دستور المرکبات
 

مرہم
ایک نیم جامد مرکب ہے جو قدیم زمانہ سے رائج ہے۔ یقین کیا جاتا ہے کہ مرہم مصریوں کی ایجادات میں سے ہے ، گو کہ اطِبّاء اِس کا موجد بقراط کو بتاتے ہیں لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ اِس کا استعمال ازمنۂ قدیم سے ہی مصریوں کے یہاں ملتا ہے اور یونانی طِب کا دوراِس کے بعد کا ہے۔
جن ادویہ کا سفوف یا اُن کو حل کر کے مرہم بنایا جاتا ہے اُن میں بطور زمین (Base ) موم، گھی، تِلوں کا تیل، سرسوں کا تیل ، روغنِ زیتون ، روغنِ بادام ، روغنِ گُل، چربی (Animal Fat ) او ر ویسلین (Vaseline ) شامل کی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ مرہم کی قوت برسوں تک قائم رہتی ہے لیکن جس مرہم کی ترکیب میں چربی شامل ہوتی ہے وہ جلد خراب ہو جاتا ہے۔ البتہ جس مرہم میں روغنِ زیتون شامل ہو اُس کی قو ت جلد ساقط نہیں ہوتی ہے۔

ہدایات
مراہم کی تیاری کے وقت موم یا تیل کو گرم کر کے پگھلا لینا چاہیے ، پھر دیگر باریک ومسفوف ادویہ کو اُس میں آہستہ آہستہ ڈالنا چاہیے اور ٹھنڈا ہونے تک اُس کو حل کرتے رہنا چاہیے۔ اگر کسی مرہم میں اُشق ، مقل، صابن، گندہ بہروزہ جیسی پگھلنے والی ادویہ ہوں تو اُن کو بھی روغنِ بادام کے ساتھ پگھلا لینا چاہیے۔ اصولی طور پر مرہم کے اجزاء کے مقابلہ میں موم کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے اور اگر مرہم میں کوئی تیل بھی شامل ہو تو تیل اور موم جملہ ادویہ کا نصف یا اُس سے کچھ زائد رہنا چاہیے، جس مرہم میں موم بکثرت شامل ہو اُس کی قوتِ عمل بیس سال تک باقی رہتی ہے۔

مربیّٰ ہلیلہ
افعال و خواص
مقوی دماغ و حافظہ ، مقوی معدہ، مقوی بصارت و محافظ بصارت، نافع و دافع قبض دائمی۔

جزءِ خاص
ہلیلہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ہلیلہ کو پانی میں جوش دیں۔ جب نرم ہو جائے تو قند سفید کے قوام میں ملا کر مربیٰ ّ تیار کریں۔

مقدار خوراک
! تا ۳ عددِ رات کو سوتے وقت استعمال کریں۔

مرہم آتشک
افعال و خواص اور محل استعمال
آتشک کے زخموں کے لئے مخصوص ہے۔ زخموں کو بہت جلد صاف کر کے مندمل کرتا ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
چوب چینی ۲۰ گرام ،شنگرف ۳۰ گرام ،توتیا، ۶۰ گرام باریک سفوف کر کے کپڑے سے چھانیں اور بیضہ مرغ کو راکھ میں دبا کر زردی نکالیں اور اُس زردی کو سفوف میں خوب اچھی طرح ملا کر مرہم بنائیں اور محفوظ کر لیں۔

ترکیب استعمال
زخموں کو نیم کے پانی سے صاف کر کے مرہم لگائیں۔ اِس سے اندمال جلدی ہوتا ہے۔

مرہم اُشق
افعال و خواص اور محل استعمال
ورم طحال کے لئے مخصوص ہے۔ صلابت اور سخت ورموں کو تحلیل کرتا ہے۔ خنازیر اور سلعات میں نافع ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
خردل کف دریا، زراوَند طویل، مقل۔ارزق، اُشق، گندھک اَملسار ، تخم اٹنگن ہر ایک ۲۰ گرام باریک سفوف کر کے اُشق اور مقل کو روغنِ زیتون کہنہ ۱۲۵ ملی لیٹر مںہ حل کریں اور موم زرد ۲۰ گرام کو آگ پر پگھلا کر سب دواؤں کو ملائیں۔

