دستور المرکبات
 

شب یار۔ شب یارات
فارسی لفظ ہے جس کے معنی شب والا، یعنی بوقت شب استعمال ہونے والی دواء ہے۔ اِس مرکب کا نام شب یار اِس لئے رکھا گیا کہ یہ رات کو ہی استعمال کرایا جاتا ہے اور اِس کے بعد مریض کو سُلا دیا جاتا ہے تاکہ مریض کی بیداری اور اُس کی جسمانی حرکت دواء کے عمل کو کمزور نہ کر دے کیونکہ بیداری اور حرکت کی حالت میں دواء معدہ وامعاء سے جلد اُتر جاتی ہے اور اُس کا عمل پورا نہیں ہو پاتا اور دواء کھلا کر مریض کو سُلا دینے سے قوتیں دواء کو اچھی طرح سے فعل و انفعال میں لے آتی ہیں۔ صاحبِ مفتاح نے لکھا ہے کہ شب یار کے معنی صبر کے ہیں اور صبر (ایلوا) ہی اِس مرکب کا جزء خاص ہے۔ اِس لئے اِن مرکبات کو شب یارات سے موسوم کیا گیا جن میں صبرمرکبات کے ذخیرہ میں بطور جزء شامل ہو۔شب یا رات کے متعدد نسخے ہیں جن میں سب سے مشہور نسخہ حَب شب یار کا ہے۔ (دیکھئے حبِّ( شب یار)

شربت
وجہ تسمیہ
عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں شربت کے لئے شراب کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کی جمع اشربہ ہوتی ہے۔ اصطلاحاً شربت ہر اُس ’’سیّال شیریں مشروب‘‘ کو کہا جاتا ہے جو میوہ جات کے پانی مثلاً آبِ انار، آبِ انگور، آبِ سیب وغیرہ یا ادویہ کے جوشاندہ یا خیساندہ سے تیار کیا گیا ہو اور اُس میں شہد ، قند سفید یا مصری شامل کر کے اُس کا قوام تیار کیا گیا ہو۔
در اصل یہ خام ادویہ کی حفاظت کا ایک فنّی طریقہ ہے جس سے آب و ہوا سے متاثر ہو کر جَلد فاسد ہو جانے والی اشیاء مثلاً پھلوں کے رَس اور ادویہ کا خیساندہ وغیرہ محفوظ ہو جائے اور دواؤں کے اجزائے مؤثرہ اِس شیرینی میں معلّق اور قائم رہ سکیں۔
بعض شربتوں میں قند سفید اور مصری کے ہمراہ شیرخِشت شہد یا تر نجبین ملا کر قوام تیار کیا جاتا ہے لیکن تر نجبین کو پہلے ادویہ کے پانی یا جوشاندہ وخیساندہ میں حل کر کے چھان لینا چاہیے تاکہ یہ کانٹوں اور تنکوں وغیرہ سے صاف ہو جائے۔
اگر شربت میں کتیرا اور دم الاخوین جیسی غیر حل پذیر ادویہ شامل کرنی ہوں تو اُن کو شربت کا قوام تیار کرنے کے بعد باریک پیس کر شامل کرنا چاہیے۔ شربت میں اگر مغزیات شامل کرنے ہوں تو اُن کو علا حدہ سے پیس کر قوام کی تیاری کے وقت شیرہ کی شکل میں شامل کیا جائے گا۔
جس برتن میں شربت رکھا جائے وہ بالکل خشک ہونا چاہیے کیونکہ معمولی سی نمی بھی شربت کو فاسد کر دیتی ہے۔ اِس کے لئے چینی یا شیشے کے محفوظ الہوابرتن انسب ہوتے ہیں۔

