چار 4 یار
 

حدیث نجوم
مقدمہ چہارم:-
حدیث مشہور ہے کہ ۔"اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم اصحابی لکم رحمۃ" یعنی میرے اصحاب مثل ستاروں کے ہیں ۔ان میں سے جس کسی کی پیروی کروگے ۔ہدایت پاؤ گے میرے اصحاب کا اختلاف تمھارے لئے رحمت ہے ۔"
اس حدیث کو وضع کرکے دوکام نکالنے کی کوشش کی گئی ۔ ایک تو یہ کہ دیگر بناوٹی حدیثوں کے لئے ایک خود ساختہ کلیّہ بن گیا ۔
دوسرے یہ کہ حدیث ثقلین ،حدیث مدینۃ العلم اور دیگر احادیث جو حضرات اہل بیت علیھم السلام اور شیعیان آل محمد (ص) کی شان میں آنحضرت (ص) کے فرمودات ہیں ان کے مدّ مقابل ایک ایسی وضعی حدیث

48
بن گئی جو ہر وقت کام آسکتی ہے لیکن حق کی شان یہ ہے کہ کوئلوں میں ہیرا بن کرچمکتا ہے چنانچہ اس خود ساختہ حدیث کو خود جماعت اہل حکومت کے علماء محدثین نے موضوع قرار دیا ہے ۔اس کی جرح وقدح کی ہے ۔ اور مضبوط دلائل سے اس کو مردود اور وضعی ثابت کیا ہے ۔
امام اہلسنت ابن تیمیہ نے اس حدیث کے متعلق اپنی رائے اس طرح لکھی ہے ۔
"پس آنحضرت صلعم کا قول کہ میرے اصحاب مثل ستاروں کے ہیں جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔ یہ حدیث ضعیف ہے جس کو ائمہ حدیث نے ضعیف ثابت کیا ہے ۔ چنانچہ البزار کہتے ہیں کہ یہ حدیث جناب رسول خدا(ص) سے صحیح ثابت نہیں ہے ۔ اور وہ احادیث کی کتب معتبرہ میں نہیں پائی جاتی ۔(منہاج السنۃ)۔
اس حدیث کے جعلی ہونے کے بارے میں میں اگر ہم علمائے اہل سنت کی آراء کو نقل کریں تو اس کے لئے ایک جداگانہ کتاب کی ضرورت ہے ۔لیکن چونکہ یہ حدیث سرمایہ وآثاثہ مذہب سنیہ ہے اس لئے اس بارے میں مرفوع القلمی بھی بلا جواز اختصار ہوگا ۔لہذا ہو درمیانی راہ نکالتے ہوئے ان علماء اور کتابوں کے نام نقل کردیتے ہیں جو ہمارے شواہد ہیں ۔

1:- اما م حنبل الشیبانی :-
کتاب" التقریر و البتحیر" مؤلفہ ابن امیرالحجاج الحلبی ۔ "صبح صادق " تصنیف ملا نظام الدین سہالوی ۔"فواتح الرحموت " شرح مسلم الثبوت تصنیف مولوی عبدالعلی بحر العلوم۔

2:- ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنی:-
کتاب"جامع بیان العلم "

49
تصنیف ابی یوسف بن عبداللہ المزنی

3:- ابو بکر احمد بن عمر بن عبد الخالق بزار:-
کتاب " جامع بیان العلم"تصنیف ابی یوسف ۔رسالہ "ابطال رائے وقیاس "تصنیف ابن حزم ۔"منہاج السنۃ " ابن تیمیہ ۔"تفسیر بحر محیط" ابی جہاں۔"اعلام الموقعین" ۔"ابن القیم تخریج" احادیث منہاج ابو الفضل عراقی ۔شرح ملا علی قاری بر شفائی قاضی عیاض ۔وغیرہ۔

4:- ابو احمد عبداللہ بن محمد الجرجانی المعروف ابن عدی:-
کتاب" الکامل و ذکر حدیث نجوم" وترجمہ جعفر بن عبد الواحد" ۔"ترجمہ حمزہ ابی حمزہ" ۔

5:- ابو الحسن علی بن عمر دارقطنی:-
کتاب " غرائب مالک اثیر " "لسان المیزان" ابن حجر عسقلانی و"تخریج احادیث "کشاف ابن حجر عسقلانی

6:- ابو محمد علی بن محمد بن احمد بن حزم :-
رسالہ" ابطال رائے وقیاس "۔"تفسیر بحر محیط ذکر حدیث نجوم" تصنیف میاں غرناطی۔ تفسیر النہر الماء ابو حبان ۔تفسیر دار اللقیط ذکر حدیث النجوم"تصنیف تا ج الدین ابو محمد احمد بن عبدالقادر بن احمد مکتوم ۔"تخریج احادیث منہاج "زین الدین عراقی ۔کتاب"تلخیص الغبیر ابن حجر عسقلانی "۔مرقاۃ " از ملا علی قاری ۔نسیم الریاض علامہ خفا جی وغیرہ ۔

7:- ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی :-
کتاب" الدخل ،"تخریج احادیث منہاج بیضاوی "تصنیف زین الدین عراقی ۔

