چار 4 یار
 

20

اخفائے فضائل
مقدمہ دوم:-
قرن اول میں کسی صحابی کے فضائل کا انحصار دوباتوں پر ہوتا تھا ۔اول ارشادات رسول (ص) جن میں فضائل کا ذکر ہو اور دوم خود صحابی کے سوانح حیات ۔
بر سر اقتدار طبقہ کی کوشش یہی رہی کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی اصحاب کے متعلق ان دونوں امور کو لوگوں کی یاد سے محو کردیا جائے سوانح حیات کے لئے تو آسان ترکیب تھی کہ ان کا ذکر ہی عام طور پر نہ کیا جائے اور لوگوں کو جاہ ہشم اور مال وزر کی جانب متوجہ رکھا جائے اور جو جو واقعات و صفات و اعزازات زیادہ فضل وفخر کے قابل تھے ان صفات میں حقیقی متصف لوگوں کے برخلاف اپنے من پسند لوگوں کا ظاہر کیا جائے ۔ہم خیال صحابہ کو دربار حکومت میں ترجیح دی جائے ۔ مثلا حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت وبہادری کے چرچے عام تھے یہ شہرت حکومت کی نظر میں کھٹکی اس صفت کے مقابلہ میں نئے ہیرو پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔لہذا ید اللہ و اسداللہ کی بجائے سیف اللہ تیار کرنی پڑی جرنیل رسول (ص) کو کسی جنگ میں شریک نہ کیا تاکہ ان کی صفت کرّاری وغیرفرّاری لوگوں کے سامنے نہ آئے ۔ اسی طرح دوسرا امر احادیث پیغمبر (ص) دربارہ فضائل ہے لہذا ان کی روک تھام کا مکمل بندوبست کیاگیا اس طرح کہ جبرا حکومت کی طاقت کے خوف سے اور باری انعامات کے لالچ سے لوگوں کو ایسی احادیث بیان کرنے سے روکا گیا جن میں مخالفین حکومت کے فضائل کا تذکرہ تھا ۔بلکہ ملکی قانون کے مطابق ایسی احادیث رسول کی

21
نشرواشاعت کو جرم قرار دیا گیا آج کی زبان میں پریس آرڈر ینیس سختی سے نافذ کیاگیا ۔حکومت کی یہ پابندی صرف احادیث فضائل ومناقب ہی کے لئے نہ تھی بلکہ اہل بیت رسول(ص) اور ان کے رفقاء کے سوانح وواقعات فضائل کاذکر کرنا بھی ممنوع تھا ۔اسی طرح ان احادیث فضائل کے مقابلہ میں ارکان حکومت اور ہم خیال صحابہ کے حق میں لاتعداد فرضی حدیثیں وضع کی گئیں اور اس وضعیت کی حوصلہ افزائی حکومت نے انعامات و اکرامات کی بارش کرنے کی حرص ولالچ دے دے کر ان کی خوب اشاعت کروائی۔
یہ سب کچھ اس وقت کی حکومت کادور اندیشانہ سیاسی کارنامہ تھا۔ حضرت عمر جن سے بڑا سیاستدان کوئی پیدا ہی نہیں ہوسکا یہ حکمت عملی ان ہی کی مر ہون منت تھی ۔ آپ نے اس سیاسی اصول کی ابتدا کی ۔ان کے بعد آنے والوں نے ان کے مقصد کو سمجھا اور اپنی کرسی اقتدار کو اس ہی مقصد کا محتاج پایا ۔لہذا ان ہی اصول وقواعد کی اپنے اپنے زمانہ وعہد کے مطابق تشکیل کرکے حضرت عمر کے نقش قدم پر چلنے کو اپنا فخر بلکہ باعث حیات سمجھا ۔آج بھی جب کبھی کسی حکومت کو اپنے مخالفین کی زبانیں بند کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ ذرائع ابلاغ عامہ پر کنٹرول کرنا ضروری سمجھتی ہے ۔
صدر اول کی اسلامی حکومت ۔عہد بنوامیہ اور زمانہ بنی عباس کا نصب العین ایک ہی تھا ۔ان کے اقتدار کا مدار ایک مشترکہ اصول پر تھا ۔حضرت ابو بکر کا مقابلہ حضرت علی علیہ السلام سے تھا ۔ اور حضرت عمر کے متعلق بھی حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عبداللہ ابن عمر نے کہا تھا کہ اگر تیرا باپ نہ ہوتا تو کوئی بھی میری مخالفت نہ کرتا ۔اسی طرح

