چار 4 یار
 

15

چار یار رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
" عن ابن بریدۃ عن ابیہ قال "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اللہ امرنی یحب اربعۃ و اخبر نی انہ یحبھم قیل یا رسول اللہ اسمعھم لنا قال علی منھم ،یقول ذالک ثلا ثۃ و ابوذر و المقداد و سلمان و امرنی احبھم و اخبرنی انہ یحبھم "
(جامع ترمذی جلد دوم ص 574 مطبوعہ :نو لکشور پریس لکھنؤ)
"حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اللہ تعالی نے مجھے چار شخصوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ میں (اللہ) بھی ان( چاروں ) کو دوست رکھتا ہوں ۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ان کے نام ہم کو بتا ئیں (رسول اللہ(ص)نے) فرمایا ،"علی ان میں سے ہے "۔اور آپ نے یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اور حضرت ابوذر (غفاری) حضرت مقداد (بن اسود)اور حضرت سلمان( فارسی) اور حضور نے مجھے (روای کو) ان کی محبت کو حکم دیا ہے ۔اور خبر دی ہے کہ میں بھی(حضور(ص)) ان کو اپنا یار رکھتا ہوں "
حدیث منقولہ بالا میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چار یاروں کا تعارف اس جامع انداز میں کروایا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی فضیلت نہیں ہوسکتی جو کسی غیر معصوم ہستی کو نصیب ہو سکے کہ اللہ تعالی نے ان چاربزرگواروں کی محبت کا حکم صادر فرمایا ہے اور ان کو اپنا دوست قرار دیا ہے اور رسول (ص) کو بھی تاکید فرمائی ہے کہ وہ ان کو اپنا یار بنا ئے رکھے ۔

16
مقام افسوس ہے کہ ایسے عظیم مرتبت اصحاب رسول کے فضائل و مناقب کو اتنے پردوں میں ڈھانپا جا چکا ہے کہ عام مسلمان ان یا ران خدا و رسول(ص) کے اسماء مبارکہ سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ ان کے کمالات و اعزازات کا اخفاء نہایت گھناؤ نی محلاتی سازش کے تحت ضروری ہوا اور ایسے ایسے بندوبست کئے گئے کہ ان نجوم ہدایت کی روشنی ماند پڑ جائے مگر باوجود لاکھ حیلہ جوئی کے مخالفین کی تمام تدابیر الٹی ہو گئیں اور ان جلیل القدر اصحاب رسول (ص) کے قدموں کے نشانات کی پیروی کے بغیر راہ ہدایت نصیب نہ ہو سکی ۔ ہم مسرور ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں تو فیق عطا فرما ئی کہ یاران خدا و رسول (ص) کی درگا ہوں میں نذرا نہ عقیدت پیش کرسکیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ان مقتدر نفوس کی تعریف و توصیف ہم جیسے ناقص بندوں بس کی بات نہیں ہے جبکہ ان گرامی قدر حضرات کی مدح سرائی خداوند قدوس نے اپنے کلام پلاک میں فرمائی اور رسول مقدس نے ان کے تقدس کی قصیدہ خوانی اپنی احادیث پاک کے ذریعے فرمائی ۔ ائمہ طاہرین نے اپنی زبان مطہر سے ان متبرک ہستیوں سے محبت وعقیدت رکھنے کی تائید کی ۔تاہم حصول ثواب کی خاطر ہم ان برگزیدہ محبوبان خدا ورسول (ص) کے ساتھ اپنی عقیدت کے جذبات کا اظہار کرنے میں دلی مسرت اور قلبی فرحت محسوس کر رہے ہیں ۔اور یقین واثق رکھتے ہیں کہ ہماری یہ ادنی سی خدمت مقبول ہوگی ۔
قبل اس کے ہم یاران رسول (ص) کے مناقب نقل کریں ضروری خیال کرتے ہیں کہ چند مقدمات پیش کریں جن میں ان مسائل کا تصفیہ ہوجائے کہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بلند پایہ ہستیوں کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جس کا یہ استحقاق محفوظ رکھتے ہیں اور ان کے غیروں کو ان پر

17
فوقیت کیوں دی جانے لگی ہے ۔ اس بات کا سبب کیا تھا کہ زمانہ رسول(ص) میں ان اصحاب باوفا کو جو مقامات عالیہ نصیب تھے بعد میں ان کی قدر نہ کی گئی ۔ امت حمیدہ کے ان درخشیدہ ستاروں کی روشنی کے مدھم پڑجانے کا باعث کیا ہوا ۔ اور کیوں بے جرم وخطا ان یاران رسول (ص) سے بے اعتنائی کا سلوک کیا گیا چونکہ اس قسم کے سوالات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اس لئے ان پر حسب استطا عت گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

مقدمہ:-
اگر ہم تاریخ عالم کا مطالعہ باریک بینی سے کریں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تمام عظیم الشان مدبّر ین سلطنت کی سیاست کے دو مشترکہ اصول اساسی تھے ۔ جو ان کامیابی کے راز تھے پہلا یہ کہ " اپنے مقاصد کے حصول کی خا طر ہر ایک امر ما سوا کی طرف سے مطلقا بے تو جہی اختیار کرکے اس کو قطعا نظر انداز کردینا ۔"
مذہب اور محبت دوبڑی طاقتیں ہیں لیکن ان فرماں رواؤں نے ان طاقتوں کو بھی مفلوج بنا کر اپنا سکہ جمایا ۔ دوسرا کہ " اپنے ارادہ اور دلی راز کو اس طرح خفیہ رکھنا ، کہ عوام الناس کو اس کی بھنک بھی نہ لگ ۔اگر ایمانداررانہ رائے قائم کی جائے تو میرے خیال میں کمال سلطنت اسلامیہ کے پہلے بادشاہوں ہوں خصوصا حضرت عمر بن خطاب کو اس ہنر میں حاصل ہو ا دنیا کے کسی بھی حکمران کو نصیب نہ ہو سکا ۔حتی کہ آج کے مغربی سیاستدان بھی اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتے ۔ جب ہم فاروق اعظم اہل سنتہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ساری عمر اس مقصد کے حاصل کرنے میں گزاردی ۔مرتے مرگئے مگر سوائے چند مقرب افراد کے انھوں نے عوام الناس پر اپنا مقصد ظاہر نہ ہونے دیا ۔ یہ بلا شبہ دینون سیاست اور طرز جہاں بانی کا آخری درجہ کمال ہے حضرت عمر کو جن لوگوں سے سیاسی اختلاف