8:- ابو عمر یوسف بن عبد اللہ المعروف ابن عبد البر:-
کتاب "جامع بیان العلم"

9:- ابو القاسم علی بن الحسن ہبۃ اللہ المعروف ابن عساکر:-

50
فیض القدیر منادی۔

10:- عمر بن الحسن بن علی الکلبی المعروف ابن دحیہ :-
تعلیق تخریج احادیث منہاج بیضاوی " تصنیف زین الدین عراقی۔

11:- احمد بن الحلیم ابن تیمیہ :-
منہاج السنۃ ۔

12:- ابو جہان محمد بن یوسف اند لسی :-
تفسیر بحر محیط ، تفسیر النہر الما من البہر۔

13:- تاج الدین ابو محمد احمد بن عبد القادر بن احمد بن مکتوم :-

14:- محمد بن ابو بکر بن قیم الجوزیہ :-
کتاب اعلام الموقعین در مقام روبرو مقلدین

15:- زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی :-
کتاب "تخریج احادیث منہاج بیضاوی ۔تعلیق کتاب التخریج احادیث المنہاج ۔

16:- احمد بن علی بن حجر عسقلانی:
کتاب تلخیص الکبیر فی تخریج الرافعی الکبیر" ،کتاب تخریج احادیث مختصر ابن الحاجب ۔لسان المیزان در ترجمہ جمیل بن یزید۔

17:- کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن ہمام :-
کتاب التقریر والتجیر درمبحث اجماع ۔

18:- محمد بن محمد الحلبی المعروف ابن امیر الحاج :-
کتاب التقریر والتجیر در مبحث اجماع۔

19:- احمد بن ابراہیم الحلبی :-
شرح شفاء۔

20:- شمس الدین محمد بن عبد الرحمان البخاوی :-
مقاصد حسنہ۔

21:- کمال الدین محمد بن ابو بکر بن علی بن مسعود بن رضوان المعروف ابن ابی شریف :-
فیض القدیر منادی۔

22:- جلا الدین عبد الرحمان بن ابی بکر السیوطی:-
کتاب اتمام الدرایہ

51
القراء النعایہ ۔جامع ضغیر۔جمع الجوامع ۔

23:- ملا علی متقی :-
کنز العمال ، منتخب کنزل العمال ، مرقاۃ شرح مشکواۃ ، شرح شفاء۔

24:- عبد الرؤف بن تاج العارفین المنادی :-
فیض القدیر۔شرح جامع صغیر۔

25:- شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الحنفاجی:-
نسیم الریاض ۔شرح شفائی قاضی عیاض

26:- علامہ محمد معین بن محمد امین :-
دراسات اللبیب ۔

27:- قاضی محب اللہ بہاری :-
مسلم الثبوت۔

28:- ملا نظام الدین سہالوی:-
صبح صادق شرح منار ۔

29:- عبد العلی :-
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ،درمبحث اجماع شیخین ۔

30:-قاضی محمد ابن علی بن الشوکانی :-
ارشاد الغمول الی تحقیق الحق من علم الاصول القول المفید فی اولۃہ الاجتہاد والتقلید ۔

31:- عبد الرحمان بن علی بن محمد البکری المعروف ابن الجوزی :-
کتاب العلل المتناہیۃ ۔

32:- ولی اللہ ابن حبیب اللہ :-
شرح مسلم الثبوت ۔

33:- مولوی نواب صدیق حسن خاں :-
حصول المامول من علم الاصول ۔
اگر چہ ان حوالجات کے بعد مزید کسی تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تاہم مزید تشفی کے لئے چند عبارات نقل کرتے ہیں ۔چنا نچہ علامہ نظام الدین سہالوی حدیث نجوم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "ابن حزم اپنے رسالۃ الکبری میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث

52
جھوٹی ،بناوٹی اور باطل ہے ۔اوراحمد بن حنبل اور بزار نے بھی یہی کہا ہے" (صبح صادق شرح منار)
علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب العلل المتناہیۃ میں لکھا ہے کہ "نعیم بن حماد کہتا ہے کہ بیان کیا اس سے عبد الرحیم بن زید نے اپنے باپ سے اور اس کے باپ نے سعید بن مسیب سے اور اس نے عمر بن الخطاب سے کہ فرمایا آنحضرت (ص)نے کہ میں درگاہ رب العزت میں اختلاف کی نسبت سوال کیا ،جو میرے بعد میرے اصحاب میں ہوگا پس خداوند تعالی نے وحی بھیجی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے اصحاب میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ۔کوئی چکمدار ہے کوئی کم ،پس جس شخص نے تیرے اصحاب کے اختلاف میں سے کوئی بھی امر پکڑ لیا وہ ہدایت پر ہے ۔مؤلف کہتا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔نعیم مجروح ہے ۔اور یحیی بن معین نے کہا ہے کہ عبدالرحیم کذاب یعنی جھوٹا ہے :۔
امام ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث نجوم پر اچھی تنقید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ باطل جھوٹی اور بناوٹی حدیث ہے ۔
"حدیث اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم "کو دار قطنی نے مؤلف میں روایت سلام بن سلیم عن الحرث بن عضین عن الاعمش عن ابی سفیان عن جابر سے بیان کیا ہے یہ حدیث مرفوع ہے اور سلام ضعیف ہے اس حدیث کو دارقطنی نے غرائب مالک میں بھی جمیل بن یزید عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جابر کے طریق سے بیان کیا ہے ۔
دارقطنی نے کہا ہے کہ یہ حدیث مالک سے ثابت نہیں ہے ۔مالک کے

