چار 4 یار
 

37

موضوع احادیث فضائل برائے مغالطہ
مقدمہ سوم:-
کسی سازش یا انقلاب ،کسی معرکہ یا کشمکش کسی اتفاق یا ترکیب کے سہارے بر سراقتدار آجانے والے حکمران عموما سب سے پہلے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ کر اپنی حکومت کو مستحکم ومستقل بنائیں ۔
اوران لوگوں کی طرف سے عوام کے قلوب کو پھیر دیں جو ان کی نظر میں ان سے حکومت کے زیادہ حقدار اور اہل ہوتے ہیں یا ان افراد کے اثر و رسوخ سے ان کی حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہو نشہ اقتدار کی مستی میں ان حکمرانوں کاجی تو یہی چاہتا ہے کہ ایسے افراد کو نیست ونابود کردیں لیکن اگر واقعات وحالات اس طرح کے ہوں کہ ان کا قلع قمع یا جلا وطنی ان کے استحکام اقتدار کے لئے مضرت رساں ہو تو وہ ایسا قدم اٹھا نے سے گریز کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ایسی صورت میں وہ یہ سیاسی چال چلتے ہیں کہ ان حقداروں اور دعویداران حکومت کے حقوق وفضائل اور اہلیت وقابلیت کو کم کرکے دکھاتے یا ممکن ہو تو بالکل چھپا تے اور اپنے منہ میاں مٹھو بنکر خود کے ترانے بجاتے ہیں اپنی تعریف کے بل باندھتے ہیں اور اپنے کارناموں کے قلابے آسمان سے ملاتے رہتے ہیں ۔اپنی تیس مار خانی کے قصیدے گھڑکر لوگوں میں بڑی ہوشیاری سے پھیلا تے ہیں ۔ذرایع ابلاغ عامہ کے بل بوتے پر اپنے قصّے و کہانیاں جی بھر کر مشہور کراتے ہیں اور

38
یہ ایسی چالاکی ہے کہ سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی ثابت رہتی ہے ۔
جماعت سقیفہ کی کامیابی بڑی شاندار تھی کہ ایک ایسے مستحق فرد کو نظر انداز کرکے حکومت پر قبضہ جمایا گیا تھا جس کی اسلامی خدمات کے کارہائے نمایاں عوامی نظروں میں گھوم رہے تھے اس کی محبت وقرابت رسول (ص) ہر ایک پر واضح تھی اس کی شجاعت لوگوں میں ضرب المثل بن چکی تھی ۔اس کی سخاوت نے حاتم کا نام زیر کرلیا تھا اس کے علم وحکمت کے ڈنکے ہر کان میں بج رہے تھے اس کے زہد وتقوی نے لوگوں کو مبہوت کر رکھا تھا رسول اکرم(ص) کے وہ خطبے جن میں آپ(ص) نے اس کے فضائل وحقوق کا اظہار فرمایا تھا لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ تھے خم غدیر کا منظر نگاہوں میں سمایا ہوا تھا ۔ایسی صورت حالات تھی کہ اگر جناب امیر علیہ السلام کو اللہ تعالی نے صبر کامل کی قوت عطا نہ فرمائی ہوتی اور ان کے دل میں اسلام کی محبت بدرجہ اولی نہ ہوتی جیسی کہ محبت خود بانی اسلام کے دل میں تھی تو ارکین حکومت سقیفہ کے لئے اپنا تخت و تاج قائم رکھنا سخت دشوار ہوجاتا اور مدینہ میں خون کی نہریں جاری ہوجاتیں لیکن اہلیان حکومت نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے اوپر قیاس کرکے ایسی تدابیر اور پیش بندیاں اختیار کیں جن کے باعث ان کے زعم میں جو علی علیہ السلام کی طرف سے ان کو خوف تھا وہ اگر بالکل دور نہ ہو تو بہت حد تک کم ضرور ہو جائے چنانچہ فضائل علویہ کی احادیث میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی ایسی ہی اہم سیاسی تدبیر تھی جب حکومت نے روایت حدیث پر پابندی عائد کی اور

