دستور المرکبات
 

سفوف
وجہ تسمیہ
سفَّ ، یسفَّ ،سفّا ً= پھانکنا۔ سفوف پھانکی جانے والی چیز۔سفوف خشک پسی ہوئی دواء کو کہتے ہیں۔ عُرفِ عام میں سنون، کحل، ذرور وغیرہ سب اِسی کی قسمیں ہیں۔ محل استعمال کے لحاظ سے اِن کے علاحدہ علاحدہ نام رکھے گئے ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ صنعت دواء سازی کی تاریخ میں یہ پہلا مرکب ہے جو تیار کیا گیا۔
سفوف کا موجد بعض لوگوں نے ’’ارسطو‘‘ کو قرار دیا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ارسطو تیسری صدی قبل مسیح کا طبیب ہے جب کہ سفوف کا رِواج مصر میں یونانی عہد کے آغاز سے سیکڑوں سال قبل شروع ہو چکا تھا۔لہٰذا یہ مصریوں کی ایجاد ہے۔ سفوف کا استعمال براہِ دہن، خارجی، داخلی اور مقامی طور پر بھی روا ہے۔

سفوف اذاراقی
وجہ تسمیہ
اپنے جزءِ خاص کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
وجع المفاصل، نقرِس، فالج، لقوہ، اعصابی درد اور بارِد بلغمی بیماریوں میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
اذاراقی (کچلہ)۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
کچلہ ڈھائی سو گرام بیس روز پانی میں بھگوئیں اور روزانہ پانی بدلتے رہیں۔ اوپر کا چھلکا نرم ہونے پر چھیلیں اور اُس کے ٹکڑے کر کے درمیان سے پتہ نکال دیں۔ پھر پانی سے دو تین مرتبہ خوب دھوئیں اور پوٹلی باندھ کر ایک لیٹر دودھ میں جوش دیں۔ دودھ خشک ہونے پر پوٹلی سے نکال کر پانی سے دھوئیں اور کوٹ چھان کر سفوف بنائیں۔

مقدارِ خوراک
۱۲۵ ملی گرام تا ۱۵۰ملی گرام ہمراہ آبِ سادہ۔

سفوف اصل السوس
افعال و خواص اور محل استعمال
رِقّت منی، جَریان اور سرعت انزال میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
اصل السوس مقشّر

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
اصل السوس مقشر ،گلنار فارسی،گلِ سُرخ، تخم سداب، تخم سنبھالو ، جملہ ادویہ کو ہم وزن لے کر باریک سفوف بنائیں اور استعمال کرائیں۔

مقدار خوراک
۱۰ گرام ہمراہ آبِ سادہ۔

سفوف اَملاح
وجہ تسمیہ
اَملاح مِلح کی جمع ہے جس کے معنی نمک کے ہیں۔ چونکہ یہ سفوف مختلف دواؤں کے نمکیات پر مشتمل ہے، اِس لئے اِس کو سفوف املاح کا نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مشتہی طعام، ہاضم طعام اور محلل ریاح۔

جزءِ خاص
نمک ترب۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
نمکِ بھنگ،نمکِ نک چھکنی ،نمکِ ترب،نمکِ پودینہ، نمکِ برگِ کٹائی ہم وزن لے کر مجموعی وزن کے برابر عرقِ نانخواہ میں تین گھنٹے تر رکھیں ، اِس کے بعد کسی شیشی میں محفوظ کر لیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
نصف تا ایک گرام بعد غذائیں۔