دستور المرکبات
 

دیاقوزہ
وجہ تسمیہ
دیاقوزہ یونانی زبان میں شربت خشخاش کو کہتے ہیں (بحر الجواھِر)۔ یہ مرکب پوست خشخاش سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ بعض اطِبّاء کے مطابق لفظ دیاقوزہ کا اطلاق ’’مرکب شربت‘‘ پربھی ہوتا ہے لیکن اِس کی اصل وجہ تسمیہ خشخاش کی شمولیت ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
خشک کھانسی میں مفید ہے۔ نزلہ حار کودور کرتا ہے۔نزلہ حاد میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
پوست خشخاش

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست خشخاش سفید مسلم ۲۰ عدد، اصل السوس ۶۰ گرام، اسپغول مسلم ۳۰ گرام، تخم خطمی، خبّازی، صمغ عربی، کیترا، بہدانہ شیریں ہر ایک ۱۵ گرام، سب دواؤں کو ۳ لیٹرپانی میں رات کو بھگوئیں۔ صبح کوجوش دے کر مل چھان کر قندِ سفید ایک کلو کا قوام تیار کریں اور مرکب بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ سے ۱۰ گرام ہمراہ آبِ سادہ/آبِ نیم گرم۔

ذَرور/اَذِرّہ
وجہ تسمیہ
ذَرور عربی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد زخم یا چھالوں پر مقامی طور پر چھڑکی جانے والی دواء ہے۔ ذَرور کے کئی نسخے معمول بہا ہیں۔

ذرورکتھ

افعال و خواص اور محل استعمال
منھ کے چھالوں میں مفید ہے۔نافع و دافع قلاع ہے۔

جزءِ خاص
کات سفید

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
زرِوَرد،کات سفید، کباب چینی، دانۂ ہیل خرد، طباشیر۔ ہم وزن ادویہ کو کوٹ پیس کر ذرور بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

ترکیب استعمال
بوقت ضرورت ایک چٹکی منھ میں چھڑکیں۔

ذَرور مردار سنگ
افعال و خواص اور محل استعمال
ہر قسم کے زخموں میں مفید ہے۔ بالخصوص عضوِ مخصوص کے آتشکی زخموں میں مستعمل و معمول بہا ہے۔

جزءِ خاص
مردار سنگ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
شادنج مغسول ،صبر زرد، مردار سنگ، پوست کدو سوختہ، ہم وزن کوٹ چھان کر ذرور بنائیں اور بوقت ضرورت زخموں پر چھڑکیں۔