دستور المرکبات
 

معجون
عربی لفظ عِجن سے مشتق ہے۔گوندھنے کو عجن کہتے ہیں۔ اُس نیم منجمد مرکب کو جس میں دوائیں پیس کر شہد یا شکر کے قوام میں ملائی جاتی ہیں ، معجون کا نام دیا گیا ہے۔ معجون میں شہد مصری یا قند سفید جملہ ادویہ کے وزن سے تین گنے وزن تک شامل کی جاتی ہے۔ البتہ بعض نسخوں میں مذکورہ شیرینی دو چند ادویہ ہی شامل کرتے ہیں۔ اطریفل ، خمیرہ، جوارِش ، لعوق ، مفرح وغیرہ سب معجون کی قسمیں ہیں۔ معجون اِس قسم کے مرکبات کی سب سے ابتدائی شکل ہے۔قرائن بتاتے ہیں کہ قدیم مصری عہد میں اِس کا استعمال شروع ہوا۔ مصر کے مشہور حکیم ہُر مس کو اِس کا واضع بتایا جاتا ہے۔ قرابادین لطیفی میں اِس کا موجدہُرمس الہرامِسہ حضرت ادریسؑ کو بتایا گیا ہے۔ کچھ لوگوں نے سقراط یا اسقل بیوس الٰہی یا دیو جانس کلبی کو اِس کا موجد قرار دیا ہے۔بہر نوع یہ مصریوں کی ایجاد ہے۔

معجون کا قوام
اگر معجون کی تیاری میں کوئی عرق تجویز کیا گیا ہو تو شہد شکر یا مصری اِس عرق میں شامل کر کے قوام تیار کرتے ہیں ، ورنہ بعض اوقات پانی ہی شامل کر کے قوام تیار کر لیا جاتا ہے۔معجون کا قوام ایسا ہونا چاہیے جو خشک ادویہ کے ملانے کے بعد نرم حلوے کے مانند ہو جائے۔ اگر معجون شہد میں تیار کیا جا رہا ہو تواُس میں پانی ملانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے البتہ شہد کا کف گرفتہ ہونا ضروری ہے۔
اگر قوام میں شہد یا مصری کے ساتھ ترنجبین شامل کرنا ہو یا صرف ترنجبین کے ہی قوام میں معجون تیار کرنا ہو تو اُس کو کسی عرق یا پانی میں حل کر کے چھان لیا جائے تاکہ تنکوں وغیرہ کی آلائش سے پاک و صاف ہو جائے اور اِس محصول کو تھوڑی دیر رکھ چھوڑنے کے بعد نتھار لیا جائے تاکہ اِس کی کثافتیں تہہ نشین ہو جائیں۔ گُڑ کے قوام کو بھی اِسی طرح پہلے پانی میں حل کرنے کے بعد نتھار کر قوام تیار کیا جاتا ہے۔
اگر معجون میں زعفران ، مشک، عنبر وغیرہ شامل کرنا ہو تو اُس کو پہلے کسی عرق میں اچھی طرح حل کر لیں اور معجون ٹھنڈا ہو جانے پر شامل کریں۔

معجون آرد خرم
افعال و خواص اور محل استعمال
مغلِّظِ منی اور مقوی باہ ہے۔ رِقّتِ منی،جَریَان، سرعتِ انزال اور کثرتِ احتلام کو فائدہ دیتی ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آرد خرما، صمغ عربی، سنگھاڑا خشک ہر ایک نصف کلو ادویہ کو کوٹ چھان کر مغز بادام شیریں مغز چلغوزہ مغز فندق ہر ایک ۵۰ گرام باریک پیس کر ترنجبین شہد خالص ہر ایک ۲۵۰ گرام کا قوام کر کے ملائیں اور مغز پنبہ دانہ ۱۰ گرام، قرنفل ۶ گرام ،جاوتری جائفل ہر ایک ۳۔۳ گرام باریک کر کے مرکب میں اِضافہ کریں۔

مقدار خوراک
۱۰ گرام

معجون اذاراقی
افعال و خواص اور محل استعمال
امراض عصبی بلغمی، وجع المفاصل، نقرِس، عرق النَّسائ، فالج، لقوہ، رعشہ، صرع، آتشک میں مفید ہے۔ معدہ، مثانہ، اعصاب اور باہ کو قوت دیتی ہے۔ موسمِ سرما میں معمّر حضرات کے لئے اِس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔

جزءِ خاص
اذاراقی (کچلہ)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
کچلہ مدبر ۲۰ گرام برگ گاؤ زباں ۱۵ گرام، اسطوخودوس، کتیرا نارجیل، مغز چلغوزہ، ہر ایک ۱۲ گرام ،دانہ ہیل خرد، زرنباد، شقاقل مصری ، صندل سفید آملہ مقشر ، ہلیلہ سیاہ ہر ایک ۹ گرام، عودِ ہندی ،قرنفل ہر ایک ۵ گرام۔جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر سہ چند شہد خالص کے قوام میں ملائیں۔

مقدار خوراک
۳ تا۵ گرام۔

معجون بلادر/دواء الشعیر
معجون بلادر کے بارے میں صاحبِ علاج الامراض نے لکھا ہے کہ اِس کے موجد و مخترع حضرت سلیمان تھے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی باہ، نافع ضعف عام، نافع امراض عصبانیہ وبلغمیہ، مقوی عام۔

جزءِ خاص
بلادر( بھلانواں )

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
اسگند ناگوری، عاقر قرحاء، جاوتری، خولنجان ہر ایک ۳۰۔۳۰ گرام، جائفل، زنجبیل،ثعلب مصری، ۲۰۔۲۰ گرام، فلفل دراز، تخم ہلیون، مصطگی رومی ۱۵۔۱۵ گرام، تخم کونچ، تخم انجرہ، تخم گذر دس دس گرام، سمندر سوکھ ۶ گرام۔ تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر سفوف تیار کر لیں ، پھر قند سفید ۳۵۰ گرام شہد خالص ڈیڑھ کلو کا قوام تیار کر کے سفوف مذکور اُس میں ملا لیں۔ بعد ازآں کنجد مقشر۴۰ گرام ،مغز بادام شیریں ، مغز چلغوزہ ۳۰۔۳۰ گرام ، زعفران،محلول دس گرام، مشک محلول ۶ گرام ملا کر معجون تیار کریں۔ معجون کو برتن مںم بند کر کے اور اُس برتن کو۶ ماہ کے لئے جَو میں دبا کر رکھ دیں ، پھر استعمال میں لائیں۔ اِسی مناسبت سے اِس کو ’’دواء الشعیر ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔

معجون بلادر بہ نسخہ دیگر
افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی باہ، نافع ضعف عام، نافع امراض عصبانیہ وبلغمیہ مقوی ذہن و حافظہ، مقوی عام۔

جزءِ خاص
بلادر۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بلادر (مُدبَّر) نصف کلو، شیر گاؤ ایک لیٹر میں جوش دیں اور دہی سے جما کر مکھن نکالیں۔ پھراُس مکھن میں زردی بیضۂ مرغ ۲۰ عدد شامل کر کے حلوہ کی طرح پکائیں اور شہد خالص دو کلو، قند سفید دو کلو کا قوام تیار کریں۔ اِس کے بعد عاقر قرحا ،دار چینی، ہیل خرد قرنفل، جاوتری، زعفران ہر ایک ۱۵ گرام، بیر بہوٹی۱۰ گرام، زنجبیل، خولنجان، ثعلب مصری ہر ایک ۳۰ گرام، تخم گذر ، تخم ترب، مغز چلغوزہ،مغز اخروٹ، مغز نارجیل ، مغز پستہ ہر ایک ۲۵۔۲۵ گرام، مغز بادام ،تخم پیاز سفید، آملہ خشک، مغز پنبہ دانہ ہر ایک ۵۰ گرام خراطین مدبَّر ۲۰۰ گرام کوٹ چھا ن کر شامل کریں۔ بعدہٗ مشک ۲ گرام، مروارید ناسفتہ ۶ گرام، عنبر اشہب ڈیڑھ گرام ،ورق نقرہ ۶ گرام کھرل کر کے اِضافہ کریں۔ پھر استعمال میں لائیں۔ تیاری کے بعد ۶ ماہ تک جَو میں دبانے کی وجہ سے اِس کو ’’ دواء الشعیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مقدار خوراک
۳ تا ۷ گرام ، ہمراہ عرق گاؤ زباں۔