53
علاوہ سب رواوی مجہول ہیں اور اس حدیث کو عبد بن حمید نے اور دار قطنی نے فضائل میں حدیث حمزہ الجزری عن نافع عن ابن عمر سے بیان کیا ہے اور حمزہ حدیثیں وضع کیاکرتا تھا اس حدیث کو قضا عی نے مسند الشہاب میں حدیث ابو ہرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں جعفر بن عبدالواحد ہاشمی ہے اور علماء حدیث نے اس کی تکذیب کی ہے ۔ اور ابن ظاہر نے اس حدیث کو بطریق بشر بن حسین عن زبیر بن عدی عن انس بیان کیا ہے ۔اور بشر بھی جھوٹ اور وضع حدیث کے ساتھ متہم ہے ۔اور بیہقی نے مدخل میں اس حدیث کو روایت جو ئیبر عن الضحاک عن ابن عباس سے بیان کیا ہے اور جوئیبر متروک ہے ۔جوئیبر کی روایت بطریق دیگر عن جواب بن عبیداللہ ہے وہ مرفوع ہے اور حدیث مرسل ہے ۔ بیہقی کہتا ہے کہ اس کا متن تو مشہور ہے مگر اس کی تمام اسانید ضعیف ہیں اور بیہقی نے مدخل میں حضرت عمر سے ہی اس حدیث کو ان الفاظ سے بیان کیا ہے ۔"سالت ربی فیھا الخ"اس کے اسناد میں عبدالرحیم بن زید العمی ہےاور وہ متروک ہے "۔
(تخریج احادیث کشاف)
علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس موضوع حدیث کے ہر ایک طریقہ اور سند پر گفتگو کرکے اس کو باطل او رجھوٹا ثابت کیا ہے ۔مگر راویوں کی جرح وقدح میں اختصار نویسی سے کام لیا ہے ۔ تاہم دیگر علمائے نے اس حدیث کے ہر راوی پر جرح کرکے اس کو جھوٹا ثابت کیا ہے مزید تشفی کے لئے علامہ ذہبی کی کتاب "میزان الاعتدال " ملاحظہ فرمائیں۔

54
پس اس حدیث کی حقیقت معلوم ہوگئی کہ اس کا ہر راوی مجروح و مقدوح ہے کوئی قابل اعتبار نہیں ،سب ضعیف ہیں ۔ یہی وجہ ہے خود علمائے اہل سنت کی بھاری اکثریت نے اسے با طل ثابت کیا ہے لہذا بدیہی امر ہے یہ حدیث ثقلین وحدیث سفینہ وغیرہ کے مد مقابل گھڑی گئی ہے اور اس بات کا اعتراف بھی خود علمائے اہل سنّت نے بزبان خود کیا ہے ۔
مشہور سنّی عالم محمد معین حدیث نجوم اور ایسی ہی دوسری احادیث کو حدیث ثقلین وغیرہ کے مقابلہ میں بایں الفاظ رد کرتے ہیں "اگر تو کہے کہ یہ حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ میرے بعد اصحاب مثل ستاروں کے ہیں ان میں سے جن کی پیروی کروگے ہدیت پاجاؤگے ۔نیز یہ کہ میر ے بعد ابو بکر وعمر کی پیروی کرو ۔اور یہ کہ تمھیں چاہیئے میری اور میرے خلفاء راشد بن کی سنت کی پیروی کرو۔(وغیرہ) اور بس ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اہل بیت کے علاوہ دوسروں کی پیروی بھی جا ‏ئز ہے تو ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑی ہوئی ہیں کیونکہ لفظ "اہتدیتم"سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ بزرگوار کبھی خطاء نہیں کرسکتے جو کہ واقعۃ غلط ہے "۔(دراسات اللبیب)
پس ملا معین کی اس وضاحت کے بعد مزیدکسی بحث کی گنجائش نہیں رہ جاتی تا ہم اس حدیث پر عقلی بحث بھی کرتے ہیں تاکہ نقل کی تائید عقل سے بھی ہوجائے اس حدیث کا تجزیہ کرنے پر دوکلیے بر آمد ہوتے ہیں ۔اول یہ کہ صحابہ کا آپس کا اختلاف