22
حضرت عثمان بن عفان اور معاویہ بن سفیان کامقابلہ بھی حضرت علی علیہ السلام سے تھا ۔لہذا مخالفت علی علیہ السلام ان ساری حکومتوں کا جزو مشترک ہوا ۔یہی حال عباسیوں کا رہا ۔صرف حالات کے تقاضے بدلتے رہے مثلا حضرت عمر مجبور تھے اپنے گردوپیش کے حالات وواقعات کی وجہ سے لہذا انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کو ٹھکانے لگانے کی تجویز مجلس شوری کی پیچیدہ کاروائیوں کا سے خفیہ انداز میں بنائی لیکن جب (بقول محمود عباسی حضرت عمر کا پیروکار) یزید بن معاویہ تخت پر بیٹھا تو اس وقت حالات بہت بدک چکے تھے وہ علانیہ نواسہ رسول(ص) کو قتل کردینے کا حکم دے سکتا تھا ۔
یہی حالت احادیث کی تھی زمانہ معاویہ بن ابو سفیان میں لوگوں حالیں بدل چکی تھی اور عادتیں بھی تبدیل ہوگئی تھیں وہ مطلق العنان حاکم کی طرح یہ پورے ملک میں دے سکتا تھا کہ آل رسول(ص) اور ان کے شیعوں کے فضائل کی احادیث بیان نہ کی جائیں منبروں پر ان کو برا بھلا کہا جائے اصحاب ثلاثہ کے حق میں احادیث وضع کی جائیں لیکن حضرت عمر اس قسم کی دیدہ دلیری نہیں کرسکتے تھے ۔ ان کے زمانے کے حالات کے پیش نظر یہی سیاسی حکمت عملی تھی کہ بنیادی اصول وضع کردیا جائے چنانچہ اس ہی اصول کی بناء پر معاویہ نے اپنا حکم صادر کیا کیونکہ سیرت شیخین یہ تھی کہ حکومت کو چاہیئے کہ احادیث رسول(ص) قبضہ کرلے اور محض ان احادیث کی اشاعت کی اجازت دے جو حکومت کے حق میں مضر نہ ہوں اپنی مخالف احادیث کی ہر ممکن طریقے سے روکے بالکل اسی طرح جیسے آج کے زمانہ میں اخبار پر سنسر شب عائد کردی جادتی ہے ۔یا

23
حکومت پریس کنڑول کی تدبیریں سوچتی ہے اور ٹرسٹ بنا کر اپنی من پسند خبروں کوچھاپنے کی اجازت دیتی ہے ۔
بعد از رسول مسلمان حکمرانوں کا احادیث رسول(ص)کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا اور ان سے متعلق کس قسم کے احکامات جاری تھے یہ مشہور علامہ اہل سنتہ محمد الخضری کی زبانی سنئے جو انھوں نے اپنی کتاب "تاریخ التشریعی الاسلامی" میں ثبت فرمایا ہے ۔
"حافظ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ"میں مراسیل ابن ابی ملکیہ سے یہ روایت کی ہے کہ :رسول اللہ (ص) کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق نے ان لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم لوگ رسو ل اللہ صلعم سے ایسی حدیثیں روایت کرتے ہو جن میں تم لوگوں میں اختلاف ہوتا ہے ۔ اور تمھارے بعد جو لوگ ہوں گے ان میں اس سے بھی زیادہ اختلاف ہوگا ۔تم رسول اللہ صلعم سے کوئی حدیث روایت نہ کرو ۔ جو شخص تم سے سوال کرے اس سے کہو کہ ہمارے اور تمھارے درمیان خدا کی کتاب ہے اس کے حلال کئے ہوئے کو حلال اور اس کے حرام کئے ہوئے کو حرام سمجھو "
(تاریخ فقہ اسلامی مولوی عبدالسلام ندوی مطبع معارف دار المصنفین سلسلہ نمبر30-161)
حافظ ذہبی کابیان ہے کہ شعبہ و‏‏غیرہ نے بیان سے اور بیان نے شعبی سے او ر شعبی نے قرظہ بن کعب سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے جب ہم کو عراق کی طرف روانہ کیا تو ہمارے ساتھ خود بھی چلے اور فرمایا تم کو عراق کی طرف روانہ کیا ہمارے ساتھ خود بھی چلے اور فرمایا تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں تمھاری مشایعت کرتا ہوں ؟لوگوں نے کہا ہاں ہماری عزت افزائی کے لئے بولے اس کے ساتھ یہ بھی بات ہے کہ تم ایسی آبادی کے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو شہد کی مکھیوں کی