39
احادیث پر اپنا قبضہ و اختیار جماکے رکھا پھر وضعیت احادیث اس قدر تی اور آسان نتیجہ تھا یہ طریقہ ایک طرف سہل تھا دوسری جانب بہت مؤثر و کارگر تھا کیونکہ اگر لوگوں کو یقین ہوجائے کہ ان بزرگواروں کے بھی اتنے ہی فضائل جناب رسول خدا نے ان بزرگواروں کے بھی اتنے ہی فضائل جناب رسول خدا نے بیان فرمائے ہیں تو پھر وہ ان کے قبضہ حکومت کو حق بجانب سمجھنے لگیں گے اور اس تدبیر میں سہولت یہ تھی کہ چند آدمیوں پر نظر عنایت کرکے ان کو ایسا کہنے پر آمادہ کر لینا کوئی بڑی بات نہ تھی ۔چنانچہ معاویہ بن ابو سفیان نے جس خوبی سے یہ کام سرانجام دیا اس کا حال ہم گزشتہ مقدمہ میں لکھ چکے ہیں ۔اب ہم بطور مثال چند شواہد پیش خدمت کرتے ہیں اور چند موضوعہ احادیث نقل کرتے ہیں ۔ان پر جرح کرکے اثبات وضعیت لکھتے ہیں ۔

کسوٹی:-
کسی حدیث کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے تین گر ایسے ہیں جن کی کسوٹی پر ہر حدیث کو پرکھا جا سکتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
(ا):- فضلیت کی حدیث موافق قرآن ہے یا نہیں ۔(ب):- ممدوح کے سوانح حیات اور واقعات سے حدیث کی مطابقت ہوتی ہے یا نہیں ۔(ج):- حضور (ص) کی رحلت کے فورا بعد چند ایسے مواقع اگر آئے جو اس حدیث کے بیان کے مناسب محل ومتقاضی تھے تو کیا اس حدیث کو ان موقعوں پر پیش کیا گیا کہ نہیں ۔
اگر کوئی حدیث خلاف قرآن ہے تو یقینا وہ جھوٹی ہے ۔اسی طرح قابل غور امر ہے کہ حدیث کا ممدوح اس قابل و اہل بھی تھا کہ نہیں جو اس کے حق میں بیان ہوا ہے ۔تعریف و توصیف اسی وقت زمرہ مدح میں شمار ہوگی جب ممدوح کے سوانح حیات

40
کردار ،چال چلن وطرز زندگی کے مطابق ہو ورنہ ہجو ہوگی مثلا کسی کمزور و لاغر اور بزدل شخص کے بارے میں اگر کہا جائے کہ وہ رستم زماں تھا تو یقینا یہ تعریف نہیں بلکہ ہجو ٹھہرے گی ۔حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے فضائل وکمالات و علو مرتبت کے متعلق جس قدر احادیث ہیں وہ محض ایک امر واقعہ کو بیان کرتی ہیں ۔آپ کے چال چلن ۔سوانح حیات فضائل روحانی وصفات جسمانی کے عین مطابق ہیں۔ اگر حدیث میں ہے کہ آپ (ع) کا اور جناب رسول خدا(ص) کانو ر تخلیق نورتخلیق ارض وسما سے قبل خلق کیاگیا اور وہ نور ایک ہی تھا جو عرش الہی کے سامنے ہزاروں سال کی تخلیق آدم سے پہلے مشغول عبادت الہی تھا تو اس کی تردید آپ کے سوانح حیات ہے ہرگز نہ ہوسکے گی بلکہ مزید تقویت بخشی ہوگی کیونکہ فضائل میں آپ حضور (ص) کے دوش بدوش تھے اور اس دنیا میں آکر بھی دونوں نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہ کیا ۔
ایک حدیث وضع کی گئی ہے کہ حضور(ص) نے معاذاللہ فرمایا کہ "میں اور ابوبکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔(یعنی نبوت کے پائے کو چھونے کے لئے )میں ان سے آگے بڑھ گیا تو ان کو میری پیروی کرنی پڑی اوراگر وہ آگے بڑھ جاتے تو میں ان کی پیروی کرتا ۔
اس موضوعہ حدیث سے بعض جہلاء نے استدلال کیا ہے کہ نبی (ص)کو نبوت مل گئی اور ابو بکر کو خلافت حصہ میں آئی ۔اسی طرح یہ بھی حدیث ہے کہ ابو بکر و عمر کا نور تخلیق آدم سے پہلے مصروف عبادت تھا تو جب ان کو زمین پر چالیس بتوں کے آگے سجدہ ریز

