دستور المرکبات
 

روغنِ زرد
وجہ تسمیہ
ہلدی اور دار ہلد کی شمولیت کی وجہ سے اس کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔ اِس لئے اِس کا نام روغنِ زرد رکھا گیا۔ نیز اِس کے جزء خاص کی نسبت سے اِس کا دوسرا نام روغنِ دار ہلد بھی ہے۔ ضربہ و سقطہ جیسے احوال میں اِس کا مقامی استعمال تیر بہدف علاج ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مُدَمِّل قروح ہے۔ تازہ زخموں کو جلد بھرتا ہے اور چوٹ کے درد کو آرام دیتا ہے۔

جزءِ خاص
دار ہلد

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
زرد چوب (ہلدی) دیودار، اصل السوس، دار ہلد، دود سقفِ گلخن افروز ( بھڑ بھونجے کی چھت کا دھواں ) ہر ایک ۳۰ گرام ، سب کو کوٹ کر پانی میں خوب کھرل کریں۔ اِس کے بعد دو لیٹر پانی میں جوش دیں۔ چوتھائی پانی باقی رہنے پر پانی علیحدہ کر لںر اور نیچے جو دوا بیٹھ گئی ہو ، اُسے کپڑے میں کر کے نچوڑ لیں اور اُس کا ثفل پھینک دیں ، پھر اُس نچوڑے ہوئے پانی اور پہلے کے حاصل کردہ پانی کو ملا کر روغنِ کنجد ۷۵ ملی لیٹر کے ساتھ جوش دیں۔ جب پانی جل جائے تو روغن کپڑے میں چھان کر ایک برتن میں ۲۴ گھنٹے کے لئے محفوظ کر لیں۔ اِس کے بعد احتیاط سے روغن نتھار لیں تاکہ تلچھٹ روغن میں شامل نہ ہونے پائے۔

ترکیب استعمال
زخم صاف کر کے روئی روغن میں تر کر کے زخم پر رکھیں۔ چوٹ اور ورم کی صورت میں نیم گرم مالِش کر کے اوپر سے پٹی باندھیں۔

روغنِ زفت
افعال و خواص اور محل استعمال
جاذبِ رطوبات اور مقوی اعصاب ہے۔طِلاء مقوی اور مطوّل عضو مخصوص ہے۔

جزءِ خاص
زفت رومی۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
زفت رومی، مصطگی رومی، ہر ایک ۲۰ گرام، باریک پیس کر روغنِ کنجد ۱۰۰ ملی لیٹر میں پکاکر چھان لیں بوقت ضرورت استعمال میں لائیں۔

ترکیب استعمال
بوقت ضرورت گرم کر کے مالِش کریں۔

روغنِ سُرخ
وجہ تسمیہ
مجیٹھ کی شمولیت کی وجہ سے اِس کا رنگ سُرخ ہو جاتا ہے۔لہٰذا یہ نام رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
وَجع مفاصل ، نقرس، عرق النساء، وَجع الورک اور ریاحی دردوں کو زائل کرتا ہے۔اعصابی دردوں میں مفید ہے۔

جزء خاص
فوہ ( مجیٹھ)

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
فوہ ۲۵۰ گرام تج، کائفل ، اُشنہ، سعد کوفی، وَج تر کی ، قرنفل، نرکچور ہر ایک ۸۰ گرام ادویہ کو کوٹ کر چونے کے پانی میں خوب جو ش دے کر چھان لیں۔ پھر روغنِ کنجد، روغن سرشف ہر ایک ۱۵۰ ملی لیٹر ملا کر جوش دیں۔ پانی خشک ہونے پر چھان کر محفوظ کر لیں اور استعمال میں لائیں۔