24
طرح گنگنا گنگنا کر قرآن پڑھتے ہیں تو احادیث کی روایت کرکے ان کی تلاوت قرآن میں روکاوٹ نہ پیدا کرنا صرف قرآن مجید پر بس کرو اور رسول اللہ سے روایت کم کرو ۔ اور اس میں بھی تمھارا شریک ہوں چنانچہ جب قرطہ آئے تو لوگوں نے رویت حدیث کی خواہش کی انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو حضرت عمر نے اس کی ممانعت کی ہے "
)کتاب مذکورہ اردو ترجمہ تاریخ التشریع السلامی ص 162)
ذرا داد دیجیئے کہ اس قدر دور اندیش سیاسی پالیسی ہے دو رو نزدیک کے علاقوں مسلمان پھیل رہے ہیں لشکر اسلامی آگے بڑھ رہے ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ حزب مخالف کے فضائل کی احادیث لوگوں میں پھیل جائیں اور لوگوں کو ان پر غور وفکر کرنے کا موقعہ حاصل ہوجائے حضرت عمر نے تین حضرات یعنی ابن مسعود، ابودرداءاور ابو مسعود انصاری کو محض اس وجہ سے قید کردیا تھا کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ حدیثیں بیان کردیں(فقہ اسلامی ص162)۔
اب آگے سنئے ۔
"ابن علیہ نے رجائن ابی سلمہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ ہم کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت امیر معاویہ کہا کرتے تھے کہ تم لوگ بھی حدیث کے ساتھ وہی طرز عمل اختیار کرو جو حضرت عمر کے زمانے میں جاری تھا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت حدیث کرنے کے متعلق لوگوں کو دھمکیاں دی تھیں ۔(کتاب مذکورہ 163)
اور سماعت فرمائیے کہ ۔
"حضرت عمر ابن الخطا ب نے احادیث کو لکھوانا اور اس

25
بارے میں اصحاب رسول اللہ(ص) سے مشورہ کیا تو عام صحابہ نے اس کا مشورہ دیا لیکن وہ ایک مہینہ تک خود متیقن طور پر اس معاملہ میں استخارہ کرتے رہے اس کے بعد ایک دن انھوں نے یقینی رائے قائم کرلی اور فرمایا کہ میں نے جیسا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے تم سے تحریر احادیث کاذکر کیا تھا پھر میں نے غور کیا تو معلوم کہ تم سے پہلے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں نس کتاب اللہ کے ساتھ اور کتابیں لکھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان ہی کتابوں میں مشغول ہوگئے اور کتاب اللہ چھوڑ دیا ( کتاب مذکورہ 163 ابن سعد نے اپنی طبقات میں بھی ایسی ہی روایت لکھی ہے )
ان منقولہ بالا عبارات سے ثابت ہو ا کہ احادیث رسول (ص) کے متعلق جو حضرت عمر کا رویہ تھا اس کو معاویہ نے پسند کیا اور اسی پر عمل کیا ۔ مولوی شبلی نعمانی کے مطابق حضرت ابو بکر نے پہلے احادیث جمع کرنے کا کام کیا او رتقریبا پانچو احادیث اکھٹی کرلیں مگر بعد میں وہ بھی حضرت عمر کے ہم خیال ہوگئے اور ان حدیثوں کو آگ میں جلا یا ۔الفاروق حصہ دوم )۔پس اب ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ معاویہ نے جم فضائل علی علیہ السلام و اہل بیت اطہار کی احادیث کو مٹانے اور حضرات ثلاثہ کے حق میں حدیثیں وضع کرانے کا رویہ اختیار کیا تھا وہ در اصل حضرت عمر ہی کی پیروی تھی ۔
یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ حضرات شیخین کا مقصد محض یہ

26
تھا کہ لوگ غلط سلط حدیثیں شائع نہ کریں نیز یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف فضائل اہل بیت(ع) اور شیعیان اہلبیت کی جو خبیرں تھیں ان کو بیان کرنے سے روکا اور پھر حضرت عمر کا گذشتہ امتوں کے حالات سے عبرت آموز نتیجہ نکالنا ہر طرح معقول ہے لہذا بہتر ہے کہ ان اعتراض پر بھی مختصرا گفتگو کرلی جائے ۔ چنانچہ وکلاء عمر نے کہا ہے کہ