41
دیکھیں گے تو کیا ایسی احادیث پر اعتبار کریں گے ؟۔
اب اگر حضرت علی علیہ السلام کے حق میں انکی روز خندق کی ایک ضربت کو ثقلین کی عبادت سے افضل قرار دیا گیا تویہ عین امر واقعہ ہے کہ اس ضرب سے اسلام بچ گیا ۔اگر اسلام ہی نہ ہوتا تو عبادت کون کرتا اسی طرح اگر علی علیہ السلام باب مدینۃ العلم ہوئے تو آپ نے ہمیشہ "سلونی "(پوچھ لوجوپوکچھ بھی پوچھنا چاہو۔) کہا ہر مسئلہ حل فرمایا ۔لیکن یار لوگوں نے شہر کی دیواریں اور چھت تک بنا لیں مگر لوگوں نے دیکھ لیا کہ دیوار نے شگافتہ انداز میں اقرار کر لیا کہ اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا ۔ اس سے بڑا کوئی قاضی نہیں ہے ۔
الغرض جو احادیث آج کل فضیلت میں حضرات ثلاثہ کی پیش کی جاتی ہیں اگر وہ فی الحقیقت ارشادات رسول(ص) تھے ۔تو پھر سقیفہ بنی ساعدہ میں ان فضائل کا اظہار کیوں نہ کیا گیا ۔صرف رفاقت غار اور امامت نماز پر اکتفا ہوا ۔اسی طرح نامزدگی عمر اور انتخاب شوری کے اوقات پر بھی ایسے فضائل پر سے پردہ نہ اٹھا یا گیا جب کہ حضرت علی علیہ السلام نے ہر موقع احتجاج پر احادیث پیغمبر سے استدلال فرمایا ۔بہر حال چند نمونے ملاحظہ کریں اور لطف اٹھائیں ۔

جھوٹ نمبر1:-
"خلفاء اربعہ (حضرات ابو بکر ،عمر، عثمان ،علی ) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم حضرت آدم(ص) کی خلقت سے پہلے نوری حالت میں موجود تھے اور ان میں سے ہر ایک خاص صفت کے ساتھ موصوف تھا ۔اور ان کو برا کہنے سے

42
بچا جائے ۔محمد بن ادریس الشافعی اپنی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ص) نے فرمایا کہ میں (رسول خدا) ابو بکر، عمر ،عثمان اور علی ا للہ کے عرش کی داہنی طرف نور کی شکل میں حضرت آدم کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل سے تھے ۔جب حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل سے تھے ۔جب آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تو ہمیں ان کی صلب میں رکھدیا گیا اور ہم اسی طرح اصلاب طاہرہ میں منتقل ہوتے رہے ۔یہاں تک کہ اللہ نے مجھے صلب عبداللہ میں ،ابو بکر کو صلب ابی قحافہ میں ،عمر کو صلب خطاب میں عثمان کو صلب عفان میں اور علی کو صلب ابو طالب میں منتقل فرمادیا پھر ان کو میر ا صحابی مقرر کیا ،ابو بکر کو صدیق ،عمر کو فاروق ،عثمان کو ذوالنورین اور علی کو وصی قرار دیا ۔
پس جس نے میرے اصحاب کو شب وشتم کیا اس نے مجھے گالی دی جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو برا کہا اور جس نے خدا کو بر ا کہا اس کو خداوند نار جہنم میں منہ کے بل ڈالے گا ۔
(ریاض النضرہ اما محب الدین طبری جزء نمبر 1 باب نمبر 4 ص 30)
اس نام نہاد حدیث کے حرف حرف پر مصنوعیت کی مہر لگی ہوئی ہے ۔صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے حق میں جو حدیث نور مشہور ہے اس کا جواب تراشا گیا ہے حضرت علی علیہ السلام کے لئے حدیث نو ر اس لئے قابل قبول ہے کہ آپ کو مخالفین بھی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی غیر خداکو سجدہ نہ کیا ۔مگر دیگر بزرگوں کے ا جام پر یہ خلعت فٹ نہیں ہوتا اس لئے کہ
ا:-عرش الہی کے سامنے ہزاروں برس طاہر ومطہر رہنے سے اتنی بھی صلاحیت پیدا نہ ہوسکی کہ دنیا میں آکر اصنام

