال ہوتی ہے ۔رعایا کا یہ مظلوم شخص دبی زبان میں بادشاہ کے حضور التماس کرتا ہے کہ وہ اس منظور نظر بچی کا رشتہ پہلے ہی اپنے بھائی کے بیٹے سے منسوب کرچکا ہے اور پھر یہ کہ لڑکی ابھی شادی کے قابل نہیں ہے ۔بالکل بچی ہے ۔
بادشاہ پر یہ عذر کوئی اثر نہیں کرتا ہے ۔سنی ن سنی کر کے تحکمانہ انداز میں کہتا ہے کہ میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تمھارے دل میں ہے ۔تم جھوٹ بولتے ہو ۔دیکھو میں گھی کو ٹیڑھی انگلیوں سے نکالنا بھی جانتا ہوں ۔میری قوت وسطوت سے ٹکرانا تمھاری حماقت ہوگی ۔بہتری اسی میں ہے کہ تم میری

9
بات مان لو ۔یہ بے یارو مددگار شخص اپنی قسمت پر روتا ہوا مجبورا اس شقی القلب بادشاہ کو یقین دلانے کے لئے وعدہ کرتا ہے کہ آپ اپنے محل میں تشریف لے جائیں میں بچی کو آپ کے حرم میں روانہ کردونگا آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ یہ بچی ابھی صغیر سن ہے ۔ہرگز قابل شادی نہیں تا ہم اگر عالی جاہ کا ارادہ ایسا ہی ہے تو بندہ نا چیز کی کیا مجال کہ حضور کے آگے دم مارسکوں "۔
بادشاہ اس بات پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اپنے محل میں واپس جاتا ہے اور انتظار کی گھڑیاں گن گن کر گزارتا ہے ۔وہ بے تاب ہے اور مطلوبہ ساعت کو جلد از جلد قریب کرنے کا متمنی ہے ۔
بچی کے گھر کے دوسرے افراد بھی اس رشتہ سے ناراض ہیں مگر حکومت کے تشدد کا مقابلہ کیسے کیا جا ‏ئے ۔ مجبورا بچی کو بنا سنوار کر اس بڈھے بھیڑئیے کی نشاط گاہ میں روانہ کیا جاتا ہے ۔ اس امید پر کہ شاید اس معصوم لڑکی کی صغیر سنی اسے مذموم ارادہ سے باز رکھے ۔مگر جب ضمیر مردہ ہوجائے غیرت مرجائے ۔حمیت سوجائے تو رحم کی توقعات محض فریب خوردہ خیالات ہوتے ہیں ۔ کرسی اقتدار کا نشہ ،ہوس وحرص کاغلبہ اور نفس امارہ کا تسلط انسان کو اندھا کردیتا ہے ۔جب وہ بچی بادشاہ کے عشرت کدہ میں پہنچتی ہے تو اس کو یہی معلوم ہے کہ وہ اپنے پر نانا حضور کے پاس سلام کرنے جارہی ہے جیسے ہی یہ بچی اس شیطان بادشاہ کے محل میں داخل ہوتی ہے وہ اسے نانا جی کہتی ہے ۔بڈھا شیطان کھسیانہ ہو کر منھ پھیر لیتا ہے اور للچائی ہوئی بد نگاہوں سے بچی کو سرتا پا دیکھتا ہے ۔مگر اس کی معصومیت رتی بھر بھی اس درندہ صفت بادشاہ کے دل میں رحم پیدا نہیں کرتی ۔اٹھتا ہے ۔اپنے ہاتھوں کو اس بچی کی طرف بڑھاتا

