دستور المرکبات
 

نمک وکھار
۱۔ نمک یا کھار سے مراد دواء کے وہ نمکین اجزاء ہیں جو پودوں کو جلا کر حاصل کئے جاتے ہیں۔ طِبّی اصطلاح میں اِس عمل کو ’’عملِ اِقلاء‘‘ کہتے ہیں۔ طِبِّ یونانی میں دواء کے اجزائے موثر ہ حاصل کرنے کی یہ ترکیب یونانی عہد سے ہی رائج ہے۔
۲۔ دواء کے نمکین اجزاء نکالنے کے علاوہ علم المرکبات میں مختلف نمکیات پر مشتمل نسخے بھی ترتیب دئیے گئے ہیں ، مثلاً نمک سلیمانی، نمک شیخ الرَّئیس وغیرہ، جن میں اَملاح کے ساتھ دوسری ہاضم و محلل کاسرِ رِیاح دوائیں شامل ہیں۔

’’نمک و کھار‘‘ بنانا (عمل اقلاء)

بعض نباتات ایسے ہیں جن کے پتوں ، تنوں اور جڑوں وغیرہ یا مکمل پودے کو جلا کر نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ بوٹیوں سے حاصل کردہ نمک کوایک خاص اصطلاح ’’سدا کھار‘‘ سے یاد کیا جاتا ہے۔ طِب ہندی میں پنچ کھار کی اصطلاح عام ہے جس سے مراد پانچ نمکوں سے ہوتی ہے۔ اِن میں (۱) نمک ڈھاک، (۲) نمک ترب، (۳)جواکھار،(۴) نمک سجِّی اور (۵)نمک تِل شامل ہیں۔ اِن میں سے اکثر نمکیات کو بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

ترکیب تیاری
جس نبات سے نمک حاصل کرنا ہو اُس کو پہلے جلا کر راکھ کر لیں۔ اُس راکھ کو دو۲ یوم تک پانی میں بھیگا رہنے دیں۔ علاوہ ازیں راکھ کو پانی میں ڈال کر کسی لکڑی یا چمچے کی مدد سے اِس محلول کو حرکت بھی دیتے رہیں۔ اِس سے نمک اچھی طرح پانی میں حل پذیر ہو جائے گا۔ کچھ دیر کے بعد پانی کو نتھار لیں اور تہہ نشین حصہ کو پانی سے جدا کر کے پھینک دیں۔ مزید بر آں اِس نتھارے ہوئے پانی کو کپڑے سے چھان لیں۔ راکھ کو دو تین بار پانی میں ڈال کر نتھار لیں۔ اخیر میں اُسی چھنے ہوئے محلول کو عمل تبخیر کے ذریعہ اُڑا کر غلیظ راسب حاصل کر لیں۔ یہی اُس نبات کا نمک ہوگا۔ چنانچہ نمک چرچٹہ ، نمک ترب، نمک خربوزہ اور جواکھار مذکورہ ترکیب سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مولی کی جڑوں سے پتوں کی بہ نسبت زیادہ نمک حاصل ہوتا ہے۔ جواکھار، چرچٹہ ، گاجر،سجّی بوٹی، وغیرہ کا نمک حاصل کرنے کے لئے پورے پودے کو جلا کر راکھ کر لیا جاتا ہے۔ خربوزے میں سب سے زیادہ نمک چھلکے میں ہوتا ہے، پھر گودے میں۔
نباتات کی طویل فہرست ہے جن سے نمکیات حاصل ہوتے ہیں لیکن کچھ مشہور نباتات مندرجہ ذیل ہیں :آک، اَڑوسہ، کٹائی ، بابونہ، بتھوا، بسکھپرہ، پالک، ترب، تلِ، جوَ، جھاؤ، چرچٹہ، چنا، خربوزہ، ڈھاک،سجّی،کنگھی، گاجر، مسور وغیرہ۔

نمک بانسہ /اڑوسہ
افعال و خواص اور محل استعمال
اپنے جزءِ خاص کے نام سے معروف ہے۔ مخرج بلغم ہے۔ ضیق النَّفس اورسعال رطب و یابس کو فائدہ دیتا ہے۔

طریقۂ تیاری
بانسہ کا پودا خشک کر کے جلائیں اور راکھ کو پانی میں خوب حل کریں۔ چند گھنٹوں کے بعد جب راکھ تہ نشین ہو جائے تو پانی نتھار لیں اور آگ پر رکھ کرپانی اُڑالیں۔ پانی اُڑنے کے بعد برتن میں نمک باقی رہ جائے گا۔اِسے اکٹھا کر لیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔

نمک بتھو
افعال و خواص اور محل استعمال
ورمِ جگر اور ورمِ رحم میں مفید ہے۔

طریقۂ تیاری
بتھوے کو خشک کر کے جلائیں اور اُس کی راکھ کو پانی میں خوب حل کریں۔ راکھ تہ نشیں ہو جانے پر پانی نتھار لیں اور آگ پر رکھ کر جوش دیں۔ جب پانی اُڑ جائے اور نمک باقی رہ جائے تو نمک کو محفوظ رکھ لیں اور بوقت ضرورت استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔

نمک بھنگ
افعال و خواص اور محل استعمال
ہاضم، مشتہی طعام اور مقوی معدہ ہے۔

طریقۂ تیاری
بھنگ کو خشک کر کے جلا کر اُس کی راکھ پانی میں خوب حل کریں۔ چند گھنٹوں کے بعد پانی نتھار لیں اور چھان کر جوش دیں۔ پانی جلنے پر نمک باقی رہ جائے گا، اِسے استعمال کریں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔
نمک پودینہ

افعال و خواص اور محل استعمال
ہاضم طعام، محلل ریاح اور مقوی معدہ ہے۔ متلی اور قے کو بند کرتا ہے۔
طریقۂ تیاری:پودینہ خشک کر کے جلائیں اور اُس کی راکھ پانی میں خوب حل کریں۔ تہ نشیں ہونے پر پانی کو نتھار لیں اور آگ پر رکھ کر اُڑائیں۔ پانی اُڑنے کے بعد نمک باقی رہ جائے گا۔اِسے استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔

نمک ترب
مولی سے کھار زیادہ نکلتا ہے۔ چنانچہ اگر مولی کی جڑ کی راکھ ۲۵ گرام ہے تو اُس سے ۱۰ تا ۱۵ گرام کھار برآمد ہوتا ہے لیکن اگر راکھ مولی کے پتوں کی ہے تو اُس سے مولی کی بہ نسبت کم کھار نکلتا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مخرج، حصاۃ، ہاضم طعام، نافع ورمِ طحال اور پیشاب آور ہے۔
طریقۂ تیاری: مولی کو مع برگ و بار و جڑ کے خشک کر کے مٹی کے برتن میں ڈال کر جلائیں۔ پھر اُس کی راکھ کو پانی میں حل کر کے ہاتھ سے خوب ہلائیں۔ چند گھنٹہ بعد پانی نتھار کر کپڑے سے چھانیں اور جوش دیں۔ پانی جلنے پر برتن میں نمک باقی رہ جائے گا۔ اُس کو خشک کر کے رکھ لیں اور ضرورت کے وقت استعمال کرائیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