43
پرستی سے محفوظ رہتے ۔بس یہ ساری عبادت وطہارت اس چالیس سالہ بت پرستی سے بے فائدہ ٹھہرتی ہے ۔
ب:-حضرت آدم سے ایک ہزار سال پہلے پیدا ہونے سے تمام انبیا ء پر امتیاز وفوقیت وفضیلت لازم آتی ہے ۔ کوئی امت محمد یہ میں ایسا نہ ہوگا جو اس امر کا قائل ہو کہ اصحاب ثلاثہ انبیاء سے افضل تھے ۔ نہ ہی ان کے سوانح حیات اس بات کی شہادت فراہم کرتے ہیں۔
ج:- اصحاب ثلاثہ کے والد وآباؤ اجداد متفقہ طور پر کافر تھے پھر اصلاب طاہرہ کے کیا معنی ہوئے ؟اور ارحام کے تو کیا کہنے ہیں ۔چپ بھلی ہے ۔
د:- یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں ہے ۔
ر:- علمائے اہل سنۃ و الجماعۃ کی بڑی جماعت نے اس حدیث کو جھوٹی و موضوع قراردیا ہے ۔
مولوی سیف اللہ یانی پتی "سیف مسلول "میں اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "ایں حدیث ہرچند ضیعف است" حافظ ابو نعیم تاج المحدثین نے" امالی" میں تسلیم کیا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے ۔ علامہ ذہبی نے "میزان الاعتدال "میں اعتراف کیا ہے کہ یہ جھوٹ ہے ۔ حافظ علامہ جلا ل الدین سیوطی نے بھی اس قسم کی احادیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے ۔ چنانچہ سیوطی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کا راوی المنجی میرے نزدیک ایک آفت ہے ۔بلا ہے ۔ جھوٹ بولتا ہے ۔

جھوٹ نمبر 2:-
حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیث منزلت مشہور

44
ومعروف ہے یہ حدیث کئی موقعوں پر دہرائی گئی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک جھوٹی حدیث بنائی گئی ۔
"جناب ابن عباس سے مرفوعا مروی ہے کہ اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو بناتا مگر مجھے تو خدا نے دوست بنا لیا ہے ۔
ابو بکر وعمر مجھ سے وہی منزلت رکھتے ہیں جو ہارون کو حضرت موسی کے ساتھ تھی ۔
اولا تو اس حدیث کا بے جوڑ پن ملاحظہ ہو ذکر تو خلت ودوستی کا تھا ۔حضرت موسی کی اور حضرت ہارون کی منزلت کا تذکرہ کیوں؟ پھر دو ہارون کیسے ؟ ایک موسی علیہ السلام کے لئے تو صرف ایک ہی ہارون تھے ۔ یہاں دو کی کیا ضرورت پیش آگئی ۔شاید اس لئے کہ جن صاحب نے یہ حدیث بنائی وہ دونوں کی منزلت قائم رکھنا چاہتے تھے ۔اس حدیث نامحمود کے ایک راوی قزعہ بن سوید ہیں ان کی نسبت علامہ ذہبی کہتے ہیں ۔
"امام بخاری کہتے ہیں کہ قزعہ بن سوید قوی نہیں ہے امام احمد کہتے ہیں کہ اس حدیثیں مضطرب ہوتی ہیں اور ابو حاتم کہتے ہیں کہ وہ اس کی حدیثوں سے استدلال نہیں کرسکتے ۔امام نسائی نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی نے بھی یہی کہا ہے ۔ اس نے یہ غلط حدیث ابن ابی ملکیہ سے مرفوعا ابن عباس سے بیان کی ہے (میزان الاعتدال جلد دوم صفحہ 347) ۔یہی حدیث ایک اور طریقہ سے بیان ہوئی ہے جس کے ایک راوی عمار بن ہارون ہیں ان کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں "موسی نے کہا کہ