55
امت کے لئے رحمت اور دوم یہ کہ کسی ایک بھی صحابی کی پیروی ہدایت کے لئے کافی ہے ۔اس ضمن کی پہلی عقلی دلیل یہ ہے جو اس کو باطل ٹھہراتی ہے کہ تضاد وتفریق علامت حق ہرگز نہیں ہوسکتی ہے ۔ حق ہمیشہ ایک ہی ہوگا ۔اختلاف اتحاد کو شکستہ کرتا ہے ۔قرآن میں جگہ جگہ تفریق کی مذمت پائی جاتی ہے ۔کسی حالت میں اختلاف رحمت ثابت نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ زحمت بنا رہا ۔پس ایسا گمراہ کن نظریہ تابع وحی نہیں ہوسکتا ہے ۔اور نہ ہی یہ رسول(ص)کا ارشاد ہے کہ خلاف قرآن ہے ۔دوسری دلیل یہ ہے کہ پیروی کے قابل صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو کبھی غلط حکم نہ دے خود محفوظ عن الخطا ہو۔عالم قرآن ہو ۔عامل شرع رسول (ص) ہو۔ جبکہ صحابہ کا معصوم ہونا کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا اور ان کے اختلافات سے کتابیں بھر پور ہیں ۔پس عقلی لحاظ سے بھی حدیث نجوم قابل رد وترک ہے ۔
الغرض یہ حدیث اور ایسی ہی کئی احادیث واہی ولغو وفضول وضع کی گئیں اور جتنا بھی ان احادیث کی گہرائیوں میں جایا جائے عقائد متزلزل ہونے لگتے ہیں اور دشمنان اسلام کے اعتراضات سامنے آجاتے ہیں ۔ان واضعین احادیث کے مقصد محض دو ہی تھے ایک یہ کہ اہل بیت اور شیعیان اہل بیت (ع) کے مقابلہ میں حکام اور ان کے حواریوں کے فضائل وضع کئے جائیں تاکہ وہ اہل منصب قرار پاسکیں دوسرے یہ کہ حضرت علی (ع) اور ان کے دوستوں کی شان میں تنقیص ہوجائے تاکہ ان کے جائز حقوق لوگوں کے سامنے نہ آسکیں اوران پر پردے پڑجائیں ۔جیسا کہ جعفراسکافی نے لکھا ہے کہ

56
"بتحقیق معاویہ نے ایک جماعت صحابہ میں سے اور ایک جماعت تابعین میں سے اس غرض کے لئے قائم کررکھتی تھی کہ وہ حضرت علی (ع) کے متعلق قبیح روایات واحادیث وضع کریں اور وہ روایات ایسی ہوں کہ جن سے حضرت علی (ع) پر طعن وار د ہوسکے اور ان سے لوگ بے زاری کرنے لگیں اور ان لوگوں کے واسطے اس خدمت حدیث سازی کے عوض میں وظیفے مقرر کردیئے تھے پس ان لوگوں نے ایسی احادیث وروایات ایجاد کیں جن سے معاویہ بہت خوش ہوا کہ اس کی طبیعت کے موافق ہوئیں ۔اس جماعت حدیث ساز میں صحابہ میں سے حضرت ابوہرہ ، عمر وبن العاص ،مغیرہ بن شعبہ تھے اور تابعین میں عروۃ بن الزبیر تھا۔ زہری نے عروہ سے ایک حدیث بیان کی ہے کہ کہا عروہ نے مجھ سے ۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ میں رسول خدا (ص) کے پاس بیٹھی تھی کہ اتنے میں عباس وعلی (ع) آئے ۔جناب رسول(ص) نے فرمایا اے عائشہ یہ دونوں (علی وعباس) (معاذاللہ حاکم بد ہن) مرتد ہوکر مریں گے "
(شرح نہج البلاغہ ج 4 ص 358 علامہ ابن ابی الحدید معتزلی)
دیکھا آپ نے حکومت کے کارخانہ حدیث سازی نے کیسی کیسی مصنوعات پیش کی ہیں ۔ایسے میں حضرات اہل بیت (ع) اور ان کے رفقاء کے فضائل کا اخفاء اور ان کی کسر شان میں روایات کا اجراء حکومت کی پشت پناہی میں ہوتا رہا ۔ آج بھی کتب میں ایسی روایات کا طومار ملتا ہے جو اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے رسول(ص) سے جھوٹ منسوب کرنے میں کوئی دقیقہ فروشت نہ کیا جبکہ آنحضرت اس فتنہ وضع احادیث سے امت کو اپنی حیات

