دستور المرکبات
 

شربتِ بزوری
وجہ تسمیہ
بزور بزر کی جمع ہے جس کے معنی تخم کے ہیں۔ اِس کے اجزاء میں تخموں کی شمولیت کی وجہ سے اِسے شربت بزوری کا نام دیا گیا ہے۔
مزاجاًحار بارِد اور معتدل اجزاء کی رِعایت سے اِس کی تین قسمیں ہیں۔ شربت بزوری بارِد، شربت بزوری حار، شربت بزوری معتدل۔

شربتِ بزوری بارِد
افعال و خواص اور محل استعمال
جگر کے حار امراض کے لئے مخصوص شربت ہے۔ جگر کی حرارت کو زائل کرتا ہے اور اُس کی اصلاح کرتا ہے۔ مدر بول و حیض ہے ،نیز دافع حمیات ہے۔

جزءِ خاص
بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بیخ کاسنی ۲۰ گرام ، تخم خرپزہ، تخم خیارین ہر ایک ۱۵ گرام، مغز ، تخم تربوز ۸ گرام پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں اور مرکب تیار کریں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بزوری حار
افعال و خواص اور محل استعمال
جگر کے بارِد امراض و احوال میں مفید ہے۔ جگر اور معدہ کی برودت کو زائل کرتا ہے اور گردہ و مثانہ کے امراض کو فائدہ دیتا ہے۔

جزءِ خاص
بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بیخ کاسنی ۷۵ گرام، تخم کاسنی، بیخ بادیان ہر ایک ۵۰ گرام، تخم کرفس، بیخ کرفس، تخم کشوث،درصرّہ بستہ ( پوٹلی میں باندھ کر) ہر ایک ۲۵ گرام سب دواؤں کو ڈیڑھ لیٹر پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام تیار کریں اور مرکب بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ بزوری معتدل

افعال و خواص اور محل استعمال
جگر ،گردہ، مثانہ اور رحم کے فضلات کو بذریعہ ادرار خارج کرتا ہے۔ مرکب بخاروں میں نافع ہے۔

جزءِ خاص
بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تخم کاسنی، تخم خیارین، تخم خرپزہ، بیخ بادیان ہر ایک ۲۵ گرام، بیخ کاسنی ۵۰ گرام سب کو پانی میں جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ایک کلو کا قوام بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ توت
وجہ تسمیہ
توت اِس کا جزءِ خاص ہے جس کے نام پریہ موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
حلق کے اورام ، درد اور خناق میں مفید ہے، دافع سوزِش حلق اور مشتہی طعام بھی ہے۔

جزء خاص
شہتوت

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبِ شہتوت سیاہ (توت سیاہ کارَس) بقدرِ ضرورت لے کر جوش دیں۔ جب اِس کا نصف باقی رہ جائے تو ہم وزن شکر سفید ملا کر قوام تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر صبح و شام۔