دستور المرکبات
 

کشتۂ طوطیا
وجہ تسمیہ
طوطیا اِس کا جزءِ خاص ہے، اِسی نام سے اِسے موسوم کیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی اعصاب، دافع آتشک و سوزاک، مصفی خون، نافع بواسیر، مدمل قروح خبیثہ وعفنہ، دافع ناسور۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
نیلا طوطیا دس۱۰ دس۱۰ گرام کی دو ۲ڈلیاں ۲۵۰ گرام ، پوست ریٹھا کے درمیان کوزۂ گِلی میں گل حکمت کر کے تین کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ پھر نکال کر پیس کر محفوظ کر لیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۱۲۵ ملی گرام۔آتشک و قروح خبیثہ کی صورت میں یہ کشتہ مکھن میں ملا کر کھلائیں۔ پیاس کے وقت روغنِ زرد(دیسی گھی) پلائیں۔ بارہ گھنٹہ سے پہلے پانی نہ دیں۔ تمام قروح خشک ہو جائیں گے۔

کشتۂ عقیق
وجہ تسمیہ
ظاہر ہے کہ عقیق کی شمولیت کی بناء پر یہ نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی قلب و اعضاء رئیسہ، دافع خفقان مالیخولیا، حابس الدم، مخرج سنگ گردہ و مثانہ، مقوی باہ، مغلظ منی، نافع سوزاک مزمن ، مدمل قروح مزمنہ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عقیق ۱۰ گرام کے ٹکڑے کر کے گل نیلو فر اور بارتنگ تازہ کے نغدہ میں بند کر کے ۲۰ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ چونکہ عقیق سخت پتھر ہے ، اِس لئے اِسے کشتہ کرنے سے پہلے خوب باریک پیسنا چاہیے۔ حتّیٰ کہ اِس میں کر کراہٹ باقی نہ رہے۔ اِس مقصد کے لئے اِس کو بار بار مناسب بوٹیوں کے پانی میں سحق کریں ، پھر کشتہ بنائیں۔
اگر کشتہ بننے میں کچھ کمی رہ جائے تو دو بارہ یہ عمل کریں۔ مکمّل کشتہ بن جانے پر ہی اس کو استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام۔

کشتۂ فولاد
افعال و خواص اور محل استعمال
امراضِ بارِدہ بلغمیہ دماغیہ کے لئے عجیب التاثیر ہے۔ ضعف معدہ، ضعف جگر، سؤ القنیہ، استسقاء، بواسیر، قولنج ریحی، جریان، سیلان الرحم اور سلس البول میں مفید ہے۔ تقویت باہ اور تقویت گردہ و مثانہ کے علاوہ ہر قسم کے اسہال میں فائدہ دیتا ہے۔ دمِ صالح پیدا کرتا ہے۔ بدن کو قوت دیتا اور حُمرۃ الدم کو بڑھاتا ہے۔
دیگر کشتوں کی طرح کشتہ فولاد میں بھی ترکیب تیاری کو بہت دخل ہے، حسبِ اختلافِ تراکیب اِس کی تاثیر میں فرق واقع ہوتا ہے۔ کشتوں کی عام شناخت کے مطابق اِس کی عمدگی کی بھی شناخت یہ ہے کہ پانی پر تیرنے لگے یا کم از کم پانی میں حل ہو جائے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
برادہ فولاد ۵۰ گرام، پارہ ۳ گرام ، لعاب گھی کوار میں کھرل کر کے دو کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح چار مرتبہ کریں اور ہر مرتبہ ۳ گرام پارہ کااِضافہ کریں۔ پھر ہڑتال طبقی ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے پھر سم الفار ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے پھر شنگرف رومی ۳۔۳ گرام کے ساتھ شیر مدار میں کھرل کر کے چار مرتبہ آنچ دیں۔ اِس طرح کل ۱۶ آنچیں دیں ،کشتہ تیار ہو جائے گا۔