57
طیبہ ہی میں آگاہ فرما چکے تھے ۔جناب رسالت پناہ نے فرمایا ۔
"اے لوگو! خدا سے ڈرو جیسا کہ کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرتے دم تک مسلمان رہو ۔اور جان لو کہ خدا وند تعالی ہر شے پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔خبرداررہو! فورا میرے بعد ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو میرے اوپر جھوٹ بولیں گے اور میری نسبت جھوٹی حدیثیں لوگوں میں بیان کریں گے ۔اور وہ قبول کرلی جائیں گی ۔میں پناہ مانگتا ہوں خدا کی طرف ۔اس بات سے کہ میں خدا کی طرف سے حق کے علاوہ کچھ اور کہوں یا تم کو ایسی بات کا حکم دوں جس کا خدا نے حکم نہیں دیا یا خدا کے علاوہ اور کی طرف تم کا بلاؤں ،عنقریب یہ ظالم لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کا حشر کیا ہوتا ہے ۔پس عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کب واقع ہوگا تاکہ ہم ان لوگوں کو پہچان لیں اور ان سے پر ہیز کریں ۔آپ نے فرمایا کہ یہ جماعت اپنے ظاہری (اقرار وقبول) اسلام لانے کے دن ہی سے اپنی تیاری میں مشغول ہے لیکن خفیہ اور تم پر وہ فورا ہی ظاہر ہوجائیں گے جب میری سانس یہاں تک پہنچے گی آنحضرت نے اپنے حلقوم مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔عبادہ بن صامت نے کہا کہ جب ایسا ہو تو ہم کیا کریں اورکس طرف پناہ ڈھونڈ یں حضور (ص)نے فرمایا کہ میری عترت میں سے سابقین (یعنی علی علیہ السلام ) کی طرف اور ان کی اطاعت کرو اوران کے قول کو تسلیم کرو۔ وہ میری نبوت کے آخذ ین ہیں وہ تم کو بدی سے بچائیں گے خیر ونیکی کی طرف لے جائیں گے وہ اہل حق ہیں ۔معاون صدق ہیں وہ تم میں کتاب وسنت کو زندہ رکھیں گے ۔الحاد وبدعت سے محفوظ کریں گے ۔اہل باطل کا قلع قمع کریں گے اور جاہلوں کی طرف رخ نہ کرینگے "

58
(توضیح الدلائل علی ترجیح الفضائل علامہ سید شہاب الدین )
ہادی عالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی ابھی حضور(ص) کی رحلت میں چند گھڑیاں باقی تھیں جو واقعہ قرطاس میں آپ (ص) پر بہتان ہذیان عائد کردیا گیا ۔
علی ہذا القیاس حدیث نجوم کہتی ہے کہ ہر صحابی ہدایت کا سرچشمہ ہے لیکن صحیحین میں جب ہم کتاب الفتن وکتاب الخواص میں مندرجہ احادیث پر نظر دو ڑاتے ہیں تو معاملہ اس کے برعکس ملتا ہے ان کثیر تعداد منقولہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور(ص) کی رحلت کے فورا بعد فتنے سراٹھائیں گے ۔جن میں صحابہ کی بڑی جماعت راہ ضلالت اختیار کرے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر آنحضرت موجود ہوں گے ۔صحابہ کو حوض کے پاس سے اونٹوں کی طرح ہنکا کر لے جایا جائےگا ۔حضور(ص) فرمائیں گے کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں حکم ہوگا کہ آپ کو معلوم نہیں ؟ کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں اس پر سرور دوعالم (ص) فرمائیں گے کہ دفع دور کرو ان کو میرے پاس سے ۔ اگر ہر صحابی عادل اور ہادی ہے تو پھر حوض کوثر سے ذلت کے ساتھ ہنکایا جانا کیا معنی رکھتا ہے ۔اختصار ملحوظ ہے ورنہ ان روایات کو نقل کردیا جاتا تا ہم قارئین صحیح بخاری ،صحیح مسلم وغیرہ میں کتاب الفتن اور کتاب الحوض مطالعہ کرکے اس حقیقت سے آشکا ر ہوسکتے ہیں ۔
پس حدیث نجوم نہ ہی عقلا قابل قبول ہے اور نہ ہی نقلا صحیح ثابت ہوتی ہے یہ حدیث معارض قرآن بھی ہے اور اورخلاف سنت بھی اسی لئے علماءنے بڑی شد و مد سے اس کی تردید کی ہے ۔

59

صحابی کی تعریف اور صحابہ میں باہمی فرق
عبوری معروضات کے بعد ہم نفس مضمون کی طرف لوٹتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ایمان والوں کے لئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت ایسی بیش بہا نعمت ہے جسکی قدر وقیمت کا اندازہ لگانا ہم خاطی انسانوں کی استطاعت سے باہر ہے لیکن ایسے صحبت یافتہ لوگوں کی بد قسمتی پر تمام کائنات اظہار تعجب وافسوس کرنے پر مجبور ہے کہ صحبت رسول (ص) کا شرف مقدر بننے کی بجائے بد نصیبی کا بخت ثابت ہوا۔وہ افراد جو نبی رحمت(ص) کی صحبت پانے کے باوجود دولت ایمان سے محروم رہے یقینا یہ اعزاز ونعمت ان بد قسمتوں کے لئے بے کار وغیر مفید رہا ۔چنانچہ تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں ہے کہ اللہ کے رسول (ص) کی صحبت سے سرفراز ہونے کی بجائے وہ لوگ اسلام سے مرتد ہوکر سرنگوں وپست قرار پاگئے ۔ان ہی صحابیوں میں سے بعض کو جو رسول(ص) نے دھتکار دیا۔ خطرناک ومجرمانہ ذہنیت کے افراد کو قتل کروادیا اور کئی ایسے ہوئے جو نشانہ بد عا ئے رحمت للعالمین قرارپائے ۔بعض حلقہ بگوش غداری میں اس قدر آگے نکل گئے کہ انھوں نے رسول (ص) اور پیغام رسول (ص) کے خلاف علا نیہ محاذ آرائی کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔ ایسے لوگوں کی تعداد بھی نمایاں ہے جنھوں نے ارتداد کو خفیہ رکھا اور صحبت میں رہتے ہوئے منافق رہے ۔چنانچہ یہ جماعت اسلام کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ۔علماء نے اس جماعت منافقین کو تین گروہوں

