دستور المرکبات
 

حب پچلونہ
وجہ تسمیہ
ہندی لفظ ہے۔ پچ کا معنی ہضم ہونا اور لونا بہ معنی نمک، یعنی نمک ہاضم کی مناسبت سے یہ نام دیا گیا۔

افعال و خواص اور محل استعمال
بدہضمی ،قِلّتِ اِشتہا، کثرتِ ریاح ، ضعف معدہ اور فواق میں نفع بخش ہے۔

جزءِ خاص
نمکیات اور نانخواہ

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
نمک سیاہ، نمک سانبھر، نمک سیندھا ہر ایک ۵ گرام ،پودینہ، زرنباد ہر ایک ۲۵ گرام پوست ہلیلہ زرد ، پوست بلیلہ ، آملہ مقشر، فلفل سیاہ، فلفل دراز، زیرہ سیاہ، زیرہ سفید، زنجبیل، وَج ترکی ہر ایک ۳۵ گرام ،کشنیز خشک ۱۰۰ گرام ،نانخواہ ، بادیان ہرا یک ۲۰۰ گرام۔ ادویہ کو کوٹ چھان کر عرقِ لیموں میں تر کر کے دھوپ میں رکھیں۔ خمیر پیدا ہو کر خشک ہو جائے تو پھر اِسی طرح عرق آملہ سبز میں خشک کریں۔ اِس کے بعد آبِ لیموں ملا کر جنیلم بیر کے برابر گولیاں بنائیں۔

مقدار خوراک
دو۔دو گولیاں ہمراہ آبِ سادہ بعد غذائیں۔

حب پیچش
وجہ تسمیہ
زحیر مزمن میں استعمال ہونے کے باعث اِس نام سے یہ حبوب مشہور ہیں۔

افعال و خواص اور محل استعمال
پیچش ، درد اور مروڑ کو تسکین دیتی ہیں اور خون بند کرتی ہیں۔ زحیر سدی میں روغن بیدانجیر کے ساتھ اِن کو تجویز کیا جا تا ہے۔

جزءِ خاص
افیون

دیگر اجزاء مع طریقۂ تیاری
ماز و، مائیں خرد، ہر ایک ۱۰ گرام صمغ عربی ۴ گرام افیون ۲ گرام۔ جملہ ادویہ کو کوٹ چھان کر فلفل سیاہ کے برابر گولیاں بنائیں اور استعمال میں لائیں۔

مقدار خوراک
بڑوں کو ۲ عدد اور بچوں کو ایک عدد ہمراہ آبِ سادہ۔