میوہ جات کا شربت
وہ شربت جو پھلوں کے رَس سے تیار کئے جاتے ہیں ، اُن کے لئے مطلوبہ پھلوں کا رَس حاصل کر کے اُس کے وزن سے ڈھائی یا تین گنا شیرینی شامل کر کے قوام تیار کیا جاتا ہے۔ اگر ایسے میوہ جات سے شربت تاسر کرنا ہو جن کا رَس حاصل کرنا دشوار ہے ، مثلاً آلو بخارہ اور زرشک وغیرہ تو اُن کو پانی میں بھگو کر ملنے کے بعد چھان کر شیرینی ملا کر شربت تیار کیا جائے لیکن یہ طریقہ تُر ش پھلوں کے ساتھ استعمال میں لایا جاتا ہے۔
البتہ اگر پھل شیریں ہوں مثلاً عناب و انجیر تو اُن کو پانی میں جوش دے کر چھان لیں ، اِس کے بعد شیرینی ملا کر شربت تیار کریں اور اگر خشک ادویہ سے شربت تیار کرنا ہو تو اُن کو دواء کے آٹھ تا دس گنا پانی میں رات کے وقت بھگو کر رکھ دیں اور صبح کو جوش دیں ، جب تہائی (1/3 ) پانی باقی رہ جائے تو ہلکے ہاتھوں سے مل کر چھان لیں اور اُس میں حسبِ ضرورت دو چند یاسہ چند شیرینی شامل کر کے شربت تیار کریں۔
ملاحظہ: یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ شربت کا قوام جس قدر گاڑھا ہوگا ، اُسی قدر زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکے گا۔ اِس کے قوام کے پختہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اِس کے ایک یا دو قطرے علاحدہ کر کے اُنگلی سے اُٹھائے جائیں۔ اگر اُن میں تار بن جائے تو یہ صحیح قوام ہے۔ اِس کے علاوہ اِس کا ایک یا دو قطرہ زمین پر گرانے سے پھیلتا نہیں ہے بلکہ گولائی لئے ہوئے اُبھرا ہو ا نظر آتا ہے، یہ بھی صحت قوام کی دلیل ہے۔

شربت آلو بالو
وجہ تسمیہ
آلو بالو کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مدربول اور مخرج سنگ گردہ و مثانہ ہے۔

جزءِ خاص
آلو بالو

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آلو بالو نصف کلو رات کو دو لیٹر پانی میں بھگوئیں۔ صبح کو جوش دے کر مل چھان کر قند سفید ۲ کلو کا قوام تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر۔

شربتِ احمد شاہی
احمد شاہ ابدالی کے لئے ترتیب دئیے جانے کی وجہ سے اِسی نام سے موسوم و معنون ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
جنون اورمالیخولیا میں نافع ہے۔

جزء خاص
گلِ گاؤ زباں

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
گلِ گاؤ زباں ۲۰ گرام، برگِ بادر نجبویہ ، گلِ نیلوفر، تخم فرنج مشک، اسطوخودوس، برگ سناء مکی ہر ایک ۱۰ گرام ، گل بنفشہ ، گُلِ سُرخ ہر ایک ۵ گرام۔تمام ادویہ کو یک شبانہ پانی میں بھگوئیں ، صبح کو جوش دے کر مل چھان کر نبات سفید ۲۵۰ گرام عرقِ گلاب ۲۵۰ ملی لیٹر کا اِضافہ کر کے قوام بنائیں اور شربت تیار کریں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا۵۰ ملی لیٹر ہمراہ آبِ سادہ۔

شربتِ احمد شاہی بہ نسخہ دیگر
اجزاء
اجزاء برگِ گاؤزبان۲۰ گرام، برگِ بادر نجبویہ۲۰ گرام، گلِ نیلو فر۲۰ گرام، تخم فرنجمشک۲۰ گرام، ہلیلہ سیاہ، افتیمون وِلایتی، بسفائج فستقی، برگ فرنجمشک، اسطوخودوس، برگ سناء مکی ۲۰۔۲۰ گرام، گل بنفشہ، گل سُرخ ۶۔۶ گرام۔ جملہ ادویہ کو رات میں پانی میں بھگو دیں ، صبح جوش دے کر مل چھان کر مصری ۲۵۰ گرام ، عرقِ گلاب ۱۵۰ ملی لیٹر میں شامل کر کے قوام بنائیں اور مرکب کو محفوظ کر کے استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ تا ۵۰ ملی لیٹر، ہمراہ آبِ سادہ یا عرقِ گاؤ زباں۔