60
میں تقسیم کیا ہے ۔ اول ایسے لوگ جن کے نفاق کا علم رسول خدا(ص) کے علاوہ مخلص اصحاب کو بھی تھا ۔دوسرے اس قسم کے لوگ تھے جن کو صرف اللہ اور اس کے رسول (ص) ہی جانتے تھے اور ان میں سے کچھ کا پتہ حضور (ص) نے چند معتمد ساتھیوں کا بتایا بھی تھا جیسے کہ حضرت حذیفہ بن الیمان کو "صاحب السرّ" کہا جاتا ہے دیگر صحابہ کو معلوم تھا کہ حضرت حذیفہ کو حضور(ص) نے منافقین کے نام بتا دیئے ہیں ۔چنانچہ حضرت عمر بھی اکثر ان سے یہ راز اگلوانے کی کوشش کرتے رہے ۔راقم الحقیر کو عقیدے کے لحاظ سے یہاں اختلاف ہے مگر نقلا تحریر ہے کہ تیسرا گروہ وہ تھا جس کا علم غالبا رسول (ص) کو بھی نہ تھا رسول (ص) کی اس لاعلمی کا انحصار علماءنے ان احادیث کو بنایا ہے جن میں صحابہ کے دوزخ میں جانے کا بیان ہے اور وہ اس انداز سے مروی ہیں جس سے اندازہ قائم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ایسے کٹر منافق تھے جن کے نفاق کو رسول علیم بھی نہ پہچان سکے یا پھر وہ لوگ تھے جو بعد وفات پیغمبر مرتد ہوئے یا پھر حیات رسول(ص) میں ان کی منافقت محتاطا خفیہ تھی مگر بعد از رسول (ص) علانیہ منافقت پر ظاہر ہوگئے چنانچہ صحیح بخاری کی کتاب الحوض والی روایات میں جو تعجب رسول (ص) واظہار لاعلمی والا بیان ہے اس سے استدلال کرکے متقد مین نےیہ نظریہ قائم کیا ہے ۔حالانکہ شیعی عقیدہ ایسا نہیں ہے لیکن یہاں اس بحث سے گریز ہی کرنا ہے کہ اختصار اور پابندی موضوع ملحوظ ہیں بہر حال یہ نتیجہ اظہر من الشمس ہے کہ کسی کا صحابی ہونا اس امر کے لئے دلیل نہیں ہوسکتا ہے کہ اعمال وافعال سے چشم پو شی کرکے اور اس کے کردار واقعی کو نظر انداز کرکے اسے محض صحبت یافتہ رسول (ص) ہونے

61
کی بنا پر قابل ولائق پیروی سمجھ لیا جائے اس کے برعکس اگر وہ صحابی رسول (ص) مومن کامل، مرد صالح اور بندہ متقی ہے اور اس کے اعمال وخدمات اسے عزت واحترام کا مستحق ٹھہراتے ہیں تو پھر شرف صحابیت رسول کی قدر منزلت اپنے معراج پر ہوگی ۔پس اگر اعمال اسلامی نقطہ نظر سے مذموم ہوں گے تو صحابی ہونے کے باوجود ہم اس پر نکتہ چینی کرنے کے حقدار ہیں ۔ مگر اس بارے میں احتیاط و اعتدال کا لحاظ ہر قدم پر ضروری ہے ۔واضح ہو کہ صحابی کے مذموم فعل کا اثر محض اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم پر پڑتا ہے ۔اگر صرف اس کی ذات تک محدود ہوتا تو پھر یہ کہا جا سکتا تھا کہ معاملہ اللہ کے اور اس کے درمیان ہے ہمیں زبان بند رکھنی چاہیئے لیکن جب اس کا اثر براہ راست پورے نظام ومعاشرے پر پڑتا ہو تو ۔ایسی قطع نظری اور خاموشی ہر لحاظ سے مضرت رساں ہوگی لہذا صحابہ کو تنقید سے بالا خیال کرنا در اصل حقائق سے چشم پو شی کرنا ہے ۔اہل اسلام میں صحابی کی تعریف میں چنداں اختلاف ہے عام اعتبار سے تو صحابی ہر اس شخص کو کہا جاسکتا ہے جسے مجلس رسول (ص) میں شرکت کا موقعہ حاصل ہوا یا صحبت پیغمبر (ص) کا شرف ملا اس میں مدت کے کم زیادہ ہونے کی قید نہیں لیکن اصطلاح میں صحابی کی تعریف مختلف ہے ۔ شروع میں یہی خیال تھا کہ جیسے شرف صحبت نصیب ہوگیا وہ قابل عزت ہے اور اس ابتدائی دور میں یہ احساس طبعی تھا کیونکہ ابتدائی دور کے صحابہ میں زیادہ تر اس کے مسحق حضرات ہی تھے لیکن بعد میں تجربہ ہوا کہ کچھ صحابی مرتد ہوکر دوبارہ کفار سے جاملے لہذا صحابی

