دستور المرکبات
 

خمیرہ
خمیرہ اطِبّاء ہند کی ایجادات میں سے ہے۔ مغلیہ دور کے ہندوستانی اطِبّاء نے امراء کی فرمائش پر اُن کی نزاکت و نفاست طبع کے پیش نظر اِس خوش ذائقہ مرکب کا اِضافہ کیا۔ یہ معجون کی خاص قسم ہے۔ خمیرہ جات تقویتِ اعضائے رئیسہ خصوصاً قلب و دماغ کے لئے مخصوص ہیں۔ لطافت اور تفریحِ طبیعت اِس کی خصوصیت ہے۔
خمیرہ کا قوام معجون کی طرح سخت اور گاڑھا نہیں ہوتا،البتّہ شربت کے مقابلہ میں قدرے گاڑھا رکھا جاتا ہے۔ آگ سے اُتار کر قوام کو اِس قدر گھوٹتے ہیں کہ اجزاء ہوائیہ کے ملنے سے اُس کا رنگ تبدیل ہو کرسفیدی مائل ہو جاتا اور وہ خمیر کے مانند پھول جاتا ہے۔

طریقۂ تیاری
جن ادویہ سے خمیرہ تیار کرنا مقصود ہوتا ہے ، اُن کو کم و بیش یک شبانہ و روز (۲۴ گھنٹے) یا تو پانی میں بھگو کر اُن کا زلال حاصل کر لیتے ہیں یا اُن کا جوشاندہ تیار کر لیا جاتا ہے اور اُس میں حسب ضرورت مصری یا شکر شامل کر کے قوام کر لیا جاتا ہے۔ اُس کے بعد خشک ادویہ کا سفوف تیار کر کے آہستہ آہستہ شامل کرتے جاتے ہیں اور ملاتے جاتے ہیں تاکہ دواؤں کی گٹھلی نہ بن جائے۔
علاوہ ازیں اگر خمیرہ میں مُشک، عنبر اور زعفران جیسی ادویہ شامل کرنی ہو تو اُنہیں کسی مناسب خوشبو دار عرق میں حل کر کے خمیرہ کو گھونٹنے کے دوران تھوڑا تھوڑا ملاتے جائیں۔ خمیروں کو گھونٹنے کے لئے پہلے لکڑی کے بنے ہوئے خاص طرح کے گھوٹے آتے تھے ، مگر اب اِس عمل کے لئے جدید آلات و مشینیں نہایت کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہیں اور جدید تکنیکی آلات سے تیار شدہ خمیرے بہتر مانے جاتے ہیں۔

خمیرہ آبریشم سادہ
وجہ تسمیہ
آبریشم کی شمولیت کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی قلب و دماغ ،نافع خفقان، اختلاج اور وحشت کو دور کرتا ہے۔ مقوی بصارت ، ذہن و حافظہ کو بڑھاتا ہے اور ضغط الدم کو کنٹرول رکھتا ہے۔

جزءِ خاص
آبریشم

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبریشم خام مقرض ۱۰۰ گرام آبِ آہن تاب (لوہا بجھائے ہوئے پانی) ۳لیٹر میں ۲۴ گھنٹہ بھگو کر اِتنا جوش دیں کہ پانی ایک لیٹر باقی رہ جائے۔ اِس کے بعد چھان لیں۔ پھر گاؤ زباں بادر نجبویہ ہر ایک ۵۔۵ گرام علیحدہ سے دوسرے پانی میں جوش دے کر چھان کر ملائیں اور نبات سفید ڈھائی سو گرام شہد خالص ۱۲۵ گرام ملا کر قوام کریں۔ بعد میں آبریشم خام ۱۰ گرام ،گل گاؤ زباں ، تخم فرِنج مُشک۔ ہر ایک ۸ گرام کوٹ پسھ کر اور کہرباء یشب، مرجان ہر ایک ۴ گرام عرق گلاب ۵۰ ملی لیٹر میں کھرل کر کے قوام میں شامل کریں۔ قوام درست ہو جانے پر آگ سے اُتار کر اِتنا گھوٹیں کہ خمیرہ کی طرح سفید ہو جائے۔