10
ہے اس طرح جیسے ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے بکری کے بچے کو ذبح کرنے کے ارادہ سے بکری کی طرف بڑھتا ہے ۔بچی اس کے یہ ظالمانہ تیور دیکھ کر اپنا دفاع کرنا چاہتی ہے ۔مگر کہاں ساٹھ سالہ گرگ اور کہاں چار پانچ سال کی لڑکی ! یہ بے حیا بادشاہ اس پاکیزہ ونازک بچی سے پہلے بوس کنار کرتا ہے آغوش میں بٹھاتا ہے سینے سے چمٹا تا ہے اور پھر پنڈلی وغیرہ کھولنے کی جسارت کرتا ہے ۔وہ ننگ شرافت درندہ قطعا یہ بھول چکا ہے کہ نہ ہی اس نابالغہ سے ابھی اس کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی وہ ابھی ایسی حرکات کے قابل ہے مگر جو بھی اسے اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کا منا سب ذریعہ نظر آتا ہے اس کو کئے جارہا ہے ۔بچی حیران ہے اور سخت غیض وغضب میں پکار رہی ہے کہ کیا بے ہودہ باتیں کرتے ہیں ۔اگر تم بادشاہ نہ ہوتے تو میں تمھاری ناک پھوڑدیتی ۔آنکھیں نکال لیتی ۔مگر یہ بھیڑیا ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے ۔ اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
آخر محل سے باہر درباریوں سے آکر کہتا ہے کہ مجھے مبارک باد دو ۔وہ پوچھتے ہیں کس بات پر‏؟ کہتاہے کہ میں نے اپنی نابالغہ پر نواسی سے خفیہ شادی رچائی ہے ۔مجھے بتاؤ کہ اس سے ہم بستری کیسے کروں ؟ وہ تو ابھی بچی ہے ۔درباری اس کی اس خلاف فطرت بات پر دل سے ناراض ہیں مگر زبان سے کچھ کہہ نہیں سکتے کیو نکہ ان کو یہ خوف ہے کہ اس ظالم حاکم کے سامنے کھولی گئی زبان گدی سے کھینچ لی جائے گی ۔ اس کا درّہ غضب ہماری زندگیاں اجیرن بنا دےگا ۔بہرحال سارے ملک میں بادشاہ کی اس مذموم وحقیر شادی کے چرچے ہونے لگتے ہیں ۔ حزب اختلاف اس کو خوب اچھالتے ہیں اور جی بھر کر اس کی رنگیلی کہانیاں چار باتیں بڑھا کر پھیلا تے ہیں ۔ بادشاہ کے حواری وخوشامدی تو اس حرکت کو بادشاہ کی خوبی قرار دیتے ہیں مگر غیرجانبدار

11
لوگ بادشاہ کی بد چلنی ۔شقی القلبی ،بد کرداری اور ستم ظریفی پر اس کی دل کھول کر مذمت کرتے ہیں ۔
کچھ ہی عرصے بعد بادشاہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور اس نویلی دلہن کے ہاتھوں مہندی بھی میلی نہیں ہوتی کہ بیوہ ہوجاتی ہے بادشاہ کے مرجانے کے بعد اس کے اس شیطانی فعل کی ہرطرف سےمذمت ہوتی ہے اور جو بھی یہ کہانی سنتا ہے بادشاہ پر لاکھ لعنت کہے بغیر نہیں رہتا ۔آئندہ نسلیں ایسی بیہودہ کہانی سننے پر بھی تیار نہیں ہوتی ہیں۔اب آپ بھی اس بادشاہ کے بارے میں رائے قائم فرمائیں کہ وہ نیک دل وبلند کردار تھا یا فاسق وفاجر حکمران تھا؟
بے شک یہ کہانی مطلقا فرضی اور جھوٹی ہے مگر بد قسمتی سے اس سے بلکل ملتا جلتا جھوٹا قصّہ اسلام کی اس بزرگ ہستی سے منسوب کیا جاتا ہے جسے بہت ہی معظم و محترم ہو نا چاہئیے ۔یہ وہ ذات ہے جس کے لئے مشہور ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ہے "شیطان وہ راستہ چھوڑدیتا ہے جس راہ پر عمر جارہا ہو" ان ہی حضرت عمر فاروق اعظم اہلسنت کی سیرت پر حملہ کرنے کے لئے ان کے نادان دوستوں نے یہ قصّہ واہی مشہور کررکھا ہے ۔
یہ افسانہ اس قدر تہذیب سے گرا ہوا ہے کہ ہمارے نزدیک اگر عام مسلمان بھی ایسی شنیع حرکت کرے تو اس کی کم سے کم سزا سنگساری ہونا چاہئے اور میرے ذاتی خیال کے مطابق ایسے بد چلن شخص کو مسلمان ہی نہیں کہنا چاہیئے ۔تاریخ اسلام کے سلاطین میں یزید بن معاویہ ملعون بہت ظالم ،فاسق و فاجر اور بے دین حاکم گزا ہے ۔ مگر ایسا گھنونا کردار اس بدبخت کا بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔مگر افسوس

