دستور المرکبات
 

خمیرہ آبریشم عود و مصطگی وال
وجہ تسمیہ
خمیرہ آبریشم کے مخصوص نسخہ میں عود اور مصطگی کے اِضافہ کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
یہ خمیرہ بطور خاص دماغ کو تقویت دیتا ہے اور مالیخولیا مراقی اور وحشت کو زائل کرتا ہے، قلب، جگر اور معدہ کو قوت دیتا ہے۔ نافع بواسیر ہے۔

جزءِ خاص
آبریشم عود و مصطگی

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبریشم خام مقرّض۳۵۰ گرام، عود، مصطگی ،مُشک ہر ایک دو گرام، یاقوت کہربائ، مرجان یشب ہر ایک چار گرام، مروارید عنبر ہر ایک ۸ گرام برگِ بادر نجبویہ ، برگِ فرنجمشک ہر ایک ۷۵ گرام،سونا اور لوہا بجھے پانی ( آبِ طِلا و آبِ آہن تاب)۴ لیٹر میں آبریشم کو اِس قدر جوش دیں کہ ایک لیٹر پانی باقی رہ جائے، پھر مل چھان کر نبات سفید ۱۲۵ گرام کا قوام کریں اور درجِ بالا دواؤں کو عرقِ گلاب میں علیحدہ علیحدہ کھرل کر کے قوام میں شامل کریں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ گرام ہمراہ عرق گاؤ زباں ۱۲۵ ملی لیٹر۔

خمیرہ بنفشہ
وجہ تسمیہ
اپنے

جزءِ خاص کے نام سے موسوم ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
امراض صدر وریہ کے لئے مخصوص ہے۔ مرطب دماغ ،دافع قبض ،ملیّن شِکم۔

جزءِ خاص
بنفشہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
بنفشہ ۱۵۰ گرام رات کو دو لیٹر پانی میں بھگو کر صبح کو جوش دیں۔ جب نصف پانی باقی رہ جائے تو نبات سفید ڈیڑھ کلو کا قوام کریں اور اچھی طرح گھوٹیں۔

مقدار خوراک
۲۰ تا ۴۰ گرام ہمراہ عرق گاؤ زباں ۱۲۵ ملی لیٹر۔