دستور المرکبات
 

سکنجبین
وجہ تسمیہ
سرکہ و انگبین کا مرکب ہے۔
تاریخی طور پر شربت اور سکنجبین کو فیثا غورس کی اختراعات میں سے سمجھا جاتا ہے۔ اجزاء اور امراض کے لحاظ سے دوسرے مرکبات کی طرح اِس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ اِس کی مدتِ استعمال عام طور پر ایک سال تسلیم کی جاتی ہے۔
یونانیوں کے یہاں یہ کسی اور نام سے جانا جاتا تھا۔ ابتداء سرکہ اور شہد ملا کر اِس کو تیار کیا گیا تھا جس سے یہ موسوم ہے ، لیکن اطِبَّاء متاءخرین نے اِس کو سرکہ اور شہد کے بجائے شکر ملا کر مرکب کیا۔ گویا سرکہ کے ساتھ شہد شکر با ہم مخلوط کر کے شربت کی طرح اِس کا قوام تیار کر لیا جائے۔ اگر بجائے سرکہ کے لیموں کو اِس میں شامل کر لیا جائے تو اِس کو سکنجبین لیمونی کا نام دیا جاتا ہے۔ سکنجبین کی تیاری کے اصول و قوانین شربت کی تیاری کے ہی مانند ہیں۔
اِ س مرکب میں سرکہ کی شمولیت ضروری ہے۔ ابتداء ً جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، اِسے سرکہ اور شہد سے بنایا گیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں شہد کے بجائے شکر سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ سرکہ اور شہد یا شکر کے علاوہ اِس کی ترکیب میں دوسری دوائیں بھی شامل کی جاتی ہیں۔ سکنجبین میں سرکہ و شہد یا شکر کے علاوہ دوسرے اجزائے ترکیبی کی شمولیت کی وجہ سے اِس کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔ مثلاً
سکنجبین لیمونی، نعناعی، افتیمونی، اصولی، بذوری،عُنصلی اور سکنجبین، فواکہ وغیرہ۔

سکنجبین اصولی
وجہ تسمیہ
اُصول یعنی جڑوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اِس کا نام سکنجبین اصولی رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
ضعف جگر، سوء القنیہ اور استسقاء میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
بیخ کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بیخ کاسنیِ بیخ بادیان، بیخ کبر، بیخ کرفس، بیخ اذخر ہر ایک ۲۰ گرام، تخم کشوث (بصرہ بستہ) تخم خرپزہ ،گل سُرخ، گل غافث، سنبل الطیب ، اسارون تج قلمی، ریوند چینی ہر ایک دس گرام حب بلسان ۵ گرام ، رات کو سر کہ خالص ۶۰ ملی لیٹر پانی ڈیڑھ لیٹر میں بھگوئیں۔ صبح کومل کر صاف کر کے ڈیڑھ کلو شکر کا قوام تیار کریں اور سکنجبین بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لیٹر تا ۵۰ ملی لیٹر۔

سکنجبین بزوری
وجہ تسمیہ
بزور یعنی بیجوں کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مُدِرّبول و حیض ہے۔ جگر اور طحال کے فضلات کو خارِج کرتا ہے۔

جزءِ خاص
تخم کاسنی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
تخم کاسنی، تخم کرفس، بادیان ہر ایک ۲۵ گرام ، نیم کوب کر کے سرکہ خالص ۶۰ میو لیٹر ،پانی ڈیڑھ لیٹر میں رات کو بھگو کر صبح مل چھان کر شکر سفید ڈیڑھ کلو کا قوام تیار کریں اور سکنجبین بنائیں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لیٹر ہمراہ عرق گاؤ زباں ۳۰ ملی لیٹر عرقِ بادیان ۳۰ ملی لیٹر۔

سکنجبین عُنصلی
وجہ تسمیہ
جزء خاص پیاز کے نام سے موسوم ہے۔

استعمالات
صلابتِ جگر و طحال میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
پیاز (عنصل)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پیاز ۲۵۰ گرام، چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے، سرکہ خالص ڈھائی لیٹر میں جوش دیں۔ اِس کے بعد چھان کر شکر سفید ڈھائی کلو کا قوام تیار کریں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لیٹر

سکنجبین فواکہ
وجہ تسمیہ
فواکہات یعنی پھل شامل کئے جانے کی وجہ سے اِس کوسکنجبین فواکہ کہتے ہیں۔

استعمالات
مفتح سدد کبد ہے۔ معدہ اور قلب کو قوت دیتی ہے۔ متلی اور قے کودور کرتی ہے۔ ہاضم اور مشتہی طعام۔

جزءِ خاص
مختلف پھلوں کا پانی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آب انار شیریں ، آب انار تُرش، آب سیب، آبِ بہی تُرش، آبِ بہی شیریں ، آبِ انگور، آبِ زرشک، آبِ فالسہ، آبِ تمر ہندی، ہر ایک ۳۰ ملی لیٹر، آب نعناع ۱۵ ملی لیٹر، سرکہ انگوری ۲۰ ملی لیٹر ، شہد خالص ایک کلو، قند سفید ایک کلو ملا کر قوام بنائیں۔ اِس کے بعد دار چینی ۳ گرام طباشیر ۵۰ گرام کھرل کر کے مرکب میں شامل کریں۔

مقدار خوراک
۲۵ ملی لیٹر۔

سکنجبین نعناعی
وجہ تسمیہ
نعناع یعنی پودینہ کی شمولیت کی بناء پر اِس نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
ہضم میں مدد دیتی ہے۔مزیّل صفرا ہے۔

جزءِ خاص
پودینہ خشک

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پودینہ خشک ۲۵ گرام پانی میں جوش دے کر مل چھان کر آب لیموں ۱۰۰ ملی لیٹر ملا کر قند سفید، نصف کلو کا قوام بنائیں۔

مقدار خوراک
۱۰ سے ۲۵ ملی لیٹر