دستور المرکبات
 

کُشتہ (CARBONAS )
وجہ تسمیہ
کشتہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’مارا ہوا‘‘ ہے لیکن اصطلاحِ طِب میں کُشتہ اُس خاص مرکب کو کہتے ہیں جس میں ادویہ کو جلا کر چونا (کلس) کی طرح بنا لیا گیا ہو۔ کشتہ جات دراصل کار بوناس (Carbonas ) ہوتے ہیں جو بعض طبّی اغراض کے تحت استعمال میں لائے جاتے ہیں تاکہ اُن سے اِزالۂ امراض اور صحت کی بازیابی ہو سکے۔ ایسی ادویہ کو ادویۂ محرَّقہ و مُکلَّسہ کہا جاتا ہے۔
کشتہ سازی میں بروئے کار آنے والی دوائیں حرارت کے زیرِ اثر کیمیاوی اعمال سے متاثر ہو کر ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہیں جن سے بدنِ انسانی میں اُن کا انجذاب ممکن اور سہل ہو جاتا ہے اور خون میں شامل ہو کر اپنے افعال و اثرات مرتب کرتی ہیں جس سے بدن کی حرارتِ غریزی فعال و متحرک ہو جاتی ہے۔ نیز بنیادی شرح استحالہ B.M.R. بھی بڑھ جاتا ہے۔
دھاتوں کے کشتے دو طرح کے ہوتے ہیں :(۱) آکسائیڈس (Oxides ) (۲) کاربونیٹس (Carbonates )۔ آکسائیڈس اُن کشتوں کو کہتے ہیں جن کو آکسیجن گیس کی موجودگی میں کشتہ کیا جاتا ہے۔ اِس قسم کے کشتوں کے ذرّات سخت ہوتے ہیں۔ اُن کی رنگت صاف اور شفّاف نہیں ہوتی۔ البتہ یہ کافی مفید ہوتے ہیں لیکن کار بونیٹس (Carbonates ) قسم کے کشتوں کی رنگت صاف ہوتی ہے۔
تکلیس کا مقصد یا تو دوا کی حِدّت کو توڑنا یا اُس کو لطیف بنانا ہوتا ہے اور اِس مقصد کے لئے زرنیخ و زاج اخضر جیسی چیزوں کو مکلّس کرتے ہیں ، جبکہ نمک اور سرطان کو لطیف بنانے کے لئے محرّق کیا جاتا ہے، احجار و اصداف کو مکلّس کر کے اُن کی حِدّت بڑھائی جاتی ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب ’’کتاب التکلیس‘‘۔
کشتہ کے فوائد کے سلسلہ میں یہ امر خاص طور پر ملحوظ رہنا چاہیے کہ اختلاف ترکیب اور اختلاف بدرقہ کی وجہ سے ایک ہی دواء کے کشتہ سے مختلف خواص حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ مطلوبہ افعال کی خاطر مختلف ترکیبوں سے کسی دواء کا کشتہ تیار کیا جاتا ہے اور اُسی کی مناسبت سے بدرقہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُکلَّس دواء اپنی خاص تاثیر کے علاوہ اُس بوٹی یا دواء کی تاثیر بھی رکھتی ہے جس میں اُسے کشتہ کیا گیا ہے۔ مثلاً سنگِ جراحت بالخاصیت حابس دم و مدمِّل جراحات ہے۔ شیر خر میں کشتہ شدہ دافع حمیٰ دِق ، گلو میں کشتہ شدہ دافع اقسام حمیٰ ، شبِّ یمانی میں کشتہ شدہ دافع ناصور ہے۔

