نام کتاب : چار 4 یار
مؤلفہ: عبد الکریم مشتاق

ای بک کپوزنگ :حافظی
نیٹ ورک: شبکہ امامین حسنین علیھما السلام

2

معنون
میں بندہ حقیر ،شرمندہ وعاجز پر تقصیر اپنی یہ ادنی خدمت یاران رسول حضرت علی علیہ السلام ،ابو ذر غفاری ،مقداد،اور مولی رسول سلمان الفارسی رضی اللہ عنھم کے اسماء مبارکہ سے معنون کرتا ہوں اور ان حقیقی چار یاروں کے وسیلے سے بارگاہ رب العالمین میں ملتجی ہوں کہ وہ تمام مسلمانوں میں سچی محبت ،یقین محکم ۔باہمی ۔اتحاد اور قرآنی نظم وضبط پیداکرے (آمین)

احقر العباد
عبد الکریم مشتاق
5

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔
اللہ سبحانہ تعالی نے قرآن مجید میں تمام اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ "یا ایھا الّذین آمنوا لا تتو لّوا قوما غضب اللہ علیھم ۔۔الخ" اے ایما ن والو جن لوگوں پر خدا نے غضب ڈھایا ہے ان سے محبت مت رکھو ۔(سورہ الممتحنہ پارہ نمبر 28 آیت 13)
ہم شیعہ اثنا عشریہ پر یہ یہ عرصہ دراز سے الزام بے بنیاد عائد کیا جارہا ہے کہ شیعہ صحابہ کو براجانتے ہیں، معاذاللہ ان کو گالیاں دیتے ہیں ،حالانکہ آج تک مخالفین اپنے اس دعوی کو ثابت نہ کرسکے کیونکہ بحمد اللہ وبعونہ ہم تمام نیک وعدل پسند وفقاء رسول (ص) کو نہ صرف عقیدۃ بزرگ مانتے ہیں بلکہ ان کو ہدایت کا نشان تسلیم کرتے ہیں ۔البتہ ہم ان حضرات سے سے محبت نہیں رکھتے جو مغضوب خدا قرار پائے اور ہمارا یہ مختار قرآن حکیم کی نص جلی کی متابعت میں ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیت وافی ہدایت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے ۔
ہمارا مذہب یہ ہے کہ صحابی کے دومعانی ہیں یعنی ایک تعریف عام کہ جو کوئی بھی صحبت رسول خدا(ص) میں پہنچا وہ صحابی ہے اور دوسری تعریف خاص ہے کہ جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور حالت ایمان میں دنیا سے رخصت ہوا ۔

6
اسی مؤخر الذکر تعریف کو ملحوظ رکھتے ہوئے اہل تشیع اصحاب رسول (رض) کو محترم و معظم تسلیم کرتے ہیں ۔قرآن مجید میں ان ہی رفقاء (رض) پیغمبر (ص) کی تعریف ایمان اور مدح اعمال صالحہ بیان ہوئی ہیں ۔ اسی طرح اور الذکر اشخاص کی مذمت (نفاق و کفر و ارتداد و‏‏غیرہ کی وجہ سے ) کلام پاک میں مذکو ر ہے ۔ اسی طرح کتب احادث صحیح بخاری و صحیح مسلم میں "باب الفتن" میں ایسے ہی اصحاب کا تذکرہ موجود ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے زاری فرمائیں گے ۔
ایسے مقدوحانہ اور ممدوحانہ اقتباسات کی قرآن و احادیث میں موجود گی بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں مومن و منافق ہر دو طرح کے اشخاص تھے پس "کل" کو برا جاننے والا مذہب امامیہ کی رو سے ملّت اسلامیہ سے ہی باہر ہے کیونکہ وہ منکر قرآن ہے ۔اسی طرح "کل" سے محبت کرنے والا اور تمام کو "عدول" سمجھنے والا مخالف قرآن اور منکر حکم خدا ہے ۔جیسا کہ اوپر نقل کردہ آیت سے صاف ظاہر ہے ۔
پس توفیق الہیہ کے طفیل شیعوں نے بتمسک ثقلین اچھے اور برے میں تمیز کرلی اور پوری احتیاط سے ان لوگوں سے محبت نہ کی جو ازروئے قرآن مغضوب قرار پاتے ہیں ۔ اہل شیعہ نے اس اصول کی پابندی کی کہ جن لوگوں سے ثقل دوم (اہل بیت رسول(ص)) نے بے زاری اختیار کی انکی طرف نگاہ محبت نہ اٹھائی ۔ ہم نے جانچ پڑتال کا یہ معیار اختیار کیا کہ جس نے اہل بیت رسول(ع) سے محبت رکھی ہم نے اسے مو من کامل وفرد متقی مانا اور اجس جس نے ثقل دوم