45
(عمار)ابن ہارون کی حدیث کو لوگوں نے چھوڑدیا ہے اور ابن عدی نے کہا ہے عام (بازاری) آدمی ہے جو بیان کرتا ہے غلط ہوتا ہے اور یہ حدیثوں کی چوری کیا کرتا تھا "(میزان الاعتدال جلد 7 صفحہ 320)-
سو ملاحظہ کیاآپ نے کیسے چورلوگوں کی یہ روایات ہیں ۔المختصر لاتعداد ایسی حدیثیں وضع کی گئیں کہ کمالات اہل بیت علیھم السلام پر قبضہ ہو جائے مگر اللہ خیر الماکرین ہے لہذا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ نظر آجاتا ہے ۔مشہور سنی امام ابو فرج ابن الجوزی نے اپنی کتاب "الموضوعات" میں ان احادیث کے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا ہے ۔
"میں نے کثیر تعداد میں احادیث ترک کردی ہیں جو حضرت ابو بکر کی شان میں بیان کی جاتی ہیں کچھ تو ان میں ایسی ہیں جو ظاہری معنی تو رکھتی ہیں لیکن ان کی صحت ثابت نہیں لیکن بہت سی تو ایسی ہیں جو بالکل بے معنی و لغو اور بے ہودہ ہیں ۔ میں لوگوں کو کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ" حضور نے فرمایا کوئی شی خدا نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی لیکن یہ کہ پھر میں نے اس کو سینہ ابو بکر میں ڈالدیا اور جب مجھے جنت کا شوق ہوتا ہے تو ابو بکر کی سفید داڑھی کو چومتا لیتا ہوں اور یہ کہ میں اور ابو بکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے میں ان سے آگے بڑھ گیا تو ان کو میری اتباع کرنی پڑی اور اگر وہ آگے بڑھ جاتے تو میں ان کی پیروی کرتا ۔ یہ تمام حدیثیں جھوٹی ہیں اور قطعا موضوعہ(جعلی) ہیں اور ایسی احادیث کے جاری کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔"

46
ملا علی قاری نے اپنے رسالہ موضوعات کبیر میں ابن قسیم سے نقلا لکھا ہے کہ
"جہلا ئے اہل سنۃ نے جو احادیث فضائل ابو بکر میں وضع کی ہیں۔ ان سے چند یہ ہیں ۔
1:-"خدا وند تعالی روز قیامت اور لوگوں کے لئے عام طور سے اور ابو بکر کے لئے خاص طور سے تجلی کرے گا "۔
2:-"کوئی علم کی شے خداوند تعالی نے میرے سینہ میں نہیں ڈالی لیکن یہ کہ میں نے پھر اس کو سینہ ابو بکر میں ڈالدیا ۔"
3:- یا "جب حضور کو جنّت کا شوق ہوتا تھا حضرت ابو بکر کی سفید داڑھی چومتے تھے ۔"
4:- "میں اور ابو بکر دوگھوڑوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔"
5:- یا "جب خدا نے ارواح میں انتخاب کیا ۔۔۔۔"
6:- اسی طرح عمر کا یہ قول کہ" جب رسول کریم (ص) اور ابو بکر آپس میں باتیں کرتے تھے تو میں زنگی کی طرح مبہوت بیٹھا رہتا تھا "۔
7:- "اگر میں عمر کے فضائل عمر نوح تک بیان کروں تو ختم نہ کرسکوں گا ۔"
8:-اسی طرح "عمر تو ایک نیکی ہے ابوبکر کی نیکیوں میں سے "۔
9:- یا پھر یہ کہ " ابو بکر تم سے کثرت صوم وصلواۃ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے تم پر سبقت لے گیا جو اس کے سینہ میں ہے " یہ سب جھوٹی ہیں " ۔
اگر ہم مصنوعی احادیث جمع کرنے لگ جائیں تو اس کے لئے ایک دفتر درکار ہوگا ۔چند نمونے پیش خدمت کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جو اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچانے کے لئے کافی ہیں کہ حکام وقت کو خوش کرنے اور ان کے احکام استحکام حکومت کے لئے استحقاق خلافت ثابت کرنے کی خاطر لوگوں نے بے حساب احادیث وضع کیں اور اس کارکردگی کے لئے کو انعامات وصلے فراخدلی

47
سے دیئے گئے اور ہر طرح سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔اب جب خود علماء اہل سنت ہی ان احادیث کو موضوع اور کذب قرار دیتے ہیں تو پھر ہم مزید نکتہ چینی کس لئے کریں ۔
احادیث کو وضع کرنے کے لئے اور ان پر سچائی کا ملمع چڑھانے کے لئے اصول موضوعہ وعلوم متعارفہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی لہذا ایک جامع وحادی فارمولا اختیار کیاگيا اور اپنی عادت وضرورت کے مطابق حسب رواج دوستور وہ بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے سر منڈھا گیا وہ آئندہ مقدمہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