خوف غلطی:-
حضرت عمر نے احادیث کی اشاعت کو اس لئے روکا کہ خوف تھا کہ لوگ جھوٹی احادیث نہ مشہور کردیں جبکہ ہم اس عذر کے تحت حضرت عمر کو طرز عمل دیکھتے ہیں تو یہ خدشہ ان کے ذہن کی سوچ اور عمل و کردار کے مطابق قرار نہیں پاتا ہے میں سب سے پہلے تو یہ کہتا ہوں کہ سارے صحابی عادل تھے تو پھر حضرت عمر نے ثقایت اصحاب پر عدم اعتماد کرتے ہوئے ایسا کیوں سوچ لیا ۔ یا حضرت عمر کی نظر میں حلقہ اصحاب میں بعض لوگ نا قابل اعتبار تھے یا پھر حدیث نجوم کو بعد میں وضع کیا گیا ہے ۔ بہر صورت یہ بات غور طلب ہے کہ اگر محض غلطی کا خوف تھا تو اس کا علاج بڑی آسانی سے کیا جاسکتا تھا کیونکہ رسول (ص) کی وفات کو زیادہ عرصہ نہیں بیتا تھا ۔تمام صحابہ موجود تھے جنھوں نے خود اپنے کانوں سے ارشاد ات رسول سنے تھے اور اپنے ذہن میں محفوظ کرلئے تھے حضرت عمر کسی بھی مقتدر صحابی کی سربراہی میں ایک مخصوص جماعت صحابہ کے سپرد یہ کام کردیتے جو صحیح احادیث رسول جمع کرنے کی ذمہ داری ہو تی ۔جو کام انتقال رسول کے ڈیڑھ سو سال بعد شروع ہوا اسی وقت شروع ہو جاتا اور آیندہ کے تمام جھگڑے وہیں پر ختم ہو جاتے ۔

27
آخر قرآن شریف بھی تو لوگوں کے سینوں ہی سے نکال کر جمع کیا گیا تھا ۔ اسی وجہ سے تدوین حدیث کا کام بھی بڑی عمدگی سے ہو سکتا تھا جبکہ تمام امت کا اجماع بھی اس بات پر تھا جیسا کہ آپ نے اوپر والے بیان میں ملاحظہ فرمایا ہے کہ اصحاب احادیث رسول(ص) کو جمع کرنے کے حق میں تھے مگر حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف ہوئی خود اس مسئلہ میں حضرت عمر نے اجماع امت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ایک مہینے کے استخاروں پر عمل کیا ۔ اور نہایت ضروری امر شریعت میں اپنی اکیلی رائے کو مسلط کرکے جمہوریت کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ۔

ترک حدیث اخفائے فضائل مخالفین کے لئے نہ تھا :-
کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر کا یہ طرز عمل اہل بیت اور ان کے متبعین کے فضائل و مناقب کو چھپانے کے لئے نہ تھا بلکہ ہر طرح کے حدیثوں سے ان کا برتاؤ یکسان تھا ۔
لیکن جب ہم تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ قیاس بے بنیاد ثابت ہو تا ہے کیونکہ حضرت عمر دیگر احادیث کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے بلکہ مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن شریف میں کسی تنازعہ کا جواب نہ پاتے تھے تو لوگوں سے احادیث رسول پوچھا کرتے تھے جب حضرت عمر کا آخری وقت قریب ہوا تو آب کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا خیال ہو ا ۔ معاذ بن جبل ، خالد بن ولید ،ابو عبیدہ بن جراح اور سالم غلام کے فضائل حضور کی احادیث سے مستبنظ کرتے تھے کہ فلان کو "امین امت" فلاں کو سیف اللہ اور فلاں کو عالم آنحضرت (ص) نے کہا تھا ۔حضرت علی علیہ السلام کے ومتعلق جو

28
احادیث رسول (ص) تھی وہ یک دم فراموش کردی تھیں گویا ان کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے ان کو چھپا نے میں بہتر مصلحت سمجھتے تھے ۔مولوی عبد السلام ندوی نے ایک بڑی پر معنی بات نقل کی ہے کہ خوارج کا ذکر کرتے ہوئے مولوں صاحب لکھتے ہیں کہ "یہ لوگ (خوارج )صرف قرآن کے ظاہری معنی لیتے تھے اور حدیثوں میں صرف ان ہی آحادیث کو قبول کرتے جن کی روایت ان لوگوں نے کی تھی جن کو یہ لوگ دوست رکھتے تھے ۔چنانچہ ان کی قابل اعتماد حدیثیں صرف وہ تھیں جنکی روایت شیخین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے دور خلافت میں کی گئی تھی" ۔
(تاریخ فقہ اسلامی ص 239)
خوارج حضرت علی علیہ السلام کے تو سخت دشمن تھے ۔فضائل علی علیہ السلام کی احادیث تو ان کے لئے قابل اعتماد ہو نہیں سکتی تھیں اور ان کے لئے وہی حدیثیں قابل اعتبار تھیں جو دور ابو بکر و عمر میں تھیں پس خوارج کے اس طرز عمل سے ثابت ہوگیا کہ حضرت ابو بکر وعمر کے زمانہ حکومت میں حضرت علی اور ان کے دوستوں کے فضائل کی احادیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی اس نقش قدم پر معاویہ چلا بہر حال لگے ہاتھوں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زمانہ شیخین میں حدیث کے روایت کرنے والے خارجیوں کے دوست تھے ۔اور مثل خوارج حضرت علی علیہ السلام کے مخالف تھے ۔