7
سے عداوت رکھی ہم بھی اس سے نفرت کرتے ہیں ۔
اہل سنت والجماعتہ کے قطب العالم حضرت مولوی رشید احمد گنگو ہی نے ہمارے خلاف ایک کتاب "ھدایۃ الشیعۃ" نامی تحریر فرمائی اس کتاب میں حضرت صاحب رقم کرتے ہیں کہ "لاریب اہل سنت صحابی اس کو کہتے ہیں کہ با ا سلام خدمت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور با ایمان انتقال کیا اور مرتد ہوکر مرنے والے کو صحابی نہیں کہتے "(ھدایۃ الشیعۃص 22)
پس یہی عقیدہ شیعوں کا ہے پھر اختلاف کیسا؟
اسی کتاب میں گنگوہی صاحب آگے جاکر لکھتے ہیں کہ "بعض منافق بھی صحابہ میں ملے ہوئے تھے ۔ہر چند ان کے نفاق کی خبر صحابہ کو تھی مگر ظاہر پر تھا اور انجام کا رسب ممیّز ہوگئے تھے کسی کا حال مخفی نہ رہا تھا"(ھدایۃ الشیعۃ ص 57)۔
اب خود فیصلہ کر لیا جائے کہ ایسے منافقین لائق تعظیم ہوسکتے ہیں یا نہیں ۔حالانکہ دائرہ اصحاب میں داخل تھے ۔اگر یہ لوگ کسی عزّت کے مستحق نہ تھے تو پھر "سب کے احترام" کی پابندی کیونکر مستحسن قرار پائے گی۔؟
مجھے یہ لکھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے مخالفین نے ہمارے خلاف کس قدر بے ہودہ اور من گھڑت پرو پیگنڈا کر رکھا ہے کہ شیعہ اصحاب کو نہیں مانتے ، لوگ بلا تحقیق یہ تہمت ہم پر باندھتے ہیں اور ہماری صفائی پر کان دھرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔اگر ہماری معروضات سماعت فرمائی جائیں تو بڑی آسانی سے ان وجوہات سے آگاہی ہوسکتی

8
ہے جو اس نزاع کا باعث ہیں ۔معمولی سا غور وفکر حق وباطل کی تمیز کرنے میں کافی ہوسکتا ہے ۔
یاد رکھیں ! ہادی عالمین ، رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت حمیدہ کو دو وسیلوں کے سپرد کیا ہے ۔اول ۔کتاب اللہ(قرآن)اور ۔دوم۔ عترت نبی (اہل بیت رسول(ص))۔جیسا کہ حدیث ثقلین کی تائید میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں تحریر کیا ہے ۔پس اسی کے تحت شیعہ ہر اس ہستی کا احترام کرتے ہیں جو ان فرمودہ رسول ثقلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ ہو ۔اور جس نے ان کوچھوڑا اسے شیعوں نے بھی چھوڑ دیا ۔اب جب کبھی یہ سوال آجائے کہ فلاں بزرگ کو شیعہ واجب التعظیم نہیں سمجھتے تو سمجھ لیجئے کہ فریق مخالف ہی کی قوی شہادت کی بنا پر اسی فرد پر یہ الزام ہے کہ اس نے حکم رسول (ص)کی نافرمانی کرتے ہوئے تمسک بالثقلین کا حکم نہیں مانا ۔ یا تو وہ مخدومہ کونین ،خاتو ن جنت ،سید طاہرہ سلام اللہ علیھا کی ناراضگی کا باعث ہوا اور مغضوبین کے زمرے میں آگیا کیونکہ بخاری شریف میں ہے کہ اللہ کے رسول (ص) نے ارشاد فرمایا "فاطمہ (س) میرے جگر کا ٹکڑا ہے ،جس نے اسے غضبناکیا اس نے مجھے غضبناک کر لیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدا کو غضبناک کیا "
یا پھر کسی نے صرف ایک ہی ثقل کتاب اللہ کو کافی کہکر دوسرے ثقل سے عداوت کرکے نافرمانی رسول(ص) کی ۔ کوئی ثقل اوّل کو نذر آتش کرکے توہین ثقلین کا مرتکب ہوا اور کچھ ایسے نڈر ہوئے کہ اہل بیت (ع) سے رزم آرائی کر کے خدا اور رسول (ص) سے لڑائی مول لی ۔ المختصر