مقدار خوراک
۵ سے ۱۰ گرم ہمراہ عرق گاؤ زباں ۱۲۵ ملی لیٹر۔

خمیرہ آبریشم حکیم ارشد وال
وجہ تسمیہ
خمیرہ آبریشم کے متعدد نسخے معمول بہا ہیں۔ حکیم شریف خاں نے علاج الامراض میں امراضِ قلب کے تحت اِس کے پانچ نسخے اور امراض سوداویہ کے تحت اِس کے آٹھ نسخے تحریر کئے ہیں ، جن میں ایک حکیم ارشد کا مختصر نسخہ بھی شامل ہے۔ متعدد اطِبّاء کے ترتیب دئیے ہوئے نسخوں میں حکیم ارشد کے مُرتَّبہ اِس نسخہ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ اپنی افادیت کی وجہ سے امراضِ قلب کی مخصوص دواؤں میں اِس کا شمار ہوتا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
تفریح و تقویتِ قلب کے لئے نہایت مفید ہے۔ خفقان، وسواس مالیخولیا اور نزلہ حار کو فائدہ دیتا ہے۔ اعضاء رئیسہ قلب و دماغ و جگر کی تقویت کے علاوہ بیماری کے بعد کی عام نقاہت و کمزوری کو رفع کرتا ہے۔

جزءِ خاص
آبریشم خام مقرّض

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبریشم خام مقرض ۴۲۵ گرام ،برادہ صندل سفید ۶ گرام ،سنبل الطیب، پوست بیرون ترنخ، مصطگی، قرنفل دانہ ہیل خرد ، ساذج ہندی ہر ایک ۵ گرام عودِ غرقی ۴ گرام سب کو باریک کپڑے کی پوٹلی میں باندھ کر عرقِ گاؤ زباں ، عرقِ بید مشک، عرق گلاب، آب سیب، آب انار شیریں ، آب بہی شیریں ہر ایک ۱۵۰ ملی لیٹر بارِش کا پانی ۲ لیٹر میں اِس قدر جوش دیں کہ دو لیٹر پانی جل جائے۔ اِس کے بعد پوٹلی نکال کر دواء کے پانی میں شہد خالص ڈھائی سو گرام نبات سفید ۷۵۰ گرام ملا کر قوام کریں۔ پھر عنبر اشہب ۵ گرام عرق کیوڑہ میں حل کر کے قوام میں ملائیں اور اِسی طرح ورق طِلا ئ، ورقِ نقرہ، کہرباء شمعی، مرجان ہر ایک ۶ گرام ،مروارید ،یا قوت ،یشب سبز ہر ایک ۹ گرام ،مشک خالص، زعفران خالص ہر ایک ۵ گرام خوب اچھی طرح کھرل کر کے قوام میں شامل کریں اور حسبِ معمول آگ سے نیچے اُتار کر اِس قدر گھوٹیں کہ خمیرہ کی طرح سفید ہو جائے۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ گرام ہمراہ عرق گاؤ زباں ۱۲۵ ملی لیٹر۔

خمیرہ آبریشم شیرۂ عناب وال
وجہ تسمیہ
خمیرہ آبریشم کے مخصوص نسخہ میں شیرۂ عناب کے اضافہ کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
خفقان و وحشت کے علاوہ حافظہ کو قوت دیتا ہے۔ معدہ کی کمزوری کو رفع کرتا ہے۔ سل و دِق اور سعال یابس میں مفید ہے۔

جزءِ خاص
آبریشم و عناّب

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
آبریشم خام مقرض ۱۵۰ گرام (صاف کیا ہوا) بارِش کے پانی دو۲ لیٹر میں تین روز تک بھگو کر جوش دیں۔ تقریباً نصف لیٹر پانی رہ جانے پر چھان لیں۔ پھر سیب شیریں ، سیب تُرش، انار تُرش ، انگور شیریں ، بہی شیریں کو نچوڑ لیں اور عناب کو پانی میں جوش دے کر ملا کر نچوڑیں۔ اِسی طرح گاؤ زباں کو جوش دے کر نچوڑیں اور صندل سفید عرق گلاب میں گھِس کر چھان لیں۔ اِن میں سے ہر ایک ۳۰ ملی لیٹر ہونا چاہیے۔ پھر اِن تمام آبیات/ عصاروں کو عرقِ گلاب ۱۵۰ ملی لیٹر اور نبات سفید ۱۵۰ گرام میں ملا کر پکائیں ، جب قوام درست ہو جائے تو زعفران ۳ گرام عنبر و مُشک ہر ایک ۲۔۲ گرام عرقِ گلاب میں کھرل کر کے قوام میں داخل کریں۔

مقدار خوراک
۳ تا ۵ گرام ہمراہ عرق گاؤ زبان ۱۲۵ ملی لیٹر۔

نوٹ: محرورین کو استعمال کرانے کے لئے اِس نسخہ میں عرق بید مُشک ۱۲۵ ملی لیٹر اور آب تربوز ۳۰ ملی لیٹر کا اِضافہ کر نا چاہیے۔