دستور المرکبات
 

ماء الذَّھب (سیّال طِلاء)
افعال و خواص اور محل استعمال
مقوّی اعضائے رئیسہ و مقوی باہ ہے۔ حرارتِ غریزی کو برانگیختہ کرتا ہے، دِق اور ضعف عام میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
طِلاء (سونا) ایک گرام ، تیز اب شورہ ۳۰ملی لیٹر، تیزاب نمک ۳۰ ملی لیٹر ملا کر شیشی میں ڈالیں۔ کچھ دِن بعد سونا حل ہو جائے گا، پھر اُس میں ۴۰ ملی لیٹر پانی شامل کر کے بوتل میں محفوظ کریں۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ قطرے ہمراہ ماء الَّلحم یا آبِ سادہ۔

ماء الفِضَّہ (سیَّال نُقرہ)
افعال و خواص اور محل استعمال
مقوّی اعضائے رئیسہ اور مقوی باہ ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
برادہ نُقرہ ۰ا گرام، تیزاب شورہ ۶۰ ملی لیٹر، آبِ سادہ ۴۰ ملی لیٹر ملا کر ہلکی آنچ پر رکھیں۔ پگھلنے پر اُتار کر چھان لیں اور دس گنا پانی شامل کر کے بوتل میں محفوظ کریں۔

مقدار خوراک
۵ قطرے پانی میں ملا کر استعمال کرائیں۔

ماء الشعیر (جو کا پانی)
ماء الشعیر تیار کرنے کے لئے موٹے مسلّم جَو لے کر کم و بیش ۴ گھنٹے تک پانی میں بھگو کر رکھیں ، جب وہ خوب پھول جائیں تو پانی سے نکال کر اوکھیے میں چھڑلیں (کوٹ لیں )تاکہ وہ اچھی طرح مقشر ہو جائے ، مقشر کر لینے کے بعد اُس کو اچھی طرح دھوکر ۵۰ گرام جَو کو ایک لیٹر پانی میں خوب اچھی طرح پکائیں۔ یہاں تک کہ پانی غلیظ اور بقول اِبنِ رُشد سُرخ ہو جائے اور جَو پھٹنے لگ جائیں۔ اِس کے بعد چھان کر مصری یا شربت ملا کر ماء الشعیر کو استعمال میں لائیں۔
نوٹ: ابنِ رُشد کی رائے میں جَو کو اُس کے وزن سے بیس گنا پانی میں بھگونا چاہیے۔ لیکن مروان ا بن زُہر نے جَو کو پانی میں بھگونے سے منع کیا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ جَو کو دھوکر صاف کر کے براہِ راست پانی میں پکا دیا جائے اور ماء الشعیر تیار کیا جائے۔
بعض ماہر ین کا مشورہ ہے کہ سفید اور عمدہ جو لے کر چھیلیں اور ایک پیمانہ جَو میں چَودہ پیمانہ عمدہ اور صاف شیریں پانی ڈال کر معمولی آگ پر پکائیں اور جھاگ دور کرتے جائیں۔ جب جو خوب پک جائیں تو اُٹھا کر چھان لیں۔ ماء الشعیر تیار ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے پانی کی مقدار ۲۴پیمانہ تک بھی بتائی ہے، مگر ایسے ماء الشعیر کی قوت کم ہوگی۔

ماء الشعیر ملحّم
بعض اوقات مزید قوت حاصل کرنے اور غایت تغذیہ کی غرض سے ماء الشعیر میں گوشت شامل کر دیا جاتا ہے جسکی ترکیب یہ ہے کہ گوشت کو مصالحہ جات کے ساتھ قورمہ کی طرح تیار کر لیں اور اِس میں گھی نہ ڈالیں یا بہت کم ڈالیں۔ پھر جَو کو اچھی طرح مقشر کر کے پانی میں ڈال کر دو۔ تین جوش دیں ، پھر دوسرا تازہ پانی مثل شوربا کے ڈال کر پکائیں۔ جب خوب اچھی طرح گل جائے تو چھان کر کام میں لائیں اور چھڑے ہوئے جَو میں آبِ یخنی ملا کر یہاں تک پکائیں کہ وہ گاڑھا ہو جائے۔ اِس طرح بھی ماء اللحم تیار کیا جاتا ہے۔ پیچش اور دستوں میں استعمال کرانے کے لئے ماء اللحم محمّص بھی استعمال کرایا جاتا ہے جس کی قوتِ قابضہ بڑھانے کے لئے پوست خشخاش شامل کرتے ہیں۔