گزشتہ امتوں کی غلط مثال :-
حضرت عمر کا یہ عذر کہ امم سابق کی طرح مسلمان بھی کتاب خدا کو چھوڑ کر دوسری لکھی ہوئی کتابون کی طرف رجوع کریں گے نہ ہی تاریخ سے ثابت ہے اور

29
نہ ہی مذہبی روایات سے ۔ قرآن مجید سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف کی تھی مگر کسی ایسی کتاب کا ذکر نہیں ملتا ہے جو انھوں نے لکھی ہو ۔ اور توریت ، زبور ، اور انجیل کے مقابلہ میں رکھ کر اس کی طرف رجوع کی ہو ۔ اور پھر زمانہ اصحاب میں تو یہ عذر بالکل بے معنی ہے کہ ارشادات رسول (ص) عین مطابق قرآن ہیں ۔ اس کے معارض نہیں پھر احادیث کی طرف رجوع کرنا قرآن مجید سے اعراض کرنے کے مترادف کیسے ہو سکتا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ انکار حدیث کو حضرت عمر فقہ کی رو سے غلط نہ سمجھتے تھے انھیں اس بات کا ضرور احساس تھا کہ ہم محتاج سنت رسول (ص) ہیں یہی وجہ ہے کہ جب آخری وقت آپ نے شوری کمیٹی تشکیل دی تو سنت رسول (ص) کی پیروی کرنے کی شرط کو نظر انداز نہ کرسکے ۔ مگر اس کو سیرت شیخین سے مشروط کردیا اصل میں یہ انکار ایک خاص سیاسی مقصد کی خاطر تھا لیکن کچھ ہی عرصہ میں تدوین حدیث میں مشغول ہوگئے اور انھیں حضرت عمر کی غلطی کا احساس ہوگیا ۔مداحان حضرت عمر بھی دبی زبان میں ان کی غلطی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے جیسے مولوی عبد السلام ندوی رقمطرز ہیں ۔
"اگر چہ اس دور میں حدیثوں کی بھی بکثرت روایت کی جاتی تھی اور تابعین کا ایک گروہ صرف اسی کام میں لگا ہو ا تھا تا ہم وہ اب تک کسی مجموعہ کی صورت میں مدون نہیں ہوئی تھیں لیکن چونکہ تمام لوگ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن مجید کی وضاحت کرکے حدیثیں فقہ کی ---کرتی ہیں اور عام مسلمانوں میں کوئی اس رائے کا مخالف نہ تھا اس لئے عقلا یہ حالت دیر تک قائم نہ رہ سکتی تھی چنانچہ

30
دوسری صدی ہجری کے آغاز میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کمی کو محسوس کیا اور اپنے عامل مدینہ حضرت ابو بکر بن محمد بن حزم لکھا کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی جو حدیثیں ملیں ان کو لکھیں کیونکہ مجھ کو علم اور علماء کے فنا ہوجانے کا خوف ہے "(تاریخ فقہ اسلامی ص 214)
لہذا احادیث پر بہت سی کتابیں مرتب کر لی گئیں ۔حنفی فقہ کا تو یہ جزو اعظم ہے ۔ صحاح ستہ مشہور ہیں ۔اس بات سے فقط یہی نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ ہر مسلمان مع حضرت عمر یہ سمجھتا تھا کہ احادیث دین کے لئے بہت ضروری ہیں ۔ ان کے بغیر فقہ نا مکمل رہتی ہے ۔مخالفین حدیث کا منشاء محض یہ تھا کہ حضرت علی و اہلبیت اطہار علیھم السلام اور ان کے دوستوں کے فضائل کی حدیثوں کو پردہ اخفاء میں رکھا جائے ۔ اسی بات پر عمل ان کے مقلدین نے بھی کیا اور ایسی احادیث فضائل ومناقب کو جس قدر ممکن ہو سکتا تھا چھپایا گیا جبکہ باقی احادیث کی اشاعت سے تعرض نہ کیا گیا حضرت عمر نے جو بات مخصوص اشاروں میں کہی تھی معاویہ نے کھلم کھلا اس کا اظہار کردیا ۔ اور حکم جاری کیا کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کے بارے میں حدیثیں بیان نہ کی جائیں اور حضرات ثلاثہ کے حق میں احادیث وضع کی جائیں ۔آنحضرت (ص) کے زمانہ کے قریب یہ جراءت نہ ہوسکتی تھی اور اگر فضائل ثلاثہ کی مروجہ احادیث کا وجود زمانہ رسالت میں ہوتا تو بوقت سقیفہ یا شوری ان فضائل کا اظہار ضرور کیا جاتا ۔ ان دونوں اہم مواقع پر ایسی حدیثوں کا بیان نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ احادیث اس وقت

