دستور المرکبات
 

عرق۔ نچوڑ Distillate
عرق دواؤں کے صاف و مقطر پانی کو کہتے ہیں جسے ادویہ کو جوش دینے کے بعد بخارات کی صورت میں اُڑا کر مقطر کر کے حاصل کر لیا گیا ہو۔ عرقیات کی اختراع اور اُس کی صیدلی تراکیب کی ایجاد عرب اطِبّاء کی علمی و فنّی کاوِشوں کی رہین ہے۔
اصطلاحی طور پر عرق اُس صاف سیّال کو کہتے ہیں جو عمل تعریق کے ذریعہ بصورت تقطیر بھاپ کو منجمد کر لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ عرقیات اپنی قوت و تاثیر کے لحاظ سے دیگر اشکال ادویہ کے مقابلہ میں زیادہ قوی التاثیر اور سریع النفوذ ہوتے ہیں ، کیونکہ اِس میں دواء کا جوہر اصلی یا جوہر فعال زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
اموی شہزادے خالد بن یزید بن معاویہ بن ابی سفیان علم کیمیاء کے بہت دلدادہ تھے۔ اُنہوں نے عربوں میں یونانی علوم سے بہرہ ور ہونے کی تحریک پیدا کی، خالد بن یزید نے علماء وسائنس دانوں کو مصر میں جمع کیا اور کیمیاء سے متعلق یونانی اور مصری کتابوں کو عربی میں منتقل کرنے کا حکم دیا۔ اصلاً اِسلامی عہد کے اوّلین تراجم یہی تھے۔خالد بن یزید کے ساتھ مشہور کیمیاء دان جابر بن حیّان (Gaber ) بھی ریسرچ و تحقیق میں شریک تھا۔ جابر کی معمل (Labs )میں طرح طرح کی بھٹیاں اور آلاتِ تحقیق موجود تھے۔ جابر کے ساتھ بیک وقت ہزاروں کی تعداد میں محققین و متعلِّمین اور اسکالرس موجود رہتے تھے۔ جابر بن حیّان نے جن آلات کو ایجاد کیا ، اُن میں آلات اعمال تصعید و تقطیر و تعریق، قرع،انبیق بھبکہ، حمام مائیّہ، تعریق حَبْلی تعریق لَولَبی شامل تھیں۔
جابر بن حیّان کا عہد ساتویں صدی عیسوی کا ہے۔ درجِ بالا آلات و اسباب کے علاوہ جابر نے جو کہ ابوالکیمیاء بھی کہلاتا ہے ، کئی کیمیاوی مواد مثلاً ملح امونیا (Ammonium Chloride )، سرکہ (Vinegar )، Acetic Acid اور تیزاب ، نطرون (Nitric Acid ) بنانے کے طریقے بھی دریافت کئے اور اُن طریقوں کی فنّی وضاحت بھی کی۔ اُس نے خاص طور پر عملِ تعریق (Distillation Method ) عملِ تصعید (Sublimation ) اور عملِ تبخیر (Evaporation ) جیسی تکنیک کو ایجاد کیا اور علم الکیمیاء کو ایک نئی جہت دی۔ ساتویں صدی میں عربوں نے الکوحل Alcohol نام کی رقیق و سیّال شیٔ تیار کی جس کو اُس کے عربی نام سے انگریزی میں بھی Alcohol ہی کہا جاتا ہے۔

