دستور المرکبات
 

شربتِ دینار
وجہ تسمیہ
۱۔ تخم کشوث کو دینار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ دینار اکثر کیسہ (تھیلی) میں رکھا جاتا ہے اور تخم کشوث کو جوشاندہ اور دوسرے مشروبات میں در صُرّہ بستہ (پوٹلی میں باندھ کر) استعمال کرنے کی شرط ہے ، اِسی لئے فارسی میں تخم کشوث کو تخم کیسہ بھی کہتے ہیں۔
۲۔ اِس شربت کا رنگ دینار کے رنگ جیسا ہوتا ہے اس لئے اِس کو شربتِ دینار کہتے ہیں۔
۳۔ عباسی عہد کا مشہور طبیب بختیشوع جو اِس شربت کا مؤجد ہے، وہ اِس کی ایک خاص مقدار ایک دینار میں فروخت کرتا تھا اِس لئے یہ شربت دینار کے نام سے مشہور ہوا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
امراض جگر اور تلینِ شکم کے لئے مخصوص ہے۔ معدہ ، جگر ، رحم اور مثانہ کے اوجاع، استسقائ، ذات الجنب اور موسمی بخاروں میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
تخم کشوث

دیگر اجزاء ا مع طریقۂ تیاری
پوست بیخ کاسنی ۱۰۰ گرام، تخم کاسنی، گُلِ سُرخ ہر ایک ۵۰ گرام گل نیلو فر،گلِ گاؤ زباں ہر ایک ۲۵ گرام، تخم کشوث ۸۰ گرام (در صرّہ بستہ)۔
جملہ ادویہ کو پانی میں جوش دے کر چھان کر قند سفید ایک کلو شامل کر کے قوام بنائیں اور ریوند چینی ۴۰ گرام سفوف کر کے داخل قوام کریں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ زوفاسادہ
وجہ تسمیہ
گلِ زوفا کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
کھانسی اور ضیق النَّفس میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
زوف

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
گلِ زوفا خشک ( صاف کیا ہوا) ۲۵۰ گرام ۲۴ گھنٹہ پانی میں بھگو کر جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید دو کلو کا قوام کر کے شربت بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لٹرپ

شربتِ زوفا مرکب
افعال و خواص اور محل استعمال
منقی صدر اور مخرج بلغم ہے۔ بلغمی کھانسی اور ضیق النَّفس کو فائدہ دیتا ہے۔

جزءِ خاص
گلِ زوف

دیگر اجز اء مع طریقۂ تیاری
انجیر ۱۰ عدد تخم خطمی، اصل السوس ، ایر ساہر ایک ۱۰ گرام ،بادیان ،تخم کرفس ہر ایک ۱۵ گرام ،پر سیاؤشاں ۱۸ گرام ، گلِ زوفا خشک ۲۵ گرام، مویز منقیٰ۱۰۰ گرام یک شبانہ و روز پانی میں بھگو کر جوش دیں اور مل چھان کر قند سفید ایک کلو اور گل قند نصف کلو کا قوام کر کے شربت بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لیٹر آبِ سادہ یا مناسب بدرقہ کے ساتھ۔