دستور المرکبات
 

ضماد (لیپ)
ضماد/ لیپ: ایسی گاڑھی اور نیم سیال دواء جو کسی ظاہری عضو پر لگائی جاتی ہو، لیپ کہلاتی ہے۔ اگر چہ قدیم یونانی اطِبّاء کی ایجاد ہے اور یونانی عہد میں اِس کا استعمال عام رہا ہے لیکن تاریخی شواہد سے یہ مصریوں کی ایجاد معلوم ہوتی ہے۔ ضمادات میں ضمادِ اُشق، ضمادِبرص،ضمادِ بواسیر ،ضماد محلل،ضماد طحال وغیرہ مشہور ہیں۔

ضماد اُشق
وجہ تسمیہ
جزء خاص کے نام پرموسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
محلل ورم طحال۔نافع امراض طحال۔

جزءِ خاص
اُشق

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سداب ۳۰ گرام، اُشنہ ، کزمازج ۲۵۔۲۵ گرام، اُشق ، مقل، بورۂ ارمنی، نمک ہندی ۲۰۔۲۰ گرام، گندھک۱۰ گرام، انجیر زرد ۱۵ عدد۔ پہلے انجیر کو سرکہ میں پکائیں پھر اُس میں مقل اور اُشق ڈال کر آگ پر خوب نرم کر لیں۔ اِس کے بعد باقی ماندہ ادویہ شامل کر کے پیس لیں ، ضماد تیار ہے۔

ترکیب استعمال
نیم گرم طحال کے مقام پر لگائیں۔

ضماد برص
وجہ تسمیہ
بہق وبرص، دادا ور دیگر امراضِ جلد میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
بابچی۔

ترکیب تیاری
بیخ انجیردشتی، تخم بابچی، تخم پنواڑ، نرکچور ہم وزن ادویہ کو آبِ لیموں میں پیس کر مقامی طور پر بطور ضماداستعمال کریں۔

مقدار خوراک
حسبِ ضرورت۔

ضماد بواسیر
افعال و خواص اور محل استعمال
بواسیری مسّوں کو قطع کرتا ہے۔

جزءِ خاص
سفیدہ قلعی۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مقل گلِ خطمی ہر ایک ۶ گرام ، سفیدہ قلعی، رسوت زرد،موم ہر ایک ۳۔۳ گرام روغن کتاں ۳ ملی لیٹر ، گل خطمی کو پانی میں جوش دے کر چھانیں ، پھر سب دواؤں کو ملا کر آگ پر پکائیں اور سوتے وقت بواسیری مسّوں پر ضماد کریں۔