ترکیب استعمال
ضرورت کے وقت روغن گل اور روغن زیتون ملا کر ضماد کریں۔

مرہم حنائی
وجہ تسمیہ
برگِ حناء کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام مرہم حنائی رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
نافع قروح خبیثہ ، قروح آتشک و قروح مُزمنہ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
موم خام ۴۰ گرام، مسکۂ گاؤ ۴۰ گرام، برگِ حناء خشک ،کات سفید۱۰ گرام، فلفل سیاہ ۶ گرام ادویہ کو باریک پیس کر مسکۂ گاؤ کو پگھلا کر تمام ادویہ کو آپس میں ملا کرمرہم بنائیں اور حسبِ موقع و ضرورت استعمال کریں۔

مرہم خنازیر
افعال و خواص اور محل استعمال
یہ مرہم خنازیری گلٹیوں کو تحلیل کرتا ہے ،اورامِ مغابن میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
رال سیدم،رتن جوت ہر ایک ۲۰ گرام ، توتیا مردار سنگ ہر ایک ۱۰ گرام باریک سفوف کر کے موم زرد ۴۰ گرام کو روغنِ کنجد ۸۰ ملی لیٹر میں پگھلا کر خوب ملائیں اور شیشی میں محفوظ کر لیں۔

ترکیب استعمال
خنازیری گلٹیوں پر بطور ضماد لگائیں یا مالش کریں۔

مرہم داخلیون
وجہ تسمیہ
داخلیون سریانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی لعاب کے ہیں ، چونکہ اِس مرہم میں لعابات شامل ہیں ، اِس لئے اِس کو یہ نام دیا گیا ہے۔ اس کا مخترع بقراط ہے۔ بعد کے اطِبّا نے اِس نسخہ میں تصرفات کئے ہیں۔ اِسی لئے اِس کے اجزاء اور اوزان میں تفاوُت پایا جاتا ہے۔ اِس میں اصل اور عمود زیتون مردار سنگ اور لعابات ہیں۔

افعال و خواص اور محل استعمال
اورام صُلب کو تحلیل کرتا، نضبح دیتا اور ملائم کرتا ہے۔ خنازیر، رسولی اور تعقدِ عصب کو دور کرتا ہے۔ ورم رحم اور صلابت رحم میں خصوصی تاثیر کا حامل ہے۔

جزءِ خاص
لعابات۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مردار سنگ ۶۰ گرام، تخم خطمی، اسپغول، تخم کنوچہ، تخم حلبہ، تخم کتاں ہر ایک ۲۰ گرام۔ ادویہ کو رات کو پانی میں بھگوئیں۔ صبح مل کر گاڑھا لعاب نکالیں۔ اِس کے بعد مردار سنگ باریک پیس کر سب کو روغنِ زیتون کہنہ ۱۲۵ ملی لیٹر میں ملا کر آگ پر پکائیں اور لکڑی سے ہلاتے رہیں۔ جب صرف روغن باقی رہ جائے تو آگ سے اُتار کر چھان لیں۔

ترکیب استعمال
خنازیر وغیرہ میں بطور ضماد لگائیں اور ورم رحم و صلابت رحم میں آبِ برگ مکوء سبز، آبِ برگ کاسنی سبز یا سفیدی بیضۂ مرغ اور روغنِ گل ملا کربہ طور حمول و فرزجہ دایہ کے ذریعہ استعمال کرائیں۔
اگر اِس مرہم کو زیادہ مؤثر بنانا ہو تو شب یمانی، زنگار ، انگور کی لکڑی کی راکھ ہر ایک ۱۰ گرام خبث الحدید ۳ گرام پیس کر ملائیں اور استعمال کریں۔

مرہم رال

افعال و خواص اور محل استعمال
آتشک کے زخموں اور ناسور میں مفید ہے۔ زخموں کو بھرتا ہے اور بد گوشت کو دور کرتا ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
موم سفید ،کافور، رال، کات سفید ہر ایک ۵ گرام الگ الگ سفوف کریں۔ روغنِ گاؤ ۶۰ گرام میں موم ملا کر آگ پر حل کریں۔ پہلے رال شامل کریں ، پھر کات سفید اور پھر کافور ملا کر خوب حل کریں۔ مرہم تیار ہے۔
ترکیب استعمال: زخم کو صاف کر کے حسب ضرورت مرہم لگائیں۔