18
بھی ہوتا تھا آپ ظاہری طور پر ان سے خبر خیر خواہی کا دم بھرتے تھے ۔مثلا حضرت علی علیہ السلام سے ان کو مسئلہ خلافت میں اتفاق نہ تھا پھر بھی وہ ان کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے آپ کی اس عاقلانہ سیاست کا پتہ اس واقعہ سے چلتا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت عمر کو حضرت علی علیہ السلام کی عزت وتوقیر کرتے دیکھ کر پوچھ لیا کہ آپ (عمر) جتنی تعظیم و تکریم علی ابن ابی طالب علیھما السلام کی کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے ؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ کیوں نہ کروں کیوں کہ وہ تو میرا بھی مو لا ہے ۔اور تمام مومنین و مومنات کا مولا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب ن ےکس خوبی ہے یہ تاثر پیش کردیا کہ غدیر خم والی جو روایت لوگوں میں چل رہی ہے وہ کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں فقط اتنا ہے کہ علی مولا ہے ۔اور مولا کے معنی حاکم نہیں ۔حاکم میں ہوں ،مولا علی ہے ۔
لاکھ جتن کرلو ۔ہزاروں کتابیں لکھ ڈالو مگر وہ اثر نہ ہوگا جو جناب ابن خطاب کے اس ایک جملہ سے ہوگیا
۔اگر حضرت عمر اس پر علمی کرنا شروع کرتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اب تخت پر قابض ہو کر الٹی سیدھی تاویلوں پر اتر آئے ہیں ۔مگر ان کے اس طرز عمل اور اس کی تشریح سے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر ہوا ان کو معلوم ہو ا کہ ایک آدمی مولا وآقا بھی ہو سکتا ہے ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو عمر جو علی علیہ السلام کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ایک لمحے کے لئے بھی علی علیہ السلام کی موجودگی میں مسند حکومت پر نہ بیٹھتے ۔اس ظاہری تعظیم و تکریم کی ایک اور سیاسی وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ابھی وہ وقت نہ آیا تھا کہ ہر وقت و ہر طرح علی علیہ السلا م کی توہین ہو سکے ۔دعوی فدک کے باعث عوام میں ہیجان پیدا ہوگیا تھا لہذا سیاسی تدبر ایسے حالات میں دو تقاضے کرتا تھا یا تو قیر فریق مخالف کا کا م کردیا جائے یا پھر اظاہری وضعداری حسن وخوبی سے

19
جاری رکھی جائے ۔کیونکہ اگر زیادہ تنگ کیا جاتا تو نتیجہ "تنگ آمد بہ جنگ آمد" کا احتمال تھا پھر حضرت علی علیہ السلام صاحب رسوخ بھی تو تھے لہذا حضرت علی علیہ السلام کی لوگوں میں عزت ووقعت کا لحاظ رکھنا ضروری تھا مگر جس خوبصورت سیا سی انداز سے آئندہ چشم پو شی کی گئی وہ سیاستدانوں سے داد تحسین حاصل کئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔اصحاب ثلاثہ کی سیاست ایک ہی تھی ایک کی کمی دوسرا پوری کردیتا تھا ۔اور اس بحث کا محل اس کتاب میں موجود نہیں ہے ،ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ محض حصول استحکام اقتدار کے لئے یہ تدبیر بروئے کا لائی گئ کہ حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی اقدار کو پامال کیا جائے ۔عوام الناس کے دلوں سے ان کی محبت اورعقیدت ختم کردی جائے اس کوشش میں علاوہ دیگر ترکیب کے ایک یہ بڑی موثر وکارگر تدبیر آزمائی گئی کہ وہ قرآنی آیات جو حضرات اہل بیت علیھم السلام اور شیعیان اہل بیت کے حق میں نازل ہوئیں ان کی من گھڑت تاویلیں اور خود ساختہ تفاسیر مرتب کی گئیں اور بڑے محتاط طریقہ سے ان کا اجرا کیا گیا ۔فضائل ومناقب کی احادیث کی اشاعت کو ممنوع قرار دیا گیا اور بارگاہ رسالت سے عطا شدہ القابات کو غیر مستحق افراد کے حق میں غصب کرلیا گیا ۔صاحبان اقتدار کی شان میں جھوٹی احادیث وضع کی گئیں اور ان کی نشر واشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اس تدبیر سے یہ فائدہ ہو ا کہ لوگ حقیقی بزرگوں کی معرفت سے بے بہرہ رہے اور بادشاہوں یا ان کے حواریوں کے گن گانے لگے اور مخالفین حکومت مورد عتاب شاہی قرار پائے ان کو اس قدر گم نام بنادیا گیا کہ آج لوگوں کی بعض ممتاز اصحاب رسول (ص) کے ناموں سے بھی واقفیت نہیں ہے ۔