31
وضع نہ ہوئی تھیں۔اب ہم چند شواہد اس کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضرت علی اور ان کے حامی افراد کے نام کو مٹانے کے لئے کیسی مذموم کوشش کی گئی ان حضرات کی توصیف وتعریف میں وارد احادیث کو کیسے ضائع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور کس طرح حضرات ابوبکر ،عمر ،عثمان اور ان کے ہم خیال لوگوں کے حق میں جعلی احادیث سازی کا کام شروع ہوا ۔

احادیث فضائل علی علیہ السلام اور شیعیان علی کی تضییع اور توصیف حضرات ثلاثہ کی وضعیت :
سنی معتزلی علامہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں جو واقعات نقل کئے ہیں ان سے یہ بات مکمل طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے رفقاء کی شان میں بیان کردہ احادیث رسول (ص) کی اشاعت پر کڑی پابندی لگادی گئی اور اس کے برعکس اصحاب ثلاثہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کی شان میں من گھڑت حدیثوں کی خوب مشہوری کی گئی ۔
"ابو الحسن علی بن محمد ابی سیف المدائنی نے کتاب الاحادیث میں روایت کی ہے کہ معاویہ نے مضمون واحد کے حکم نامے امام حسن علیہ السلام کے بعد اپنے تمام عمّال کے پاس بھیجے جن میں اس نے تحریر کیا کہ میں بری الذمہ ہوں ۔لہذا ہر طبقہ و سرزمین میں ہر منبر پر خطیب کھڑے ہوگئے جو حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرتے تھے ان سے تبّراء چاہتے تھے اور اہل بیت علیھم السلام کی مذمت کرتے تھے اس مصیبت میں سب سے

32
زیادہ اہل کوفہ گرفتار تھے کیونکہ وہاں شیعیان علی بہت تھے لہذا معاویہ نے کوفہ پر زیاد بن سمیّہ کو حاکم مقرر کردیا اور بصرہ بھی اس کے ساتھ ملا دیا وہ شیعوں کو جہاں بھی وہ ہوتے تھے نکال لاتا تھا وہ ان سے واقف تھا کیونکہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں ان کے ساتھ تھا لہذا ایک پتھر وکنکر کے نیچے سے شیعوں کو تلاش کرکے اس نے قتل کیا ۔دھمکیاں دیں ۔ان کے ہاتھ پیر کاٹے ۔آنکھیں نکال ڈالیں ۔درختوں کی شاخوں میں سولی پر لٹکا دیا اور بہتوں کو عراق سے جلاوطن کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراق میں کوئی بھی شیعہ جس سے وہ واقف تھا نہ رہا ۔اور معاویہ نے کل اطراف میں اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ علی و اہلبیت کی گواہی جائز نہ رکھو ۔اور اپنے عاملوں کو لکھا کہ عثمان کے پیروکاروں ،دوست داروں اور اہل واولاد پر مہربانی کرو۔ جو عثمان کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہیں ان کی جائے نشست اپنے قریب قرار دو اور ان لوگوں کو اپنا ہم نشین بناؤ ان کی بزرگی کرو اور ان کی بیان کردہ روایات و احادیث مجھے لکھو ۔ اور بیان کرنے والے کا نام اور اس کے باپ کا نام قبیلے کا نام لکھو ۔پس عمال نے ایسا ہی عمل کیا یہاں تک کہ عثمان کے فضائل و مناقب کی ان لوگوں نے کثرت کردی کیونکہ معاویہ ان لوگوں کو صلہ بھیجتا تھا باغات و زمینیں اور عمدہ لباس وغیرہ اور ان حدیثوں کو شایع کرتا تھا سارے عرب میں ۔اور عثمان کے دوستوں کے پاس بھیجتا تھا ۔پھر ہر شہر میں اس کی کثرت ہوئی اور لوگ دنیا اور وجاہت دنیا کی طرف مائل ہوگئے ۔پس معاویہ کے عمّال

