دستور المرکبات
 

لَعوق
وجہ تسمیہ
لعوق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی چاٹنے کی چیز ہے چونکہ یہ مرکب چاٹ کر استعمال کیا جاتا ہے، اِس لئے اِس کو لَعوق کا نام دیا گیا۔ اِس کا استعمال آلات تنفُّس کے ساتھ مخصوص ہے۔ لعوق کا موجد جالینوس ہے۔
لعوق بھی دراصل ایک قوامی مرکب ہے جس کا قوام شربت سے گاڑھا اور معجون سے رقیق ہوتا ہے۔ لعوق زیادہ تر امراضِ حلق و حلقوم اور صدر وریہ میں مستعمل ہے۔ یہ اپنی لزوجت اور لیس کی وجہ سے حلق ومری سے قدرے تاخیر سے گزرتا ہے اور اِس کا انجذاب عروق کے ذریعہ تدریجاً ہوتا رہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ لعوقات کے استعمال کے بعد پانی پینے کی ہدایت نہیں کی جاتی ہے۔ لعوقات اپنی لزوجت کی وجہ سے مقامی طور پر عروق خشنہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور بلغم کا اِخراج آسان ہو جاتا ہے۔
اگر لعوق صرف خشک ادویہ سے بنانا ہو تو اُن کا سفوف تیار کر کے شکر کے قوام میں یا شہدِ کف گرفتہ میں آہستہ آہستہ شامل کر کے مخلوط کرنے کے بعد تیار کرتے ہیں ، لیکن اگر لعوق کے نسخہ میں جوشاندہ یاخیساندہ والی ادویہ شامل کرنی ہوں تو پہلے اُس کا جوشاندہ یا خیساندہ تیار کر کے چھان کر اُس میں شہد، شکر یا مصری شامل کر کے قوام بنائیں۔ اِس کے بعد اگر اِس میں کچھ خشک ادویہ ہوں مثلاً صمغ عربی، کتیرا یا رُبُّ السوس وغیرہ تو اِس صورت میں مجوَّزہ سفوف کو قوام تیار کر کے آگ سے علاحدہ کر لینے کے بعد ہی شامل کیا جائے۔
اگر لعوق میں مغز املتاس شامل کرنا ہو تو اُس کا جوشاندہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ جوش دینے سے خیار شنبر کی قوت ضعیف ہو جاتی ہے۔ لہٰذا باقی ماندہ ادویہ کا جوشاندہ تیار ہو جانے کے بعد اِس میں مغز املتاس کو گھول کر چھان لیا جائے۔ پھر مصری، شکر یا شہد کو شامل کر کے قوام تیار کار جائے۔ اِس کا قوام شربت سے گاڑھا اور معجون سے رقیق ہونا چاہیے۔ لعوق کے قوام میں ماہرینِ صیدلہ نے ادویہ کے وزن سے ۵ گنا وزن تک شکر شامل کرنے کی اجازت دی ہے۔

لعوق بادام
وجہ تسمیہ
بادام جزء خاص ہے، اِس لئے اِس نام سے موسوم ہوا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
سعال یابس اور سل میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
مغز بادام شیریں۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
نشاستہ ٔ گندم،کتیرا، صمغ عربی ، مغز تخم خیار، مغز تخم کدوئے شیریں ہر ایک ۲۰ گرام رُبُّ السوس ، تخم خشخاش سفید، بہدانہ شیریں ہر ایک ۳۰ گرام آرد باقلا ، تخم خطمی ہر ایک ۴۰ گرام، مغز بادام شیریں ، مویز منقیٰ ہر ایک ۵۰ گرام ، مویز منقیٰ کو روغن گاؤ میں پکائیں اور پیس کر مغزیات کا سفوف شامل کر کے خوب ملائیں۔ اِس کے بعد دیگر دوائیں پیس کر ملائیں اور شربت انار شیریں بقدرِ ضرورت لے کر یا پھر قند سفید دواؤں کا سہِ چند لے کر قوام بنائیں اور مرکب کو محفوظ کر لیں۔

مقدار خوراک
۵ تا ۱۰ گرام۔

لعوقِ خشخاش
افعال و خواص اور محل استعمال
سعال، نفث الدم اور سل میں افادیت رکھنے کے علاوہ نیند لاتا ہے اور جنون کو فائدہ دیتا ہے۔سعال یابس اور نزلۂ حار میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
پوست خشخاش

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست خشخاش (مع تخم) ،عناب ہر ایک ۲۰ گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح کو جوش دیں۔ جب نصف پانی رہ جائے تو مل کر صاف کر کے قند سفید نصف کلو کا قوام بنائیں اور نشاستہ، کتیرا، صمغ عربی، مغز بادام، مغز تخم کدوئے شیریں ہر ایک ۱۵ گرام باریک پیس کر اِضافہ کریں۔

مقدار خوراک
دِن میں ۳۔۴ مرتبہ تقریباً ۲۰ گرام چٹائیں۔

لعوق خیار شنبر
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص خیار شنبر کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
خشونَتِ حلق، سرفہ، ذات الجنب اور ضیق النفس میں مفید ہے۔ تلئین شکم کرتا ہے۔مخرج بلغم، مخرج رطوبات نزلاوی مزلق و مسہل بلغم، مسہل اخلاط۔

جزءِ خاص
خیار شنبر۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عناب ،سپستاں ہر ایک ۱۵ عدد بنفشہ ۹؍ گرام سناء مکی ۱۵ گرام رات کو ۷۵۰ ملی لیٹر پانی میں بھگو کر صبح جوش دیں۔ جب نصف پانی رہ جائے اُتار کر مل کرصاف کر کے مغز املتاس ۴۵ گرام شیر خشت ۱۵ گرام خمیرہ بنفشہ ۳۰ گرام ترنجبین ۶۰ گرام ملا کر دوبارہ چھانیں اور قند سفید ۲۵۰ گرام شامل کر کے ہلکی آگ پر قوام کے لئے رکھیں۔ قوام غلیظ ہونے پر روغنِ بادام شیریں ۵ ملی لیٹر کا اِضافہ کریں۔

مقدار خوراک
۱۰ تا ۲۰ گرام۔