عملِ تعریق میں دواء اور پانی کا تناسب
ادویہ کا عرق حاصل کرنے کے سلسلہ میں دواء اور پانی کے تناسب کی کافی اہمیت ہے۔ قرابادینوں میں اِس سلسلہ میں مختلف ہدایات دی گئی ہیں۔
(۱) ۶۰ گرام دواء سے اگر دو۲ لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو وہ ضعیف الاثر ہوگا۔
(۲) ۱۵۰ گرام دواء میں اگر ایک لیٹر عرق حاصل کیا جائے تو یہ بہتر ہوگا۔
(۳) ۲۵۰ گرام دواء ۴ لیٹر پانی میں شامل کر کے ۲ لیٹر عرق تیار کریں تو یہ سب سے اچھا ہوگا۔
اگر عرق حاصل کی جانے والی ادویہ میں دودھ بھی ہو تو اُس کودمِ صبح عرق نکالتے وقت شامل کریں یا اُس کا ماء الجبن تیار کر کے پھر شامل کریں۔ اگر عرق کے نسخہ میں مشک، عنبر اور زعفران جیسی خوشبو دار ادویہ شامل کرنی ہوں تو اُن کو پوٹلی میں باندھ کر ٹونٹی کے نیچے اِس طرح لٹکا دیں کہ عرق اِس پوٹلی پر قطرہ قطرہ ٹپکتا رہے اور پھر قابلہ میں مجتمع ہو جائے۔
اگر عرقیات کے نسخہ میں لکڑیاں ، بیج اور جڑیں شامل ہوں تو اُن کو نیم کوب کر کے عرق کشید کئے جانے والے برتن میں ڈالا جائے۔
عملِ تعریق کے مکمل ہونے کی علامت یہ ہے کہ آخر میں عرق بہت کم اور دیر سے آتا ہے اور پانی کے کھولنے کی آواز بھی کم ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات عرق کی بُو بھی بدل جاتی ہے۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ دیگ کا پانی ختم ہو چکا ہے۔ دیگ میں چند کوڑیاں ڈال دی جاتی ہیں چنانچہ پانی کم ہو جانے کے بعد کوڑیاں بجنے لگتی ہیں جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پانی ختم ہو گیا۔

عرق بادیان
افعال و خواص اور محل استعمال
منقی گردہ ومثانہ و جگر، محلل و کاسر ریاح ، مشتہی طعام۔

جزءِ خاص
بادیان

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بادیان ۲۵۰ گرام، ۴ لیٹر پانی میں ۲۴ گھنٹے بھگوئیں اور اس سے ۲ لیٹر تک عرق کشید کریں۔

مقدار خوراک
۱۲۵ ملی لیٹر۔

عرق برِنجاسف
افعال و خواص اور محل استعمال
نافع امراض جگر و اورام احشاء ، نافع حمیات بلغمیہ۔

جزءِ خاص
برِ نجاسف۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
برِ نجاسف شکاعی ، باد آورد، بادیان ، بادر نجبویہ ، جوہر منقی ہر ایک ۱۰۰گرام، بارہ لیٹر پانی میں رات کو بھگو دیں۔ صبح کو آبِ مکوء سبز ۷۵۰ ملی لیٹر کا اِضافہ کر کے بطریقِ مروّج عرق کشید کریں۔

مقدار خوراک
۶۰ ملی لیٹر تا ۱۲۵ ملی لیٹر۔

عرق چوب چینی
شراب خوری کے عادی لوگوں کے لئے معمول بہا ہے ، عادت شراب کو چھڑاتا اور آتشک کو ختم کر دیتا ہے۔ مفرّح اور مُسکِر ہے (سُکر و سُرور آور ہے)۔
(بحوالہ قرابادین اعظم واکمل)

عرقِ شیر مرکب
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص شیربز سے منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
امراض سوداوی اور دِق میں نفع بخش ہے۔ تسکین حرارت تصفیۂ دم اور تقویتِ قلب کرتا ہے۔

جزءِ خاص
بکری کا دودھ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
گلِ نیلو فر، گلِ بید سادہ، کسیرو تازہ مقشر ہر ایک ۱۲۵ گرام، برگِ کاہوسبز ،کدوئے دراز ہر ایک ۵۰ گرام ،خرفہ ۳۰گرام، گل گاؤ زباں ، گل سُرخ، گل نیلو فر تازہ، کشنیزِ خشک، مغز کدوئے شیریں ، مغز تخم خیارین، تخم کاہو، ہر ایک ۲۰ گرام ، تخم کاسنی، طباشیر کبود ،ہر ایک ۱۰ گرام، برادۂ صندل سفید، برادۂ صندل سُرخ۔ ہر ایک ۵ گرام ، انار شیریں ، سیب شیریں ہر ایک دو عدد ، کھیر ا تازہ مقشر، بہی ، ناشپاتی ، ہر ایک ایک عدد ، عرق نیلو فر، ہر ایک ۴ لیٹر ، بید مشک ایک لیٹر ، تمام دوائیں اور عرقیات دیگ مں ڈال کر اوپر سے بکری کا دودھ ۱۰ لیٹر کا اِضافہ کر کے ۲۴ گھنٹے بعد سات لیٹر عرق کشید کریں۔

مقدار خوراک
۵۰ تا ۱۰۰ ملی لیٹر۔