33
میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جھوٹی احادیث لاوے مگر یہ کہ ہر ایک عثمان کے حق میں فضیلت ومنقبت کی جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا نام معاویہ لکھ لیتا تھا اور اس کو مقرب بنالیتا تھا اس کی سفارش قبول کرلیتا تھا ۔پس اس طرح ایک زمانہ گزر گیا ۔پھر معاویہ نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ بتحقیق حضرت عثمان کے حق میں حدیثیں بہت کثرت سے ہوگئی ہیں اور ہر شہر اور ہر طرف اور ہر گوشہ میں پھیل گئی ہیں لہذا جس وقت میرا یہ خط تمھیں ملے تم لوگوں کو فورا مخصوص صحابہ اور خلفائے اولین کے فضائل بیان کرنے پر مائل کرو۔اور اگرتم کوئی حدیث ابو تراب کے حق میں سنو تو ویسی ہی او راس کے مثل ونظیر دوسری حدیث"الصحابہ" کے حق میں بنا کر مجھے دو ۔پس بلاشبہ یہ امر مجھے بہت محبوب تر ہے اور میری آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والا ہے اور ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیل کو توڑنے والا ہے ۔اور ان لوگوں (شیعوں )کو فضائل عثمان سخت تر معلوم ہوں گے ۔ معاویہ کے یہ خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے ۔پس مخصوص صحابہ کی تعریف میں بہت ساری جھوٹی حدیثیں گھڑ کر بیان کی گئیں جن کی کوئی حقیقت نہ تھی اور لوگوں نے ا س قسم کی خبریں بیان کرنے میں کوشش کی یہاں تک کہ یہ جعلی احادیث منبروں پر مشتہر کی گئیں اور یہ موضوعہ حدیثیں مدرسوں کے استادوں کی دی گئیں اور انھوں نے اپنے شاگردوں ،طالب علموں اور لڑکوں کو سکھا یا اور تعلیم دی جس طرح قرآن سیکھتے ہیں ۔یہاں تک کہ معلموں نے اپنے گھروں کی عورتوں ،بچیوں اور ملازموں کو بھی سکھایا

34
بس اسی حال میں لوگوں نے بسر کی پھر معاویہ نے ایک ہی مضمون کا پروانہ اپنے گورنروں کو سب شہروں میں با ایں مضمون لکھا کہ تم لوگ جس شخص کی نسبت گواہی سے ثابت ہو کہ وہ شخص علی واہلبیت کو دوست رکھتا ہے بس اس کا نام دفتر سے مٹا دو اوراس کا رزق بند کردو جو اس کو ملتا ہے وہ روک لو۔ اس حکم کی تائید میں پروانہ ثانی میں لکھا کہ جس شخص کے اوپر محب علی واہلبیت کا اتہام تمھارے نزدیک ثابت ہو جائے تو اس پر اس کے گھر کو گرادو اور اس قوم سے محبت کرنے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو۔زیادہ تر یہ بلا عراق خصوصا کوفہ میں تھی تاکہ اینکہ اگر کوئی شخص شیعہ علی اس شخص کے پاس آتا تھا جس پر وہ بھروسہ کرتا تھا تو وہ داخل خانہ ہوتا اور اپنا راز اس سے کہتا تھا اور اس کے خادم وغلام سے ڈرتا تھا اور اس سے بھی کوئی بات نہ کرتا تھا جب تک کہ سخت قسم کا اور پکا حلف اس سے رازپوشیدہ رکھنے کا نہ لیتا تھا ۔پس بہت سی خود ساختہ احادیث حق صحابہ میں ظاہر ہوئیں اور بہت سی بہتان پھیلانے والی احادیث برخلاف حضرت علی علیہ السلام شائع ہوئیں اور اس ہی روش پر سب فقہا قاضی اور حکام چلے سب سے زیادہ اس روش پر چلنے والے قاریان ،ریا کنندگان مستضعفین تھے جو اظہار خشوع خضوع وعبادت کرتے تھے پھر وہ جھوٹی حدیثیں بناتھے تاکہ ان کے سبب سے اپنے والیان ملک کے نزدیک بہرہ مند ہوں اور پاس بیٹھنے کاقرب حاصل کریں۔اور بسبب تقرب کے مال و جائیداد ومکانات ان کو حاصل ہوں ۔یہاں تک کہ یہ خبریں اور احادیث ان دین داروں کے ہاتھ میں منتقل ہوئیں جو جھوٹ کو حلال نہیں جانتے تھے اور سچاگمان کرکے

