دستور المرکبات
 

دواء
دواء جھاڑ ( حَمول منقِّی رحم)
وجہ تسمیہ
رحم کی فاسدرطوبات کو نکالنے اور مواد فاسدہ کا رحم سے تنقیہ کرنے کی وجہ سے یہ مرکب دواء جھاڑ کے نام سے معروف ہے۔ یہ ہندی ترکیب کا نام تھا۔ اب اِس کا متبادل نام ’’ حمول منقّی رحم‘‘ ہے۔


افعال و خواص اور محل استعمال
منقی رطوباتِ رحم ، ورمِ رحم کے تحلیل ہونے کے بعد فاسد مادّوں کے اخراج کے لئے اِس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔ یہ الیافِ رحم کو ڈھیلا کرتی ہے تاکہ فاسد مواد کا اخراج بآسانی ہو سکے۔

جزءِ خاص
جوا کھار

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مویز منقیٰ ۱۲ گرام ،جواکھار ۳ گرام کو کوٹ پیس کر بقدر ۲ گرام پوٹلی بنا کر دایہ کے ذریعہ اندام نہانی میں حمولاً استعمال کرائیں۔ یا اُس سفوف میں شہد ملا کر شافہ بنائیں اور بوقت ضرورت حَمول کریں۔

دواء سمیٹ (حَمول مضَیِّق رحم)
وجہ تسمیہ
چونکہ یہ دواء الیافِ رحم کو سکیڑتی ہے اور رحم کو تقویت دیتی ہے لہٰذا اِس کا نام ’’حمول مُضیَّق و مقوی رحم‘‘ رکھا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
رحم اور مہبل کے ایاف کوسکیڑتی ہے۔ سیلانِ رطوبات کو بند کرتی ہے۔ دواء جھاڑ سے تنقیہ و صفائی کے بعداِس کو تقویتِ رحم کے لئے استعمال کراتے ہیں۔

جزءِ خاص
ہیرا کسیس

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
پوست انار،ہیرا کسیس، مازوئے سبز، تج قلمی، گچ کہنہ، مائیں خرد ہم وزن لے کر کوٹ چھان کر دو دو گرام کی پوٹلیاں بنائیں اور دایہ کے ذریعہ مہبل میں حمولاًاستعمال کرائیں۔