دستور المرکبات
 

شیاف
شافہ بتی کو کہتے ہیں۔ اِس کی جمع شیاف ہے۔ ادویہ کو کسی سیال میں کھرل کر کے بتی کی شکل کا بنا کر خشک کر لیا جاتا ہے۔ شیاف یونانی طِب کے اوّلین دور کی ایجادات میں سے ہے ، غالب گمان یہ ہے کہ یہ بقراط سے قبل کے عہد کی ایجاد ہے اور بقراط کے زمانہ تک اِس کے کئی نسخے مرتب کئے جا چکے تھے۔
شیاف کو ابتدء ً امراض چشم میں استعمال کرنے کے لئے بنایا گیا تھا اور دواء کو کسی سیال میں گھِس کر براہِ راست آنکھوں میں لگایا جاتا تھا۔ دیگر اعضاء پر لگانے کے لئے جو اشکال ادویہ رائج تھیں ، اُن میں فتیلہ،فرزجہ وغیرہ شامل تھے لیکن موجودہ دور میں فتیلہ فرزجہ اور شیاف کو ایک ہی زمرہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ شیاف کو آنکھ کے علاوہ جسم کے طبعی و غیر طبعی منافذ اور زخموں وغیرہ میں بھی لگایا جاتا ہے۔ مثلاً ناک، کان، آنکھ،اندام نہانی، فرج ،احلیل وغیرہ۔

شیاف ابیض
وجہ تسمیہ
سفیدیٔ بیضۂ مرغ میں بننے کی وجہ سے اِس کی رنگت سفید ہوتی ہے اِس لئے اِس کا نام شیاف ابیض رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
آشوبِ چشم کی خاص دواء ہے۔ آنکھ کے دیگر امراضِ حارہ میں بھی مفید ہے، جَرَبَ الاجفان میں نافع ہے۔

جزءِ خاص
سفیدۂ کاشغری

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سفیدۂ کاشغری، صمغ عربی، کتیرا ہر ایک۱۰۔ ۱۰ گرام، نشاستہ گندم ۳ گرام۔تمام ادویہ کو باریک پیس چھان کر لعابِ اسپغول یا انڈے کی سفیدی میں گوندھ کر شیاف بنائیں۔

ترکیب استعمال
پانی یا عرقِ گلاب میں گھِس کر سَلائی سے آنکھ میں لگائیں۔

شیاف احمر
وجہ تسمیہ
شیاف کی رنگت سُرخ ہونے کی وجہ سے شیافِ احمر کے نام سے موسوم ہے۔ حاد اور لیّن دو طرح کا ہوتا ہے۔ حاد میں تیزی پائی جاتی ہے جب کہ لیّن ایسی ادویہ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں حِدّت اور تیزی نہیں ہوتی : (۱) شیاف احمر حاد (۲) شیاف احمر لیّن۔

افعال و خواص اور محل استعمال
بیاض چشم ،سُبُل (جالا) سُلاق (ناخونہ)

جزءِ خاص
زنگار

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
شادنج مغسول ۲۰ گرام، صمغ عربی ۱۵ گرام، زنگار ۷ گرام، تانبہ سوختہ، شب یمانی سوختہ ۶۔۶ گرام،افیون و ایلوا ڈیڑھ گرام ، زعفران، مرمکی نصف گرام، ادویہ کو باریک پیس کر پانی میں حل کر کے چھان کر شیاف بنائیں۔

شیاف احمر حاد
افعال و خواص اور محل استعمال
بیاض چشم سُبُل (جالا) سُلاق (ناخونہ)اور Ptyrigium میں نستعمل ہے۔

جزءِ خاص
زنگار

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
شادنج مغسول ۲۰ گرام، صمغ عربی ۱۵ گرام، زنگار ۷؍ گرام، تانبہ سوختہ، شب یمانی سوختہ ۶۔۶ گرام، افیون وایلوا ڈیڑھ گرام، زعفران، مرمکی نصف گرام۔ تمام ادویہ کو باریک پیس کر پانی میں حل کر کے چھان کر شیاف بنائیں۔

طریقۂ استعمال
بوقت ضرورت عرق گلاب میں گھِس کر استعمال کرائیں۔

شیاف احمر لیّن
افعال و خواص اور محل استعمال
رَمَدْ مزمن، سلاق (ناخونہ)

جزءِ خاص
شادنج عدسی اور مِس (تانبہ) سوختہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
شادنج عدسی مغسول ۲۵ گرام، مس سوختہ ۲۰ گرام، بُسُدّ، مروارید ناسفتہ، ساذج ہندی، ۱۰۔۱۰ گرام، صمغ عربی، کیترا مرمکی ۵۔۵ گرام، دم الاخوین، زعفران ۳۔۳ گرام۔ جملہ ادویہ کو باریک پیس کر پانی میں حل کر کے چھان لیں اور شیاف بنائیں اور عرقِ گلاب میں گھِس کر کے لگائیں۔

شیافِ دہنہ فرنگ
وجہ تسمیہ
دہنہ فرنگ کے نام سے منسوب ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
نزول الماء کے لئے مجرب اور جالا، پھولا اور ناخونہ میں نافع ہے۔

جزءِ خاص
دہنہ فرنگ مِسی (یعنی وہ دہنہ فرنگ جو تانبہ کی کان میں پایا جاتا ہے)۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
سعد کوفی ،فلفل سیاہ، ناخنِ فیل ،سونا مکھی، تخم سرس ، سنگ بصری ہر ایک ۵ گرام، زعفران، پوست ہلیلہ زرد، ہلیلہ سیاہ، ۳ گرام ، دہنہ فرنگ مِسی ۲ گرام، تخم کھرنی، جنگلی کبوتر کی بیٹ کی سفیدی ہر ایک ۴ گرام ، قرنفل ایک گرام سب کو باریک پیس کر چھان کر کڑاہی میں ڈالیں اور آبِ لیموں شامل کر کے قرن الایّل کے ٹکڑے سے تین روز تک کھرل کریں۔ پھر شیاف بنائیں۔
دہنہ فرنگ دستیاب نہ ہو تو توتیائے سبز استعمال کریں۔