دستور المرکبات
 

کحل
کحل اطِبّاء متقدِّمین کی ایجادات میں سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فیثا غورس طبیب نے سانپ سے یہ ترکیب حاصل کی تھی اور بعض اطِبّاء و فلاسفہ نے بقراط اور جالینوس کی طرف اِس ترکیب کو منسوب کیا ہے۔

وجہ تسمیہ
عربی زبان لغت میں کحل سرمہ کو کہتے ہیں۔ یہ سفوف کی ایک قسم ہے جو آنکھ کے لئے مخصوص ہے۔ اِسے نہایت باریک کھرل کیا جاتا ہے۔ اجزاء کے لحاظ سے دوسرے مرکبات کی طرح اِس کے بھی بہت سے نسخے ہیں جن کے نام اجزاء اور امراض کے لحاظ سے رکھے گئے ہیں۔ مثلاً ’’کحل الجواہر‘‘ جواہرات کی شمولیت کی وجہ سے ’’کحل بیاض‘‘ سفیدی چشم‘‘ کی وجہ سے ’’کحل چکنی دواء ‘‘ صابون کی شمولیت کی وجہ سے ، کحل روشنائی آنکھ کی روشنی میں اِضافہ کے لئے مفید ہونے کی وجہ سے موسوم ہںب۔

کحل بیاض
افعال و خواص اور محل استعمال
بیاض، پھولا، ناخونہ اور دھندلا نظر آنے میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
نحاس محرّق

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
نحاس (تانبہ)محرّق، شادنج مغسول ہر ایک ۵ گرام،اقلیمیائے نقرہ ۲ گرام، زنگار، صبرِ زردبورہ ارمنی ایک ایک گرام، فلفل سیاہ، فلفل دراز، زعفران ،ہر ایک آدھ گرام۔ تمام ادویہ کو سرمہ کی طرح خوب باریک کھرل کریں اور کسی شیشی میں محفوظ کر لیں۔

ترکیب استعمال
دِن میں دو بار سَلائی سے آنکھوں میں لگائیں۔

کحل الجواہِر
افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی بصارت اور مقوی طبقاتِ چشم ہے۔ دافع دمعہ (ڈھلکا) ہے، نافع جرب الاجفان۔نافع خارش چشم۔

جزءِ خاص
جواہرات

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
کافور ایک گرام، نمک ہندی، قرنفل، اُشنہ ہر ایک ۱۵ گرام، نمک اندرانی، ساذج ہندی، سفیدہ قلعی، فلفل سیاہ، سنبل الطیب، سرمہ اصفہانی، زعفران ، بسدِّ احمر ہر ایک ۲۰ گرام، مِس سوختہ، مامیرانِ چینی، نوشادر، زرد چوبہ (ہلدی) ہر ایک ۳۰ گرام پوست ہلیلہ زرد، مروارید ناسفتہ ہر ایک ۴۰ گرام صبر سقوطری، عصارہ مامیثا، یاقوت، فیروزہ ہر ایک ۵۰ گرام ، کفِ دریا، اقلیمیائے طِلائ، اقلیمیائے نُقرہ ہر ایک ۱۰۰ گرام۔ تمام ادویہ کو عرقِ گلاب میں اِس قدر کھرل کریں کہ ایک کلو عرق جذب ہو جائے، پھر اِسے استعمال میں لائیں۔

ترکیب استعمال
دِن میں دو بار سَلائی سے آنکھ میں لگائیں۔

کحل الجواہِر بہ نسخۂ دیگر
افعال و خواص اور محل استعمال
یہ سرمہ بہت مشہور اور کثیر النفع ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سرمۂ اصفہانی ۱۵ گرام، توتیا مغسول ۶ گرام، مرجان، لاجورد مغسول، ساذج ہندی، مامیران چینی، فلفل سفید، شاذنج مغسول۔ ہر ایک ۶۔۶ گرام ، یاقوت رُمّانی، زَمَرُّد، فیروزہ، بیخ مرجان، مروارید ناسفتہ (بلا سوراخ کا موتی) ورق نقرہ محلول، ورق طِلاء عقیق، زعفران ہر ایک ۳۔۳ گرام۔ تمام ادویہ کو کوٹ چھان کر َسمّاق کے کھرل میں خوب اچھی طرح سحق کریں اور محفوظ رکھ لیں۔

ترکیب استعمال
بوقتِ ضرورت ۲۔۲ سَلائی آنکھ میں لگائیں۔

کحل چکنی دواء
افعال و خواص اور محل استعمال
ابتدائے نزول الماء، جالا ، پھولا اور دھند کے لئے مفید ہے۔

جزءِ خاص
صابون۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
صابون۶۰ گرام ،توتیا ، رال سفید، ہر ایک ۳ گرام، صابون کو چاقو سے تراش کر لوہے کے برتن میں آگ پر رکھیں۔ جب وہ گلنے لگے، اُس وقت توتیا کا سفوف شامل کر کے خوب حل کریں۔ جب کحل صابون کی طرح رقیق ہو جائے تو رال کا سفوف شامل کر کے آہنی دستہ سے خوب ہلائیں اور آنچ تیز کریں۔ جب صابون خشک ہو کر سیاہ ہونے لگے تواُسے آگ سے اُتار لیں اور ٹھنڈا ہونے کے بعد دواء کو برتن سے نکالیں اور استعمال میں لائیں۔

ترکیب استعمال
ضرورت کے وقت دواء کو پانی میں حل کر کے سَلائی سے آنکھ میں لگائیں۔

کحل حِوَل
وجہ تسمیہ
حِوَل (بھینگا پن) میں مفید ہونے کی وجہ سے اِس کو ’کحل حِوَل‘ کا نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
دافع حول، مقوی چشم، منقّی، رطوباتِ فاسدہ۔

جزءِ خاص
سندروس

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سندروس کو پیس کر سفوف کر کے فتیلا بنائیں اور ایک برتن میں وہ بتّی رکھ دیں اور اُس میں روغنِ کنجد ڈال دیں اور فتیلے کو روشن کر دیں۔ پھر اُس کے اوپر سے ایک تانبے کا برتن اُلٹا لٹکا دیں اور اُس کے بعد دھوئیں کو جمع کر لیں۔ پھر اُس میں مشکِ خالص۲۵۰ ملی گرام ، عنبر محلول ۲۵۰ ملی گرام شامل کر کے سرمہ تیار کریں اور استعمال کرائیں۔

کحل روشنائی
افعال و خواص اور محل استعمال
ضعف بصر، خارِشِ چشم اور ناخونہ کے لئے مفید ہے۔

جزءِ خاص
تُوبالِ مِس (برادۂ تانبہ)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
فلفل دراز، صبر زرد، سنبل الطیب، قرنفل، شادنج عدسی، توُبال مِس ہر ایک ۱۵ گرام، اقلیمیائے طِلاء، ساذج ہندی، بورۂ ارمنی ہر ایک ۱۴ گرام ، فلفل سیاہ، سمندر جھاگ ہر ایک ۱۰گرام ، زنجبیل، حَبّ النیل ہر ایک ۷ گرام، زعفران، نوشادر ہر ایک ۳۔۳ گرام۔ تمام دواؤں کو سرمہ کی طرح نہایت باریک کھرل کریں اور استعمال میں لائیں۔

ترکیب استعمال
دِن میں دو بار سلائی سے آنکھوں میں لگائیں۔