ماء َالَّلحم
بعض اوقات صرف سادہ شوربا اور یخنی کو بھی ماء ُاللحم کہا جاسکتا ہے ، لیکن اصطلاحی طور پرماء اللحم اُس مخصوص عرق کو کہتے ہیں جو گوشت اور دیگر ادویہ کو اُبال کر عمل تقطیر کے ذریعہ کشید کیا گیا ہو۔ اِس سلسلہ میں قرع انبیق اور نل بھبکہ جیسے آلات استعمال میں لائے جاتے ہیں۔
موجودہ زمانہ کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عمل تقطیر کے ذریعہ ماء اللحم تیار کرنا نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی اِس کوماء ُاللحم کہا جا سکتا ہے ، اِس لئے کہ عرق ماء اللحم میں عملِ تعریق سے گوشت کے اجزاء آتے ہی نہیں ہیں ، چنانچہ بعض لوگ ماء ُاللحم کے دیگر اجزاء کو عملِ تبخیر کے ذریعہ حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن اِس میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ اِس طرح کا مرکب دیر پا نہیں ہوتا اور یہ زیادہ دِنوں تک قائمِ نہیں رہ پاتا۔
نوٹ: ماء اللحم کا دوسرا نام یخنی بھی ہے جس کے تیار کرنے کی دو صورتیں ہیں
۱۔ گوشت کے ہمراہ ہیل خرد و کلاں ، کشنیز خشک اور پیاز کی پوٹلی باندھ کر ڈال دیا جائے۔ ذائقہ کے لئے اِس میں قدرے نمک بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اِس کے بعد اِس کو پکائیں۔ جب گوشت گل جائے تو اُس کے پانی کو الگ کر کے گھی سے داغ دیں۔ یخنی تیار ہے۔
۲۔ یخنی بنانے کی دوسری ترکیب یہ ہے کہ گوشت میں نمک ملا کر ایک روغنی مرتبان میں رکھیں اور اُس مرتبان کے منھ کو سرپوش سے ڈھک دیں اور اُس کے مقامِ اتصال کو آٹے وغیرہ سے اچھی طرح بند کر دیں۔ اِس کے بعد ایک بڑی دیگ میں پانی بھرکر جوش دینا شروع کریں۔ جب پانی جوش مارنے لگے تو مرتبان مذکور کو اُس بڑی دیگ کے اندر رکھ دیں اور تین گھنٹے تک اِسی طرح جوش دیتے رہیں۔ اِس کے بعد مرتبان کو نکال کراُس کا منھ کھول کر گوشت کو علاحدہ کر لیں اور یخنی علاحدہ کر لیں اور حسبِ ضرورت کام میں لائیں۔

مالتی بسنت (قُرص)
وجہ تسمیہ
یہ ایک آیورویدک نسخہ ہے۔ مالتی بمعنی مقوی اوربسنت بمعنی زرد۔ یہ جہاں معدہ، امعاء اور اعضاءِ رئیسہ کو قوت عطا کرتی ہے وہاں شنگرف اور ورقِ طِلاء کی وجہ سے اِس کا رنگ زرد یعنی بسنتی ہوتا ہے۔اِسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
اسہال، سنگرہنی، حمیٰ مزمنہ، دِق، فساد خون میں مفید ہے۔ معدہ اور اعضاء رئیسہ کو قوت دیتی ہے۔ بھوک لاتی ہے اور حرارت غریزی میں اِضافہ کرتی ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ورق طِلا ایک گرام، مروارید ناسفۃ ۲ گرام، شنگرف ۳ گرام، فلفل سیاہ ۴ گرام، سنگ بصری ۸ گرام، پہلے تمام ادویہ کو باریک کریں۔ پھر گائے کے مکھن میں چرب کر کے کھرل کریں۔ اِس کے بعد آبِ لیموں کاغذی میں اِس قدر کھرل کریں کہ دہنیت جاتی رہے۔ پھر قُرص بنا کر خشک کر لیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۱۳۵ ملی گرام مناسب بدرقہ کے ساتھ۔