دستور المرکبات
 

معجون سقراط
وجہ تسمیہ
مشہور یونانی طبیب سُقراط کے نام سے منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
دافع نسیان و مالیخولیا، نافع صرع، دافع درد معدہ و وجع المفاصل، دافع تپ ہائے باطنی، نافع تقطیرالبول۔

جزءِ خاص
جنطیانا رومی۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
جنطیانا رومی، کالی زیری، تخم فرنجمشک، حب الغار، ۵۰۔۵۰ گرام، انیسون رومی، زراوند مدحرج،جند بیدستر ،حب بلسان، عود بلسان، اسارون،تج قلمی، مصطگی رومی، زرنباد، ۴۰۔۴۰ گرام، تخم کرفس ، درونج عقربی،تخم تبرہ تیزک،تخم گندنا، تخم کتاں ۷۔۷ گرام، صبر زرد ۳۰ گرام، عود خام ۳۰ گرام ،تربد ۶۰ گرام ، جائفل ، جاوتری، قرنفل، ریوندچینی، دانہ ہیل خرد، زرنب (تالیس پتر) بالچھڑ، اُشنہ، پیاز دشتی، شیطرج ہندی، دار چینی ۱۰۔۱۰ گرام، گل سُرخ، ۱۰۰ گرام ، برگِ بادر نجبویہ ،لک مغسول، سعد کوفی، حب المحلب،ہر ایک ۱۰۰۔۱۰۰ گرام ،ہلیلہ سیاہ، پوست بلیلہ ، آملہ ۲۰۔۲۰ گرام۔
جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر روغنِ بادام میں چرب کر لیں۔ اِس کے بعد شہد خالص سہ چند ادویہ کا قوام تیار کر کے معجون بنائیں۔

مقدار خوراک
۶ تا ۱۰ گرام ہمراہ آبِ تازہ، عرق بادیان یا عرق مکوء۔

معجون سنگ دانہ مُرغ
افعال و خواص اور محل استعمال
ضعف معدہ و امعاء، اسہال اور سنگرہنی میں مفید ہے۔ معدہ کے علاوہ قلب کو بھی قوت دیتی ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست سنگ دانہ مُرغ، طباشیر ہر ایک ۱۰ گرام پودینہ خشک ، پوست بیرونِ پستہ ، پوست ترنج، پوست ہلیلہ زرد،ہر ایک ۵ گرام ، گلِ سُرخ ۱۲ گرام، بہمن سرخ، بہمن سفید، صندل سُرخ ، صندل سفید، صعتر فارسی، کشنیز خشک، حب الآس۔ ہر ایک ۸ گرام سب کو کوٹ چھان کر سہ چند شہد خالص کے قوام میں ملا کر معجون بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

معجون سورنجان
افعال و خواص اور محل استعمال
وجع المفاصل،نِقرِس، عرق النساء اور دیگر بلغمی اَمراض اور عصبی دردوں میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تخم کرفس ،بادیان کفِ دریا،فِلفِل سیاہ، صعتر فارسی ،نمک ہندی، برگِ حنا، ہر ایک ۵ گرام بوزیدان، ماہی زہرج، شیطرج ہندی ، بیخ کبر ہر ایک۷ گرام ، گل سُرخ، کشنیز کوہی، زنجبیل سقمونیا ہر ایک ۱۰ گرام سورنجان شیریں ، ۲۰ گرام ہلیلہ زرد ۲۵ گرام، تربد سفید ۵۰ گرام کوٹ چھان کر روغنِ بادام ۳۰ ملی لیٹر میں چرب کر کے شہد خالص ۵۰۰ گرام کے قوام میں ملائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۷ گرام۔

معجون سیر علوی خانی
وجہ تسمیہ
معجون سیر کے متعددنسخے ہیں۔ حکیم علوی خاں کا مُرتب کردہ نسخہ بہتر سمجھا جاتا ہے جو عام طور پر مستعمل ہے حالانکہ زنجبیل بواسیر والوں کے لئے مُضرّ ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
بلغمی و سوداوی امراض میں مفید ہے ، زہروں کے لئے تریاق کا کام کرتی ہے۔ وجع القلب میں اِس کا استعمال خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

جزءِ خاص
لہسن (سیر)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
گل گاؤ زباں ، بادر نجبویہ ہر ایک ۷۵ گرام بسفائج فستقی، ہلیلہ سیاہ، پوست ہلیلہ کابلی مکوء خشک ہر ایک ۳۵ گرام ،تمام ادویہ کو۶ لیٹر پانی میں جوش دیں۔ ۴ لیٹر پانی باقی رہنے پر چھان لیں۔ پھر تازہ لہسن نصف کلو چھیل کر دوا کے پانی میں جوش دیں۔ جب لہسن خوب نرم ہو جائے ، ایک لیٹر شیر گاؤ کا اِضافہ کر کے پھر جوش دیں۔ جب پانی خشک ہو جائے اور صرف دودھ باقی رہے تو روغن گاؤ نصف کلو شامل کر کے جوش دیں۔ روغن خوب جذب ہونے پر شہد خالص ایک کلو داخل کر کے قوام بنائیں اور زنجبیل فلفل سیاہ ، فلفل سفید ، فلفل دراز ، قرنفل ، تج قلمی ، کباب چینی ،خولنجان بہمن سفیدو بہمن سُرخ، شقاقل مصری، گلِ بابونہ، مرزنجوش ہر ایک ۲۰۔۲۰ گرام، عنبر ۲گرام ، زعفران ۲ گرام پیس چھان کر قوام میں شامل کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۷ گرام۔