9
بلاوجہ وجواز محکم ہو کسی سے عداوت نہیں رکھتے ۔
خدا بہتر جانتا ہے کہ شر پسند لوگ ہم پر بلا وجہ اتہام طرازی کرتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی عزت نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کی ذوات بابرکات کے واسطے سے اپنی دعائیں بارگاہ سامع الدعوات میں عرض کرتے ہیں چنانچہ سیّد الساجدین ،امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات جو صحیفہ کاملہ میں منقول ہیں اس بات کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ ہم صحابہ (رض) رسول(ص) کے شیدائی اور حبدار ہیں ۔ان کے مراتب جلیلہ کے معترف اور فضائل ومناقب کے معتقد ہیں ۔عبارت مندرجہ ذیل کی نقل کے بعد ہم پر اصحاب دشمنی کے بہتان کی قلعی سب پر کھل جاتی ہے چنانچہ ارشاد معصوم (ع) ہے کہ
"خداوندا ! رحمت نازل فرما اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جنھوں نے حق صحبت نہایت خوبی سے ادا کیا ۔جنھوں نے ہر طرح کے مصائب اور تکالیف کو ان کی اعانت میں گوارہ کیا ۔ جنہوں نے ان کی رسالت تسلیم کرنے میں جلدی فرمائی۔اور جن ان کی دعوت کی اجابت میں سبقت کی ۔جب ان کو رسول خدا نے اپنی رسالت کی حجتیں بتائیں تو انھوں نے بلا توقف قبول کیا ۔ان کی نبوت کے اظہار میں اپنے آباؤ اولاد کو قتل کیا ۔ جب ان لوگوں نے دامن رسول (ص) تھاما تو ان کے کنبے وخاندان کے افراد نے ان سے قطع تعلق کرلیا اور جب وہ پیغمبر کی قربت

10
میں آئے تو ان کے رشتہ داروں نے ان سے ناطے توڑلئے۔پس خدایا ! مت بھول تو ان باتوں کو جو اصحاب پیغمبر(ص) نے تیرے لئے چھوڑا اور راضی کردینا تو ان کو اپنی رضا مندی سے اس لئے کہ انھوں نے خلقت خدا کو تیری طرف جمع کردیا اور تیرے رسول(ص) کے ساتھ دعوت دین اسلام کا حق ادا کردیا ۔ الہی ! وہ شکر کرنے کے لائق ہیں کہ انھوں نے اپنی قوم اور خانوادے اپنے گھر ووطن کو تیری خاطر چھوڑا ،اپنے عیش و آرام کو ترک کرکے ضیق معاش کو تیرے لئے اختیار کیا اور خداوندا! ان کے تابعین کوجزائے خیر دے ۔جو دعا کیا کرتے ہیں کہ پروردگار ہماری مغفرت کر اور ہمارےف ان بھایئوں کی جو ہم میں سے ایمان میں سبقت لے گئے ہیں وہ تابعین ایسے ہیں کہ ان اصحاب (رض) کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔اور ان کے نشانات کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی ہدایت کی اقتدا کرتے ہیں جن کو کوئی شک ان کی نصرت میں نہیں آتا جن کے دل میں کوئی شبہ ان کے آثار کی پیروی میں نہیں آتا ،کیسے تابعین جو معاون ومدد گار اصحاب (رض) کے ہیں ۔جو ان کی ہدایت کے مطابق رہتے ہیں ۔اور ان کے موافق ہدایت پاتے ہیں ۔اور جو اصحاب (رض) سے اتفاق رکھتے ہیں اور جو کچھ اصحاب نے انھیں پہنچایا اس میں ان پر کچھ تہمت نہیں کرتے ۔خدایا رحمت نازل کر ان اصحاب (رض) کی اتباع کرنے والوں پر آج کے دن جس دن میں ہم (موجود) ہیں تا قیامت او ران کی ازواج واولاد پر۔(آمین)
ان مراتب وفضائل کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ہم پر نفرین صحابہ کی تہمت باندھے تو اس کا سبب عداوت بے معنی نہیں تو اور کیا ہے ؟