35
قبول کرتے تھے اور اگر وہ جانتے کہ یہ احادیث جھوٹی ہیں تو ان کوروایت نہ کرتے اور نہ اس راہ پر چلتے پس یہ امر اسی طرح پر رہا ۔یہاں تک کہ امام حسن ابن علی نے وفات پائی پھر یہ فساد وبلا اور زیادہ ہوئے یہاں تک کہ کوئی شخص اس قسم کا باقی نہیں رہا مگر یہ کہ ڈرتا تھا اپنے قتل سے یا جلاوطن ہونے سے (اس کے بعد زمانہ عبد الملک وحجاج بن یوسف میں زیادہ ہوگئی)اور تحقیق روایت کی اپنی تاریخ میں ابن عرفہ نفطویہ نے جو بہت بڑے محدثین میں سے ہیں وہ خبر جو اس خبر کی تصدیق کرتی ہے کہا ابن عرفہ نے کہ بہت احادیث موضوعہ فضائل صحابہ وخلفائے ثلاثہ میں بنائی گئی ہیں زمانہ بنوامیہ تاکہ ان کے ذریعے نزدیکی وتقرب حاصل کیا جائے کیونکہ بنوامیہ گمان کرتے تھے کہ وہ ان احادیث موضوعہ کے ذریعے سے بنوہاشم کی ناک مروڑرہے ہیں ۔
(شرح نہج البلاغہ علامہ ابن ابی الحدید معتزلی ج 3 ص15 -16 تشریح خطبہ "ان فی ابدی الناس حقا وباطلا)۔
اس کے بعد مزید کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے ۔یہ ایک معجزہ خداوندی ہے کہ ایسے حالات وواقعات کے باوجود فضائل علویہ اور منقبت شیعیان علی کتب مخالفین میں موجود ہیں ۔بیشک اللہ قدرت کا ملہ رکھتا ہے کہ اس نے موسی کو فرعون ہی کی گود میں پروان چڑھا دیا تھا اور خدا کے نور کو پھونکوں سے بجھایا نہیں جا سکتا ہے ۔
غرضیکہ بہت اچھی طرح ثابت ہوگیا کہ جماعت اہل حکومت

36
نے فضائل صحابہ وخلفائے اولین کی تائید میں کثرت سے جھوٹی حدیثیں وضع کیں اور کرائیں اور اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی کہ فضائل علی واہلبیت علیھم السلام و شیعیان شائع ومشہور نہ ہوں ان ہی اصول کو مد نظر رکھ کر تدوین و تالیف کتب احادیث کے زمانہ تک معاویہ اور اس سے قبل کی موضوعہ احادیث کے زمانہ تک معاویہ اور اس سے قبل کی موضوعہ احادیث کے زما امتداد زمانہ کے باعث لوگوں کی نظروں میں صحیح معلوم ہونے لگی تھیں کیونکہ جھوٹ کا مسلسل تکرار بعض اوقات سچ سمجھا جاتا ہے ۔
حقوق و فضائل اہلبیت کے چھپانے کی حکومتی کوششیں آپ نے ملاحظہ کرلیں اور یہ ضرورت بر سر اقتدار جماعت کو صرف اس لئے پیش آئی کہ عدم استخلاف کے عقیدہ کی ضرورت حکومت کو اپنے قیام وحیات کے لئے درکار ک تھی ۔لہذا اس غلط اعتقاد کی اشاعت نہ صرف عمدا اور قصدا کی کی گئی بلکہ طاقت وجبر اور ظلم وتعدی سے اسے رواج دیا گیا یہاں تک کہ یہ عقیدہ لوگوں کے تن من میں رچ گیا اور آئندہ نسلوں نے اسی عقیدے ہی کی تعلیم پائی ۔جس کے نتیجے میں ایک خام خیال ان کے مذہب میں داخل ہوگیا اور یہی نہیں کہ اب وہ اسے غلطی سمجھنا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کے سچا ہونے پر ان کا ایسا ہی ایمان ہے جیسا قرآن پر ۔لیکن باوجود ان سب باتوں کے پھر بھی ذکر علی وفضائل حیدر کرار زندہ وپائندہ ہیں ۔اور ان کے مخالفین کی زبانوں پر بغیر ان کی مرضی و ارادہ کے وقتا فوقتا جاری ہو کر رہتے ہیں کیونکہ خداوند تعالی نے وعدہ فرمایا ہے کہ
"انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون"

*****