دستور المرکبات
 

معجون عشبہ
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
فساد خون، خارِش ، آتشک، وجع مفاصل اور بواسیر میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عشبہ بسفائج فستقی،ا فتیمون وِلایتی، برگِ گاؤ زباں ، کباب چینی، دار چینی۔ ہر ایک ۲۰ گرام ، گل سُرخ، چوب چینی، صندل سفید، صندل سُرخ۔ ہر ایک ۳۰ گرام سناء مکی ۴۰ گرام پوست بلیلہ، سنبل الطیب ہر ایک ۱۰ گرام، ہلیلہ سیاہ ۷ گرام، پوست ہللہم زرد ۷گرام تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر قند سفید ساڑھے سات سو گرام اور شہد خالص نصف کلو کے قوام میں شامل کر کے معجون تیار کریں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

معجون عقرب
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص عقرب (بچھو)کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مخرج و مفتت سنگ کردہ و مثانہ ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
حب کاکنج ۲۰ گرام، جنطیانا ۱۵ گرام ، جند بیدستر۱۰ گرام، عقرب سوختہ ۱۲ گرام، فلفل سفید، فلفل سیاہ۔ ہر ایک ۱۰ گرام زنجبیل ۵ گرام۔ تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر شہد خالص سہ چند کے قوام میں ملا کر معجون بنائیں۔

مقدار خوراک
نصف گرام تا ایک گرام۔

معجون فلاسفہ (مادۃالحیٰوۃ)
وجہ تسمیہ
دماغی کام کرنے والوں کے لئے خاص طور پر مفید ہونے کی وجہ سے’’ معجون فلاسفہ‘‘ کے نام سے موسوم ہوئی۔ معجون فلاسفہ کا مُوجد مشہور طبیب و فلسفی یوحَنّا بن ماسویہ تھا۔ اِس لئے یہ معجون فلاسفہ کے نام سے موسوم ہوا۔ بعض لوگ اس کا موجد اندرو ماخس طبیب کو مانتے ہیں جس نے اپنے ہم عصر فلسفی حکماء کے مشورے سے اِس کا نسخہ ترتیب دیا تھا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
دماغ اور اعصاب کو قوت دیتی ہے۔نسیان کو دور کرتی ہے۔ معدہ کی اصلاح اور بھوک لگانے میں خاص فعل رکھتی ہے۔ کمر، گردہ اور مفاصل کے درد میں مفید ہے۔مقوی باہ اور مؤلدِ منی ہے۔ پیشاب کی زیادتی کو روکتی ہے۔

جزءِ خاص
مغز چلغوزہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تخم بابونہ ۱۵ گرام، زنجبیل ، فلفل سیاہ، فلفل دراز، آملہ مقشر، ہلیلہ سیاہ، شیطرج ہندی، زراوند مد حرج،ثعلب مصری، بیخ بابونہ، مغز چلغوزہ، نارجیل تازہ۔ ہر ایک ۳۰ گرام مویز منقیٰ ۹۰ گرام۔ جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر دو چند شہد خالص کے قوام میں شامل کریں اور مرکب بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام ہمراہ آبِ سادہ یا عرق گاؤ زباں۔

معجون فلک سیر
وجہ تسمیہ
فلک سیر بھنگ کا دوسرا نام ہے۔ چونکہ اِس معجون میں بھنگ بطور جزء خاص شامل ہے اِس لئے نہ صرف اِس کی وجہ سے بلکہ اِس کے دوسرے خاص جز افیون کے خواص کی وجہ سے بھی جن کے استعمال سے انسان خوابوں کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے اور آسمانوں کی سیر کرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اِس کا نام معجونِ فلک سیر رکھا گیا ہے۔یا یہ کہ اِس کے استعمال سے ایک خاص سُرور محسوس ہوتا ہے اِس لئے اِس کو فلک سیر کا نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی باہ، ممسک اور دافع جریان و سرعت انزال ہے۔

جزءِ خاص
قنّب (بھنگ) قنّب ہندی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مغز بادام شیریں ، مغز فندق، مغز چلغوزہ، مغز اخروٹ، مغز کدو، مغز کاہو، افیون قنب ہندی۔ ہر ایک ۶ گرام جائفل ، جاوتری۔ ہر ایک ۴ گرام، مشک عنبر۔ ہر ایک نصف گرام کوٹ چھان کر دو۲ چند قند سفید کے قوام میں ملائیں اور معجون تیار کریں۔

مقدار خوراک
امساک کے لئے وقت خاص سے دو گھنٹہ قبل ایک گرام ہمراہ شیر گاؤ کھائیں اور ترش اور نمکین اشیاء سے وقت خاص تک پرہیز رکھیں۔
جریان اور تقویت باہ کے لئے ایک گرام صبح ہمراہ شیر گاؤ استعمال کرائیں۔