11
بارالہا!تجھے معلوم ہے کہ ہم اس الزام سے بھری ہیں۔ لہذا ہم یہ معاملہ تیری جانب لوٹاتے ہیں اور تجھے تیرے محبوب رسول(ص) کے منظور نظر اصحاب کاواسطہ دیتے ہیں کہ حق وباطل کا فیصلہ فرما ۔
"انّا من المجرمین منتقمین"
ہمارے مخالفین نے یہاں تک زبان درازی کی ہے کہ شیعہ تما اصحاب کو مرتد سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کے بعد اصحاب رسول کا درجہ تمام امت سے بلند ہے لیکن ہم صحابی کہتے ہی اس فرد کا مل کو ہیں جو اظہر اقوال کی بنا پر حالت ایمان میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دائرہ صحبت میں تشریف لایا اور مومن ہی فوت ہوا ۔ مطلب ہمارے مختار کا صاف ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں رسو ل اللہ (ص) مقبول سے ملاقات کے بعد عہد رسول (ص) یا بعد عہدرسول(ص) ایمان کی حالت میں فوت ہوا وہ صحابی کہلانے کا حق ہی اسی مرد ناجی کو ہے ۔ اس کے برعکس جس کسی کا خاتمہ بالخیر نہ ہوگا وہ شرف صحابیت کی دنیوی واخروی مراعات سے محروم ہوگا ۔ویسے تو کتب فریقین میں صحابہ کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار نفوس تک مرقوم ہوئی ہے لیکن ان میں مدارج کے لحاظ سے یقینا مراتب کا فرق ہے ۔
علامہ ابن قتیبہ کی تحقیق کے مطابق مندرجہ ذیل سترہ اصحاب النبی (ص) کو امتیاز حاصل ہے ۔
1:- حضرت سلمان فارسی ۔2:- حضرت ابو ذر ‏‏غفاری ۔3:- حضرت مقداد بن اسود ۔4:- حضرت عمار یاسر ۔5:- حضرت خالد بن معید ۔6

12
:- حضرت بریدہ اسلمی ۔7:- حضرت ابی بن کعب ۔8:- حضرت خذیفہ بن ثابت ۔9:- حضرت سہل بن حنیف ۔
10:-حضرت عثمان بن حنیف ۔11:- حضرت ابو ایوب انصاری۔12:- حضرت حذیفہ بن یمان ۔13:-حضرت سعد بن یمان۔14:- حضرت قیس بن سعد ۔15:- حضرت عباس بن عبد المطلب ۔16:- حضرت عبداللہ بن عباس ۔17:- حضرت ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنھم ۔
حجۃ الا سلام علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطاء اعلی اللہ مقامہ نس اس سلسلے میں تین سو نفوس کا حوالہ دیا ہے ۔
علامہ نوری نے حضرت سلمان فارسی،ابوذر، مقداد، عمار ، ابو سا مانی ، حذیفہ اور ابو عمرہ کو ممتاز صحابہ میں شمار کیا ہے ۔ امام اہلسنت علامہ ابو حاتم سجستانی بصری بغدادی اپنی کتاب " الزینت " میں لکھتے ہیں کہ عہد رسول میں جو لفظ سب سے پہلے متداول اور مشہور ہوا وہ "شیعہ " ہے اور یہ لفظ (شیعہ رسول (ص) کے چار صحابہ حضرات سلمان ، ابوذر،مقداد اور عمار یاسر رضی اللہ عنھم کا طرہ امتیاز بن گیا تھا (روح القرآن ص 66)۔
اس تصریح سےثابت ہوا کہ زمان رسول میں صحابہ کرام کا ایا گروہ ایسا موجود تھا جو خود کو شیعہ کہلواتے تھے ۔پس لقب شیعہ قدامت تاریخ کے لحاظ سے مقدم ٹھہر ا اور شیعوں کا وجود دور رسالت مآب (ص) میں ثابت ہوگیا ۔
الغرض ہم اپنے دین و مذہب میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہیں ہیں نہ ہی ہم صحابہ رسول کے مراتب میں فرق و تمیز کرنے

