دستور المرکبات
 

حلویٰ
عربی زبان کا لفظ ہے۔ شیریں مرکب کو کہتے ہیں۔
اِس میں دوائی اجزاء کے ساتھ میدہ، سوجی، گھی، شکر، نشاستہ وغیرہ اشیاء شامل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ خوش ذائقہ اور خوش گوار ہوتا ہے۔ مقوی خاص و مقوی عام کے طور پر حلویٰ استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے مشتملات کی بناء پر مختلف ناموں سے موسوم ہے۔ مثلاً: حلویٰ بیضۂ مُرغ، حلویٰ گذر(گاجر) ، حلویٰ گھی کوار وغیرہ۔

حلویٰ بیضہ مُرغ
وجہ تسمیہ
بیضہ مُرغ اِس کا جزءِ خاص ہے اور اِسی نام سے معنون ہے۔

افعال و خواص اور محل استعمال
مقوی باہ، مقوی اعضاء رئیسہ،مقوی بدن، مغذّی، مسمّن بدن۔

جزءِ خاص
بیضہ مُرغ۔

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
زردیٔ بیضہ مُرغ ۲۰ عدد، روغنِ گاؤ ۱۲۵ گرام میں بریاں کریں اور بعد ازاں عرق بہار نارنج ، عرق بید مشک ۵۰ ملی لیٹر میں قند سفید ۵۰ ۲ گرام کا قوام کر کے زردی بیضہ مُرغ ملائیں۔ پھر جائفل، جاوِتری ۵۔۵ گرام باریک پیس کر زعفران ایک گرام عرق بیدمشک میں حل کر یں اور قوام تیار کر کے حلوٰی بنائیں۔

مقدار خوراک
۵ گرام سے ۱۰ گرام تک ، صبح و شام۔

حلویٰ گھی کوار
افعال و خواص اور محل استعمال
باہ اور عام بدن کی تقویت کے لئے نہایت مفید ہے۔

جز ء خاص
گھی کوار

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
مغز گھی کوار ڈھائی سو گرام شیر گاؤ سوا لیٹر میں خوب پکائیں۔ مخلوط ہونے پر شکر سفید سوا کلو ملائیں اور مغز بادام مغز پستہ خرما (چھوارہ) ہر ایک ۱۰۰ گرام پیس کر شامل کریں۔ پھر آگ سے اُتار کر زعفران ۲ گرام عرقِ گلاب میں کھرل کر کے اِضافہ کریں۔

مقدار خوراک
۱۰ سے ۲۰ گرام۔