کشتہ ابرک سفید
افعال و خواص اور محل استعمال
سعال، ضیق النفس اور بخار میں خاص طور پر مستعمل ہے۔ جریان، ضعف باہ اور سیلان الرَّحم میں فائدہ دیتا ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ابرک سفید، محلوب ۱۰۰ گرام کو مِٹی کے کوزہ میں رکھیں اور اُس میں لعاب گھیکوار اِتنا داخل کریں کہ ابرک کے اوراق تر بہ تر ہو جائیں۔ پھر گلِ حکمت کر کے ۱۰۔۱۲ اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِس سے ابرک کے اوراق نرم ہو جائیں گے۔ اُِس کے بعد شورہ قلمی، ابرک کے وزن سے ڈیڑھ گنا زیادہ لے کر اِتنے پانی میں حل کریں جس میں ابرک کے اوراق تر ہو جائیں۔ پھر شورہ کے اِس محلول میں ابرک کے اوراق تر کر کے مٹی کے کوزہ میں گلِ حکمت کریں اور ۱۰۔۱۲ بارہ کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ ابرک کا سفید کشتہ تیار ہو جائے گا اور چمک باقی نہیں رہے گی۔اِس کو باریک پیس لیں اور صاف پانی اِتنا ڈالیں کہ کشتہ سے چار انگل اوپر رہے۔ دو تین گھنٹہ بعد پانی نتھار لیں۔ اِسی طرح چند باریہ عمل کریں تاکہ ابرک میں شورہ کی نمکینی باقی نہ رہے۔ اِس کے بعد استعمال میں لائیں۔

کشتہ ابرک سیاہ
افعال و خواص اور محل استعمال
کشتہ ابرک سفید کی بہ نسبت کشتہ ابرک سیاہ زیادہ قوی الاثر ہوتا ہے۔ حمٰی مزمِن اور حمٰی وبائی میں خاص طور پر نافع ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ابرک سیاہ محلوب ۱۰ گرام، دہی ۳۰ گرام کے ساتھ کھرل کر کے قرص بنائیں اور گلِ حکمت کر کے دو کلو اُپلوں کی آنچ دیں۔ اِسی طرح اکیس مرتبہ یہ عمل کریں۔ کشتہ تیار ہو جائے گا۔

مقدار خوراک
۱۲۵ ملی گرام تا ۲۵۰ ملی گرام تک۔

کشتہ اُسْرُب (سیسہ)
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص سیسہ(اُسْرُب) کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
سُرعتِ انزال، جریان اور کثرتِ احتلام میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
اُسْرُب (سیسہ)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سیسہ بقدر ضرورت لے کر لوہے کی کڑھائی میں پگھلائیں اور تھوڑی تھوڑی کھانڈ ڈال کر سہجنہ کی لکڑی سے چلاتے رہیں۔ یہاں تک کہ وہ خاکستر ہو جائے۔ سرد ہونے پر چھان لیں اور محفوظ کر لیں۔

مقدار خوراک
۳۰ ملی گرام ہمراہ مکھن یا معجون آرد خرما ۱۰ گرام۔

کشتۂ پھٹکری (یشب)
وجہ تسمیہ
یشب کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام کشتۂ یشب /پھٹکری رکھا گیا۔

افعال خواص اور محل استعمال
حمی ملیریا ،نزلہ و زکام اور ویروسی بخاروں میں مفید ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
یشب ۲۰ گرام، شیرِ مدار ۲۰ ملی لیٹر، آبِ برگِ دھتورا ۶۰ ملی لیٹر، شرابِ برانڈی ۵۰ ملی لیٹر لے کر اوّلاً یشب کو ایک دِن رات کے لئے شیرِ مدار میں کھرل کر کے خشک کر لیں۔ دوسرے دِن آبِ برگ، دھتورا میں کھرل کر کے خشک کریں۔ پھر تیسرے شرابِ برانڈی میں کھرل کر کے اقراص بنائیں اور کوزۂ گلی میں رکھ کر احتیاط سے بند کر کے گلِ حکمت کریں اور دس کلو اُپلوں کی آنچ دے کعر کشتہ تیار کریں۔ کوزہ کے سرد ہو جانے کے بعد باہر نکال کر اُسے باریک پیس لیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدارِ خوراک
۱۲۵ ملی کسی مناسب بدرقہ کے ساتھ۔