62
کی تعریف میں یہ شرط بھی ضروری قرار پائی کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہونا لازمی ہے اس کے بعد کچھ لوگوں نے اس تعریف کو مزید مشروط کیا ہے کہ بالغ لوگ جو صحبت رسول (ص) کا درجہ تابعی کے مطابق ہے پھر طبقہ محدثین نے صرف ان صحابیوں کو قبول کیا جو کسی حدیث رسول(ص) کے راوی ہوئے لیکن امام بخاری اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے ہر اس مسلمان کو صحابی تسلیم کیا ہے جس نے رسول خدا(ص) کو ایک بار دیکھ لیا ۔الغرض مندرجہ بالا تعریفوں میں سے کسی ایک پر بھی علمائے اہل سنتہ کا اتفاق نہ ہو سکا اور کافی بحث وتمحیض کس بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام صحابہ بلا استثنا روایت کے معاملہ میں"عادل" ہیں ۔حالانکہ یہ مانتے ہیں کہ صحابہ میں بعض فسق وفجور کا ارتکاب کرتے تھے ان سے چوری ،زنا ،کذب وغیرہ جیسے کبائر کا صدور ہوا مگر روایت قول رسول میں ان سے غلط بیانی نہ ہوتی تھی اس عقیدے کی تائید قرآن وحدیث سے تومستند نہیں ہوسکتی البتہ بزعم علمائے اہل سنتہ والجماعۃ تجربات وتحقیقات شاہد ہیں کہ صحابہ خواہ کیسے ہی گنہگار ہوں مگر رسول خدا(ض) سے روایت کرنے میں انھوں نے کبھی جھوٹ نہ باندھا ۔چنانچہ ابن انباری کہتے ہیں کہ "یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ میں گناہوں سے عصمت پائی جاتی ہے اور ان سے گناہوں کاارتکاب ممکن نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کی راویتوں کو اسباب عدالت کی بحث اور ثقاہت کی تحقیق کے بغیر قبول کرلینا چاہیئے مگر یہ کہ ان سے ایسا امر سرزد ہو جو روایات

63
میں قادح ہو اور ایسا ثابت نہیں ہے "
علامہ انباری کہ یہ رائے ہم خیال لوگوں کے لئے تو کچھ وزن رکھتی ہو یا نہ ہو ہم کسی آزاد وغیر جانبدار شخص کے لئے عقیدت کے علاوہ اس میں کوئی کشش وجاذبیت ہرگز نہیں ہے ۔ بہر کیف صحابی کی تعریف میں اختلاف ہونے کے باعث ان کی تعداد اور مدارج میں بہت فرق پیدا ہوگیا ہے ۔ امام شافعی کے مطابق حضور(ص)کے وصال کے وقت ساٹھ ہزار اصحاب تھے جن میں تیس ہزار خالص مدینہ میں تھے ابوزرعہ کے قول سے صرف صحابی ایک لاکھ تک ہوتے ہیں بعض نے سوالاکھ تک تعداد بتائی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام اصحاب کے حالات کا علم نہ ہوسکا لہذا ان کے کردار وچال وچلن کے بارے میں کوئی حتمی وعام فیصلہ کرنا امرمحال ہے ۔جو تمام صحابیوں کی شخصیت پر فردا فردا حاوی ہو۔ لہذا جب ہم افراد پر بحث کریں گے تو یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ ان کی زندگی تقوی کے معیار پر کتنا درجہ رکھتی ہے ۔صحابہ میں فضیلت کے لحاظ سے مدارج کا فرق قرآن مجید سے ثابت ہے کہ سورہ حدید میں اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے جن لوگوں نے اللہ کے لئے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جنھوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا یا جہاد کیا ۔ازروئے قرآن حلقہ اصحاب کی خاص تقسیم یہ قرار پائی کہ فتح مکہ سے پہلے جن صحابہ نے اتفاق وقتال کیا ان سے افضل ہیں جو فتح مکہ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور انھوں نے راہ خدا میں خرچ کیا اور جانی قربانی پیش کی ۔ ان صحابہ کی فضیلت قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ انھوں نے اس دور میں