12
ہے ہمارے سادھے مسلمان بھائی حضرت عمربن خطاب جیسی بڑی شخصیت کی ذات سے یہ شرمناک کہانی منسوب کرکے ان کی رسوائی کے اسباب پیدا کرتے ہیں بلکہ بعض جہلا کو تو اس پر اصرار ہے کہ یہ قصّہ واہی سچا سمجھا جائے ۔
شیعہ وسنی اختلاف تو رہے ایک طرف محض اندرونی کشمکش کے باعث ہمیں اسلام اور بزرگان اسلام کی توہین دیگر اقوام سے کروانا زیب نہیں دیتا ہے محض شیعہ دشمنی کے باعث اتنا بڑا نقصان برداشت کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔لہذا ہرکلمہ گو مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مقدس دین کی عزت وتوقیر کی حفاظت ملحوظ رکھے اور صرف ضد کی خاطر دین کا بیڑا غرق کرنے کی حماقت نہ کرے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم شیعیان اہلبیت کے مذہبی عقائد میں حضرت عمر کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ہمارے مذہب کے مطابق ان پر تنقید اور نکتہ چینی پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم حضرت عمر کو بحیثیت انسان ،سیاستدان خسر رسول (ص) اور حاکم المسلمین ایک محتاط ومدبر شخص سمجھتے ہیں ۔ ہم ان کی ذات پر ایسے رکیک حملے کرنا کبھی پسند نہیں کرتے ہیں اور ہمارے مذہبی وسیاسی اختلافات اپنی جگہ پر قائم ہیں اور ہمارے مسلمات اپنے مقام پر اٹل ہیں مگر جناب عمر بن خطاب کی شان ایسی مکروہ ومجنونانہ حرکات سے بلاشبہ بلند تھی ۔ہمیں مرنا ہے ۔خدا کے حضور جواب دہ ہونا ہے ۔ اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہے ۔لہذا ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ حضرت عمر پر لگائی گئی اس نازیبا تہمت سے ہمارا کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل ان کی صفائی دیتے چلے آرہے ہیں یہ سفید جھوٹ ہے جو ان سے منسوب ہوگیا ہے ۔

13
اس قصّہ کو ہم نے پہلے فرضی کہانی میں پیش کیا تا کہ ناظرین کو موضوع سخن میں اشارات وتشریحات کی احتیاج وضاحت نہ رہے ۔اور ذہن ابتدا نتائج مرتب کرنے پر تیار رہے ۔اب ہم افسانہ لکھیں گے طرز نگارش خالصتا افسانوی تو نہیں مگر نیم افسانوی اختیار کیا گیا ہے چونکہ فطرۃ مذہبی تحریروں کی عادت ہے ۔لہذا اس افسانہ کو معنوی لحاظ سے تو افسانہ سمجھ لیا جائے مگر ادبی میزان پر اس کا وزن معلوم نہ کیا جائے ۔ عبارت مضمون کی بجائے نفس مضمون پر توجہ مبذول کرانا مد نظر ہے لہذا مطالب ومفہوم کو حسن تحریر و انداز نگارش کی خامیوں پر فوقیت دینے کی التماس کی جاتی ہے ۔
اس افسانے کے کردار فرضی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔معترض کی حیثیت سے ایک اینگلو انڈین طالبہ ایلزبتھ نامی کا کردار وضع کیا گیا ہے اور چند ابتدائی مکالموں میں ایسی گفتگو کو اینگلو اردو زبان میں لکھا گیا ہے ۔مگر بعد میں اس طریقہ کو ترک کردیا گیا ہے ۔اور عام فہم اردو زبان استعمال کی گئی ہے کیونکہ بعض وجوہات کے باعث ایسا کرنا مفید سمجھا گیا ہے ۔
اصلی عبارات کے تراجم پر اکتفا کیا گیا ہے مگر حوالہ جات مکمل نشان کروائے گئے تاکہ محققین کو دشواری پیش نہ آئے ۔افسانے کے بعد اس قصّہ کی حقیقت تاریخی اعتبار سے پیش خدمت کی گئی ہے ۔اور عقلا ، نقلا، روایتا، درایتا، رواجا، رسما، تہذیبا ،معاشرۃ،مذہبا اور تاریخا ہر جہت سے اس قصّہ واہی کا قصّہ پاک کردیا گیا ہے ۔

14
لہذا تمام اہل اسلام سے گزارش ہے وہ ان مندرجات پر خلوص نیت او رمنصف مزاجی سے غور فرمائیں اور تحفظ ناموس اسلام و اکابرین اسلام کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ایسے واہیات ،غیر معقول اور رسوا کن قصوں کو" الف لیلی کی داستان " سمجھ کر ٹھکرادیں اور پاک وپاکیزہ دین سے ان کا انسلاک کرکے اپنے ہی آرے سے اپنے شجر کو نہ کاٹیں ان قصوں کا نہ ہی تعلیمات اسلامیہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان سے کسی افادیت کا پہلو نکلتا ہے ۔بلکہ سوائے بدنامی اور روسیاہی کے ان کے پلے اور کچھ نہیں ہے ۔
امید واثق ہے کہ یہ مختصر سی گفتگو مؤثر ثابت ہوگی اور تمام اہل اسلام اپنے سچے دین کی حقانیت ،رفعت شان اور سربلندی کے لئے اسلام کی بنیادی تعلیمات کی روشنی کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلانے کے عزائم بلند رکھیں اور ایسے من گھڑت ،بے سروپا اور جھوٹے افسانوں کی تشہیر میں مقت ودولت کو ضائع نہ کریں گے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان کے دل میں دین اسلام کی سچی محبت پیدا کرے اور کرہ ارض کے ہرگوشہ میں خدا کے دین حقہ کی حکمرانی ہو

والسلام
عبدالکریم مشتاق
٭٭٭٭٭