دستور المرکبات
 

طلاء/اطلیہ
وجہ تسمیہ
طِلاء عربی زبان میں سونے کو کہتے ہیں ، علم المرکبات کی اصطلاح میں طِلاء کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً: (۱) طِلاء ایسے سیال مرکب کو کہتے ہیں جس میں سونا شامل ہو (۲) ایسا مرکب جو کسی عضو کے ظاہری حصہ پر بطورِ لیپ یا ضماد کے لگایا جائے۔ (۳) طِلاء سُرخ زردی مائل رنگ کے سونے کو کہتے ہیں اور بالعموم اطلیہ کی رنگت سُرخ ہوتی ہے ، اِس مناسبت سے بھی اِس کو طِلاء کہا گیا۔
یونانی طِب میں اِصطلاحی طور پر طِلاء سے مراد وہ نیم سیال مرکب ہے جو مردانہ عضوِ تناسل پر مقامی طور پر لگایا جائے جس کا مقصد عضوِ مخصوص کی فربہی اور اُس کو طویل کرنا ہے۔
طِلاء کا قوام روغن جیسا رقیق اور سیّال ہوتا ہے۔ اطلیہ کے استعمال کی بہترین صورت یہ ہے کہ جس مقام پر طِلاء کو لگانا ہو ، پہلے اُس کو سخونت پہنچائی جائے جس کے لئے اُس مقام کو ملا جائے(Rub کیا جائے)۔ اُس کے بعد وہاں پر طلاء لگایا جائے۔
مشہور اطلیہ جو قرابادینوں میں مذکور ہیں یا اطِبّاء کی بیاضوں اور اُن کے معمولاتِ مطب رہ چکے ہیں ، اُن میں خاص خاص اطلیہ یہ ہیں
طِلاء ماہی، طلاء مبہّی، طلاء ممسک، طلاء ملذّذ، طلاء نشاط انگیز وغیرہ۔

طِلا ماہی
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص کی وجہ سے ’’طِلا ماہی‘‘ سے موسوم ہوا۔

افعال و خواص مع محل استعمال
عضو تناسل(قضیب) کی کمزوری اور استرخائی کیفیت کو دور کرتا ہے اور اُس میں سختی اور فربہی پیدا کرتا ہے۔

جزِ خاص
ماہی(مچھلی)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ماہی سیاہ، سفید اور سُرخ تینوں ایک ایک عدد، کچلہ، بیر بہوٹی ہر ایک ۲۰ گرام سب کو شراب خالص میں تر کریں۔ اِس کے بعد کھرل کر کے عاقر قرحاء، قرنفل، اسگند، سلاجیت، افیون، جوزبوا ،ہر ایک ۵۔۵ گرام خوب باریک کر کے شیر کی چربی میں پکائں اور طِلا تیار کریں۔

ترکیب استعمال
حشفہ اور سیون بچا کر قضیب پر طِلا کریں اور اوپر سے پان باندھ لیں۔

طِلاء مُلذّذ
وجہ تسمیہ
اپنے فعل خاص سے منسوب و موسوم ہے۔

افعال و خواص مع محل استعمال
لذتِ جماع میں اِضافہ کرتا ہے اور قوتِ اِمساکِ منی کو بڑھاتا ہے۔

جزءِ خاص
کافور

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
عاقر قرحا، سہاگہ خام، کافور۔جملہ ادویہ ہم وزن لے کر باریک پیس کر شہد حسبِ ضرورت میں ملائیں اور عضو مخصوص پر طِلاء کریں۔ ایک ساعت گزرنے کے بعد ضماد کو کپڑے سے صاف کر کے مشغولِ کار ہوں۔

طِلاء مبہّی و مُمسِک
افعال و خواص اور محل استعمال
قوتِ باہ اور امساک کو بڑھاتا ہے۔

جزءِ خاص
پوست کنیر سفید

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست بیخ آکھ ۲۰ گرام، برادہ ٔکچلہ ۱۰ گرام، پوست بیخ کنیر سفید ۴۰ گرام ، جملہ ادویہ کو کوٹ کر عرق کیوڑہ اور زُہرہ گاؤ میں کھرل کر کے گولیاں بنائیں اور بوقت ضرورت پوست خشخاش کے پانی میں گھِس کرعضو خاص پر لگائیں۔ اوپر سے پان باندھںک اور تقریباً تین گھنٹہ بعد مجامعت کریں۔

طِلاء ہیرے وال
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی و محرک ہے۔ عضو خاص میں فربہی پیدا کرتا ہے۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پہلے ہیرے کا باریک سفوف کریں ، اِس کے لئے اِسے بوتہ میں رکھ کر بھٹی میں رکھیں۔ خوب سُرخ ہونے پر حب القلت کے جوشاندے میں بجھائیں۔ اِسے بار بار خوب گرم کر کے اِتنی بار بجھائیں کہ اِس کی چمک جاتی رہے اور وہ بھَربھَرا ہو جائے۔ اِس کو باریک پیس کر محفوظ رکھ لیں۔ اِس سفوف کو کنجد کی لگدی میں گوندھ کر جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں اور خشک کر کے پتال جنتر کے ذریعہ کشید کریں۔
نوٹ: کنجد کے علاوہ کسی بھی روغنی دواء مثلاً سرشف ، خردل یا بید انیر کی لگدی میں رکھ کر طِلاء تیار کر سکتے ہیں ، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے اِس دواء کے روغن کے ساتھ ہیرے کے اثرات طِلاء میں حاصل ہو جائیں۔

ترکیب استعمال
حشفہ اور سیون کو چھوڑ کر عضو خاص پر لگائیں اور اوپر سے پان کا پتہ باندھیں اور کچھ ساعت بعد مشغول ہوں۔