64
اسلام کا ساتھ دیا جب سخت امتحان وآزمائشوں سے گذرنا پڑتا تھا ۔جب گھڑیاں اسلام پر اتنی کڑی تھیں کہ تاریخ عالم میں ان کی نظیر نہیں ملتی چنانچہ ان کا قرآنی نقشہ اس طرح کہ "ان کو جھنجھوڑ اگیا یہاں تک رسول اور اس کے ساتھ صاحبان ایمان چلا اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ۔خبردار! کہ اللہ کی مدد قریب ہے ۔
اسلام کی مکی زندگی کاخیال آتے ہی حساس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔دل لرزاں ہوتا ہے ۔کہ ان مردان حق پرست نے کس بے جگری اور صبر واستقامت کے ساتھ محض خوشنودی خدا ورسول(ص) کی خاطر جان جوکھوں میں ڈالی ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو لوہے کی زرہ پہنا کر گرم ریت پر ڈال دیا جاتا تھا اور دشمنان دین پہاڑوں کے تپتے ہوئے پتھروں پر حضرت کو گھسیٹتے تھے لیکن آپ کی زبان حقیقت بیان سے ہردم احد احد ہی آتا تھا ۔ اسی طرح حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور جناب یاسر رضی اللہ عنہ کو کفار انگاروں پر لٹاتے تھے ۔ ابو فکیہ کو گرم ریت پر گھسیٹ کر اذیت دیتے تھے مگر یہ عاشقان خداو رسول(ص) ہر مصیبت کو عزم واستقلال سے برداشت کرتے ۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت سمیہ کو اس ظالمانہ طریقہ سے ستایا کہ یہ مصائب جھیلتے ہوئے آپ کو اسلام کی پہلی شہیدہ کا اعزاز نصیب ہوا ۔اور ابوجہل نے برچھا مار کران کو سوئےرضوان الجنتہ روانہ کیا اسی طرح اور بھی متعدد نفوس مقدسہ تھے جنھوں نے ایثار کی تاریخ کو اپنے کارہائے نمایاں سے زینت بخشی ۔لیکن زمانہ کی طوطا چشمی یہ ہے کہ ان محسنین اسلام کا آج تذکرہ بھی

65
نہیں کیا جاتا ہے ۔اور ان لوگوں کے صبح وشام ترانے گائے جاتے ہیں جن کا کبھی بال بھی بیگانہ ہوا۔زمانہ رسول(ص) میں تقسیم مال غنیمت کے وقت کے علاوہ کسی آڑے وقت کام نہ آئے اور جب حضور کا وصال ہوگیا تو اقتدار کا انتقال ان کے نام ہوا اس وقت بھی لوگوں نے تاج و تخت والوں ہی کو سلام کیا اور آج بھی کرسی سلام ہے ۔
لیکن ہم نے جن چار حضرات بابر کات کا تذکرہ اس کتاب میں کرنا ہے ان کا تعلق صحابہ کے اس طبقہ سے ہے جو اسلام کے اولین محسنوں کا ہے ۔ انھوں نے اسلام کی محبت میں نہ ہی اپنے رشتہ داروں کی پرواہ کی نہ ہی قبائلی تعلقات کو نظر میں لائے نہ ہی اسلام کی دولت ان کی آنکھوں میں گھومی اور نہ ہی حکومت کا خیال ان کے دل میں کبھی آیا۔ انھوں نے اپنے تن ،من،دھن ،اولاد ،خویش واقارب ،گھرباراور ہرشے کو صرف اورصرف دین کے لئے قربان کردیا دراصل کلام پاک میں جتنی آیات میں صحابہ رضوان اللہ علیھم کی تعریف ،مدح وتوصیف ہے ۔وہ سب کے سب اسی دور کے مسلمان تھے جو امتحانوں سے گزرے یا پھر بحیثیت مجموعی اس سماج کی تعریف ہے جو رسول اللہ(ص) نے بنایا تھا اور صحابہ اس پر نیک نیتی اور خلوص دل سے چلتے تھے ۔کوئی ایک آیت بھی قرآن میں ایسی موجود نہیں ہے کہ سب کے سب صحابہ فردافردا قابل تعریف تھے یا یہ کہ ان کی مذمت کرنا یا ان پر تنقید کرنا گناہ ہے اگر ہر صحابی کی مذمت کی ممانعت ہوتی تو بڑے بڑے جلیل القدر بعض دیگر صحابہ کی مذمت نہ کرتے

66
قرآنی آیات کے علاوہ احادیث رسول(ص) میں بھی صحابہ کے فضائل کی موید روایات ہیں ۔لیکن ان میں بھی کوئی صحیح حدیث ایسی ثابت نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہر صحابی بلا لحاظ زہد وتقوی قابل احترام ہو۔ اہل سنت و صحابہ حضرات عموما ایک حدیث اکثر اپنے موقف کے حق میں پیش کرتے رہتے ہیں جس سے انفرادی مداح کاشبہ ہوتا ہے لیکن معمولی ساغور کرلینے پر اس شبہ کا ازالہ ہوسکتا ہے حدیث یہ ہے
"حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اصحاب کو برابھلا مت کہو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگوں میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے اصحاب میں سے کسی کے مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہوگا "(صحیح ترمذی کتاب المناقب )
اس حدیث کے الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول حاضر وموجود صحابہ کو پہلے دور کے صحابہ پر سب وشتم کرنے سے روک رہے تھے ۔حدیث میں خطابیہ عبارت "تم لوگوں میں سے " بعد کے دور کے صحابہ موجود کی طرف اشارہ ہے ۔اور "میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو" میں غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے وہ اصحاب جن سے خطاب تھا اس کے مکمل مصداق نہ تھے بلکہ حضور(ص) کےاصحاب ابتدائی دور کے تھے جن کی مٹھی بھر خیرات کوہ احد کے وزن کی مقدار سے افضل تھی ۔

٭٭٭