مقدار خوراک
۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام ، مناسب بدرقہ کے ساتھ مثلاً استسقا کے لئے شیر شتر کے ساتھ، تقویت باہ کے لئے مکھن کے ساتھ، بواسیر کے لئے رسوت کے ساتھ اور اسہالِ مزمنہ کے لئے کتیرا ایک گرام کے ساتھ استعمال میں لائیں۔

کشتۂ فولاد سونے چاندی وال

افعال و خواص اور محل استعمال
غایت درجہ مقوی باہ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
کشتہ نقرہ ۵ گرام، کشتہ طِلا ۱۰ گرام ،کشتہ تانبہ ۲۰ گرام ،پارہ ۴۰ گرام، گندھک آملہ سار ۸۰ گرام ،کشتہ فولاد ۱۶۰ گرام سب کو ملا کر ۱۴ گھنٹے کھرل کریں اور آتشی شیشی میں رکھ کر گل حکمت کر کے شیشی کا منہ بند کر دیں۔ پھر ایک ہنڈیا میں دو کلو نمک سیندھا کے درمیان اِس شیشی کو اِس طرح رکھیں کہ شیشی کا منہ ہنڈیا کے برابر رہے۔ ۲۴ گھنٹے تک آنچ دیں۔ سرد ہونے پر نکال کر کھرل میں ڈالیں اور شیر مدار میں کھرل کریں۔ جب خشک ہو جائے تو اسگندھ کے جوشاندہ میں کھرل کریں۔ اِسی طرح موصلی، تالمکھانہ اور ستاور کے جوشاندہ میں علیحدہ علیحدہ کھرل کرتے رہیں (شیر مدار یا دوا کا جوشاندہ اِتنی مقدار میں ہو کہ کھرل کی جانے والی دوا تر ہو جائے )۔

مقدار خوراک
۳۰ سے ۶۰ ملی گرام۔

کشتہ قرن الایِّل
وجہ تسمیہ
بارہ سنگھے کے سینگوں سے تیار کیا جاتا ہے جس کو عربی میں ’’ قرن الایّل‘‘ کہتے ہیں ، اِسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
ضیق النفس، سعال بلغمی ، ذات الجنب، وجع الصدر، وجع الاضلاع کے لئے مخصوص ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
قرن الایّل کو برادہ کر کے شیر مدار میں تر کریں ، پھر اُسے خشک کریں۔ اِسی طرح تین مرتبہ تر کر کے خشک کریں اور مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کر کے ۵ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ پھر نکال کر بدستور شیر مدار میں تر و خشک کر کے ۵ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِس طرح ۶ مرتبہ یہ عمل کریں۔ کشتہ تیار ہو جائے گا۔

مقدار خوراک
۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام۔

کشتہ قلعی
وجہ تسمیہ
جزءِ خاص قلعی کی بناء پر اِس کا نام کشتہ قلعی دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
کشتہ قلعی امراضِ مثانہ کے لئے خاص طور پر نافع ہے۔ امراض آلات بول، گردہ و مثانہ میں بہترین کام کرتا ہے۔ ضعف باہ، جریان، سیلان الرَّحم، سوزاک اور ذیابیطس میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
قلعی ایک حصہ، بھنگ ، ہلدی، پوست خشخاش ہر ایک چار حصہ، قلعی کو کڑاہی میں پگھلائیں اور دوسرے اجزاء باریک سفوف کر کے چٹکی چٹکی ڈالتے جائیں اور لوہے کی سیخ سے ہلاتے رہیں۔ آنچ اوسط درجے کی رہے تاکہ قلعی منجمد نہ ہونے پائے۔ سفوف شدہ دوائیں ختم ہونے پر قلعی راکھ ہو جائے گی۔ اِس راکھ کو شیرۂ گھی کوار میں تین گھنٹہ تک کھرل کر کے دس کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ بعد میں دہی کے پانی میں کھرل کر کے اِسی قدر آنچ دیں۔ زرد رنگ کا کشتہ تیار ہو جائے گا۔

مقدار خوراک
۱۲۵ تا ۲۵۰ ملی گرام ، مناسب بدرقہ کے ساتھ۔