13
میں ارشاد خداوندی کے مخالف ہیں۔ حلقہ اصحاب میں جو صحابہ عظام رضوا ن اللہ علیھم صداقت شعار اور حق پرست تھے ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ جو صحابہ متمسک بالثقلین تھے اور صفات حسنہ سے متصف تھے انھیں محبوب ودوست رکھتے ہیں البتہ ہماری پر خاموش ان دوست نما اصحاب سے ہے جنھوں نے خدا ورسول خدا (ص) سے خیانت کی ہم ایسے لوگوں کی پیروی کرنا دین حق سے غداری سمجبھتے ہیں ۔پس ہم ظالم نام نہاد صحابہ پر اعتماد نہیں کرتے نہ ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں کہ انھوں نے خدا اور رسول(ص) کے ساتھ دشمنی کی ۔
جب مخالفین مذہب اہل بیت ہمارے مسلک میں کوئی اور خامی تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر وہ ایسی جھوٹی تہمتیں باندھنے میں اپنا بچاؤ دیکھتے ہیں اور اس قسم کی رقیق باتیں ہم سے منسوب کرتے ہیں جن کا تصور بھی صحیح الدماغ شخص نہیں کرسکتا چنانچہ ایسا ہی اوچھا ہتیھیار ہمارے خلاف یہ استعمال کیا جاتا رہا ہے کہ شیعہ تمام صحابہ کو کافر قرار دیتے ہیں اور یاران رسول (ص) کو گالیاں بکتے ہیں ۔
ہم نے ا س مسئلہ پر اس کتاب میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور مدلّل و شرین مباحثوں سے اپنے موقف کو پیش خدمت کیا ہے نیز عالی مرتبت اصحاب رسول میں سے چار جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے انشا اللہ مخالفین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ شیعوں پر یہ بے ہودہ الزام کہ وہ صحا بہ کے منکر ہیں اور تمام صحابیوں کو معاذاللہ کا فر سمجھتے ہیں قطعا غلط اور

14
سراسر بہتان ہے ۔ یہ بات محض تعصّب وفرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ ہے ۔ذوق سلیم رکھنے والے قارئین پر اس حقیقت کا انکشاف ہو جائے گا کہ مخالفین نے یہ چال کس ہو شیاری سے چلی اور اس کا پس منظر کیا تھا ۔
آغاز کتاب سے قبل ہو اپنے مسلمان بھائیوں سے دست بستہ گزارش کرتے ہیں کہ راہ خدا کسی بات کو زبان سے ادا کرنے سے پہلے اس پر سوچ بچار کرلیا کریں ۔اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کیا کریں ۔ اسلاف کی کور کورانہ تقلید اور غلط قیاسات کبھی ہدایت کے معاون نہیں ہو تے ہیں لہذا باہمی اتحاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی پر الزام دینے سے پہلے اس کی مکمل چھان بین کر لیا کریں نیز سازشی جالوں او ر مستورہ ریشہ دوانیوں سے خبردار رہا کریں کیوں کہ اسی طریقہ سے امت میں اتحاد و یک جہتی اور باہمی اخوت برقرار رہ سکتی ہے جو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے او ر ہماری ملت اب مزید کسی انتشار وفساد کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے ۔ اب جذبات کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی بھی ضرورت ہے اور قوم کی ترقی و استقلال کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب مؤعظہ حسنہ کی تعلیم اسلام پر عمل کریں اور لا اکراہ فی الدین کے قرآنی حکم کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ شکریہ

ملتجی
عبد الکریم مشتاق

*****